• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • آئینہ در آئینہ(طویل انٹرویو)کچھ حصص جو شامل نہ ہو سکے ،شرکا علامہ ضیا اور ستیہ پال آنند/حصہ اوّل

آئینہ در آئینہ(طویل انٹرویو)کچھ حصص جو شامل نہ ہو سکے ،شرکا علامہ ضیا اور ستیہ پال آنند/حصہ اوّل

ضیا ۔شاعری اگر تہذیب ہے تو سوسائٹی کو کن ’’آداب ‘‘ سے بطور اصول نوازنے کے قابل ہوئی ہے ۔

آنند: اس سوال میں تین الفاظ ایسے  ہیں، جن کی عندالمعانی شناخت ضروری ہے۔ ’تہذیب‘ ، ’آداب ‘ اور ’اصول‘ ۔۔۔ تہذیب سے مراد صرف کلچر ہے ، یا کچھ اور بھی ہے؟ (آپ نے اس بات کو فرض کر لیا ہے کہ میں شاعری کو تہذیب تسلیم کرتا ہوں)۔ ایک معنی تو خوش مزاجی، خوش خلقی، ملنساری کے دائرے میں گھومتا ہے۔ یقینا ًآپ کا مطلب یہ نہیں ہے، دوسرا مدنیت، منطقہ ثقافت، ذہنی ارتقا، نسلی ارتفاع کے زمرے میں آتا ہے۔ آپ کی مراد اگر یہ ہے تو میں اسے تسلیم کرتا ہوں کہ شاعری تہذیب کا اگر دوسرا نام نہیں ہے تو بھی اس کی تربیت میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اب آپ کے سوال کی طرف آئیں کہ یہ سوسائٹی کو کن ’’آداب‘‘ سے بطور ’’اصول‘‘ نوازنے میں قابل ہوئی ہے۔آداب خارجی سطح پر طورطریق، طرز عمل ، وضع، چلن، مشرب، سیرت، اسوہ، وغیرہ کا ہی مرکب لیبل ہے، اور میں اسی کو صحیح سمجھتا ہوں۔ آداب کی خارجی سطح سے قطع نظر اور کوئی سطح ہے ہی نہیں ۔۔۔ جی ہاں، شاعری ،بشمولیت خصوصی طور پر   زبانوں میں سوسائٹی کی نشست و برخاست، مشرب ، یہاں تک کہ حکمت مدنی، نظم و نسق، رفتار و گفتار ۔۔۔ سب کو سنوارنے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔ کالیداسؔ کے منظوم ناٹکوں میں، بھاسؔ کے منظوم ناٹکوں میں(جن میں صرف شرفا، امرا اور درباری لوگ ہی منظوم باتیں کرتے ہیں، جبکہ عوام الناس روز مرہ استعمال کرتے ہیں)، مارلوؔ اور شیکسپیرؔ کے منظوم ڈراموں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ کیسے شاعری نے اگر کمپاس یا قطب تارا کا کردار نہیں ادا کیا، تو بھی میل پتھر کی طرح کلچر کی راہ پر چلنے والوں مسافروں کی رہنمائی کی ہے۔
اس رہنمائی کی بطور ’اصول‘ کارکردگی مجھے قبول نہیں ہے۔ ’اصول ‘کسی بھی سیاق و سباق میں، کسی بھی حوالے سے، کسی بھی تناظر میں، صرف (اور صرف) ہدایت، اہتدا، انتظام، قانون سازی، انصرام (بشمولیت انضباط) کا عندیہ دیتا ہے،صرف طرز عمل، یا لائحہ عمل کا نہیں۔ شاعری کوئی Constitution نہیں ہے، ضابطہ ٔ قانون تو دور کی بات ہے،( ضابطہ ٔ اخلاق بھی نہیں ہے۔ )

ضیا ۔ شاعری اگر رویہ ہے عند الجمہور تو قابل ِ ستائش کیوں نہیں ؟

آنند: یعنی اگر میں آپ کے  سوال کو یوں سمجھوں کہ ’’شاعری اگر رویہ ہے عند الجمہور، تو یہ قابل ستائش کیوں نہیں‘‘ تو جواب آسان ہے۔ لیکن پھر بھی آپ اپنے سوالات کی ترتیب یوں رکھتے ہیں کہ جیسے ’’اگر رویہ ہے ‘‘ یعنی یہ اگر مجھے قابل قبول ہو تو ۔۔۔۔۔ میرا جواب کیا ہو گا۔ یونانی خطیب اور مصنف دیمیتریسؔ On Rhetoric میں ایسے سوالات کو postured کہتا ہے، اور اسے دانائی سے زیادہ ’چالاکی‘ سمجھتا ہے تو کیا آپ بھی مجھ سے یہ ’ہاتھ چالاکی‘ کھیل رہے ہیں؟۔۔بہر حال لیجیے ، قبلہ، جواب حاضر ہے۔۔۔کون کہتا ہے کہ قابل ِ ستائش نہیں؟ صرف افلاطون نے اپنی مثالی جمہوریت Republic میں شعرا کو کوئی مقام دینے سے انکار کیا تھا، اور وہ بھی اس بنیاد پر کہ ان کا سماجی فلاح میں کوئیrole یعنی کردار نہیں ہے۔ اس بات کو دور دراز سے ہانک کر اور قریب لا کر سورۃ الشعرا سے بھی منسلک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات اب بہت دقیانوسی ہو چکی ہے۔ شاعری کو ’’رویہ‘‘ ہی کیوں سمجھا جائے؟ یہ طرز زندگی نہیں ہے، وطیرہ نہیں ہے، شعار یا مسلک بھی نہیں ہے،ہاں، یہ آداب و اطوار میں معاون ہے، لیکن خود آداب و اطوار بھی نہیں ہے۔ دیگر فنون کی طرح ایک ’فن‘ ہے۔ جس میں ’ہنر‘ کا بھی کچھ نہ کچھ عنصر ہے۔اس لیے کہ شاعر کا بطور فنکار دیدہ ور، زیرک، با تمیز اور با شعور ہونا لازمی ہے۔

ضیا ۔ادب سے روشناس کروانے کے لئے بر صغیر میں تدریسی کتابوں میں شاعری کی ترویجات اور رسمیات سے آپ متفق ہیں نہیں تو کس طرح نئی نسل کو شاعری کی جمالیات کا قائل کیا جا سکتا ہے۔ ؟

آنند: جی نہیں، میں بے حد مایوس ہوں۔ چونکہ آپ نے بر صغیر کے حوالے سے یہ سوال پوچھا ہے، اس لیے مجھے ہندوستان اور پاکستان دونوں پر غور و خوض کرنا چاہیے۔ ہندوستان میں جامعات کی سطح پرجو کتابیں میری نظر سے گذری ہیں (اور امریکہ  میں رہنے کی وجہ سے سب جامعات کے کورسز میں نہیں دیکھ سکا) شاعری کی رسمیات اور ترجیحات کے حوالے سے اسی پرانے ڈھرے پر چل رہی ہیں، جس پر کئی عشروں سے چلتی آ رہی ہیں۔ میٹرک یا ہائیر سیکنڈری کی کتابیں میں نے کبھی دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ برس دو برسوں کے بعد انڈیا جانا نصیب ہوتا ہے اور بہت سی دیگر مصروفیات ہوتی ہیں۔ پاکستان میں البتہ حالت دگر گوں ہے۔ ضیا الحق کے آمرانہ دور میں پرائمری سے لے کر جامعات تک کے کورسز آف سٹدی کو نئے سرے سے تشکیل دیا گیا۔ ایک نیا لازمی مضمون ’’پاکستان سٹڈیز‘‘ شروع کیا گیا۔اردو کی درسی کتب سے بیک قلم سب ہندو شعرا اور نثر نگار نکال دیے گئے۔ میں نے 1947 میں میٹریکولیشن کا امتحان پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پاس کیا تھا (تقسیم کے وقت میں راولپنڈی میں تھا)۔ اس وقت ہمارے کورسز میں رتن ناتھ سرشار، دیا شنکر نسیم ،برج نارائن چکبست، منشی تلوک چند محروم وغیرہ شعرا اور نثر نگار شامل تھے۔ میں لگ بھگ ہر برس ایک یا دو بار جامعات میں منعقدہ یا اکادمی ادبیات پاکستان کے سیمیناروں میں شرکت کے لیے پاکستان جاتا ہوں۔کتابیں دیکھتا ہوں اور سوائے ایک آہ ِ سرد بھرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ منٹو، عصمت چغتائی ادب اور اخلاق کے تناظر میں آؤٹ آف کورس ہیں۔ بوجوہ زیادہ نہیں لکھ سکتا ۔بسیار کوششوں کے باوجود ضیا الحق کا دور ختم ہونے کے بعد بھی یہ درسی کتابیں ویسی کی ویسی ہیں کہ ان کی نئے سرے سے تشکیل میں دائیں بازو کی وہ جماعتیں سد راہ ہیں، جن کے سربراہوں کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا
یہی شیخِ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
کلیم َبو ذر ؓ و دلق اویسؓ و چادرِ زہراؓ

جاری ہے

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *