• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • آئینہ در آئینہ(طویل انٹرویو)کچھ حصص جو شامل نہ ہو سکے ،شرکا علامہ ضیا اور ستیہ پال آنند/حصّہ سوئم

آئینہ در آئینہ(طویل انٹرویو)کچھ حصص جو شامل نہ ہو سکے ،شرکا علامہ ضیا اور ستیہ پال آنند/حصّہ سوئم

Some portions left out of the redesigned book format.

ضیا : عقل کے فاضلانہ ذوق نے شعر و ادب کی راہ میں مزاحمت پیدا نہیں کی ۔۔۔ورنہ فلسفہ کی موجودگی میں ۔۔۔۔؟

آنند: جی، مزاحمت کی بھی ہے، اور نہیں بھی کی۔ جب اقبال یہ کہتے ہیں۔ ’’اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان ِ عقل, لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے‘‘ تو وہ در میانی راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ کبھی صحیح راستہ نہیں ہوتا، لیکن دائیں بائیں لگاتار چلتی ہوئی دو کانٹے کی باڑوں سے حفاظت ضرور مہیا کرتا ہے۔ یہاں تک تو ’عقل‘ کی بات تھی، جو غزلیہ شاعری میں ،خاکسار کے قول کے مطابق، اس لفظ کے تابع مہمل ’وقل‘ سے زیادہ مستعمل ہے۔ ہاں، اگر آپ بضد ہیں کہ’ فلسفہ‘ کو بھی ’عقل‘ کے ضمیمہ کے طور پر شامل کر لیا جائے، تو، محترم، یہ مجھ جیسے ایک شاعر کے لیے بے حد جوکھم کا کام ہے کہ میں اس کا جواب دوں۔ کوشش کروں تو بھی نہیں دے پاؤں گا۔ اس لیے معذرت۔

ضیا :انسان کی طینت میں موجود کمزور عناصر نے اپنے نشیبی بہاؤ کیلئے فنون ِ لطیفہ کی کفالت کی، کیونکہ مرویاتِ علمی سے استفادہ ہر شخص کے بس کی بات نہ تھی ۔۔۔
آنند:: ایک بار پھر میرا جواب اثبات میں بھی ہے اور نفی میں بھی۔ اگر آپ ارسطوؔ کے قول پر مضبوطی سے قائم ہیں کہ شاعری (اس کے زمانے کے یونان میں Poetic Play )، تھیٹر میں بیٹھے ہوئے سامعین کے دل و دماغ میں routine workaday کی زندگی سے پیدا شدہ ، ہیجان ، اعصابی حساسیت، تنک مزاجی وغیرہ کو خارج کرنے میں ایک نشیبی بہاؤ  کا ساکام کرتا ہے، تو میرا جواب ، ارسطو کے دور کے حوالے سے، اثبات میں ہو گا۔ لیکن آج جب کہ الیکٹرانک میڈیا ، پڑھی جانے والی یا سنی جانے والی ، شاعری کی نسبت لاکھوں گنا آگے بڑھ چکا ہے، ارسطوؔ کا قول اپنے معانی کھو چکا ہے۔ مرویات علمی سے استفادہ عوام الناس کے بس میں تب بھی نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے ، اس لیے سوال کا دوسرا حصہ اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے۔ شاعری علم و دانش کا سستا نعم البدل نہیں ہے۔ نہ ہی علم و دانش شاعری کا نعم البدل ہے۔ دونوں خود میں مختار ہیں۔

ضیا : تخلیقی تعبیرات سے ہی ایک کمزور دوسرے کمزور کے پیچھے چھپ رہا ہے ؟

آنند: الحمد اللہ! کیا تاویل نکالی ہے آ پ نے قبلہ! میری ناقص عقل میں تو کچھ نہیں پڑا۔ اگر ’تخلیقی تعبیرات‘ سے آپ کی مراد وہ تشریحی، استبصاری یا استناجی فرمودات ہیں جو کسی شعری تخلیق پر ’ٹانک‘ دیے جاتے ہیں ، (جیسے دیوان غالب کی شرعوں میں کچھ شارعین آج تک کئی اشعار پر متفق نہیں ہو سکے) ، تو میں آپ کو داد دیتا ہوں کہ آپ نے ’ایک کمزور‘ (شاعر) کو دوسرے کمزور (شارع) کے پیچھے (یا الٹ پھیر میں شارع کو شاعر کے پیچھے) چھپنے کا استعارہ دے کر مجھے ایک نئی نظم کا موضوع فراہم کر دیا ہے۔

ضیا : تخیل پر بھی لاشعوری طور پر مذہب کا چھاتا موجود ہے ؟ سو ہمارا ادب بھی مسلم ، ہندو ، عیسائی اور ملحد ہو جاتا ہے ۔۔۔

آنند: جی نہیں، بالکل نہیں، قطعاً نہیں۔ مذہب کا چھاتا اگر موجود بھی ہے اور میرے جواب کو اس سے کوئی علاقہ نہیں ہے تو ایسا ادیب وہ ہے جو یا تو دینی فالنامے منضبط کرے گا یا اپنے قلمدان کو ہدایت ناموں، تعویزوں ِ ، امام ضامنوں کے لیے مخصوص کر دے گا، یا اپنی خامہ فرسائی کو کٹ ملّا ئی کے حوالے کر کے بنیاد پرستی سے چپک جائے گا اور متقین یا متشرعوں میں شمولیت اختیار کر لے گا۔ اصلی ادب میں مذہب کا دخول صرف اس حد تک ہے کہ مذہب کے حوالے سے جو اساطیری یا تاریخی یا نیم تاریخی ، مستند یا غیر مستند حوالہ جات، داستانیں پشت ہا پشت سے چلتی ہوئی ہم تک پہنچی ہیں، انہیں ہم استعاراتی حوالوں کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں۔ کربلا یا رام کے بنباس کے استعارے اب اسلام یا ہندومذہب سے اٹھ کرآزاد خیالی یا اثباتیت کے ذیل میں آ گئے ہیں۔

ضیا: تخلیق کا پیدائشی دین کیا ہے ۔۔؟کیا وہی جو انسان کا ہے ؟ مگر اس پر بعد میں نافذ ہونے والے محتلف قسم کے ’’اثرات ‘‘ (خارجی اور داخلی ) اس کی خلقی نفسیات باقی رہنے دیتے ہیں ۔؟
آنند: تخلیق کا ’پیدائشی دین‘؟ جی ہاں، وہی ہے، جو انسان کا ہے۔ ہم انگریزی میں اسے ہیومنزم کہتے ہیں۔ بشریت، انس، آدم دوستی فطرت ِ انسانی ہیں۔ ذاتی، شخصی، نسلی، اجتماعی، مشربی ، عمرانی، جماعتی، اس کے ارکان ہیں۔ سماجی اقتصادیات، قومیت، مہذب سماج، ملت، امت ۔۔۔ سب اس ’ہیومنزم‘ کے تحت رہ کر ہی پھل پھول سکتے ہیں۔ اس لیے خارجی اثرات ، (جن کے بارے میں آپ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ کیا اس کی ’خلقی نفسیات‘ کو قائم رہنے دیتے ہیں) ، چاہے کچھ مدت کے لیے اس پر اپنے منفی اثرات سے حملہ آور ہو بھی جائیں، تو بھی ’ہیومنزم‘ کا مدرک و مشعر جیتا جاگتا سایہ دیر تک ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ یورپ کی دو عظیم جنگوں نے (جو یورپ کے علاوہ ایشیا اور افریقہ میں بھی لڑی گئیں) نے یہ واضح کر دیا ہے کہ آخر کار انسانیت کا بھلا ہیومنزم کی پیروی میں ہی ہے۔

ضیا:نظم کو فروغ دینے کی کوشش کا ایک مقصد یہ بھی تو نہیں کہ انسان کی نفسیات سے بالا اسے مسائل کی بات چیت تخلیقی سطح پر کرنے کی ضرورت آ گئی ہے ۔

آنند: شاید ہو، لیکن اردو نظم کی ’مین اسٹریم‘ سے وابستہ جو ایک زیریں رو میرے نام کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے، اس کا صرف (اور صرف) ایک مقصد ہے کہ موضوعات اور مضامین کے انتخاب میں شاعر All knowledge is my domainکے نصب العین کو سامنے رکھے اور خود کو مجبور و محبوس نہ سمجھے کہ یہ موضوع یا اس کے تحت وارد ہوا یہ مضمون اور ان دونوں کے تحت خلق ہوا یہ استعاراتی تانا بانا یا تو ’ولایتی‘ ہے، یا اردو کے حوالے سے کچھ زیادہ bold ہے ۔۔۔۔اور پھر اس مضمون کو شعری اظہار میں ڈھالتے ہوئے سطروں کی تراش میں رن آن لائنز کا التزام رکھے۔ پہلی اور آخری شرط یہ تھی کہ من و تو کے چوکھٹے میں رکھ کر غزل کے ان مضامین ، استعاروں اور اصطلاحات سے اجتناب برتے جو چبے چبائے ہوئے نوالوں کی طرح ہیں۔
آپ کے سوال کا ایک حصہ انسان کی نفسیات سے ’بالا‘ مسائل کی تخلیقی سطح پر بات چیت کرنے کی ضرورت کے بارے میں ہے۔ اگر آپ کا مطلب مابعد الطبعیاتی موضوعات سے ہے، مثلاً ہندو فلسفی کے مدارس،( ویدانت، اتر میمانسہ،پروا میمانسہ، یوگ، نیائے،) یا یونانی مدارس ِ فکر (نام گنوانے کی ضرورت نہیں) یا جدید فلسفہ ۔۔۔۔ تو بھائی جان، شاعری انہیں باد نسیم کی طرح چھو کر گزرتی ہے، تتلیوں یا بھنوروں کی طرح ان پر بیٹھتی نہیں ہے۔ منڈلاتی ضرور ہے، لیکن ان کی خوشبو کو خود میں جذب کرنے کے بعداوپر اوپر سے ہی گزر جاتی ہے۔ جی نہیں، سوال کے اس حصے کا جواب نفی میں ہے۔

ضیا: کیا مبکرات ہی ( اَن چھوئے مضامین ) ہی تخلیق کا منصب ہے ۔۔۔ عوامی ، تاریخی اور نفسیاتی دھند میں انسانی فضیلت کاما بقا اور ارتقائی  مقصود ہے یا کچھ اور ۔۔۔؟
آنند: میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ مبکرات یقیناً ان پیش پا افتادہ مضامین سے بہتر ہیں جو ہزاروں بار موضوع ِ سخن بنائے جا چکے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب ایسے ever green مضامین سے کلیتاً اجتناب نہیں ہے، جو ہماری طبیعت کا خاصہ ہیں۔ قدرتی مناظر، رشتوں کا تقدس اور ان کی ہمواری یا نا ہمواری، معاشی اور سیاسی موضوعات جن کا چہرہ مہرہ استعارے، علامت، تمثال، وغیرہ کی مدد سے نیمے دروں نیمے بروں رکھا جا سکتا ہو، اسی زمرے میں آتے ہیں۔ آپ کا فرمانا صحیح ہے کہ انسانی فضیلت کا ما بقا اور ارتقا دونوں مقصود ہیں لیکن صرف اس نصب العین کو سامنے رکھ کر خلق کی گئی نظمیں اپنا حسن کھو دیتی ہیں۔

ضیا:فن کا الہا م وجودی اور انفرادی ہوتا ہے ، باقی نصاب کے موجد یا مجدد آپ خود ہیں؟

آنند: جی، سو فیصد درست ہے۔ میں شاید اس سچائی کو اتنے خوبصورت الفاظ سے معین نہ کر سکتا۔جیسے کہ آپ نے کیا ہے۔

ضیا: آپ کی نظم نگاری کا کیف وکم کیا ہے ؟ آپ کی سہولتیں اور مشقتیں کیا ہیں ؟

آنند: چونکہ یہ سوال میری نظم نگاری کے بارے میں ہے، اس لیے میں اسے یہاں سے اٹھا کر آخری سوالات کی فہرس میں رقم کرنے کی اجازت چاہتا ہوں، جہاں اس قماش کے دیگر سوالات ہیں۔

ضیا:انسانی گفتگو میں ’’لہجہ ‘‘ کی موجودگی ثابت نہیں کرتی کہ انسان کیفیات کے تابع ہے ؟  ضیا (سوال ثانی): کیا کیفیات لائق مواخذہ ، اور قابل تعزیر ہو سکتی ہیں ۔۔۔؟
آنند: چونکہ سوال ’گفتگو‘ میں ’لہجہ‘ کے بارے میں ہے، اس کا تعلق شعری نظام سے نہیں ہے۔ بہر حال جواب واضح ہے۔ جب آپ نیم خند، ریش خندلہجہ سرزنش کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو یہ گالی گلوچ نہیں ہے، بد گوئی یا خردہ گیری بھی نہیں ہے، صرف طنز ہے ، کنایہ اور اشارہ کی رو سے شکایت بھی ہے۔دوسری طرف لعنت، نفرت، دھتکار، تہمت وغیرہ درشت لہجے کی پیدا وار ہیں، جہاں لہجہ اس سب و شتم کو کچھ زیادہ ہی کٹیلا بنا دیتا ہے۔ یہ کیفیات لائق مواخذہ اور قابل تعزیر ہو سکتی ہیں۔شعری نظام سے اس سوال کا تعلق صر ف ہجو گوئی تک ہے۔ اگر سوداؔ کسی شخص سے ناراض ہوتے تو اپنے ملاز م کو پکارتے، ’’ ابے غنچہ، لائیو تو میرا قلمدان، میں اس خبیث کی خبر لوں!‘‘ اور پھر ہجو لکھ کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کر لیتے ۔ میں اسے شعری گوشمالی کہتا ہوں۔ یہ پھبتی کسنا، طعنہ دینا تو ہو سکتا ہے، تلخ تنقید بھی ہو سکتا ہے، دشنام گوئی نہیں ہو سکتا۔

ضیا: کیاا نسانی شخصیت کے نفسیاتی عبوری نظام میں’’مراعات خواہی‘‘ عقلی تقاضا نہیں ہے ؟

آنند : اس سوال کا بھی براہ راست تعلق شعر و سخن سے نہیں ہے۔ میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اس کی باریک پرتوں کو کھول کر درون دل ایسے دیکھوں، جیسے ایک ماہر نفسیات دیکھتا ہے۔

ضیا :اصطلاح ِ منعقدہ اجماعیہ (اجماع و اجتہاد )پر علم کا رک جانا ، علم کو سہولت دینے کے لئے ہے یا پانی کے کناروں سے باہر جانے کا خطرہ موجود ہوتا ہے ؟

آنند: اجماع و اجتہاد ایک ایسا حربہ ہے جو صاحب اختیار لوگ اپنے ’اختیار‘ کو قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اٹھارھویں صدی سے پہلے عیسائی مذہب میں یہ conclaves متعدد بار یورپ کے کئی ممالک میں منعقد کی گئیں۔ طویل بحث و مباحثہ کے بعد فیصلے وہی ہوئے جو ارباب اختیار نے پہلے سے ہی لکھ کر رکھے ہوئے تھے، لیکن اگر میں کہوں کہ انہی کی وجہ سے کچھ نئے فرقوں نے، اپنے مسلک کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے بھی،اپنی الگ حیثیت قائم کی تو غلط نہ ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق عیسائیوں میں اس وقت ایک سو بارہ فرقے ہیں، ان سب کے الگ الگ منشور ہیں اور الگ الگ گرجا گھر ہیں، لیکن ان میں منافقت اس لیے نہیں پائی جاتی کہ عیسیٰ مسیح یا تثلیث کے قاعدے کو تو سب تسلیم کرتے ہیں لیکن عیسیٰ مسیح کے بعدکی صدیوں میں ، خصوصی طور پر اس مذہب کے یورپ کے پسماندہ ملکوں اور جنوبی امریکا میں پھیلنے کے بعد، ان فرقوں میں الگ الگ saintsکی تعلیمات کو ہی ایک خصوصی درجہ دے دیا گیا ہے۔ کچھ فرقوں نے تو اپنی الگ انجیل بھی دریافت کر لی ہے، جیسے کہ امریکا میں مارمن کرسچین طبقہ ہے۔ میں اسلام کے بارے میں کوئی بھی بات لکھنے سے پرہیز کرتا ہوں، صرف اتنا کہوں گا کہ اس کا مطلب صرف اتفاق رائے ہے جو (فقہ) مسلم مجتہدین کا کسی امر شرعی پر متفق ہو جانے کا دوسرا نام ہے۔
آپ نے پوچھا ہے کہ ، کیا یہ طریق کار علم کو سہولت دینے کے لئے ہے یا پانی کے کناروں سے باہر جانے کا خطرہ موجود ہوتا ہے، دونوں باتیں ہی صحیح ہیں، لیکن زیادہ تر موخر الذکر بات ہی قابل قبول دکھائی دیتی ہے۔

ضیا :کیا غزل میں غالب اور میر کو موقوف علیہ مانتے ہیں ؟

آنند :مجھے علم نہیں کہ یہاں پر ’‘ٹائپو‘‘ کی وجہ سے ’موقوف الیہ‘ کی جگہ پر ’موقوف علیہ‘ لکھا گیا ہے یاآپ کی تحریر کردہ اصطلاح ہی صحیح ہے۔ ’موقوف الیہ‘ کے استعمال سے استعارہ کی سطح پرآپ کا سوال ایک گہری رمزیت کا حامل ہو جائے گا، یعنی کیا یہ دو شعرا وہ ہیں جن کے لیے غزل وقف کی گئی ہے، گویا کیا یہ غزل کا حرف ِ آخر ہیں۔’موقوف علیہ ‘ منصف، جج، ثالث کے معانی میں استعمال کیا جاتا ہے، یعنی وہ کرسی (مثلاً ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ یا پریوی کونسل) جس پر کسی تنازعہ کا فیصلہ منحصر ہو۔دونوں حالتوں میں میرا جواب نفی میں ہے۔ غالبؔ اور میرؔدو مختلف اسالیب کے مدارس کے بانی ہیں ، دو الگ الگ، schools of thoughtکے نہیں۔ ایک کے ہاں سہل ممتنع کی وہ شکل ہے، جو ممتنع نہیں ہے، دوسرے کے ہاں مدوریت اور ملفوفیت ہے جو مشکل پسندی کے ذیل میں آتی ہے، لیکن ممتنع وہ بھی نہیں۔اس کی وجہ صنف غزل کی تنگ دامانی ہے ، جس کا ’گلشن‘ میں کوئی ’علاج ‘تب بھی نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے۔میں تو دونوں کا گرویدہ ہوں۔

ضیا: خلاصۃ الامر مشرقی ادبیات کا تخلیقی ، ادبی ، موضوعاتی مرکزہ کیا ہے ؟ اور کیا یہ عصری ادبیات سے تقابل کی اہلیت اور صلاحیت رکھتا ہے ؟

آنند:  مشرقی ادبیات سے اگر آپ کی مراد صرف (اور صرف) فارسی اور اردو ہے تو اس کا جواب مختلف ہو گا۔ اگر جاپان، چین اور ہند چینی کے ممالک کو شامل نہ بھی کریں تو مشرق میں ہندوستان کا پچیس تیس صدیاں پرانا سنسکرت اور جنوبی ہند کی زبانوں تامل، تلیگو، کنڑ، ملیالم اور نیچے شری لنکا تک سنہالی کا بھی ادب شامل ہے، جو اردو اور فارسی سے یکسر مختلف ہے۔اس لیے اس سوال کا ایک جواب ممکن نہیں ہے۔

 ضیا : مغربی ادبیات اور مشرقی ادبیات کی ’’رومان پسندی ‘‘ میں بنیادی اختلاف یاامتیاز کیا ہے ؟
آنند : آپ نے خود ہی اپنے سوال میں جواب کا بیج بو دیا ہے۔ جہاں ’رومان پسندی‘ ایک مثبت قدر ہے ، وہاں یہ بطلان کی حد سے بھی آگے بڑھ جاتی ہے۔
سراب، وہم، خواب، رویا، دیو پری کی وہمی، قیاسی، خیالی داستانیں ہیں، اعوجاج اور مغالطے ہیں۔ زمانہ ٔ قدیم سے لے کر انیسویں صدی کی ـداستان گوئی یا قصہ خوانی تک ہم لوگ ’سائے کو حقیقت ‘ سمجھتے رہے ہیں۔ انہی داستانوں سے مجنوں اور فرہاد کے استعارے معرض وجود میں آئے جو غزلیہ شاعری میں آج تک کسی نہ کسی صورت میں زندہ ہیں۔ عیاری کے قصے ختم نہیں ہوئے، اوریچر کی شکل میں آج تک موجود ہیں۔ جب کہ مغربی ادبیات میں سولہویں ، سترہویں صدی کے بعد یہ نا پید ہو گئے اور شعری یا نثری دونوں اصناف میں ادبی تخلیقات بے جا و بر جافطری او رصائب ، اصلیت اور انسانی سرشت کے مطابق لکھی جانے لگیں۔ادبی تخلیق میں یہ ضروری نہیں ہے کہ روشن دماغی ہو، روشنیٔ  طبع ہو، نکتہ رسی یا ذہانت ہو، لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ضعیف العقلی ہو، دیوانگی، ہرزہ سرائی اور کھلندڑہ پن ہو۔فرزانگی اور حماقت میں تمیز ضروری ہے، جو ہم نہیں کر سکے۔

 ضیا  : شاعرانہ آمد تخلیقی شعور کا با ترتیب اور موثر ہونا نہیں ہے ؟

آنند: جی نہیں۔ شاعرانہ ’آمد‘ تخلیقی شعور کا نو نیاز آمد ہ ، نونہال ضرور ہے، لیکن اس کا با ترتیب ہونا یا موثر ہونا ضروری نہیں ہے۔ اسی لیے نوے فیصد سے زیادہ تخلیقات کو خلق ہونے کے بعد کئی کئی بارنظر ثانی در ثانی کے عمل سے گزارنا ضروری ہے۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آئینہ در آئینہ(طویل انٹرویو)کچھ حصص جو شامل نہ ہو سکے ،شرکا علامہ ضیا اور ستیہ پال آنند/حصّہ سوئم

  1. بہت خوب تر اور عمدہ اور معلوماتی انٹرویو ھے۔ ہاں شعر و ادب جیسی لایعنی اصطلاح محترم ضیاء صاحب نے استعمال کی ہے۔جو قابل قبول نہیں۔حیرت ہے وہی لوگ غزل ؤ ادب،افسانہ و ادب،نظم و ادب،مصرع و ادب،سبب و ادب،وتد و ادب،وغیرہ وغیرہ و ادب وغیرہ استعمال کرنا نہ جانے کیوں معیوب سمجھتے ہیں؟+

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *