• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کورونا وائرس ،عالمی برادری اور ماسک چور۔۔۔طاہر یاسین طاہر

کورونا وائرس ،عالمی برادری اور ماسک چور۔۔۔طاہر یاسین طاہر

انسانی حیات کے ساتھ جس چیز کا رشتہ ازل سے استوار ہے وہ بیماری ہے۔عام سر درد سے لے کر کینسر تک،نزلہ زکام سے لے کر ایچ آئی وی یعنی ایڈز تک، نمونیہ سے لے کر ملیریا بخار تک اور ڈینگی سے لے کر اب کورونا وائرس تک۔ انسان اپنی بقا کی جنگ کسی نہ کسی شکل میں لڑتا آیا ہے۔ہر سال کوئی نہ کوئی بیماری، کوئی نہ کوئی وبا کسی نہ کسی نئے نام کے ساتھ انسانی سماج کو متاثر کر رہی ہے۔کورونا وائرس کیا ہے؟ اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ کیا یہ پہلے بھی موجود تھا ؟اور اگر تھا تو اس قدر خطرناک کیوں نہ تھا جیسا کہ اب ہو چکا ہے؟ان سوالات پر سائنسدان تحقیق و جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔عالمی میڈیا کے ذریعے جو خبریں ہم تک پہنچ رہی ہیں ان کا خلاصہ یہی ہے کہ اس کے پھیلائو کا سبب چمگارڈ اور سانپ کی کوئی قسم ہے۔بالفاظ دگر ،یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔
اب سوال یہ بھی ہے کہ چمگادڑ تو پہلے بھی تھے۔سانپ تو پہلے بھی تھے؟ مگر وائرس اب کیوں سامنے آیا ہے؟سازشی تھیوریوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس اسرائیل و امریکہ نے بائیو لیب کے ذریعے چین میں منتقل کیا۔ حالانکہ اسرائیل میں بھی کورونا وائرس کے دو کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ امریکہ میں بھی اس حوالے سے خدشات ہیں۔گزشتہ سے پیوستہ روز سوشل میڈیا پر میری ایک پوسٹ پر باخبر دوستوں نے کمنٹ کیا کہ 1981 میں ایک امریکی افسانہ نویس نے افسانہ لکھا تھا،جس میں اس نے پیشن گوئی کی تھی کہ 2020 میں چین میں ایک وبا پھیلے گی جس سے ہلاکتیں ہوں گی۔کتاب کا نام جو مجھے بھیجا گیا وہ ہے” Eyes Of darkness ۔”اور مصنف کا نام”dean counterz۔” بتایا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ بات دلچسپی سے قطعاً خالی نہیں۔راوی کا کہنا ہے اس ناول میں ایک وائرس
Gorki-400۔کا ذکر ہے جس سے انسانوں کی بڑی تعداد متاثر ہوتی ہے۔ اسی کتاب کی دوبارہ اشاعت جب 1989 میں ہوتی ہے تو اس وائرس کا نام تبدیل کر کے “. -Wuhan-400 کر دیا جاتا ہے۔اب ابلاغ کی جنگ لڑنے والےمختلف زاویے تلاش کر رہے ہیں، کہ یہ وائرس باقاعدہ ووہان کی بائیو لیب سے لیک ہوا؟ یا اسرائیل و امریکہ کی کسی بائیو لیب میں اسے تخلیق کر کے ووہان منتقل کیا گیا۔بہرحال یہ” ابلاغی جنگجوئوں” کا مسئلہ ہے۔ وہ اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس حوالے سے ابھی مصدقہ اطلاع کوئی نہیں، مفروضے ہیں۔ البتہ جو بات درست اور تسلیم شدہ ہے وہ یہی کہ کورونا وائرس نے چین کے بڑے شہر ووہان سے سر اٹھایا اور آن کی آن میںپورے شہر کو لپیٹ میں لے لیا۔میرے لیے تو آج سے چالیس برس قبل امریکی مصنف کی پیشن گوئی حیرت افروز ہے۔
چین کے حفاظتی اقدامات قابل رشک سہی، مگر یہ وائرس چین کی سرحدوں سے باہر منتقل ہو چکا ہے۔ چین میں 2700 سے زائد افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ چین میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعدادلگ بھگ 80 ہزار ہے۔

چین کے بعد اس وائرس سے ایران سب سے زیادہ متاثر ہوا ۔ایرانی سابق سفیر کورونا وائرس سے متاثر ہو کر اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ایران میں 30کے لگ بھگ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ایران نے تمام بڑے شہروں میں نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کی ہوئی تھی۔جبکہ سعودی عرب نے تا حکم ثانی عمرہ زائرین پر پابندی عائد کر دی ہے۔1500 سے زائد افراد کو پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس پر روک دیا گیا جبکہ یہ لوگ عمرہ کی نیت سے احرام باندھ چکے تھے۔ایران میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کے باعث تفتان سے زائرین سمیت دیگر پاکستانی شہریوں کے ایران میں داخل ہونے پر عارضی طور پر پابندی لگا دی گئی ہے۔عالمی تنظیمِ صحت کا کہنا ہے کہ ہر روز کرونا وائرس کے نئے اور زیادہ سے زیادہ کیسز اب چین سے باہر سامنے آ رہے ہیں ۔تنظیم کے سربراہ ٹیڈروس ادھانم گیبریسز نے جنیوا میں سفارت کاروں کو بتایا کہ چین کے مقابلے میں اب دیگر ممالک میں نئے کیسز کی تعداد زیادہ ہےتنظیم کا کہنا ہے کہ منگل کے روز چین میں کورونا وائرس کے 411 نئے معاملے سامنے آئے جبکہ چین سے باہر نئے کیسز کی تعداد 427 تھی۔ اٹلی، ایران اور جنوبی کوریا میںکورونا وائرس چین کے بعد تیزی سے پھیلا ہے۔یاد رہے کہ عالمی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اٹلی یورپ میں کورونا وائرس کا سب سے زیادہ متاثر ملک بن گیا ہے جہاں تین سو سے زیادہ افراد متاثر ہیں اور گیارہ کی موت ہو چکی ہے۔
پاکستان بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوانے ولا ملک ہے، پاکستان کے صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق 22 سالہ شخص میں ہوئی جس نے کوئی دو چار ہفتے پہلے ایران کا سفرکیا تھاجبکہ دوسرا کیس پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد میں اسکردو سے تعلق رکھنے والے نوجوان میں سامنے آیا جس نے ایک مہینے قبل ایران کا سفرکیا تھا۔یہ سرکاری سطح پر تسلیم شدہ کیسز ہیںلیکن انتہائی معتبر اطلاعات کے مطابق ایک کیس بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں بھی سامنے آیا ہے، پنڈی والا مریض چین سے واپس لوٹا تھا۔یوں پاکستان میں دو کے بجائے تین کیسز ہیں۔لیکن الحمد اللہ تینوں مریضوں کی طبیعت بہتر ہے۔

کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر بھی مشتہر کی جا رہی ہیں۔کیونکہ ابھی تک اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کوئی علاج دریافت نہیں ہوا ہے،مگر امید ہے کہ سائنسدان اس سال کے آخر تک کورونا وائرس کا علاج دریافت کر لیں گے۔پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے اور ایران کا سفر کرنے والے زائرین کے لیے نئی ہدایات کے بعد ایک افراتفری کی سی کیفیت دیکھنے میں آئی۔اس افراتفری کا تعلق ہماری سماجی نفسیات سے ہے۔ایک تو پیاز سے کورونا وائرس سے نجات کے ٹوٹکے سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگے، دوسرا مختلف ” دم درود” اور دعائوںکی تلقین ہونے لگی۔ یعنی سماجی حیات بڑی نیک و پارسا ہے، مگر اسی سماج کے افراد نے جو دو عدد نیم کے پتے، لیموں اور کلونجی، یا پیاز اور دم درود سے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کو تیار بیٹھا ہےنے مارکیٹ سے سرجیکل فیس ماسک غائب کر دیے۔
یہ ہمارے سماج کادوہرا اور منافقانہ مزاج ہے اس سے چشم پوشی ممکن ہی نہیں۔گردوغبار سے بچانے والا عام ماسک اب 35 سے 40 روپے میں فروخت ہو رہا ہے وہ بھی بمشکل۔ پنڈی میں سرجیکل ماسک کی قلت پیدا کر دی گئی ہے۔ 50 ماسک کا جو ڈبہ ڈیڑھ دو سو میں فروخت ہوتا تھا اب وہی ڈبہ آٹھ سو سے بارہ سو روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔کیا ہمیں یہ زیبا ہے کہ ہم عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے سرجیکل فیس ماسک کی دانستہ قلت پیدا کریں اور منافع کما کر اس پیسے سے پھر عمرہ اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کرتے پھریں؟میرے لیے اپنے سماج کا رویہ بہت تکلیف دہ اور شرمندہ کر دینے ولا ہے۔کورونا وائرس کو اس کے خطرات کے پیش نظر ” عالمی وبا” قرار دیے جانے کا سوچا جا رہا ہے،اور ہم ہیں کہ حفاظتی و احتیاطی تدابیر کے کم از کم معیار کو بھی شہریوں کی پہنچ سے دور کر رہے ہیں۔شہریوں کو چاہیے کہ ٹوٹکوں پر توجہ دینے کے بجائے محکمہ صحت اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیوں پر نظر رکھیں اور ان کی ہدایات پر عمل کریں۔اللہ رب العزت اس عالمی وبا سے عالم ِ انسانیت کو محفوظ و مامون رکھے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *