غامدی صاحب اور ریاست کے نظریے کی بحث۔۔عرفان شہزاد

ریاست کا کوئی مذہب اور نظریہ نہیں ہوتا، افراد کا ہوتا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب کے سیاسی موقف کا یہ بنیادی مقدمہ ہے۔ راقم کے علم میں نہیں کہ کسی ایک جگہ بھی ان کی طرف سے یہ کہا گیا ہوکہ ریاست کا نظریہ جمہوریت ہونا چاہیے۔ یہ بھی وہ افراد سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ سیاست میں انھیں جمہوریتی اقدار اختیار کرنی چاہییں۔ اس لیے ان پر یہ تنقید بے محل ہے کہ وہ ریاست کے لیے جمہوریت کے نظریے کے قائل ہیں۔ ریاست ایک غیر شخصی وجود ہے، وہ اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتی کہ اس کا کوئی نظریہ ہو۔ نظریہ یا عقیدہ زندہ افراد کا ہوتا ہے جب کہ ریاست ایک غیر شخصی وجود ہے۔ اس کے باوجود ریاست کے ماتھے پر جب کی کسی عقیدے یا نظریے کا ٹیکا لگا دیا جاتا تو کیا ہوتا ہے، اسے سمجھ لیتے ہیں۔ ریاست پر پہلے سے لاگو کسی مذہبی و غیر مذہبی ازم کے معاہدے کے تحت افراد کو حکومت میں شامل کرنا جمہوریتی اقدار کے خلاف ہے۔ یہ اس لیے کہ ایک قومی ریاست مختلف الخیال شہریوں کی حامل ہوتی ہے۔ کسی اکثریت کو جیسے یہ حق نہیں کہ وہ اپنی اکثریت کے بل بوتے پر ریاست کو مذہب کے نام پر رجسٹرڈ کرا لے، اسی طرح سیکولرازم کی حامل اکثریت کو بھی یہ حق نہیں کہ اپنے سماج کی اقلیت کی مرضی کے علی الرغم ریاست کے نظریے کے بارے میں سیکولرازم کا مستقل بندوبست بنانے کی کوشش کرے ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک بے ملکیت کے سرائے یا حویلی، جس میں مختلف خاندانوں اور خیالات کے لوگ مل کر رہتے ہوں، کوئی ایک خاندان اپنی طاقت کے بل پر اسے اپنے نام کرا لے۔ اس کو مسجد قرار دینے کی گنجایش ہے نہ مندر، اسے لبرلز کی اقامت گاہ کا نام دیا جا سکتا ہے اور نہ سیکولرازم کا آشیانہ۔ اسے جمہوریت کا گھر بھی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ان مختلف عقائد و نظریات کے حامل سب لوگوں کی رہائش گاہ ہے۔

اس کا نظام کیسے چلے گا؟ یہ یہاں بسنے والے افراد طے کریں گے۔ افراد کی اکثریت جس نظام پر متفق ہو جائے گی لامحالہ اسی پر اس کا انتظام چلایا جائے ، لیکن کسی راے پر اکٹھا ہو جانے والے افراد کی اکثریت کو یہ حق عدل و انصاف کے کسی اصول کے تحت حاصل نہیں وہ اس پر اپنے مخصوص عقیدے یا نظریے کی تختی آویزاں کر دے، جس سے اس کے رہایشی تمام افراد کے نظریات کے تنوع کی نمایندگی نہ ہوسکتی ہو۔یہ ممکن ہےکہ نظام چلانے کے لیے مقرر کردہ اصول مذہبی نوعیت کے قرار پائیں یا سیکولر نوعیت کے، مگر نظام کے مذہبی یا غیر مذہبی ہونےکو اس سرائے یا حویلی کے مذہبی یا غیر مذہبی کے مترادف سمجھ لینا غلط ہے۔ اکثریتی اور اقلیتی آرا کی رزم گاہ حکومت اور پارلمینٹ کو ہونا چاہیے ۔ وہاں بھی یہ ممکن ہے کہ اکثریت کوئی استبداد قائم کر لے۔ مگر اب یہ معاملہ افراد کے درمیان ہوگا، جسے انسانی بنیادوں پر طے کیا جائے گا، اصلاح کی کوشش کی جائے گی۔ قانون کو آواز دی جائے گی۔ قانون میں کمی یا کجی ہے تو اسے درست کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سماج میں اس کے خلاف راے ہموار کی جائے گی۔ پھر یہ کہ جیسے ہی اس اکثریت کی حکومت رخصت ہوگی، استبداد کے رخصت ہو جانے کا بھی امکان ہوگا۔ لیکن اگر آپ ریاست کے مالک بن کر ریاست کے نظریے کی وصیت کر جائیں گے تو آنے والوں کو طوعاً و کرہاً اس پر عمل کرنا ہوگا اور یہ آزادی اظہار و عمل کے خلاف ہے جو بنیادی جمہوریتی قدر ہے اور خدا کی آزادی انتخاب کی اسکیم بھی یہی ہے۔

سیکولرازم یہ لازم قرار دیتا ہے سیاسی معاملات میں مذہب کو دخیل نہیں ہونے دیا جائے گا ،چاہے جمہور اس کے برعکس راے رکھتے ہوں ۔ یہ استبداد ہے۔ یہ فیصلہ جمہور کو کرنا ہے کہ نظام حکومت کیا ہونا چاہیے۔ وہ اگر بالفرض ملائیت کو ہی چاہتے ہیں تو اسے ہی آنے دینا ہوگا۔ خدشہ کس چیز کا ہوتا ہے ؟ خدشہ استبداد کا،فاشسٹ رویے کا ہوتا ہے جو اہل مذہب میں بھی پایا جاتا ہے اور سیکولر لوگوں میں بھی حتی کہ جمہوریت کے دعوی داروں میں بھی یہ موجود ہے۔ تو مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ فرد ہے۔ وہ کسی بھی مذہبی یا غیر مذہبی ازم کا حامی ہو کر فاشسٹ بھی ہو سکتا اور جمہوریت پسند بھی۔کرنے کا کام یہ ہے کہ استبدادی رویوں کو قابو میں لانے کے لیے قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔ سماج کو انسانی حقوق سے بارے میں آگاہی سے انھیں ان کے لیے حساس بنایا جائے۔ نظام سیاست کی یہ ساری بحث افراد اور حکومت سے متعلق رہنی چاہیے۔ جمہور کی نمایندہ حکومتی جماعت اگر سیکوازم کے نظریے کے تحت چلنا چاہتی ہے تو اسے اس کا حق ہے۔ یہی حق ایک مذہبی جماعت کی حکومت کو بھی حاصل ہے۔ قانون سازی خالص عقل کی بنیاد پر ہوگی یا مذہبی تعبیرات کی بنیاد پر، جمہور جس رجحان کے حامی ہیں اسی کو راہ دینا ہوگی۔ رہا معاملہ استبدادی رویوں کو تو مکرر عرض ہے کہ قانون کی بالا دستی اور سماجی حساسیت ہی اس کا علاج ہے۔

Avatar
عرفان شہزاد
میں اپنی ذاتی ذندگی میں بہت ایڈونچر پسند ہوں۔ تبلیغی جماعت، مولوی حضرات، پروفیسر حضرات، ان سب کے ساتھ کام کیا ہے۔ حفظ کی کلاس پڑھائی ہے، کالجوں میں انگلش پڑھائی ہے۔ یونیورسٹیوں کے سیمنارز میں اردو انگریزی میں تحقیقی مقالات پڑھے ہیں۔ ایم اے اسلامیات اور ایم اے انگریزی کیے۔ پھر اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی۔ اب صرف دو چیزیں ہی اصلا پڑھتا ہوں قرآن اور سماج۔ زمانہ طالب علمی میں صلح جو ہونے کے باوجود کلاس کے ہر بد معاش لڑکے سے میری لڑائی ہو ہی جاتی تھی کیونکہ بدمعاشی میں ایک حد سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ یہی حالت نوکری کے دوران بھی رہی۔ میں نے رومانویت سے حقیقت کا سفر بہت تکلیف سے طے کیا ہے۔ اپنے آئیڈیل اور ہیرو کے تصور کے ساتھ زندگی گزارنا بہت مسحور کن اورپھر وہ وقت آیا کہ شخصیات کے سہارے ایک ایک کر کے چھوٹتے چلے گئے۔پھر میں، میں بن گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *