کون جیتا کون ہارا؟۔۔۔ معاذ بن محمود

ویسے تو یہ ضمنی الیکشن تھا مگر اہم بہت تھا۔ اس اہمیت کی کئی وجوہات تھیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ کہ حلقہ ایک وزیراعظم کو معزول کرکے جمہوری میدان کے لیے سجایا گیا۔ دوسری اہم بات یہ کہ اپوزیشن اس معرکے کو کرپشن بمقابلہ عدلیہ لڑائی قرار دے رہی تھی۔ تیسری اہم بات یہ کہ اس مقابلے کو دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے لیے نوشتہ دیوار بنا کر پیش کیا جارہا تھا۔ چوتھی اہم بات یہ کہ یہ سیٹ مسلم لیگ کے لئے اپنی بقاء ثابت کرنے کا ذریعہ تھی۔ غرضیکہ کہ اس سیاسی پانی پت کا غیر ضروری ہونا طے تھا۔ جو بات غیر یقینی تھی وہ یہ کہ ہما آخر کس کے سر بیٹھے گا۔

اندازے چاہے جتنے ہی کیوں نہ لگائے جائیں، انقلابی نتائج شاذ ہی سامنے آتے ہیں۔ اپ سیٹ نتائج ہی دراصل قوم کی اجتماعی سوچ میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شیخ رشید کی غیر متوقع ہار ابھی بھی قوم کو یاد ہوگی۔ انقلاب کی ڈگڈگی پہ چاہے کتنے ہی نوجوان نچا لیے جائیں، عوام اب چغد نہیں رہے۔ سمارٹ فون، سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کا تنوع ایک ایسا معاشرہ پیدا کر چکا ہے جو اپنے ارد گرد حالات و واقعات کا ادراک رکھتا ہے۔ پانامہ کیس میں وزیراعظم کی نااہلی کا صلہ  محترم سراج الحق کو صورت کو اپنی ہار کی شکل میں وصول ہوچکا ہے۔ فرقہ واریت اور” سیاسی تعصب” کے نتیجے میں غیر فطری طریقے سے پیدا کی گئی ملی مسلم لیگ بھی الحمد للہ بخوبی اپنی ضمانت ضبط کرانے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ پوری دنیا کا چہرہ پڑھ لینے والے حامد میر کے برادر حلقہ 120 کی عوام کا چہرہ پڑھنے میں ناکام رہے۔ اصل مقابلہ دو خواتین کے درمیان ہی رہا جس میں مریض نے طبیب کو پچھاڑ ڈالا۔

اس مقابلے کے اختتام نے کئی خوش آئند اور کچھ ناخوشگوار حقائق کو جنم دیا۔ مثلاً ملک کے اہم ترین حلقوں میں سے ایک پہ اصل مقابلہ دو خواتین کے درمیان رہا اور یوں خواتین کا سیاسی کردار بہرحال اجاگر ہوا۔ کسی ایک جانب سے یہ دلیل سامنے نہ آئی کہ عورت کو حق حکمرانی حاصل نہیں۔ شدت پسندوں کے لیے یہ ایک بری خبر ہے۔ ایک اور خوش آئند بات یہ کہ جماعت اسلامی اور ہمنوا مذہبی چورن کی اہم فریچائزز کو اپنی سیاسی اوقات کا بخوبی اندازہ ہوگیا۔ مشرف نے امریکہ کو ڈرا کر اپنی حکومت لمبی کرنے کے لیے جو ہوا تمام مذہبی جماعتوں میں بھری تھی وہ آج تقریباً نکل چکی ہے۔ ایک اور اچھی خبر یہ ہے کہ پانامہ کیس کو لے کر جس قسم کا پیغام چند مخصوص میڈیا ہاؤسز کی جانب سے عوام کو دیا جا رہا تھا اس کا جھوٹ ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ نواز مخالف ووٹ کو عدلیہ کے حق میں ووٹ کہا گیا اور یوں عدلیہ جو پہلے ہی بوجہ حالیہ سیاسی کردار بدنام ہے، کو مزید بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ بلیک لاء ڈکشنری سے مستعار لی جانے والی توجیہات کو لاہور کی عوام نے تیس فیصد زائد ووٹ سے مسترد کر ڈالا۔ این اے 120 کے نتیجے کے بعد عورت، اعتدال اور عوام جیت چکے ہیں۔

ہارنے والوں کی نشاندہی کے لیے میں نے اپنے ارد گرد نظر ڈالی۔ ایک صاحب نظر آئے جن کے مطابق 92 پولنگ سٹیشنز میں جماعت اسلامی کو ووٹ دینے والے 92 افراد عقل، شعور، شرافت، دیانت اور حب الوطنی میں باقی ایک لاکھ کی عوام پہ بھاری ہیں۔ یوں مجھے سمجھ آیا کہ مورخہ 17 ستمبر 2017 کو عقل، شعور، شرافت، دیانت اور حب الوطنی کے نئے پیمانے بازار میں لائے گئے ہیں جن کے تحت ان بانوے جماعتیوں کو چھوڑ کر باقی لاکھ افراد مجہول، بے شعور، بدمعاش، بددیانت اور غدار ہیں۔ ایسی خرافات کو دانشورانہ پوسٹ کی شکل دینے والے موصوف آج میرے نزدیک ہاری ہوئی فوج میں شامل ہیں۔ ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل بھائی دیکھے جو کل ہمیں یقین دلا رہے تھے کہ لاہور کی غیور عوام کرپشن کے خلاف عدلیہ کا ساتھ دے گی۔ یہی بھائی آج لاہوری کھوتا خوری پہ تبرا کرتے نظر آئے۔ ایک بہت ہی محترم دوست ایسے بھی تھے جنہیں مسلم لیگ کا جیت جانا عوام کی جہالت کا استعارہ دکھائی دیتا رہا۔ گویا حق رائے دہی میں مخالفت آپ کو جاہل یا فاضل بنا سکتی ہے۔

دوستو، بھائیو اور بہنو، اگر آپ کا تعلق ملک کی اکثریت کی طرح خلافت، فوجی ڈکٹیٹرشپ یا ،سرخوں سے نہیں تو پھر جمہوریت میری طرح آپ کی بھی مجبوری ہے۔ جمہوریت کو پنپنے دینے میں نہ صرف اس کی بقاء ہے بلکہ اس کی نشوونما بھی اسی میں پنہاں ہے۔ عدلیہ کے ذریعے وزیراعظم کو چلتا کیا گیا یہ بھی سر آنکھوں پر، البتہ جمہوریت نام ہی آزادی اظہار رائے اور اس کے احترام کا ہے۔ آج جیتا چاہے کوئی بھی، ووٹ کے تقدس کو پامال کرنے کی خواہش رکھنے والے یا آپ کے حق رائے دہی پہ پھبتیاں کسنے والے تمام ناہنجار آج ہارے ہیں۔ آگے بڑھ کے ان کی ہار کا جشن منائیے۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *