بلاول مزے میں ہیں۔۔آصف محمود

اس عہد بابرکت میں جب خود امید کاہاتھ بھی تنگ ہوتا جا رہا ہے ، ولی عہد جناب بلاول بھٹو مزے میں ہیں۔ پوری شان سے جلوہ افروز ہوتے ہیں اور عمران خان کے خلاف چند رجز اور اور تھوڑے سے میٹھے میٹھے اقوال زریں سنا تے ہیں اور میلہ لوٹ کر واپس سندھ چلے جاتے ہیں۔نیم خواندہ دیہی سندھ میں جہاں آج بھی بھٹو زندہ ہے کسی کو کیا معلوم کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ستیاناس اور سوا ستیاناس کی میراث کی تقسیم میں وفاق کا حصہ کتنا ہے اور صوبوں کے ہاتھ کیا آیا ہے۔ سندھ ہی کیا ، پورے ملک کا یہی حال ہے اور دیہی علاقوں کا کیا شہروں کا بھی یہی حال ہے۔ کم ہی یہ چیز زیر بحث آتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد جب ’’ کنکرنٹ لسٹ‘‘ قریبا ختم ہو چکی ہے ، تعلیم ، صحت اور لاء اینڈ آرڈر سمیت بہت سے محکمے صوبوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں اور ان کا بجٹ بھی دیا جا چکا ہے تو سوالات کا کوڑا صرف تحریک انصاف کی کمر پر کیوں برسایا جا ریا ہے۔ پیپلز پارٹی سے کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ دستیاب وسائل میں متعلقہ محکموں میں آپ کی کارکردگی کا عالم کیا ہے۔ وفاقی حکومت کی خرابیاں اپنی جگہ اور ان پر تنقید ہونی چاہیے لیکن ایسی بھی کیا بے نیازی کہ سندھ سے ولی عہد اسلام آباد تشریف لائیں ، دو رجز اور چار اقوال زریں سنا کر لوٹ جائیں اور ان سے ان کی کار کردگی کے بارے میں ایک سوال بھی نہ پوچھا جائے؟ پیپلز پارٹی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو با اختیار کرنے کا کریڈٹ لے سکتی ہے تو اس کی قیادت سے اس اختیار کے بعد کی کارکردگی کا سوال کیوں نہیں پوچھا جا سکتا ؟ یوم خواتین پر بھی یہی ہوا۔ ولی عہد صاحب نے خواتین کے حق میں دو چار اقوال زریں سنائے اور حقوق نسواں کا تاج سر پر سجائے سندھ لوٹ گئے ۔یہ وہی سندھ ہے جہاں صرف ایک سال میں عورت کے خلاف ظلم و تشدد کے 1643 کیسز رپورٹ ہوئے۔ گھریلو تشدد کے سب سے زیادہ واقعات بے نظیر آباد میں ہوئے ہیں۔جی ہاں وہی بے نظیر آباد جس کی جگہ نواب شاہ نے دی تھی اور نواب شاہ سے منسوب ہوا تھا ۔اب ایک مرلہ دیے بغیر یاروں نے اسے بے نظیر آباد کر دیا۔ سندھ میں عالم یہ ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اوسطا ہر روز سندھ میں ایک عورت غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہے۔ کاروکاری کی رسم بھی سندھ میں سب سے زیادہ ہے۔سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کی صورت حال یہ ہے کہ جب پنجاب میں خواتین کا کوٹہ 15 فیصد تھا اس وقت بھی سندھ میں یہ 5 فیصد تھا ، سندھ میں بہت بعد میں اسے بڑھایا گیا۔سوال یہ ہے مصاحبین کے حصار میں کھڑے ہو کر تمکنت سے اسلام آباد میں جو اقوال زریں سنائے جاتے ہیں سندھ میں ان پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا؟ روشن خیالی کے تمام اقوال زریں سنانے کے باوجود دیہی سندھ میں خواتین میں شرح خواندگی کا تناسب 6ا فیصد سے بھی کم ہے۔ سکولوں میں بچیوں کی انرولمنٹ نصف سے بھی کم رہ گئی ہے کیونکہ گھر سے سکول بہت دور ہیں ۔بسا اوقات دس دس کلومیٹر دور۔ دیہی سندھ میں 46 فیصد خواتین محنت مزدوری کرتی ہیں مگر معاوضہ صرف 14 فیصد کو ملتا ہے۔ باقی خواتین کا معاوضہ ان کے شوہر یا بھائی باپ وصول فرما لیتے ہیں۔ آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر تو اقوال زریں سنانے ولی عہد پہنچ جاتے ہیں لیکن 15 اکتوبر کو جب دیہی علاقوں کی خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے تب ولی عہد سمیت پوری پیپلز پارٹی کو اقوال زریں سنانے کی توفیق بھی نہیں ہوتی ۔ دیہی علاقوں کی خواتین کون سی ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر موجود ہیں کہ اقوال زریں سنا کر ان سے نقد داد وصول فرمائی جا سکے۔دیہی خواتین کا دن آج تک پاکستان میں کسی نے نہیں منایا۔ کیا کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے کہ یہ دن کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟ کیا دیہاتی خواتین کے کوئی حقوق نہیں کہ ان کے لیے بھی آواز اٹھائی جا سکے؟ پاکستان میں طاقتور وفاق کو طاقتور ملک سمجھنے کی جو رسم عشروں رائج رہی اس کا ایک منطقی یہ نکلا کہ ہر معاملے میں وفاق ہی کی طرف دیکھا گیا اور ہر سوال اور گلہ شکوہ وفاق ہی سے کیا گیا۔ عشروں کی یہ رسم برسوں میںختم ہونے والی نہیں ہے چنانچہ اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی سوالات کا مخاطب وفاق ہے۔صوبوں سے کوئی نہیں پوچھ رہا کہ وفاق نے تو ستیا ناس کر دیا، کیا آپ نے سوا ستیاناس میں کوئی کسر چھوڑی ہے؟جب اپنا نامہ اعمال زیر بحث آنے کو کوئی امکان نہ ہو تو پھر یہی ہوتا ہے جو ولی عہد کر رہے ہیں۔آئو، اقوال زریں سنائو اور چلے جائو۔ روشن خیالی بھی عجیب ضدی طبیعت کی واقع ہوئی ہے۔ سراج الحق یہ اعلان کر کے بھی دقیانوسی ہی قرار پاتے ہیں کہ جو بہن کو وراثت میں حصہ نہیں دے گا ،اسے جماعت اسلامی ٹکٹ جاری نہیں کرے گی لیکن پیپلز پارٹی ایسے لوگوں کو وزیر اور پارٹی کا عبوری سربراہ بنا کر بھی روشن خیال ہی رہتی ہے جن کے ہاں بہنوں کی شادی اس خوف کی وجہ سے قرآن سے کر دی جاتی ہے کہ شادی ہو گی تو جاگیر تقسیم ہو جائے گی۔قدرت کے بھی اپنے فیصلے ہوتے ، جاگیر ادھر ہی رہ گئی اور ان کو تقسیم سے بچانے کے لیے بہنوں ، بیٹیوں پر ظلم ڈھانے والے جاگیردار قبروں میں جا پہنچے۔ سندھ پر پیپلز پارٹی کو حکومت کرتے عشرے بیت گئے اور اس کی پسماندگی ضرب المثل ہے۔کسی کو کوئی شک ہو تو لاڑکانہ جا کر دیکھ لے دودھ اور شہد کی کتنی نہریں بہہ رہی ہیں۔ جان کی امان ملے تو کیا محترم ولی عہد سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد جو پیسہ سندھ کو ملا وہ کہاں گیا؟ کارکردگی زیر بحث ہی نہیں آتی۔ولی عہد آتے ہیں اقوال زریں سناتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ولی عہد مزے میں ہیں۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *