مالیکیول سے انسان تک ۔ جین (13) ۔۔وہاراامباکر

SHOPPING

جینیات میں ایک صدی کی تحقیق اس پر تھی کہ جانداروں سے نکلنے والے اگلے جاندار ویسے ہی کیوں ہوتے ہیں؟ سپرم اور بیضہ مل کر وراثتی انفارمیشن سے اگلی نسل کیسے بناتے ہیں؟ وراثت سے جین کی منتقلی سے مینڈیل کا سوال تو حل ہو گیا لیکن ڈارون کی پہیلی یہ تھی کہ آخر بچے والدین سے مختلف کیوں ہوتے ہیں؟

فطرت میں اس کا ایک طریقہ تو میوٹیشن کا ہے۔ یعنی ڈی این اے کا کوئی حرف بدل گیا۔ اس سے پروٹین کا سٹرکچر بدل گیا۔ اس سے اس کا فنکشن بدل گیا۔ میوٹیشن کسی کیمیکل یا ایکسرے کی وجہ سے پہنچنے والے ضرر سے ہو سکتی ہے یا کاپی بنتے وقت ہونے والی غلطی سے۔ لیکن اس کا ایک اور دوسرا طریقہ بھی ہے۔ جینیاتی انفارمیشن کا کروموزوم کے درمیان تبادلہ ہوتا ہے۔ والد اور والدین کے جین کا ملاپ ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک طرح کی میوٹیشن ہے جس میں جینیاتی مادے کے ٹکڑے کروموزومز کے درمیان تبادلہ کرتے ہیں۔

زندگی کا دائرہ ۔ تین اصول ۔ جین (12) ۔۔وہاراامباکر

یہ بہت خاص حالات میں ہوتا ہے۔ پہلا اس وقت جب سپرموجینیسس اور اووجینیسس ہونے لگتا ہے، اس وقت خلیہ جین کے لئے کھیل کا میدان بن جاتا ہے۔ والد اور والدہ کے کروموزوم کے جوڑے ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں اور جینیاتی انفارمیشن کا تبادل کرتے ہیں۔ کروموزوم کے جوڑوں کے درمیان ہونے والا یہ کھیل ری کمبی نیشن ہے۔ جین کے کمبی نیشن اور پھر ان کے کمبی نیشن۔

دوسرا یہ اس وقت ہوتا ہے جب ڈی این اے کو ضرر پہنچ جائے۔ مثلاً، ایکسرے سے ڈی این اے زخمی ہو گیا۔ اس کی انفارمیشن خطرے میں ہے۔ اس جین کی جڑواں کاپی ساتھی کروموزوم سے حاصل کر لی جاتی ہے۔ والدہ کی کاپی کا حصہ والد کی کاپی کے ساتھ مل جاتا ہے اور ہائیبرڈ جین بن جاتی ہے۔

لیکن ضرر کا معلوم کیسے ہوتا ہے؟ یہ کمال ڈی این اے کی دو تاروں کا ہے۔ ان کو ایک دوسرے کا عکس ہونا ہے۔ پروٹین ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس عمل کی کوآرڈینیشن کرتے ہیں۔ ضرر والے تار کو ٹھیک تار کی مدد سے مرمت کر دیتے ہیں۔ انفارمیشن گم نہیں ہوتی۔ درست کر لی جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریگولیشن، ریپلی کیشن اور ری کمبی نیشن۔ جین فزیولوجی کی ان  تینوں خاصیتوں کا انحصار ڈی این اے کے مالیکیولر سٹرکچر پر ہے۔ دہری چکردار سیڑھی کا سٹرکچر جینیاتی فزیولوجی کے تینوں بڑے مسائل کو حل کر دیتا ہے۔ ایک ہی تھیم کی الگ ویری ایشن کے ذریعے۔ جیسا کہ سیزان نے کہا تھا، “پکاسو کے پاس برش ہی تو تھا لیکن کیا ہی شاندار برش تھا”۔ ویسا ہی کہا جا سکتا ہے کہ ڈین این اے ایک کیمیکل ہی تو ہے لیکن کیا ہی شاندار کیمیکل ہے۔ (اس مالیکیول پر ایک پوسٹ نیچے دئے گئے لنک سے)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بائیولوجی میں سائنسدانوں کے دو کیمپ رہے ہیں۔ اناٹومسٹ اور فزیولوجسٹ۔ اناٹومسٹ یہ وضاحت کرتے ہیں کہ میٹیریل کیا ہے، سٹرکچر کیا ہے، جسم کے حصہ کیا ہے۔ اشیاء کیا ہیں۔ فزیولوجسٹ کی توجہ اس پر ہوتی ہے کہ یہ سٹرکچر اور یہ حصے ایک دوسرے سے ملکر فنکشن وک کیسے فعال کرتے ہیں۔ اشیاء کام کیسے کرتی ہیں۔

میںڈیل جین کے اناٹومسٹ تھے۔ مورگن، ایوری، واٹسن کرے وغیرہ نے ان کا کام بڑھایا اور ڈی این اے کے سٹرکچر کا پتا دیا۔ اس کے بعد جین کی فزیولوجی پر توجہ زیادہ رہی۔ یہ ریگولیٹ کیسی ہوتی ہیں۔ کھلتی اور بند کن اشاروں پر ہوتی ہیں۔ وقت اور جگہ پر ان کا فنکشن کیا ہے۔ خلیہ اور جاندار کیسے ان کی کاپی بناتے ہیں۔ انفارمیشن کا تبادلہ نسلوں میں ہوتا ہے۔

ہیومن بائیولوجسٹ کے لئے ان دریافتوں نے بہت زیادہ مدد کی۔ میٹیریل سے میکینکس تک ۔۔ جینز کیا ہیں سے جینز کیا کرتی ہیں کے سوال تک ۔۔ جین، انسانی فزیولوجی اور پیتھولوجی کی کڑیاں ملتی گئیں۔ “ایک بیماری کا تعلق ضروری نہیں کہ جین کے بدلنے سے ہو، یہ جین ریگولیشن کی خرابی بھی ہو سکتی ہے۔ سوئچ ٹھیک وقت پر کھلتے یا بند نہیں ہوتے”۔ “ایک خلیے سے کثیر خلوی جاندار کیسے برآمد ہو جاتا ہے”۔ “تقسیم کے عمل کے درمیان کیسے میٹابولک بیماری یا ایک تباہ کن دماغی عارضہ پیدا کرنے والی خرابی ہو سکتی ہے”۔ “والدین اور بچوں میں مشابہت کیوں اور فرق کیوں۔ فیملی صرف سوشل اور کلچرل نیٹ ورک شئیر نہیں کرتی، جینیاتی نیٹ ورک بھی کرتی ہے”۔

جس طرح انیسویں صدی میں انسانی اناٹومی اور فزیولوجی نے بیسویں صدی کی میڈیسن کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح جین کی اناٹومی اور فزیولوجی نے نئی طاقتور بائیولوجیکل سائنس کی۔ آنے والی دہائیوں میں اس انقلابی سائنس نے سادہ جانداروں سے پیچیدہ جانداروں تک کا سفر کیا۔ جین کی ریگولیشن، ری کمبی نیشن، میوٹیشن، مرمت ۔۔۔  سائنسی جریدوں سے نکل کر میڈیکل کے نصاب کی کتابوں تک پہنچی اور سوسائٹی اور کلچر کی گہری ترین بحثیں شروع کیں۔ نئی سائنس اس کو دریافت کرنے کے پیچھے تھی کہ جین کی اناٹومی اور فزیولوجی انسان میں کیسے تبدیل ہوتی ہے۔ اس کی بیماری، شناخت، صحت اور قسمت میں۔

SHOPPING

(جاری ہے)

crossing-over_med
SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *