سیاست کےرنگ لاہوریوں کے سنگ ۔ولائیت حسین اعوان

لاہور میں ضمنی الیکشن کی گہما گہمی ختم ہوئی۔جیتنے والوں کو ان کی تمام کوششوں محنتوں کی مبارک باد اور ہارنے والوں کو ان کے عزم حوصلے اور میدان میں ڈٹے رہنے پر مبارکباد۔۔عدالت اور نجم سیٹھی کا خصوصی شکریہ ادا نہ کیا گیا تو یہ نا انصافی ہو گی کہ دونوں فریقوں نے لاہوریوں کو خصوصا ًاور پاکستانیوں کو عموما ًلاہور میں الیکشن اور کرکٹ کا میلہ لگا کر ساون بھادوں کے موسم کے اختتام پر موسمی اور ذہنی حبس اور گھٹن سے نجات دلا کر تازہ دم کیا۔۔

مقابلے میں ایک ہی شخص نے جیتنا ہوتا ہے۔ اس الیکشن کے حوالے سے کچھ حقائق نظر انداز نہیں کرنے چاہیئں اور لاہوریوں پر کچھ جانب سے جو طنز تمسخر اور تنقید کے نشتر برسائے جا رہے ہیں ان کا جواب دینا بھی ضروری ہے۔نون لیگ کی جانب سے مریم نواز نے خوب الیکشن مہم چلائی۔بہت نمایاں ہو کر اور جارحانہ موڈ میں وہ اس الیکشن میں عوام کے سامنے آئیں اور محنت کا پھل پایا۔اس کے لیے ان کو داد نہ دینا بھی زیادتی ہو گی۔ساتھ ان افواہوں کا بھی پوسٹ مارٹم ہو گیا کہ نواز شہباز برادران  یا ان کی اولاد میں کوئی نا چاقی ہے۔

پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین نے الیکشن میں حکومت اور پھر سابق خاتون اول کا بھرپور حوصلے اور  محنت سے جراتمندانہ مقابلہ کر کے سیاست کے باب میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔
ملی مسلم لیگ جماعت اسلامی اور پی پی پی بھی آخر تک میدان میں ڈٹ کر کھڑی رہیں جس کے لیے وہ شاباش کی مستحق ہیں،خاص طور پر نوزائیدہ ملی مسلم لیگ نے اپنا پہلا میچ بہت اچھا کھیلا۔اور مستقبل میں اس کے ایک بڑی پارٹی بن کر سامنے آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔پی پی پی کے اپنے دور کی بیڈ گورنس اور پارٹی کی سطح پر غلط فیصلے اس کی شہرت میں کمی کا سبب بن گئے۔

شاید جماعت اسلامی اس نظام کی جماعت نہیں۔شاید موجودہ نظام تبدیل ہو جائے تو جماعت کا رول اس سے بہتر ہو جائے۔جماعت کے ہمدرد اگر میرا لکھا برا محسوس نہ کریں تو مدتوں پہلے جہاں جماعت تھی اس سے کچھ نیچے ہی آئی ہے۔بہت سوچ بچار کی اور قیادت میں تازہ دم جوانوں کی کمک شامل کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ سیاسی حکمت عملی اور الیکشن کے لیے بہترین امیدوار منتخب کرنے پر نظر ثانی کرنے کی صورت ہے۔

لاہوریوں سے پی ٹی آئی کے ہمدرد یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ انہوں نے شعور اور انصاف کو استعمال کرنے کی  بجائے پیسے فوری اور وقتی ترقیاتی کام اور شخصیت پرستی پر ووٹ دیا۔میں اس سے اختلاف کروں گا۔لاہوریوں کی سوچ تبدیل نہ ہوتی تو آج پی پی پی والی پوزیشن پی ٹی آئی کی ہوتی اور پی ٹی آئی والی پی پی پی کی۔ان کے شعور نے ہی ان کو پی ٹی آئی کو ترجیح دینے کی کمانڈ دی۔جس جوش و خروش سے نوجوانوں نے اس الیکشن میں ڈاکٹر یاسمین کا شروع سے آخر تک ساتھ دیا وہ سب کچھ آنے والے وقت اور پی ٹی آئی کے ورکرز کی سیاسی پختگی اور الیکشن میں حصہ لینے کی اہلیت ثابت کرتا ہے ۔

لاہور والوں نے ووٹ جس کو مرضی دیا ہے لیکن وہ اس بات پر ہی بے حد داد کے مستحق ہیں کہ وہ پرجوش اور بھر پور طریقے سے گھروں سے نکل کر آئے اور انتخابی گہما گہمی کی رونق بڑھا کر اپنے زندہ دل ہونے اور ایک جمہوری معاشرے  کا فرد ہونے کا بھی ثبوت پیش کیا۔۔۔
فوج پولیس اور الیکشن عملے کو بھی بہترین انتظامات کرنے پر دلی مبارک باد۔۔۔۔۔۔۔
اللہ پاک ہمیں ہمیشہ اپنے ایمان کے مطابق اور ملک کے مفاد میں ہر فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔آمین

ولائیت حسین اعوان
ولائیت حسین اعوان
ہر دم علم کی جستجو رکھنے والا ایک انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *