میں عورت ذات ہوں۔۔سلمیٰ سیّد

اوہ مجھے کیوں اور کیسے جگایا گیا ؟؟

میں تو سوئی تھی تیری ہی آغوش میں ،
قبل اپنی اس ممکنہ تخلیق سے ،
اوہو اچھا تمھیں تھی ضرورت مری ؟
تم نے خواہش ہی کی اور کُن کہہ دیا،
ربِ عالم نے مجھ کو خلق کردیا ۔۔
آرزو تھی تمھیں ایک ساتھی کی جو
تم کو مطلوب تھا،
سو اس سے بہتر کسے علم تھا،
کہ ساتھی تمھارے میں ہو خاص کیا
اس نے مجھ کو بنایا اور مجھ میں تمھارے لئے
بس سکوں رکھ دیا ۔۔
محبت رکھی اور برداشت بھی ۔۔
اور بھی کئی جذبے مجھے دے دیئے ،
اور تمھارے سبب
مجھ کو غیبت سے پردے پہ لایا گیا ،
حکمِ ربی ہے تو مجھ کو حاکم بھی تسلیم ہے
ہاں میں عورت ہوں،
میری بھی حد درجہ تعظیم ہے،
میں تیرے ہی بدن میں پنپتی رہی،
اب تیرے ساتھ ہوں،
میں تری ایک پسلی سے بنیاد ہوں
میں تیرے ہی بدن سے نکلتی ہوئی،
ایک آواز ہوں ۔۔
کائناتوں کے سازوں میں لپٹا ہوا،
اک حسیں راگ ہوں ۔۔
تم کو دنیا ملی پر تھی میری کمی ۔۔
اس کمی کے لئے اک ضرورت بنی ،
یعنی عورت بنی
کتنے رشتے بنے اور بنتے گئے،
ایک بیوی بنی،
اور پھر میرے قدموں میں جنت رکھی،
ایک بیٹی بنی،
اور بہن میں بھی ماں کا ہی پرتو رکھا،
رب سے مانگا ہوا میں اک انعام ہوں،
میں تمھاری ہی خواہش میں اُترا ہوا،
زندگی سے بھرا ایسا پیغام ہوں،
جو ہمیشہ سے لیکر ہمیشہ تلک،
بس ترے ہی لئے اپنے ہر روپ میں،
ہمسفر ہمدرد اور دمساز ہوں ۔۔
تو میرا جگمگ روشن دن،
میں تیری سہانی رات ہوں،
تو گھر آنگن پر سایہ درخت،
میں تیری شاخیں پات ہوں،
تو مرد محافظ ازلوں کا،
میں ایک قدم سے پیچھے ترے،
کیونکہ میں عورت ذات ہوں،
ہاں میں عورت ذات ہوں !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *