انصافی اور عقیدت کی چُھری۔۔عامر کاکازئی

جوش ملیح آبادی کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے تیز چھری کا نام “عقیدت” ہے جو انسان کی عقل و خرد کی شہ رگ کاٹ دیتی ہے۔
کچھ سال پہلے کی بات ہےکہ حامد میر کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں نگہت  اورکزئی  کی  کسی ایشو پر ساتھی پارلیمنٹیرین کے ساتھ بہت گرما گرمی ہوئی، حتئ  کہ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ پروگرام کے ختم ہونے کے وقت اتفاق سے کیمرہ آن رہ گیا اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ جو لوگ لڑ رہے تھے، اب ایک دم سے نارمل ہو کر ہنسنے لگے کہ دیکھو کیسے عوام کو بےوقوف بنایا۔
جنرل مشرف کے یگیہ میں ایک پروگرام میں موجودہ وزیراعظم نے شیخ رشید کی کسی بات پر غصہ میں کہا کہ اس انسان کو تو میں چپڑاسی بھی نہ رکھوں۔ پھر لوگوں نے کچھ سال بعد دیکھا کہ خان صاحب شیخ رشید کے مشورے کے بغیر سوتے بھی نہیں تھے۔
اسی طرح کسی زمانے میں عمران خان صاحب ایم کیو ایم کے خلاف لندن گۓ اور مقدمہ درج کیا مگر اب وہ ہی ایم کیو ایم ان کے اقتدار کی ساتھی ہے۔
شہباز شریف نے ایک جلسے میں زرداری کو گھسیٹنے کا اعلان کیا، مگر کچھ ہی مہینوں کے بعد لوگوں نے ان دونوں کو گلےملتے دیکھا۔
سلمان تاثیر نے کیا کیا نہ کیا پیپلز پارٹی کے لیے، مگر شہادت کے بعد زرداری نے جنازہ پڑھنے کی بھی زحمت گوارا نہ کی۔
پیپلز پارٹی کے لیڈر شیر افگن نیازی کے بیٹے کا ٹریفک حادثے میں انتقال ہوتا ہے، بے نظیر نے افسوس کا ایک فون کرنا گوارا نہ کیا۔ نواز شریف نے جنرل مشرف کے ساتھ ڈیل کی اور اپنے ایک اہم لیڈر جاوید ہاشمی کو جیل میں سڑتا چھوڑ کر ملک سے چلے گۓ۔
ڈاکٹر فاروق صاحب تحریک انصاف کے بانیوں میں سے تھے، مگر ان کی شہادت پر ان کا جنازہ پڑھنا تو ایک طرف، آج تک تعزیت کے دو بول بھی نہ بولے۔
یہ سارے سیاست دان ایک دوسرے کے دوست ہیں، ان میں آپسی رشتہ داریاں ہیں۔ مگر یہ عوام کے سامنے ایسے ایکٹنگ کرتے ہیں، کہ جیسے یہ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں، اور ہم عوام ان کے عشق میں پاگل ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہو جاتے ہیں۔
ہمارے کچھ انصافی دوستوں نے کچھ دن پہلے پٹیل اور مراد سعید  کی چپقلش کو سیریس لے کر بعض بزرگ دوستوں کے ساتھ ناشائستگی اور انیتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے لیے ایک حال ہی کا واقعہ پیش خدمت ہے۔
کچھ دن پہلے منصور آفاق صاحب نے خبر دی تھی کہ نعیم الحق صاحب کینسر کی وجہ سے کسی کو بھی  نہیں پہچانتے اور نہ ہی چلنے پھرنےکے قابل ہیں، جن کے لیے انہوں نے لڑایاں کیں، اب اس مشکل وقت میں وہ ان کی ویل چیئر دھکیلنے سےانکاری ہیں۔سو مرنے سے کچھ دن پہلے سب نے یہ دلدوز منظر دیکھا کہ ان کا بیٹا آیااور اپنے باپ کی ویل چیئر دھکیلتا ہواواپس کراچی روانہ ہو گیا۔افسوس یہ کہ نہ ہی ان کو ایمبولنس دی گئی اور نہ ہی کوئی ان کو سی آف کرنے آیا، حتی کہ جس لیڈر کے لیے انہوں نے سب کے ساتھ دریدہ دہنی کی تھی، اس نے ان کا جنازہ پڑھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کیا۔
ایک کہاوت ہے کہ “ککڑی دے پیر سڑن تے اوہ بچے اپنے تھلے لے لیندی اے ” اگر ہمارے محترم انصافی بھائیوں کا یہ خیال ہو گا کہ کسی مصیبت کے وقت ان کا لیڈر ان کے پیچھے کھڑا ہو گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ یاد رکھیے کہ جو نعیم الحق جیسے وفادار کا نہ ہوا وہ آپ سب گمنام ساتھیوں کا کیا ہو گا؟ یہ بھی یاد رکھیے کہ نعیم الحق وہ وفادار تھا، جس نے لائیو شو میں اینکر کو گلاس اُٹھا کر مار دیا تھا کہ اس اینکر نے کوئی نامناسب سوال اس کے لیڈر کے بارے میں پوچھ لیا تھا۔ مگر اس وفادار کی آنکھیں اپنے لیڈر کی راہ تکتے تکتے خاک ہو گئیں، مگر وہ نہ آیا۔
تمام مسلمانوں کے لیے رول ماڈل ان کے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہیں۔ کیا بزرگوں سے یاوہ گوئی کرتے وقت ہمارے معزز انصافی بھائیوں کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا بھی رویہ یاد نہ رہا کہ انہوں نےاپنے بدترین دشمنوں کے ساتھ بھی ایسا ہتک آمیز رویہ نہ رکھا۔
ایک پنجابی کی کہاوت ہے کہ “ڈگی کھوتے توں تے غصہ کمہار تے” گالی گلوچ اور نامناسب رویہ پٹیل اور  مراد    سعید کے درمیان  ہوا،انصافی بھائیوں نے پٹیل کا سارا غصہ دو محترم بزرگوں پر اتار دیا۔ کیا ایسا کرتے ہوۓ آپ کو خدا کا فرمان بھی یاد نہیں رہا کہ
49:12 اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
سرائیکی کی مثال کہ ” پرونڑ آکھے استاوے کوں تیڈے اچ ڈو چھنڑ ہن”

ہم اپنے بہت ہی معزز انصافی دوستوں سے ایک بہت ہی عاجزانہ سا سوال کرتے ہیں کہ کیا مراد سعید واقعی دودھ کا دُھلا ہوا انسان ہے کہ آپ سب نے اس کے لیے ایک معزز بزرگ کے ساتھ دُشنام طرازی کی؟ اور دوسرے معزز انسان کا راز یوں سر عام آشکار کیا؟ یہ کرتے وقت آپ لوگ اپنے رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا کہا ہوا فرمان بھول گۓ تھے کہ ” اگر کوئی جوان کسی بزرگ کی عزت کرے گا تو اللہ اس کو بڑھاپے میں وہ ہی عزت لوٹا دے گا” انس ابن مالک کی روایت سنن ال ترمذی 74

ابو ہریرہ کی ایک روایت کے مطابق رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دوسرے کے راز کو راز میں رکھنے کی ہدایت کی تھی۔
ہمارے پشتو کے شاعر ہیں، بخت زادہ دانش، ان کا ایک شعر ہے ” اللہ منم رسول منم خو بیہ  ہم دوزخی یمہ” ہم پاکستانی ہیں، مسلمان ہیں، اللہ کو مانتے ہیں، رسول کو مانتے ہیں مگر آپ کے خود ساختہ شکتی شالی بھگوان اور اس کے حوریوں کو صرف ایک انسان مانتے ہیں تو کیا آپ کے بھگوان اور اس کے حواریوں کو نہ ماننے والے طعن و تشنیع کے حقدار ٹھہرے؟ کیا اوم جے جگدیش ہرے نہ گانے پر مخالفین عدُو بن جاتے ہیں؟ یہ یاد رکھیے کہ اگر آپ اپنے لیڈر سے محبت یا عقیدت رکھتے ہیں تو کسی اور پر نہ تو یہ محبت لاگو  ہوتی ہے، اور نہ ہی عقیدت۔
فلم ” پنجاب نہیں جاؤں گی ” کے ہیرو فواد گھگا کا ایک ڈائیلاگ ہے کہ ” آپ اپنے فرینڈ کو hug کرو تو ٹھیک ، میں اپنی کزن کو ٹچ کروں تو غلط، امل جی آپ بھی تو کچھ سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرو ” تو انصافی بھائیوں آپ بھی فواد گھگا کی بیوی امل کی طرح کچھ سپورٹس مین سپرٹس کا مظاہرہ کرو اور اپنے مخالفین کو ہنس کر برداشت کرو۔ اپنی حکومت کے نکمے پن کو کھلے دل سے تسلیم کرو۔
ایک ٹائلٹ میں لکھا تھا ” اُٹھ سالے دنیا چاند پہ پہنچ گئی اور تو ابھی تک یہیں بیٹھا ہے” تو میرے معزز انصافی بھائیوں، اب آپ کی حکومت ہے، آپ کا لیڈر اس ملک کا سربراہ ہے اور جو ملک یا کسی خاندان کا سربراہ ہوتا ہے وہ باپ کی طرح ہوتا ہے، اپنے بچوں کی غلطیاں  نظر انداز کرتا ہے۔ بھائیوں آپ لوگ اب اپوزیشن میں نہیں ہو، بلکہ حکومت میں ہو۔ اس لیے اپوزیشن جیسی حرکتیں اب آپ کو زیب نہیں دیتی بلکہ مخالفین کے ساتھ عفو و درگزر کا عمل اپنانا چاہیے۔
کولمبیا کے ادیب گیبرئیل گارسیا مارکیز کے کہے ہوئے پر دونوں فریق عمل کریں کہ اپنی نفرت کو برف پر لکھیں تاکہ سورج نکلے اور ساری نفرت برف کے ساتھ پگھل کر بہہ جائے۔
یہ مضمون ہم اپنے بہت ہی معزز دوست جناب عاصم اللہ بخش صاحب کی اس بات پر ختم کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ” توبہ ایک ایسی ٹائم مشین کا نام ہے جو آپ کو ایسا بنا دے گی جیسا ایک نوزائیدہ بچہ، اس ٹائم مشین سے آپ ایک لمحہ پہلے کی لغزش بھی معاف کروا سکتے ہیں اور اس لمحے سے پہلے کی حالت میں جا سکتے ہیں کہ گویا یہ لمحہ کبھی آپ پر بیتا ہی نہ ہو۔ آپ سب اپنی اپنی غلطیوں پر سچے دل سے توبہ کریں اور ایسے ہو جائیں گویا آج ہی پیدا ہوئے ہوں۔۔۔ نئی سلیٹ نیا آغاز ۔
کیا دونوں جانِبَین اس ٹائم مشین کی سیر کا لطف اُٹھانا چاہیں گے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ سب زندگی میں میسر اس سب سے بڑی لگژری سے محروم رہ جائیں۔
(ہم ہاتھ جوڑ کر بہت عاجزی سے اپنے انصافی بھائیوں سے معذرت اور معافی کے طلبگار ہیں کہ اگر ہماری تحریر سے ان کی دل آزاری ہوئی ہو۔)

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *