عورت اور شادی۔۔اسماعیل گُل خلجی

عورت کی زندگی میں شادی کی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ اس ادارے کے تحت اسے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے ۔ شادی کے بعد عورت باپ کی حفاظت سے نکل کر شوہر کی حفاظت میں آجاتی ہے۔ شوہر کی حفاظت اس لیے ضروری  ہوتی ہے کیونکہ باپ ہمیشہ اس کا ضامن نہیں رہ سکتا، ۔ اس لیے والدین کے لیے بیٹی کی شادی ہمیشہ فکر کا باعث ہوتی ہے۔اور وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ اسے دوسرا محافظ فراہم کر کے وہ اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائیں ۔ اس لیے اگر کسی عورت کی شادی نہیں ہوتی تو وہ خود کو معاشرے میں ٹھکرایا ہوا اور غیر محفوظ سمجھتی ہے۔۔

پاکستانی معاشرے میں خاص طور پر قبائلی علاقوں میں اور ان خاندانوں میں جو علمی دنیا سے دور ہیں، وہاں عورت کے لیے شادی سے پہلے اسکی  عمرایک سوالیہ نشان ہے،کیونکہ اس معاشرے میں اگر کوئی 60  یا 50 سالہ مرد کسی بیس  یا پچیس سالہ لڑکی سے شادی کرتا ہے تو اسے غلط تصور نہیں کیا جاتا، لیکن اگر کبھی زیادہ عمر کی عورت اپنے سے کم عمر  مرد سے شادی کرے تو اس پر لوگوں کو ناصرف حیرت ہوتی ہے،بلکہ بعض اوقات تو اس مرد کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور تنقید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔

ایسے معاشرے میں اگر عورت شادی کے بعد بھی اذیتوں بھری زندگی بسر کرتی ہے اس کی  ایک اہم وجہ میں یہ سمجھتا ہوں،چونکہ ہمارے ہاں اب تک زیادہ شادیاں ماں باپ کی مرضی سے ہوتی ہیں،اور عورت کو ابتدا ہی سے یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے کردار کو اس طرح سے تشکیل دیں کہ جو مرد کو پسند ہو۔ لہذا وہ شادی کے بعد اپنی شخصیت کو ختم کر کے اسے شوہر کی خواہشات میں ضم کر دیتی ہے ۔ اس لیے دیکھنے میں ایسا ہی نظر آتا ہے کہ شادی کامیاب ہے، مگر درحقیقت اکثر شادیاں مجبوری کے نام پر تلخیوں اور اذیتوں کے ساتھ خاموشی سے جاری رہتی ہیں، کیونکہ عورت کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اگر اس کی شادی ناکام ہوگئی تو اس صورت میں وہ غیر محفوظ ہوجائے گی اور اسے پناہ دینے والا کوئی نہیں ہوگا ۔اس لیے وہ ہر حال میں ہر قیمت پر شادی کو کامیاب بنانا چاہتی ہے۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *