بس فیصلہ کرنے کی دیر ہے۔۔۔جاوید چوہدری

گیون منرو نے 2005ء میں ایک دل چسپ تجربہ کیا اوراس نے اس تجربے کے ذریعے پوری دنیا کو سیلف ڈویلپمنٹ کا ایک نیا آئیڈیا دے دیا‘ گیون منرو کی تکنیک پر عمل کر کے اب تک لاکھوں لوگ اپنی زندگیاں بدل چکے ہیں‘ کیسے؟ میں اس طرف آنے سے پہلے آپ کوگیون منرو کا چھوٹا سا بیک گراؤنڈ بتاتا چلوں‘ گیون انگلینڈ کے علاقے ڈربی شائر میں رہتا ہے‘ بچپن میں اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ٹیڑھا پن آ گیاتھا‘ اس کاکُب نکل آیا تھا اور یہ جھک کر چلتا تھا۔

والدین اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے‘ ڈاکٹر نے محسوس کیا گیون کا کُب ٹھیک ہو سکتا ہے‘ اس نے لوہے کی ایک جیکٹ بنائی اور یہ جیکٹ گیون کو پہنا دی‘ جیکٹ کے

پیچھے لوہے کے دو مضبوط راڈز لگے تھے‘ یہ راڈز چمڑے کی دوبیلٹس کے ذریعے گیون کے ماتھے اور پیٹ کے ساتھ باندھ دیے گئے‘ جیکٹ تین سال گیون کے ساتھ بندھی رہی‘اس جیکٹ نے آہستہ آہستہ گیون کی ریڑھ کی ہڈی سیدھی کر دی‘ اس کا کُب ختم ہوگیا اور یہ نارمل انسان بن گیا‘ یہ واقعہ آنے والے دنوں میں گیون کی حیران کن تکنیک کی بنیاد بن گیا‘ گیون نے اس جیکٹ سے سیکھا اگر لوہے کے دو راڈز انسان کی شیپ تبدیل کر سکتے ہیں‘ یہ میرا کُب نکال سکتے ہیں تو پھر یہ تکنیک پودوں اور جانوروں کا مزاج بھی تبدیل کر سکتی ہے اور یہ وہ خیال تھا جس نے آگے چل کر گیون کو اپنی نوعیت کے انوکھے بزنس کا آئیڈیا دیا اور یہ آئیڈیا گیون تکنیک بن گیا۔گیون نے اپنے فارم ہاؤس میں سپیشل فرنیچر کاشت کرنے کا فیصلہ کیا‘ جی ہاں فرنیچر بنانا نہیں‘ فرنیچر کاشت کرنا‘ بالکل اسی طرح جس طرح ہم درختوں پر سیب‘ چیری‘ کیلا‘ امرود یا انگورکاشت کرتے ہیں یا پھر زمین سے تیار مولیاں‘ گاجریں اور گوبھی نکالتے ہیں‘ گیون نے دو ایکڑ کے فارم ہاؤس میں فرنیچر کی لکڑی اگانا شروع کی‘ پودے جب چند فٹ لمبے ہو گئے تو اس نے کرسی‘ میز‘ بینچ اور ٹیبل لیمپس کے سانچے بنائے اور پودوں اور درختوں کی شاخوں کو ان سانچوں کے ساتھ باندھ دیا۔

پودے سانچوں میں رہ کرپھلنے پھولنے لگے اور یہ سال ڈیڑھ سال میں کرسی‘ میز اور لیمپ کی شکل اختیار کر گئے‘ گیون ساتھ ساتھ ان کی شاخ تراشی بھی کرتا رہا‘وہ درختوں کی مختلف شاخیں سانچوں کے ساتھ باندھتا اور کھولتا رہا یہاں تک کہ تمام پودے فرنیچر کی شکل اختیار کر گئے‘ گیون نے فرنیچر اتارا‘ دھوپ میں رکھ کر سکھایا‘ پالش کیا اور بیچ دیا‘ یہ فرنیچر عام فرنیچر کے مقابلے میں بہت مہنگا بک گیا‘ گیون نے اس کے بعد ”فل گرون“ کے نام سے کمپنی بنائی اور درختوں پر فرنیچر اگانا شروع کر دیا۔

یہ منصوبہ 2006ء میں شروع ہوا‘گیون نے 2008ء میں اڑھائی ایکڑ کے فارم میں تین ہزار درخت لگائے‘ 2012ء میں پہلی مرتبہ کرسیوں‘ میزوں اور لیمپس کی کاشت شروع کی‘ 2013ء میں دوسری کھیپ اگائی اور 2014ء میں تیار لیمپ درختوں سے اتار لیے گئے‘ گیون کے فارم ہاؤس سے اب تک اڑھائی سو کرسیاں‘50 میزیں‘10 بینچ اور 100 لیمپس اتارے جا چکے ہیں‘ یہ قدرتی فرنیچر بہت مہنگا بکتا ہے‘ ایک کرسی کی قیمت 12 ہزار پاؤنڈ یعنی 24لاکھ روپے پاکستانی اور لیمپ 12 سو پاؤنڈز یعنی اڑھائی لاکھ روپے میں بکتا ہے۔

گیون کے اس تجربے نے کس طرح ہزاروں لوگوں کا مائینڈ چینج کر دیا میں اب اس طرف آؤں گا۔ آپ دیکھیے ایک شخص نے لوہے کے چھوٹے چھوٹے سانچوں اور تاروں کے ذریعے پودوں کی فطرت بدل دی‘اس نے درختوں کو فرنیچر کی فیکٹری بنا دیا اور درختوں نے کرسیاں‘ میز اور لیمپ اگانا شروع کر دیے اور یہ شخص فرنیچر کوفروٹ کی طرح درختوں سے کاٹ کربازار میں فروخت کرنے لگا‘گیون نے اپنے تجربے سے ثابت کر دیا سانچے درختوں کی فطرت‘ درختوں کی شناخت اور درختوں کی شکل بدل سکتے ہیں۔

یہ تجربہ جب نفسیات دانوں تک پہنچا تو انہوں نے سوچا اگر چند سانچے درختوں کو تبدیل کر سکتے ہیں تو کام یاب اور اچھی عادتوں کے سانچے انسان کو کیا کیا نہیں بنا سکتے؟ گیون کا ہدف پودے تھے جب کہ ہم تو انسان ہیں‘ہم تو اشرف المخلوقات ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے ہم میں درختوں کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ لچک اور اڈاپٹبیلٹی رکھی ہے‘ انسان اپنا رنگ تک بدل لیتا ہے‘ یہ اپنی شخصیت کے گرد اصولوں کے چند سانچے لگا کر اور اپنے آپ کو عادتوں کی چند تاروں میں باندھ کر اپنے آپ کو کیا کیا نہیں بناسکتا؟

نفسیات دانوں نے جب اس پر ریسرچ کرنا شروع کی تو وہ یہ جان کر حیران رہ گئے ہنگری کے ایک میاں بیوی یہ تجربہ کر چکے ہیں اور یہ تجربہ سو فیصد کام یاب رہا‘ لیز لو پولگر ہنگری کا درمیانے درجے کا نفسیات دان ہے‘ اس نے ایک نرس کلارا کے ساتھ شادی کی اور دونوں نے فیصلہ کیا ہمارے بچے شطرنج کے عالمی کھلاڑی بنیں گے‘ میاں بیوی نے اپنا خواب پورا کرنے کے لیے اپنے پورے گھر کو شطرنج گھر بنا دیا‘ دیواروں‘ فرش‘ بیڈ شیٹس‘ کرسیوں اور میزوں پر صرف ایک ہی پیٹرن تھا اور وہ پیٹرن تھا شطرنج۔

یہ لوگ جس طرف دیکھتے تھے ان کو صرف اور صرف شطرنج نظر آتی تھی‘ کموڈ اور برتن تک شطرنج کے پیٹرن سے بنے تھے‘ کلارا اور لیزلو کے گھر تین بیٹیاں پیدا ہوئیں‘ تینوں نے شطرنج میں آنکھ کھولی اور پھر پوری دنیا کو حیران کر دیا‘ پہلی بیٹی سوزین شطرنج کی ورلڈچیمپیئن بن گئی‘اس نے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے‘ دوسری بیٹی صوفیہ نے 14 سال کی عمر میں روم میں ہونے والا ٹورنامنٹ جیت کر پوری دنیا کوپریشان کر دیا۔

اور تیسری بیٹی جیوڈٹ نے15 سال کی عمر میں شطرنج میں دنیا کا سب سے بڑا ٹائٹل گرینڈ ماسٹرز حاصل کر لیا‘ یہ دنیا کے ٹاپ 100کھلاڑیوں میں شامل ہونے والی دنیا کی کم عمر ترین کھلاڑی تھی‘یہ 26 سال شطرنج میں دنیا میں نمبر ون رہی‘ کلارا اور لیزلو نے کیا کیا تھا؟انہوں نے گیون کی طرح اپنے گھر میں شطرنج کے سانچے لگا دیے تھے اور ان کے بچے فرنیچر کی طرح شطرنج کے چیمپیئن بنتے چلے گئے‘نفسیات دانوں نے اس تکنیک کو لیزلو کلارا فارمولے کا نام دے دیا۔

گیون منرو اور لیزلو کلارا فارمولے نے آنے والے دنوں میں سیکڑوں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں‘ کام یاب لوگوں اور ناکام لوگوں کی عادتیں اور تکنیکس جمع کی گئیں‘ پتا چلا کام یاب لوگوں کو پانچ عادتیں کام یاب بناتی ہیں‘ یہ عادتیں وقت کی پابندی‘ سیکھنے کی خواہش‘ ٹیم میکنگ‘ رسک لینے کی عادت اور کام یاب لوگوں کی صحبت ہے‘ ناکام لوگ بھی پانچ بری عادتوں کی وجہ سے ناکام ہوتے ہیں‘ یہ ناکام‘ مایوس اور منفی ذہنیت کے لوگوں میں بیٹھتے ہیں۔

دو‘ یہ اپنے کمفرٹ زون میں رہتے ہیں‘ اخراجات کم کرتے جاتے ہیں‘ آمدنی نہیں بڑھاتے لہٰذا یہ رسک نہیں لیتے‘ تین‘ یہ ٹیم نہیں بنا پاتے‘ ٹیم بنانے کے لیے دوسروں پر اعتماد کرنا پڑتا ہے‘ یہ کیوں کہ کسی پر اعتبار نہیں کرتے لہٰذا یہ پوری زندگی ٹیم نہیں بنا پاتے‘ چار‘ یہ نئی چیزوں‘ نالج اور نئی تکنیکس کے خلاف ہوتے ہیں‘ ان کی نظر میں گاڑی صرف کرولا 84 ہی اچھی ہوتی ہے‘ یہ نئی گاڑی تک ٹرائی نہیں کرتے اور یہ وقت کے پابند نہیں ہوتے‘ ان کے پانچ منٹ ایک گھنٹہ اور ایک گھنٹہ پورا دن ہوں گے۔

نفسیات دانوں نے پانچ پانچ عادتوں کے دو پیکج بنائے اور تجربے شروع کر دیے‘ سو ناکام لوگ لیے گئے اور سو کام یاب بندے پسند کیے گئے‘ کام یاب لوگوں کو ناکام لوگوں کی عادتوں کے سانچوں میں باندھ دیا گیا اور ناکام لوگوں پر کام یاب لوگوں کی عادتوں کے سانچے لگا دیے گئے‘ یہ تجربہ دو سال چلتا رہا‘ نتائج حیران کن تھے‘ 82 فیصد ناکام لوگ کام یاب لوگوں کی عادتوں سے کام یاب ہو گئے جب کہ 61 فیصد کام یاب لوگ ناکام عادتیں اپنا کر فٹ پاتھوں پر آ گئے۔ ”یہ نتائج سو فیصد کیوں نہیں ہیں“۔ یہ سوال نفسیات دانوں کے لیے پریشان کن تھا‘ مزید ریسرچ کی گئی تو پتا چلا کام یاب عادتوں کے باوجود ناکام رہنے والے 18 فیصد لوگوں نے اپنی ناکام عادتیں نہیں چھوڑی تھیں جب کہ 39 فیصد کام یاب لوگ ناکام عادتوں میں بندھنے کے باوجود کام یاب عادتیں چلاتے رہے چناں یہ ناکام لوگوں اور ناکام عادتوں کے باوجود کام یاب رہے‘ یہ مکمل تباہ نہیں ہوئے‘ تجربہ کام یاب تھا‘ یہ تجربہ اس وقت جدید ملکوں کے ہزاروں سیلف ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹس میں ہو رہا ہے اور اس کے نتائج روز حیران کن ثابت ہو رہے ہیں۔

میں اپنے مائینڈ چینجر سیشنز میں اپنے سٹوڈنٹس سے کہتا ہوں اگر طوطا انسانوں کے ساتھ رہ کر بولنا‘ کتا دوڑنا‘ بیٹھنا اور شکار پکڑ کر لانا اور گدھا چھڑی کے اشارے سے دائیں اور بائیں مڑنا سیکھ سکتا ہے تو ہم انسان کام یاب عادتوں کے سانچے لگا کر کام یاب کیوں نہیں ہو سکتے‘ ہم اپنے آپ کو کیوں نہیں بدل سکتے! کیا ہم اشرف المخلوقات نہیں ہیں‘ کیا ہم کائنات کی تمام مخلوقات سے بہتر نہیں ہیں؟ ہم ہیں بس ہم نے اپنے آپ کو بدلنے کا فیصلہ نہیں کیا‘ ہم نے جس دن فیصلہ کر لیا‘ ہم اس دن بدل جائیں گے‘ انسان اگر مریخ تک جا سکتا ہے تو کیا یہ ناکامی کے کمرے سے نکل کر کام یابی کے ہال میں داخل نہیں ہو سکتا! ہو سکتا ہے بس فیصلہ کرنے‘ اٹھنے اور چلنے کی دیر ہے اور ہم سب بدل جائیں گے‘ ہم تبدیل ہو جائیں گے۔

جاوید  چوہدری

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *