راما فیسٹول،بدنظمی کا شکار۔امیر جان حقانی

راما استور کی مشہور ترین جگہ ہے۔ راما کا میدان سطح سمندر سے تقریبا 3175 میٹر بلند ہے۔راما دراصل راما جھیل کی وجہ سے مشہور ہے۔اور راما جھیل 3500 میٹر بلند ہے۔رام جھیل ٹروٹ مچھلیوں کا مسکن ہے۔ 2011 سے راما میں ”راما فیسٹول“ منعقد کیا جارہا ہے۔راما فیسٹول میں صرف پولو میچ کا اہتمام کیا جاتا تھا تاہم اس سال پولو کے ساتھ رسہ کشی اور ”بسرا“ یعنی لوکل کبڈی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔راما فیسٹول کا آئیڈیا میرے دوست ظفر وقار(سیکرٹری واٹر اینڈ پاور) کا ہے۔اسی طرح دیوسائی فیسٹول بھی ان کی ذہنی تخلیق ہے تاہم ابھی تک اس کا آغاز نہیں کیا جاسکا۔اس سال راما فیسٹول مورخہ 13ستمبر سے 15 ستمبر تک جاری رہا۔ افتتاح گورنر گلگت بلتستان میرغضنفر نے کیا، گورنر کے ساتھ ان کی وائف محترمہ رانی عتیقہ (ممبراسمبلی) بھی تھی۔اس سال راما فیسٹول میں سات ٹیموں نے شرکت کی۔ پہلے دن تین میچ ہوئے۔

پہلا میچ گلگت اور نگر کا ہوا جس میں گلگت کی ٹیم جیت گئی۔دوسر ا میچ چلاس اور اسکردو کا ہوا جس میں چلاس جیت گیا۔ تیسرا میچ استور اے غذر کے درمیان ہوا جس میں استور اے جیت گیا۔ دوسرے دن دو میچ ہوئے۔استور اے اورگلگت کے درمیان ہوا۔گلگت جیت گیا۔دوسرا میچ استور بی اور چلاس کے درمیان ہوا جس میں چلاس جیت گیا۔ یوں چلاس اور گلگت نے آخری دن فائنل کھیلا اور چلاس نے چھ گولوں سے میدان مار لیا۔ یعنی چلاس نے بارہ گول کرد یے۔ تاہم فائنل میچ انتہائی کانٹے دار تھی۔رسہ کشی میں عیدگاہ کلب نے چونگرہ سے بازی جیت لی جبکہ کبڈی میں راما کلب نے دیوسائی کلب کو مات دیا۔بیسٹ کھلاڈی چلاس ٹیم کے ریاض قرار پایا جبکہ بیسٹ گھوڑا گلگت ٹیم کے صدام کا گھوڑا قرار پایا۔

راما فیسٹول غلط ٹائم پر منعقد کیا جارہا ہے۔ یکم ستمبر سے استور کا سیزن کلوز ہوتا ہے۔سبزہ ختم ہوکر موسم خزاں شروع ہوتا ہے اور موسم میں ٹھنڈک زیادہ ہوتی ہے۔ مجھے یوں لگا کہ راما فیسٹول ستمبر میں منقعد کرکے اس کے رنگ میں بھنگ ڈالی گئی  ہے۔اس سال گورنر اور منسٹر سیاحت فداخان نے راما فیسٹول کو کلینڈرائز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔اس کے مطابق آئندہ یہ فیسٹول باقاعدہ منعقد کیا جائے گا۔محکمہ سیاحت اپنے سالانہ ایونٹ میں  راما فیسٹول کو بھی شامل کرے گا اور اس کے لیے مناسب بجٹ بھی ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ یہ فیسٹو ل جولائی کے آواخر یا اگست کے پہلے عشرے میں منعقد کیا جائے۔

راما فیسٹول کے انعقاد کے دنوں میں، میں استور میں موجود تھا۔ فیسٹول کی تیاریوں سے لگ رہا تھا مقامی لوگوں کے ساتھ دیگر علاقوں کے لوگ اور سیاح بھی اس میں دلچسپی نہیں لے رہے ۔شائقین اور پولو ٹیموں کے کھلاڑی بھی سخت شاکی اور نالاں تھے۔ان کے لیے مناسب انتظامات نہیں تھے راما فیسٹول ایک میگا ایونٹ ہے اس فیسٹول کے لیے پچھلے سال پچاس لاکھ روپے دیے گئے تھے لیکن اس سال اس بجٹ کو کم کرکے بیس لاکھ روپے کردیا گیا ہے جو کہ راما فیسٹول کے نام پر ایک انوکھا مذاق ہے۔اس کے علاوہ راما فیسٹول کی فنڈنگ کے حوالے سے منسٹر سیاحت اور پارلیمانی سیکرٹری برکت جمیل کے درمیان بھی اخباری بیانات میں تلخیاں دیکھنے کو ملیں ۔اور وزیرسیاحت فداخان فدا نے انتہائی تلخ لہجہ اپنا ہوا تھا لیکن فیسٹول کے آخری دن دونوں خوشگوار موڈ میں نظر آئے۔فائنل میچ میں وزیر اعلیٰ نے شرکت کرنی تھی اور وفاقی برجیس طاہر نے بھی،شاید   اسلام آباد میں اہم آئینی میٹنگ کی وجہ سے شرکت نہ کرسکے۔

فیسٹول کے آخری دن مجھے بھی شرکت کرنے کا موقع ملا۔ عوام الناس کی ایک بڑی تعداد فیسٹول میں موجود تھی تاہم ان کے لیے مناسب انتظامات نہیں تھے۔زیادہ معیوب بات یہ ہوئی کہ  سینکڑوں کی تعداد میں    خواتین  فیسٹول میں شریک تھیں  لیکن ان کے لیے کوئی خاص  جگہ مختص  نہیں کی گئی  تھی۔ اور گراؤنڈ کے اردگرد بنی دیوار نما عوامی اسٹیج پر  بھی مرد ہی مرد تھے۔ گراؤنڈ سے بہت دور پہاڑی ٹیلے پر خواتین کی ایک بڑی تعداد زمین پر بیٹھی پولو میچ دیکھ رہی تھی۔حیرت ہے کہ انتظامیہ نے ان کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا اور نہ ہی کسی وزیر مشیر کے دل میں یہ بات آئی کہ ان خواتین کے لیے   جگہ بنائی جائے یا گراؤنڈ کی کسی جگہ کو خواتین کے لیے خالی کیاجائے۔

اسٹیج پر بھی بہت سے لوگوں کو کرسیاں نہیں مل رہی تھیں  جبکہ لفنگوں کی بڑی تعداد اسٹیج پر براجمان تھی۔ پولیس کے سپاہی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی بجائے بہترین جگہوں میں قبضہ جمادیکھ کر میچ دیکھنے میں مصروف تھے۔گراؤنڈ کا سارا چارج  لیویز نے سنبھالا ہوا تھا۔  لیویز کو اس حوالے سے ٹریننگ بھی نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی ان کے پاس اختیار ہیں عامۃ الناس کو کنٹرول کرنے   کے لیے۔پولیس کی بدنظمی دیکھ کر بالآخر ایس ایس پی استور غصے میں آئے اور تمام کانسٹیبلز کو ڈانٹ کر ایکٹیو کروایا۔اس وقت  ڈانٹے سے بہتر یہی تھا کہ پہلے سے ا ن کو فعال کیا جاتا اورگراؤنڈ اور اسٹیج پر مناسب انتظامات کیے جاتے۔

انعامات کی تقسیم کے دوران بھی بدنظمی ہی رہی۔ ایک جھمگھٹا تھا۔ اس فیسٹول میں سب سے بڑی بات یہ تھی کہ کئی غیر ملکی اور ملک کے دیگر صوبوں سے آئے ہوئے سیاح بھی بڑی تعداد میں تھے۔جو انتہائی شوق سے میچ بھی دیکھ رہے تھے اور تصاویر اور ویڈیو بھی بنارہے تھے۔ایسے فیسٹول کے انعقاد سے لوگوں میں رواداری اور یکجہتی پیدا ہوتی ہے جبکہ تشدد اور تعصب کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے یہ فیسٹول بہت اہم ہے۔ اس کو بہتر سے بہتر طریقے سے منعقد کرکے ملک بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانا وقت کی  بڑی ضرورت ہے۔شائقین نے میچ کے دوران اور آخر میں روایتی رقص بھی کیا ۔

فیسٹول کے دوران استور انتظامیہ ایکٹیو رہنے کی کوشش کررہی تھی۔ مختلف ڈیبارٹمنٹس نے ٹینٹ لگائے تھے۔ ریسکیو کی گاڑیاں بھی تھی۔ محکمہ سیاحت کا عملہ بھی چوکس نظر آیا۔ محکمہ لائیو اسٹاک نے بھی کیمپ لگایا تھا جہاں گھوڑوں کے  فوری علاج کے لیے ادویات اور عملہ موجود تھا۔دیگر محکمے بھی پھرتیاں دکھا رہے تھے۔تاہم مجموعی طور پر بالخصوص صوبائی سطح  پر جو انتظامات ہونے چاہیے تھے وہ نہیں تھے۔اس لیے کیمپ بھی بے ترتیب لگے ہوئے تھے۔ شائقین اور سیاحوں کی گاڑیاں بھی ٹھیک سے پارک نہیں ہوئیں ۔راما تک سڑک  بھی خستہ حالی کا شکارہے ۔رش زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک بھی کنٹرول سے باہرتھی۔بارش نے راستوں کو مزید خراب کردیا تھا۔میں نے میچ کے دوران اور بعد میں پورے فیسٹول کے انتظامات کا جائزہ لیا۔

فیسٹول کے دوسرے دن بھی چکر لگایا تھا۔ لائیواسٹاک کے ڈائریکٹر برادرم ڈاکٹر مدثر سہیل کے ساتھ رامافیسٹول کے مختلف مقامات اور کھلاڑیوں کے ساتھ تصاویر بھی بنائیں ۔اگرچہ مختلف جگہوں پر شدید بد نظمی تاہم مجموعی طور پر یہ پُرلطف فیسٹول تھا۔ انتظامیہ داد کی مستحق ہے۔بالخصوص استور انتظامیہ نے فنڈ ریلیز نہ ہونے کے باوجود بھی اپنی استعداد سے زیادہ کام کیا۔اللہ ہم سب کا ناصر و حامی ہو۔

امیر جان حقانی
امیر جان حقانی
امیرجان حقانیؔ نے جامعہ فاروقیہ کراچی سےدرس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیے2010 سے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے تمام اخبارات و میگزین اور ملک بھر کی کئی آن لائن ویب سائٹس کے باقاعدہ مقالہ نگار ہیں۔سیمینارز اور ورکشاپس میں لیکچر بھی دیتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *