• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا وائرس اور معتمرین (عمرہ کرنے والے لوگ)۔۔حافظ صفوان محمد

کرونا وائرس اور معتمرین (عمرہ کرنے والے لوگ)۔۔حافظ صفوان محمد

السلام علیکم حافظ صفوان صاحب، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔

حافظ صاحب مکہ میں کل سے عصر کی نماز کے بعد سے ایک عجیب اور غیر یقینی سی صورتِ حال ہے۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ سعودی حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے غیر ملکی زائرین کی عمرہ ادائیگی پر پابندی لگا دی تھی۔ کل سے مزید سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ طواف اور سعی مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ زمزم اور پینے کا پانی بھی مکمل طور پر بند ہے۔

کچھ دوست احباب پاکستان سے عمرہ کی ادائیگی کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ کل مدینہ سے احرام باندھ کر مکہ پہنچے، لیکن مسجد الحرام میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ حکام کی جانب سے موثر رہنمائی کا شدید فقدان ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ معتمرین کو عمرہ ادائیگی کی اجازت کب دی جائے گی۔ حالتِ احرام، دن کا سفر اور رات بھر مسجد الحرام میں داخلے کی آس لگائے بیٹھے زائرین کے لیے اب مزید انتظار کرنا انتہائی مشکل نظر آ رہا ہے۔

ایسے میں آپ رہنمائی فرمائیں کہ حالتِ احرام کو کتنا طول دیا جانا مناسب ہے، اور اگر احرام کھول دیے جائیں تو دم یا کفارے کی حد اور طریقہ کیا ہوگا؟

مسجد الحرام میں داخلے کی اجازت نہیں ہے، دروازوں سے سکیورٹی اہلکار واپس بھیج دیتے ہیں۔ لوگ بے چارے راستوں میں بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔ کل تو یہاں تک تھا کہ لوگ صحن میں ایک طرح سے ٹریپ ہوگئے تھے۔ پینے کا پانی بھی نہیں تھا۔ بقالے بند تھے۔ جو باہر جاکے پانی لے کے آنے کی کوشش کرتا تو واپس داخلے کی اجازت نہیں ملتی تھی۔

حیرت کی بات ہے کہ مسجد الحرام میں بڑی سی کرسی پر بیٹھ کر لوگوں کو گھیر کر افلاطون اور بادشاہوں کے قصے سنانے والے جو ہر اختلافی مسئلے پر بغیر کسی تاخیر کے محاذ آرا ہونے پہنچ جاتے ہیں، وہ اس اہم مسئلہ پر عوام الناس کی رہنمائی کے لیے نکلے ہی نہیں۔ ان کا ہر بیان بلاتاخیر یوٹیوب پر آتا ہے، لیکن دو ہفتوں سے اس مسئلہ پر کوئی بیان نہیں آیا کہ اگر کرونا وائرس کی وجہ سے عمرے سے روک دیا گیا ہو تو عمرے کا احرام کب اور کہاں کھولا جائے۔ براہِ کرم راہنمائی کیجیے۔

جواب:
1: عمرے کے بارے میں علما کی کئی آراء ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صرف عمرے کے لیے سفر کرنا درست نہیں ہے۔ جب حج کے موسم میں حج کے لیے جایا جائے تو عمرہ بھی کر لیا جائے۔ میں ذاتی طور پر اسی رائے کا حامی ہوں۔

2: احرام نیت کا نام ہے۔ احرام کی حیثیت حج عمرے میں ویسی ہے جیسی نماز کے لیے وضو کی۔ چنانچہ جب اجازت مل جائے تو نیت کریں اور عمرہ کرلیں۔ انتظامیہ نے عمرے سے روک دیا ہے تو احرام کی پابندی ختم ہوگئی ہے۔ آپ بغیر کہے ،بغیر کوئی نیت کیے بالکل آزاد ہیں۔ جونہی اجازت مل جائے، فوراً نیت کریں اور عمرہ ادا کرلیں۔ جیسے وضو ٹوٹ جانے پر کوئی دم نہیں ہے ویسے احرام کھل جانے پر کوئی دم جرمانہ وغیرہ نہیں ہے۔ جیسے نماز کا وقت آنے پر وضو کرتے ہیں ویسے ہی جب عمرے کا وقت آجائے (اجازت مل جائے) تو نیت کرلیں۔

والسلام

نوٹ: اس پوسٹ پر کسی سے بحث نہ کی جائے اور نہ میں کسی کو جواب دوں گا۔ جسے میری رائے پسند ہے اور اس پر اطمینان ہے وہ اس پہ اپنی ذمہ داری پر عمل کرلے۔ شکریہ۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *