بس رہے نام اللہ کا ۔۔۔محمد فہد صدیقی

مایوسی ہے کہ بڑھتی جارہی ہے ۔وہ حبس ہے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بے شک لو ہی چلے لیکن ہوا تو چلے ۔ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں سانس لینا بھی جرم بن گیا ہے ۔یہاں سب کی اپنی منطق اور اپنے اصول ہیں ۔ایسے ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔ہم نے کب یہ سوچاتھا کہ وکیلوں کے جتھے ہوا کریں گے اور ڈاکٹرز غول بناکر رہا کریں گے ۔ہم نے نجانے کب اپنے پیشوںکو قبیلوں کی شکل دے دی ۔ڈاکٹروں کا قبیلہ اگر وکیلوں کے قبیلے پر حملہ کرے گا تو وکیلوں کے قبیلے کا جرگہ انہیں جوابی کارروائی کا حکم دے گا ۔صحافیوں کے قبیلے پر کوئی بات آئے گی تو وہ مخالف قبیلے پر یلغار کرے گا۔منصفوں کا قبیلہ سیاستدانوں کو للکارے گا تو سیاستدانوں کا قبیلہ جوابی وار کو اپنا فرض سمجھے گا ۔ہم اتنے قبیلوں میں بٹ چکے ہیں کہ ہمار یکجا ہونا ایک خواب سا لگتا ہے ۔

اس قبائلی جنگ میں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ بات آخر کہاں تک پہنچے گی ۔ایک ”احتسابی قبیلہ” ہے، جو کہتا ہے کہ وہ” مجرموں کے قبیلے” سے برسرپیکار ہے ۔اس کے زیادہ تر شکار” قبیلہ سیاست” کے شہسوار ہیں ۔”احتسابی قبیلے” کو” سیاسی قبیلے ”سے کچھ زیادہ ہی رغبت ہے ۔وہ ہمیں بتاتا ہے کہ” سیاسی قبیلے” کا فلاں شخص ملک کو اتنا نقصان پہنچا گیا ہے ۔”میڈیائی قبیلہ ” اس کی دھوم مچاتا ہے ۔پھر اس شخص کی عزت چوراہے پر رکھی جاتی ہے اور اس کو گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔اس کے بعد کیا ہوتا ہے کچھ پتہ نہیں چلتا ۔ایک اندر جاتا ہے تو دوسرا باہر آجاتا ہے اور یہ آنا جانا ایک معمہ ہے جو سمجھنے کا ہے اور نہ سمجھانے کا ۔بس سنا ہے کہ ایک ”غیر مرئی قبیلہ” بھی ہے جو لوگوں کو اندر اور باہر رکھنے کی قدرت رکھتا ہے ۔ ”من پسند افراد” کا  بھی ایک قبیلہ  ہے ،جس کے لیے سو گناہ بھی معاف کردیئے گئے ہیں ۔”احتسابی قبیلہ” ہمیں بتاتا تو ہے کہ اس کی طاقت کی تلوار اس پر بھی چلے گی اور ہوا بھی اپنا رخ بدلے گی لیکن ان کے خلاف تلوار ہے کہ نیام سے باہر ہی نہیں آرہی ہے اور ہوا ہے کہ اپنی سمت بدلنے کو تیار ہی نہیں ہورہی ہے ۔

ہمارا ایک حاکموں کابھی قبیلہ ہے ۔یہ قبیلہ انتہائی دلچسپ بھی ہے اور خوفناک بھی ،اس قبیلے کے لوگ بدلتے رہتے ہیں ۔یہ ایک ایسا قبیلہ ہے ،جس میں داخل ہونے سے پہلے انسان کچھ ہوتا ہے اور داخل ہونے کے بعد کچھ ہوجاتا ہے ۔خوشامد ،خود پسندی ،غرور اور انتقام اس قبیلے کی شناخت ہیں ۔یہ اتنا بے رحم قبیلہ ہے کہ کبھی اپنے مخالف کو بھینس چور بنادیتا ہے تو کبھی اس کی انتقامی کیفیت مخالف کومنشیات کے  سمگلر کا روپ دے دیتی ہے ۔یہ اتنا خوشامد پسند قبیلہ ہے کہ کل کا مخالف اس کا درباری بن جائے تو وہ اس کے گناہ معاف کرکے اسے عہدوں سے نواز دیتا ہے ۔یہ اتنا خود پسند ہے کہ جسے اپنا دوست سمجھ لے ،تو اس کے پاس ”احتسابی قبیلہ” پر بھی نہیں مارسکتا کیونکہ وہ انہیں اپنے پَروں میں سمیٹ کر بیٹھ جاتا ہے ۔یہ قبیلہ خود کو حرف آخر سمجھتا ہے یہ سوچے بنِا کہ اس حکمرانی قبیلے کا سردار کسی وقت بھی تبدیل ہوسکتا ہے ۔اس قبیلے کی آنکھ کبھی نہیں کھلتی ۔ہر حاکم اپنے سے پہلے والے کاپرتو لگتا ہے ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بس نام تبدیل ہوگیا ہے ۔تمام حکمرانوں کی باتیں ایک سی ہوتی ہیں ۔عوام کو دلاسے بھی ایک جیسے دیئے جاتے ہیں ۔مشکلات بھی اسی طرح پیش کی جاتی ہیں جس طرح ان سے پہلے کے حکمران پیش کرتے تھے ۔ نعرے سب کے الگ ہوتے ہیں ۔بس بوتل نئی ہوتی ہے اور اس میں شراب وہی پرانی ہوتی ہے ۔

ہمارے پاس ایک ”علماء کا قبیلہ ” بھی ہے ۔اس قبیلے کی طاقت سے کسی کو انکار نہیں ہے ۔اس کے پاس جنت کا بھی ٹھیکہ ہے اور دوزخ کا بھی ،یہ جس کو چاہے کافر قرار دے اور جس کے چاہے ایمان پر تصدیق کی مہر ثبت کردے ۔لوگوں کو تقسیم کرنا اس کا من پسند مشغلہ ہے ۔یہ دین کے نام پر سیاست کرے گا ۔یہ فرقوں کے نام پر اختلافات کے بیج بوئے گا ۔جنت کے نام پر لوگوں کو مروائے گا اور دوزخ سے ڈرا کر اپنے پیٹ کی بھوک مٹائے گا ۔اس قبیلے کے تمام لوگ اس طرح کے نہیں ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ اب اتنی کم تعداد میں رہ گئے ہیں بمشکل ڈھونڈنے سے ملتے ہیں ۔اس قبیلے میں آج کل جن لوگوں کا راج ہے ان کی اپنی راجدھانی ہے ۔یہ سیاست سے لے کر معاشرت تک ہر جگہ اپنی موجودگی کو یقینی بناتے ہیں ۔یہ جس کا چاہیں جنازہ پڑھانے سے انکار کردیں اور چاہیں تو پھانسی چڑھ جانے والے مجرم کو شہید قرار دے کر اس کا مزاربنوادیں ۔

اور یہ ہمارا ملک کا سب سے بڑا قبیلہ ہے یعنی بھوکے ،لاچاروں اور ایک عام آدمی قبیلہ ،یہ قبیلہ طاقتور قبیلوں کی جنگ میں یہ تک بھول گیا ہے کہ طاقتور قبیلے اس کو اپنا ایندھن بنائے ہوئے ہیں ۔اس قبیلے کے لوگ اتنے ناتواں ہیں کہ کوئی ان کو ہسپتال میں آکسیجن ماسک اتار کر ماردیتا ہے تو کوئی غلط انجکشن لگاکر ان کی موت کا سامان کرتا ہے ۔یہ انصاف کے لیے سالوں رلتا ہے تو روزگار کے لیے نجانے کتنوں کے پاؤں پڑتا ہے ۔اس کے لیے جینے کی سزا یہی ہے کہ وہ دو وقت کی روٹی کے لیے اپنی صبح کو شام کرے اور آخر میں کسی فلاحی ادارے کے رضاکاروں کا انتظار کرے جو اس کے مردہ جسم کو زمین کے حوالے کردیں ۔تصویر انتہائی بھیانک نظر آرہی ہے ۔اگر بھوکوں اور لاچاروںکا یہ قبیلہ گہری نیند سے نہیں جاگا تو اس کا وجود مٹ جائے گا ۔پھر معاشرے میں صرف طاقتور قبیلے ہی رہ جائیں جو آپس میں لڑ کر ختم ہوجائیں گے اور پھر کہیں دورسے کسی درویش کی صدا سنائی دے گی کہ ”بس رہے نام اللہ کا ”۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *