اعلیٰ تعلیمی اداروں کی زبوں حالی ۔۔اسلم اعوان

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کی قدیم ترین گومل یونیورسٹی پچھلے چودہ برسوں سے کئی پیچیدہ مسائل میں گھری ہوئی ہے۔اس عظیم درسگاہ کو مشکلات کے بھنور سے نکالنے کی بجائے اربابِ اختیار نے اپنی کم فہمی اورغرورکی بنا پہ ان خودتراشیدہ مسائل کو لاینحل بنایا۔ابتدا میں یونیورسٹی فقط مالی مشکلات کا شکار ہوئی‘ پھر رفتہ رفتہ انتظامی مسائل بھی سر اٹھانے لگے‘ جو آخر کار علمی اور اخلاقی زوال پہ منتج ہوئے۔بدقسمتی سے صوبہ بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے بتدریج زوال کی طرف بڑھنے کی بنیادی وجوہ نت نئی اصلاحات کا شوق بنا‘بلاوجہ قواعد و ضوابط میں کی جانے والی بیہودہ ترامیم نے یونیورسٹیز کو ایسی دلدل میں اتار دیا جہاں سے نکلنا دشوار ہوتا گیا۔خاص کر اے این پی دورِ حکومت میں تخلیق ہونے والے یونیورسٹی ماڈل ایکٹ کے بعد تو صوبائی انتظامیہ کو یونیورسٹیز کے ایڈمنسٹریٹو امور اور مالیاتی اتھارٹی سے کم و بیش لاتعلق کر دیا گیا۔ایک تو ماڈل ایکٹ کے تحت نہایت بے حجابی کے ساتھ آڈٹ کے داخلی نظام کی بساط لپیٹ کر یونیورسٹی انتظامیہ کو بدعنوانی کا لائسنس دے دیا گیا‘دوسرے وائس چانسلرشپ کیلئے پی ایچ ڈی پروفیسرکی شرط عائد کر کے انتظامی صلاحیتوں کے حامل افسران کی راہ روکی گئی‘تیسرے گنجلک قانونی عمل کی آڑ میں تمام انتظامی فیصلوں کا آخری اختیار سنڈیکیٹ اور سینیٹ کی بھول بھلیوں میں گم کر دیاگیا۔بلاشبہ ہمارے تعلیمی نظام میں ٹیچر کی اخلاقی اتھارٹی تو مسلمہ تھی‘ لیکن اساتذہ کیلئے انتظامی اتھارٹی کے حصول کا تجربہ نہایت مہلک ثابت ہوا۔جب تک ہر یونیورسٹی کا الگ ایکٹ اوروائس چانسلر کیلئے پی ایچ ڈی پروفیسرکی شرط لازمی نہیں تھی‘ اُس وقت گومل یونیورسٹی کو خان عبدالعلی خان اور قاضی حفظ الرحمن جیسے باکمال منتظم دیکھنے کا موقعہ ملا‘ جنہوں نے اپنی عبقری صلاحیتوں سے مادرِعلمی کے انتظامی ڈھانچے کومضبوط اورتعلیمی نظام کو فعال بنایا‘ لیکن یونیورسٹی ماڈل ایکٹ نافذ ہونے کے بعد‘ جب سے اساتذہ کو انتظامی کرسی پہ بٹھایا گیا ‘اُس دن سے یونیورسٹیز مالیاتی بدعنوانیوں کے گرداب میں پھنسنے کے علاوہ انتظامی طور پہ بدترین بحرانوں میں مبتلا ہو کر تعلیمی نشو ونما کے فریضے کو فراموش بھی کر بیٹھیں۔اس صورتحال کا اذیت ناک پہلو یہ ہے کہ قانونی جکڑبندیوں اور پیچیدہ قواعدو ضوابط کی بدولت چانسلر اور وائس چانسلردونوں کو بنیادی ذمہ داریاں نبھانے کی خاطراپنی انتظامی اتھارٹی کے استعمال کی راہ سجھائی نہیں دیتی۔کم از کم خبر پختونخوا کی تمام یونیورسٹیز میں نسلی‘لسانی اور نظریاتی عصبیتوں میں منظم ہونے والے اساتذہ کے پریشر گروپس پس پردہ بیٹھ کر یونیورسٹی سینیٹ اور سنڈیکیٹ کے سسٹم پر اثرانداز ہوکر وی سی کی انتظامی اتھارٹی کو بیکار بنا دیتے ہیں۔فیصلہ سازی کی اسی منقسم سکیم نے وائس چانسلرز کے کام کو زیادہ دشوار اور اتھارٹی کو مضمحل کر دیا؛چنانچہ دباو ٔکے اس ماحول میںاول تو کوئی وی سی اپنی منقسم اتھارٹی اور پیچیدہ اختیارت کوایکسرسائز کرنے کا ہنر نہیں جانتا اور اگر وہ اختیارات کے استعمال کی جسارت کر بھی لے تو اسے کسی خاموش مزاحمت اور لامتناہی مقدمہ بازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس وقت گومل یونیورسٹی کے کم و بیش چالیس فیصد امور سنڈیکیٹ میں پھنس جاتے اورساٹھ فیصد فیصلے عدالتوں میں چیلنج ہو جاتے ہیں۔2014ء میں اُس وقت کے وزیرخزانہ سراج الحق نے گومل یونیورسٹی کے مالی بحران کی وجوہات پوچھیں تو ایچ ای ڈی نے بغیر کسی قانونی جواز کے انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر غیر متعین تحقیقات شروع کرا دیں۔اپریل 2015ء میں گورنر خیبر پختونخوا نے اسی انکوائری کمیٹی کی سفارشات کو جواز بنا کر گومل یونیورسٹی میں بھرتیوں پر پانچ سال کی پابندی‘سابق وی سی اورپراجیکٹ ڈائریکٹر سے پانچ کروڑ کی ریکوری کے علاوہ پی ڈی دلنوازخان کی بیس سے اٹھارہ گریڈ میں تنزلی کا حکم صادر کیا‘ لیکن پانچ برسوں میں یونیورسٹی کی انتظامی اتھارٹی گورنر کے احکامات کو عملی جامہ پہناسکی نہ پی ڈی ڈیموٹ ہوئے‘ بلکہ متذکرہ پی ڈی بیس گریڈ میں رہتے ہوئے ایڈمن اور رجسٹرار جیسی حساس پوسٹوں کو انجوائے کرتے رہے۔اسی متنازعہ اہلکار نے کمال مہارت سے نئی بھرتیوں کی راہ بھی نکالی۔پہلے چالیس ٹیچنگ اسسٹنٹ کنٹریکٹ پہ بھرتی کر لیے‘پھر برطرفی کا سوانگ رچا کر انہیں عدالتوں سے حکم امتناہی لینے کا موقعہ فراہم کر دیا گیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ پچھلے تین سالوں میں منعقد ہونے والے سنڈیکیٹ کے چاروں اجلاس متنازعہ اور سنڈیکٹ فیصلے غیر مؤثر ہیں۔
اسی طرح خیبر پختونخوا کی 30 سرکاری یونیورسٹیز اس وقت مالی مشکلات کے علاوہ تعلیمی وانتظامی بحرانوں اور اخلاقی زوال کی لپیٹ میں ہیں اور وائس چانسلرز‘ رجسٹرار‘ کنٹرولر امتحانات اور ڈائریکٹرز فنانس لیول کے کئی افسران بدعنوانیوں کے مقدمات میں ملوث اورمتعدد ٹیچرز اخلاقی سکینڈلز میں گھرے دکھائی دیتے ہیں۔فی الوقت عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے علاوہ ہزارہ اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے سابق وائس چانسلرز اور کئی انتظامی افسران نیب مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں‘بنوں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ناشائستہ حرکات کی ویڈیو وائرل ہونے پر ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ جب سے اُس ٹرم سسٹم ‘جس میں تھرڈ ایگزامینر پیپر مارکنگ کرتا تھا‘کو ختم کر کے سمسٹر سسٹم متعارف کرایا گیا‘جس میں سوفیصد نمبرز ٹیچرز کے پاس ہیں‘اُس وقت سے معیارِ تعلیم پست اور طلبہ و طالبات کی ہراسگی کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔آج ملک کی کوئی یونیورسٹی ایسی نہیں جہاں طلبہ و طالبات سے اساتذہ کی دست درازیوں کی داستانیں زبان زدعام نہ ہوں۔ابھی حال ہی میں عالمی میڈیا نے کوئٹہ یونیورسٹی کی طالبات سے اخلاق سوز حرکات کا سکینڈل اٹھایا‘اس سے قبل پشاور یونیورسٹی کی طالبات ناقابل برداشت ہراسگی کے خلاف سڑکوں پہ نکل آئیں۔اب گومل یونیورسٹی فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین کو جنسی ہراسگی کے الزامات کی پاداش میں نوکری سے مستعفی ہوناپڑا۔دو سال قبل اسی یونیورسٹی کے ٹیچر کی بد اخلاق ویڈیو منظرعام پہ آنے کے بعد پروفیسر کو جیل کی ہوا کھانا پڑی۔چند ماہ قبل ڈی وی ایم کے اُس ڈین کے خلاف طلبہ نے پریس کانفرنس کر کے ہراسگی کے الزامات لگائے،جسے قبل ازیں فیصل آبادیونیورسٹی سے ہراسگی کے الزامات کے تحت نوکری سے برطرف کیا گیا تھا۔
گومل یونیورسٹی کے موجودہ وی سی ڈاکٹر محمد سرور پر بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں‘لاریب دن رات محنت کر کے انہوں نے یونیورسٹی کو معاشی مشکلات کے چنگل سے نکال لیا‘ لیکن تمام تر اخلاص کے باوجود 28 جولائی کو جب وہ ریٹائر ہوئے تو یونیورسٹی کا انتظامی بحران اور تعلیمی زوال دوچند ہو چکا تھا۔ 2016ء میں جب ڈاکٹر سرور صاحب نے عنان سنبھالی تو ایچ ای سی کی رینکنگ میں گومل یونیورسٹی 22درجے پہ تھی۔ان کے تین سالہ دورانیے کے اختتام پہ آج ایچ ای سی کی رینکنگ میں گومل یونیورسٹی89 درجے تک گر گئی ہے۔ان کے پیشرو ڈاکٹر فرید اللہ کے دور میں پیپلزپارٹی کے رحیم دادخان کو جعلی ڈگری ایوارڈ کرنے کا سکینڈل سامنے آیا‘ مگر اس وقت ہزاروں جعلی ڈگریاں جاری ہونے کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔تمام تر تحفظات کے باوجود مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اگر دلنوازگروپ مدد نہ کرتا تو ڈاکٹر سروراسقدر بے باکی سے مدت ملازمت پوری نہ کرسکتے‘ مگرافسوس صد افسوس کہ جولائی میں مدت ملازمت کے اختتام پہ نئے وی سی کی تعیناتی تک جب انہیں عارضی طور پہ کام جاری رکھنے کی مہلت ملی تو اسی دوران انہوں نے اپنے قریبی رفیق پروفیسر صلاح الدین سے جبری استعفیٰ اور دستِ راست دلنوازکو معطل کر کے موقع پرستی کی نئی مثال قائم کردی۔اگر وہ اپنے محسن دلنوازخان کو معطل کرنے کی بجائے عارضی چارج چھوڑ دیتے تو ان کی عزت میں اضافہ ہوتا۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *