میر واہ کی راتیں (قسط5)۔۔۔ رفاقت حیات

گزشتہ قسط:

حیدری اور نذیر مزار سے باہرٹھیلے والوں کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور چلغوزے خرید کر کھانے لگے۔ مزار پر پہنچتے ہی شمیم نے برقع اُتار دیا اور سر پر صرف چادر اوڑھ کر مسکراتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔ وہ دونوں اندر مزار کے احاطے کی طرف نہیں گئے۔ انھوں نے ٹیلی فون آپریٹر کے شک کو بھانپ لیا تھا۔ کسی بدمزگی سے بچنے کی خاطر انھوں نے فاصلے پر رہنے کا ارادہ کر لیا تھا۔

وہ دونوں چلغوزے کھاتے ہوئے باہر ہی ٹہلتے رہے۔ تھوڑی دیر بعد نورل جوگی ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کے ہاتھ میں بھی کچھ چلغوزے تھما دیے اور مزار کے قریب سے گزرنے والی سڑک پر واقع ہوٹل کی طرف چل پڑے۔

کوٹھڑی نما ہوٹل لوگوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ وہاں اندر وی سی آر پر کوئی پنجابی فلم چل رہی تھی۔ وہ دونوں باہر چولھے کے پاس بنچ پر بیٹھ گئے جبکہ حیدری پنجابی فلم دیکھنے ہوٹل کے اندر چلا گیا۔

نورل نذیر کے پاس بیٹھ کر ٹیلی فون آپریٹر کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالتا رہا۔ نذیر کو ان باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے ہوٹل کے بیرے کے چائے کی پیالی لاتے ہی اس نے موضوع بدل دیا۔

میر واہ کی راتیں (قسط4)۔۔۔ رفاقت حیات

نئی قسط:

پکوڑافروش اسے بتانے لگا کہ کھانے کے لنگر کے بعد محفلِ موسیقی شروع ہو گی جو صبح فجر سے پہلے تک جاری رہے گی۔ بےسُرے شوقین فنکار صبح تک عارفانہ کلام گائیں گے۔ ہو سکتا ہے ان کی گائیکی سے بیزار ہو کر ٹیلی فون آپریٹر رَلّی بچھا کر وہیں سو جائے، مگراُس   کا کچھ پتا نہیں، اگر اسے کوئی عورت بھا گئی تو وہ  رات بھرآنکھ نہیں جھپکے گا۔ خیر، چاہے کچھ بھی ہو جائے، اس کی بیوی شمیم کو لے کر قبرستان پہنچ جائے گی جہاں ان دونوں کو ملاقات میسر آ سکے گی۔

نذیرمطمئن ہو گیا کہ اس کا یہاں آنا اکارت نہیں جائے گا۔ اس نے سچل سرمست سائیں کی عظمت کا ذکر چھیڑ دیا اور نورل عقیدت سے اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنا سر دھننے لگا۔ بہت دیر تک وہ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔

جب اندر فلم ختم ہو گئی تو سب لوگ انگڑائیاں لیتے ہوئے باہر نکلے۔ حیدری ٹھنڈی آہیں بھرتا ہوا آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد وہ تینوں وہاں سے اٹھے اور ٹہلتے ہوئے دوبارہ مزار تک آئے اور لنگرگاہ میں گھومنے لگے۔

ٹیلی فون آپریٹر نے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے نورل کو بلایا۔ اس نے رات میں بھی کالا چشمہ آنکھوں پر پہن رکھا تھا۔

نورل کے جانے کے بعد ان دونوں نے وضوخانے میں جا کر ہاتھ منہ  دھویا اور اس کے بعد دونوں نے سچل کے مزار کے اندر جا کر فاتحہ خوانی کی۔ فاتحہ خوانی کر کے نکلے تو صحن میں شمیم برگد کے ایک گھنے پیڑ کے نیچے اپنے شوہر کے قریب بیٹھی ہوئی نورل کی بیوی سے باتیں کر رہی تھی۔ اسے دیکھنے کے لیے نذیر حیدری کے ساتھ کچھ دیر وہاں گھومتا رہا۔ وہ اسے اپنے گردوپیش منڈلاتے دیکھ کر لطف اندوز ہو رہی تھی۔ جب وہ ٹہلتا ہوا اس کے نزدیک سے گزرتا تو وہ مسکراہٹ سے اسے دیکھتی، اپنی آنکھوں کے کونوں سے اشارے کرتی اور اپنے شوہر سے نظر بچا کر ہاتھ بھی ہلاتی۔

لنگر شروع ہوتے ہی لنگرخانے میں دیگوں کے گرد لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔ مزار کے خلیفے اور مجاور زائرین کو صبر کی تاکید کرتے رہے۔ جسے مٹی کی تھالی میں اپنے حصے کا لنگر ملتا وہ وہاں سے دور جا بیٹھتا۔ حیدری نے ہمت کرتے ہوئے ہجوم میں راستہ بنا کر لنگر حاصل کر لیا۔ مٹّی کی تھالی میں گرماگرم چاولوں نے انھیں بہت مزہ دیا۔ چاول ختم ہونے کے بعد وہ دونوں اپنی انگلیاں چاٹنے لگے۔

سماع گاہ میں فرش کی صفائی کے بعد کھلے صحن میں چٹائیاں بچھا دی گئیں۔ مقامی فنکار طبلے اور ہارمونیم سنبھالے اپنی مخصوص نشستوں پر آ کر بیٹھ گئے۔ لنگر ختم ہونے کے بعد محفلِ سماع سے لطف اندوز ہونے والے بہت کم لوگ باقی رہ گئے تھے۔

کچھ ہی دیر میں پورے احاطے میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کے سُر پھیل گئے اور سب کے سب سروں کی کشش میں کھنچے سماع گاہ میں آ آ کر ڈیرہ ڈالنے لگے۔

نذیر شمیم سے بے خوف و خطر ہو کر ملاقات کرنا چاہتا تھا۔ وہ یہاں کے اجنبی لوگوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہاں کا سارا اہتمام صرف اس کی ملاقات کے لیے کیا گیا ہے۔

رات ہولے ہولے دبے پاؤں گزر رہی تھی۔ کئی لوگ قوالی سنتے سنتے اپنی چٹائیوں پر ہی گہری نیند سو گئے اور بہت سے دھیرے دھیرے اٹھ اٹھ کر رخصت ہو گئے۔

ٹیلی فون آپریٹر بھی تھکاوٹ اور اکتاہٹ کی وجہ سے جمائی پر جمائی لے رہا تھا۔ شمیم نے اس کے لیے رلّی بچھائی۔ اس نے اپنی ٹوپی، چشمہ اور بٹوا اس کے حوالے کیا اور خود اجرک اوڑھ کر سو گیا۔

محفل ِسماع چل رہی تھی۔ بوڑھے قوال اپنا اپنا ہنر دکھا کر چلے گئے تو ہارمونیم اور طبلے پر نوخیز قوالوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ وہ اپنی محرومیوں اور ناآسودہ خواہشوں کا غبار چیخ چلّا کر نکالنے لگے۔

نذیر نے اِدھراُدھر نگاہ دوڑائی۔ سماع گاہ کے فرش پر لوگ یہاں وہاں بکھرے ہوئے تھے۔ مسجد کے مینار اور محرابیں تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ مسجد سے متصل مزار کی اونچی اور سیاہ دیوار تھی۔ بہت دیر تک بیٹھے رہنے کی وجہ سے نذیر کو بھی اونگھ سی آنے لگی تھی۔ نورل نے آ کر اسے جھنجھوڑا اور اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اسے باہر چلنے کو کہا۔

نذیر اٹھ کر اس کے ساتھ باہر نکل آیا۔ سب ٹھیلے والے وہاں سے جا چکے تھے۔ نذیر لمبے سانس بھرتا سامنے واقع خالی ڈھنڈار میدان کی طرف دیکھنے لگا۔ وہاں یکہ و تنہا کھجور کا درخت آسمان کے نیچے اپنے پنکھ پھیلائے کھڑا تھا۔ اس کے تنے کی کھردراہٹ اور میلی رنگت رات کی تاریکی کے سبب اوجھل ہو گئی تھی۔ اس کی ٹیڑھی میڑھی شباہت میں اسے عجیب حسن دکھائی دے رہا تھا۔ شاعرِ ہفت زبان کے مزار کے سامنے اسے رات کے اس پہر کھجور کا یہ درخت پُرکشش محسوس ہو رہا تھا۔ نورل اسے اکیلا چھوڑ کر واپس چلا گیا تھا۔

کچھ دیر بعد اس نے شمیم کو نورل کے ساتھ آتے دیکھا تو اسے کھجور کے درخت کے لیے اپنے دل میں پیدا ہونے والی پسندیدگی کی حقیقت معلوم ہو گئی۔ شمیم اس وقت بھی سرتاپا برقعے میں لپٹی ہوئی تھی۔ نذیر نے اپنے جگری یار حیدری کو قبرستان کے باہر پہرے داری پر مامور کیا اور خود شمیم سے ذرا تسلی سے بیٹھ کر دو باتیں کرنے چلا گیا۔

اس مختصر سے قبرستان میں جابجا کیکر اور بوڑھ کے ٹنڈمنڈ درخت کھڑے تھے جن کے بیچ بہت سی چمگادڑیں اُڑتی پھرتی تھیں۔ وقفے وقفے سے ان کی نوکیلی آواز گونجتی اور پورے قبرستان میں پھیل جاتی۔

وہ اس سے آگے احتیاط سے چل رہا تھا تاکہ کوئی ایسی جگہ ڈھونڈ سکے جہاں ان کا کچھ دیر بیٹھنا ممکن ہو۔ ’’اس پراسرار ماحول سے شمیم کہیں خوفزدہ نہ ہو جائے،‘‘ اس نے سوچا۔

پیڑوں کے بیچ چلتے ہوئے وہاں واقع ایک چھوٹے سے خستہ اور بوسیدہ مزار کی داہنی دیوار کے ساتھ انھیں کچھ جگہ مل گئی۔ اس نے اپنے جوتوں کی مدد سے وہ جگہ صاف کی اور آس پاس کی زمین پر اینٹوں کے ایسے ٹکڑے تلاش کرنے لگا جن پر تھوڑی دیر بیٹھا جا سکے۔

ایک سبک رو چمگادڑ شمیم کے کانوں کے قریب سے گزر گئی۔ چمگادڑ کو اپنے بہت قریب دیکھ کر اور اس کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سن کرشمیم دہشت زدہ ہو گئی اور اس کے منہ  سے ایک زوردار چیخ نکلی۔ اس کی چیخ سن کر قبرستان کے باہر موجود پکوڑافروش دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے شمیم کی ہمت بندھانے کے لیے چند جملے کہے اور اس کے بعد واپس چلا گیا۔

نذیر اینٹوں کے ٹکڑوں کی تلاش میں کچھ دور نکل گیا تھا۔ وہ اینٹوں کے دو بڑے ٹکڑے اٹھائے واپس آیا تو شمیم تاریکی میں اسے بھی دیکھ کر سہم گئی۔ نذیر نے دیوار کے پاس اینٹوں کے ٹکڑے لگا کر بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی۔ شمیم اس کے ساتھ ہی ایک ٹکڑے پر بیٹھ گئی۔ وہ ابھی تک سہمی ہوئی تھی۔ چمگادڑ کے علاوہ وہ شاید قبرستان کے وحشت ناک ماحول سے بھی سراسیمہ لگ رہی تھی، اس لیے کچھ دیر گزرنے کے باوجود اس نے نذیر سے کوئی بات نہیں کی۔

نذیر نے دھیرے دھیرے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے شانے پر رکھ دیا اور اسے ہولے ہولے دبانے لگا۔ مردانہ ہاتھ کے بےصبر مگر اپنائیت بھرے لمس نے اسے خوف کی دلدل سے نکالا تو وہ اپنی بزدلی پر ندامت محسوس کرتی مسکرانے لگی۔

نذیر کا ہاتھ اس کے نرم کندھے سے ہوتا ہوا اس کے گداز بازو میں اتر گیا۔ شمیم کا ذہن بٹانے کے لیے اس نے پچھلی ملاقات کا ذکر چھیڑتے ہوئے اس کی جرأت اور بہادری کو سراہا۔ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ نذیر سے اپنی تعریف سننا اسے اچھا لگ رہا تھا۔

وہ اسے آہستگی سے اپنی طرف کھینچتے ہوئے ہنس کر بولا، ’’تم مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتی ہو کہ اگر تمھارے شوہر کے خاندان میں کسی کو ہمارے اس تعلق کے بارے میں ذرا سی بھنک بھی پڑ گئی تو ہم دونوں کو کاروکاری کر کے مار دیا جائے گا۔ ہم آگ کے دریا کے اوپر بندھی ہوئی باریک سی ڈوری پر چل رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر تم مجھ پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتی رہیں تو ہم آگ کے دریا کے پار ضرور اتریں گے۔‘‘ اس نے شمیم کی تابناک آنکھوں میں جھانکا۔ وہ اس کی بےباک نگاہوں کی تاب نہیں لا سکی اوراس نے اپنا سر جھکا لیا۔ وہ بھی اپنے دل کے منجمد دریا کو پگھلا نے والے اور اسے ایک پُرشور ندی میں تبدیل کرنے والے اپنے اس محسن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی مگر نذیر کے ہاتھوں کی جنبش اسے بےخودی کی خواب آگیں وادیوں کی طرف لیے جا رہی تھی۔ لذت کا ست رنگا پرندہ اس کی پور پور میں دھیرے دھیرے اپنے پر پھیلانے لگا تھا۔

نذیر نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارا آج کا یہ ملاپ ہمارے پیار کی یادگار ہے۔ میں اسے زندگی بھر بھول نہیں سکوں گا۔ آج حضرت سچل سرمست بھی ہمارے پیار کے گواہوں میں شامل ہو گئے۔‘‘ اس کا ہاتھ اس کے بازو کے گداز سے پھسل کر اس کے سینے کی گولائیوں کو ناپنے لگا۔ وہ اس کے اور نزدیک آ گیا۔ ’’دیکھو! تم گاؤں کی عورت ہو، اور تمھیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ ‘‘

وہ مزاحمت کرنا چاہتی تھی مگر نذیر کے شریر ہاتھوں نے اس کے حواس معطل کر دیے تھے۔ اس کے بدن کے رگ و ریشے میں ایک بےچینی اور بےاطمینانی سی پھیلتی جا رہی تھی۔ وہ لذت کے ست رنگے پرندے کو اپنے بدن کی تمام پہنائیوں اور تمام وسعتوں میں مائل بہ پرواز دیکھنا چاہتی تھی۔ اس خواہش میں وہ اپنی ملاقات کا محل ِوقوع تک فراموش کر بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھیں خودبخود بند ہو رہی تھیں۔ اپنے بوجھل پپوٹے بمشکل پوری طرح کھول کر اس نے نذیر کی طرف دیکھا اور پہلی بار اپنے بازو پھیلا کر اسے اپنے بدن سے لپٹا لیا۔ نذیر کے تشنہ لبوں کا بوسہ لینے کے بعد اس نے بمشکل اسے اپنے آپ سے علیحدہ کر دیا۔ الگ ہونے کے بعد نذیر نے گردوپیش نظر دوڑائی تو اسے پہلی بار اس محلِ وقوع کی حرمت کا خیال آیا۔ شب کا نجانے کون سا پہر تھا اور وہ انسانی لاشوں کے مدفن میں اس وقت کیا کر رہا تھا!

اسے خاموش پا کر وہ سمجھی کہ شاید وہ بُرا مان گیا۔ وہ اس کا دھیان بٹانے کے لیے اپنے ٹیلی فون آپریٹر شوہر کے خلاف باتیں کرنے لگی۔ وہ اس کی باتوں کے بیچ بیچ میں اسے لقمہ دیتا، اپنا غبار نکالنے میں اس کی مدد کرتا رہا۔

اچانک قبرستان کے باہر سے پکوڑافروش کی پکار سنائی دی۔ وہ نذیر کا نام لے کر اسے بلا رہا تھا۔ نورل کی پکار سن کر وہ دونوں چونکے۔ شمیم فوراً اٹھ کر اپنے لباس کی شکنیں درست کرنے لگی۔ اس نے برقعے کا نقاب اچھی طرح کس کر باندھا اور جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ تشنہ لذت کی عدم تکمیل سے پیدا ہونے والی اذیت کا بوجھ اٹھائے ہوئے وہ دونوں نڈھال قدموں سے چلنے لگے۔

نذیر تلخ سانس بھرتا ہوا قبروں کو روندتا ہوا چل رہا تھا۔ قبرستان کے باہر پہنچنے پر حیدری نے اسے ٹیلی فون آپریٹر کے نیند سے جاگنے کی خبر سنائی تو وہ اپنی کامیابی پر زیرِلب مسکرانے لگا۔

شمیم نورل کے ساتھ لنگرگاہ کی طرف چل پڑی جبکہ نذیر حیدری کے ساتھ سڑک کی جانب۔

ٹھری میرواہ واپس پہنچنے کے بعد کچھ روز تک وہ دکان پر نہیں گیا۔ نجانے کیوں ایک جگہ بیٹھ کر کام کرنے کے خیال سے ہی اسے وحشت ہونے لگی تھی۔ مگر اس کے لیے سارا دن گھر پہ رہنا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ چاچی خیرالنسا کے لیے اس کی آنکھوں سے حیا ختم ہو گئی تھی۔ وہ جب چولھے پر جھکتی تو وہ ڈھٹائی سے اس کے سینے کی طرف دیکھنے لگتا اور ٹکٹکی لگائے دیکھتا ہی رہتا۔

ایک شام وہ صحن میں پیڑھی پر بیٹھی وضو کرتے ہوئے اپنی ایڑیوں کا میل اُتار رہی تھی۔ بےدھیانی میں اس نے اپنی شلوار گھٹنوں تک کھینچ لی تھی۔ نذیر کو انھیں تاکنے کا موقع مل گیا۔ اس کی پنڈلیاں اسے بہت گداز محسوس ہوئیں۔ چاچی نے معاً اس کی طرف دیکھا تو اس کی بےحیا نظروں سے جھینپ کے رہ گئی اور فوراً اُٹھ کر جانماز پر نماز کی نیت باندھ کر کھڑی ہو گئی۔

وہ انتظار میں رہنے لگا تھا کہ وہ اسے چارپائی پر سوئی ہوئی نظر آ جائے۔ ایسے میں اس کی قمیض ذرا سی کھسک جاتی تھی اور اس کا لو دیتا بدن جھانکنے لگتا تھا۔

اگر کبھی اسے غسل خانے میں چاچی کے لٹکے ہوئے ریشمی کپڑے مل جاتے، وہ ان کی ملائمت محسوس کرنے کی خاطر انھیں اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھوتا اور اپنے ہونٹوں سے لگا کر چومتا۔

اس کے لیے چاچی سے گفتگو کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اس سے باتیں کرتے ہوئے اچانک اس کی نظریں اس کے بدن پر بھٹکنے لگ جاتی تھیں۔ وہ اس کے گداز بھرے بھرے بازو کو دیکھنے لگتا تو خودبخود اس کی زبان میں لکنت پیدا ہو جاتی۔ اسے موقع محل کے مطابق مناسب لفظ نہ سوجھتا اور وہ جملوں کو توڑ کر بچوں کی طرح بولنا شروع کر دیتا۔

ایک بار وہ دیر تک پورے انہماک اور سنجیدگی کے ساتھ اس سے دست درازی کرنے کے متعلق سوچتا رہا مگر ایسا کرنے کی وہ اپنے اندر ہمت محسوس نہیں کر سکا۔ اسے لگتا تھا کہ چاچی جان بوجھ کر اس کی آنکھوں کے لیے منظر بناتی تھی لیکن اس کی بےلگام آنکھوں کو برداشت بھی نہیں کر پاتی تھی۔ اس کا لگاتار دیکھنا بھی اسے اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ جلد ہی بیزار ہو جاتی اور اس کے چہرے پر تنفر اور بیزاری کے آثار پیدا ہو جاتے اور وہ فوراً اپنا جسم ڈھانپنا شروع کر دیتی۔ کئی مرتبہ اس نے اس کی بےمعنی سی بڑبڑاہٹ بھی سنی تھی۔ اس عورت کے سامنے دل کھولنا آسان نہیں تھا۔ وہ سوچتا، دوری کے اس سراب کے درمیان قرب کا دھوکا شاید ختم ہو جائے۔ وہ دونوں جہاں پر تھے، کیا پتا آنے والے دنوں میں اس سے اور زیادہ پیچھے چلے جائیں۔

چاچی خیرالنسا کے وجود سے اٹا یہ مکان اکثر اسے کاٹنے لگتا۔ اس لیے وہ صبح سویرے گھر سے نکل جاتا اور شام کو واپس لوٹتا۔ وہ شمیم سے دوبارہ ملنا چاہتا تھا۔ ملاقات کا ڈول ڈالنے کی اس نے پوری کوشش کی مگر اس کے کسی بھی پیغام کا مثبت جواب نہیں آیا۔ جب اس نے پکوڑافروش سے اس کی وجہ جاننی چاہی تواس نے بتایا کہ وہ عورت ذات ہے، تھوڑابہت نخرہ تو کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس رات کے پچھلے پہر درازہ شریف کے قبرستان کا ماحول بہت خوفناک تھا۔ شاید اس پر کوئی اثر ہو گیا ہو اور کسی آسیب یا سائے کی وجہ سے وہ اس سے ملنے سے گریز کرنے لگی ہو۔

نذیر نے نورل کی اس بات کو من گھڑت سمجھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس رات کے بعداب شمیم اس سے اپنا تعلق ختم کرنا چاہتی ہے۔ وہ حیران تھا کہ اس سے ملنے کی خاطر دو مرتبہ خطرہ مول لینے کے بعد وہ اب کیونکر محتاط ہو گئی تھی۔ دوسرے رقیب کا خدشہ بھی خارج از امکان نہیں تھا یا پھر ہو سکتا ہے کہ اس کے ٹیلی فون آپریٹر شوہر کے کان میں ان کے پیار کی بھنک پڑ گئی تھی۔

اسے نورل پر بھی شک ہونے لگا تھا کہ اس نے اس کے شوہر سے مل کر سازباز نہ کر لی ہو یا نذیر سے دوستی کی آڑ میں اس کے لیے بھڑوت گیری کرنے سے وہ بیزار نہ ہو گیا ہو۔ مگر شاید اس کا خیال غلط تھا کیونکہ پکوڑافروش ویسے کا ویسا ہی تھا۔ وہ اب اس سے روپے بھی نہیں لیتا تھا۔

ایک مرتبہ اسے یہ اذیت ناک خیال آیا کہ شمیم سے ملاقاتوں میں دونوں مرتبہ وہ اپنی بھرپور مردانگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا تھا۔ اسی لیے وہ اس سے روٹھ گئی اور اس کے حصے میں چند بوسوں کے علاوہ کچھ نہیں آ سکا۔ وہ چند بوسے اسے بہت ناکافی محسوس ہو رہے تھے۔ وہ اس کے وصل کی پوری لذت سے بہرہ یاب ہونا چاہتا تھا۔

شمیم کے ہجر کے ان روزوشب میں وہ خود کو زیادہ اکیلا محسوس کرنے لگا تھا۔ حیدری مذاق کے طور پر اسے جو طعنے دیتا اور جو پھبتیاں کستا، وہ اس کی تکلیف کو مزید بڑھا دیتیں۔ وہ سمجھنے لگتا کہ اپنی کم ہمتی اور ناتجربہ کاری کے سبب اس نے خود کو ایک شادی شدہ عورت کی نظروں میں بےوقعت ظاہر کر دیا تھا، اسی لیے اب وہ اس سے ملنے سے گریز کر رہی تھی۔

کچھ نئی عادتیں اور نئے مشغلے بھی اس کی اذیت کو کم نہیں کر سکے۔ اگرچہ قصبے کی ساری گلیاں اور سارے مکان اس کے دیکھے بھالے تھے، اس کے باوجود وہ بہت سا وقت آوارہ گردی میں گزارنے لگا۔ اس دوران راستے میں اسے کوئی لڑکی یا برقع پوش عورت نظر آتی تو وہ اس کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دیتا۔ وہ خاتون یا لڑکی جس مکان میں داخل ہوتی وہ اس کے دروازے پر ٹکٹکی لگائے اس گلی میں کھڑا ہو جاتا اور خوامخواہ اس مکان کی دیواروں کے رخنوں اور دروازے کی درزوں سے جھانکنے لگتا۔ کبھی کبھار کوئی آدمی اس کی اس حرکت کا برا منا کر اسے للکارتا تو وہ فوراً وہاں سے بھاگ کھڑا ہوتا۔

قصبے کی دکانوں پر ویڈیو گیم اور کیرم بورڈ، ڈبّو اور بلیئرڈ کھیل کھیل کر اس کی طبیعت اب ان سے بھی سیر ہو گئی تھی۔

وہ شمیم کے نرم و لذیذ لمس اور بوسوں کو فراموش کرنا چاہتا تھا۔ جب تک اس نے اس کے شوہر کو نہ دیکھا تھا، تب تک وہ اپنی تصوراتی دنیا میں خود کو اس کے پرشباب اور پرلطف جسم کا اکلوتا مالک سمجھتا تھا، مگر اب ٹیلی فون آپریٹرایک ایسی حقیقت بن کر سامنے آ چکا تھا اس کے لیے جسے جھٹلانا ناممکن تھا۔

وہ یہ سوچ کر کڑھتا رہتا اور دل ہی دل میں تاؤ کھاتا رہتا کہ وہ ٹیڑھا بھینگا شخص اس جسم کا یکہ و تنہا مختار تھا۔ وہ اس کے نکاح میں داخل تھی۔ اس کے روزوشب اس شخص کی خاطرمدارات میں بسر ہو رہے تھے۔ وہ جب چاہتا، اس سے خلوت میں وصل کی لذت سے ہمکنار ہو سکتا تھا۔ نذیر کے لیے سب سے کربناک بات یہی تھی۔ یہ ہر وقت اس کے ذہن پر مسلط رہتی تھی اور اس کے لیے اس سے نجات پانا ممکن نہیں تھا۔ جب بھی ان خیالات کی اذیت ناکی حد سے بڑھنے لگتی تو وہ دانت کچکچانے لگتا، بےبسی سے اپنی مٹھیاں بھینچتا اور ہیجانی انداز میں زیرِلب بڑبڑاتا۔ ’’وہ گہرے سرور سے بھری ہوئی ایک صراحیِ مے ہے جو پوری کی پوری اس کڈھب آدمی کی دسترس میں ہے۔‘‘

اس پر یہ مجنونانہ کیفیت عارضی طاری ہوتی۔ جب وہ اس کیفیت سے باہر آتا تو سکون کے لمحوں میں اپنے آپ کو سمجھانے لگتا۔ اس کی زندگی میں وہ پہلی عورت تھی جس نے اس کے غیرسنجیدہ رومان کا جواب پورے خلوص اور سنجیدگی سے دیا تھا۔ وہ اس رات صرف اس کی خاطر اپنے گھر، اپنے شوہر، اپنے گرم بستر اور لحاف کو چھوڑ کر اس سے ملنے آئی تھی۔ وہ اس کی دست درازی اور اس کی بوسہ بازی کو برداشت کرتی رہی تھی۔ وہ ہرگز کوئی فاحشہ نہیں تھی اور نہ ہی قیمتی چیزوں پر مرنے والی تھی۔ شاید اسے محبت کی ضرورت تھی، اور وہ اس کی یہ ضرورت پوری کرنے کو تیار تھا۔ اس نے اپنی بےلگام جسمانی خواہشوں کو ملعون و مطعون قرار دیا۔

کیا وہ پردہ نشین شمیم کے لیے اپنے دل میں محبت محسوس کرنے لگا تھا؟ اس کے لیے اپنے بدن میں اٹھتے طوفانوں اور ہیجانوں کو محبت قرار دینا بہت مشکل تھا۔ یہ کوئی اور ہی چیز تھی، محبت سے بھی زیادہ گہری، پراسرار اور عمیق چیز۔

بہت سوچ بچار کے بعد بالآخراس نے فیصلہ کیا کہ شمیم کو ایک آخری تحفہ بھجوائے۔ ہو سکتا ہے، تحفہ پا کراس کے دل میں امڈ کر ہیجان برپا کرنے کے بعد یخ بستہ ہونے والے اس کے پرجوش جذبات کی پرانی رو ایک مرتبہ پھر عود کر آئے۔ یہی خیال ذہن میں لا کر وہ رحیم سنار کے پاس گیا جو قصبے کا پرانا اور مشہور زرگر تھا۔ اس نے سوچا کہ شاید زیور کی بدولت اس سے دوبارہ ملنے کی سبیل نکل آئے۔

زیورات کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔ وہ زرگر گلی میں واقع میلے شوکیسوں والی ایک دکان میں داخل ہوا تو اپنے کام میں مصروف بوڑھے سنار نے اپنا سر اٹھا کر ٹوہ لینے والی آنکھوں سے اسے دیکھنے کے بعد، مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ اس نے اپنے ایک ہاتھ میں پکڑا جلتا ہوا دِیا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑا زیور ایک طرف رکھ دیا اور اپنے نوجوان گاہک کی طرف متوجہ ہوا۔

نذیر میلی کچیلی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا، ’’میں نے آپ کے کام کی بہت دھوم سنی ہے۔ مجھے آپ سے ایک چھوٹا سا زیور بنوانا ہے۔ ‘‘

اپنی تعریف سن کر بوڑھا زرگر ہنسا، پھر اپنی موٹے شیشوں والی عینک کو اپنی میلی قمیض سے صاف کرتے ہوئے بولا، ’’عزت اور ذلت دینا میرے رب سائیں کا کام ہے، میرا کام صرف محنت کرنا ہے۔‘‘

نذیر نے اس سے ہار بنانے کی فرمائش کرتے ہوئے کہا کہ ہار بےشک چاندی کا بنا ہوا ہو مگر پہلی نظر میں دیکھنے پر وہ سونے کا معلوم ہونا چاہیے۔ اس کی چمک اتنی جلدی ماند نہ پڑے اور اس کی قیمت بھی بہت زیادہ نہ ہو۔

نذیر کی باتیں سن کر رحیم سنار کو اس کے دل تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔

’’یہ کام تو میرے بائیں ہاتھ کا ہے۔ مگر میں اس کے پیسے ایڈوانس لوں گا۔‘‘

نذیر نے مطلوبہ رقم زرگر کے حوالے کی تو وہ کہنے لگا کہ پرسوں آ کر وہ اپنا ہار لے جائے۔ نذیر دکان سے مطمئن ہو کر نکلا۔

نذیر کی دکان سے لگاتار غیرحاضری پر چاچا غفور یہی سمجھتا رہا کہ اب تک اس کے بھتیجے کی صحت بہتر نہیں ہے۔ وہ ہر روز نذیر کو گھر میں سوتا ہوا چھوڑ کر اکیلا ہی دکان پر جاتا رہا۔ جب دکان سے اس کی غیرحاضری طول پکڑنے لگی تو چاچے کے دل میں شبہات سر اٹھانے لگے۔ اس نے ان شبہات کو کچل کر دل سے نکالنے کی بہت کوشش کی، مگر ان کی خودسری بڑھنے لگی۔ اس نے یعقوب کاریگر کو اپنے اندیشوں میں شریک نہیں کیا۔ سُبکی کے خوف سے پہلی بار اس نے کاریگر سے کوئی بات چھپائی۔ اس کا خیال تھا کہ شاید وہ اس کا مذاق اڑاتا اور اس کے لیے زندگی بھر کے لیے کوئی پھبتی ایجاد کر لیتا۔ اسی خوف کے سبب اس نے اسے شاملِ راز نہیں کیا۔

جب اس کے دل میں پہلے شک نے رینگتے ہوئے جگہ بنائی تو وہ بہت جزبز ہوا تھا اور اس نے اسے پوری شدت سے رد کرنے کی کوشش کی تھی، مگر وہ کانٹے کی طرح اس کے دل میں پیوست ہو گیا تھا۔ اس نے خود کو ملامت کی تھی کہ اس کا بھتیجا ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ وہ اسے اچھی طرح جانتا تھا۔

روزانہ گھر سے نکلتے وقت وہ برآمدے میں کھاٹ پر بےسدھ سوئے نذیر کو گھور کر دیکھتا۔ اس وقت اسے محسوس ہوتا کہ وہ رضائی کے نیچے آنکھیں کھول کر لیٹا ہو گا اور اس کے گھر سے جانے کا انتظار کر رہا ہو گا۔ بوڑھا درزی ایسے خیالات کو جھٹکنے کے لیے باربار اپنا سر ہلانے لگتا، اور گھر کی دہلیز سے نکلتے وقت اس کا دل ڈوبنے لگ جاتا۔ گلی میں چلتے ہوئے باربار اس کے قدم ٹھٹک کر رک جاتے۔ وہ مڑ کر لمحہ بھر کے لیے سوچتا مگر گھر لوٹنے سے گریز کرتا۔

دکان پر تمام دن وہ اسی ادھیڑبن میں مبتلا رہتا۔ شام کو جب واپس لوٹتا تو گھر کے کونوں کھدروں میں جھانکتا پھرتا، جیسے کوئی ثبوت تلاش کرنا چاہتا ہو۔ وہ باتوں کے دوران اپنی بیوی کو کرید کر بھتیجے کے رویے اور اس کی عادتوں کے متعلق پوچھتا رہتا۔

چاچی خیرالنسا کے گمان میں نہیں تھا کہ اس کے ذہن میں کیسے خیالات رینگ رہے تھے۔ اس کی ذہنی حالت سے بےبہرہ، وہ عام سے انداز میں اسے دن بھر کی مصروفیات کا احوال سنا دیتی۔ اس کی باتیں سنتے ہوئے چاچا اس کے چہرے کو گہری نظروں سے گھورتا رہتا۔ پھر مایوس، کوئی خاص بات معلوم نہ کر سکنے کے دکھ میں مبتلا ہو کر وہ ٹھنڈے سانس بھرنے لگتا اور اپنے ایک ہاتھ کی مٹھی کو دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر مارتا رہتا۔

نذیر چاچے غفور کے بدلتے تیوروں اور رویوں پر حیران تھا۔ اب وہ نذیر سے کم ہی بات کرتا تھا اور اکثراوقات ٹوہ لینے والی نظروں سے اسے گھورتا رہتا تھا۔ نذیر کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔

ایک روز دوپہر کو اچانک کام روک کر وہ یعقوب کاریگر سے بہانہ بنا کر دکان سے نکلا۔ وہ پُرامید جوش میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اپنی گلی میں داخل ہوا۔ مگر جوں جوں گھر کے قریب پہنچنے لگا، اس کے اوسان خطا ہونے لگے۔ کچھ اور آگے جا کر اس کا سر چکرایا اور پاؤں ڈگمگائے مگر اس نے خود کو سنبھال لیا۔ وہ گھر کے دروازے تک پہنچا اور کچھ دیر تک کان لگائے وہاں کھڑا رہا مگر اسے اندر سے کوئی آواز نہیں سنائی دی۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ یہاں سے اندر داخل ہوا تو وہ لوگ اس کے قدموں کی چاپ سن لیں گے۔ وہ برسوں سے مقفل دروازے پر گیا جس کا راستہ دوسری گلی سے تھا جو ایک بند گلی تھی۔ وہ وہاں کھڑا بند گلی کو دیکھتا رہا۔ اس کے گھر کی پرانی دیوار زیادہ اونچی نہیں تھی۔ پہلی بار دروازے پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہوے وہ پیٹھ کے بل گلی کے کنارے پر بنی ہوئی نالی میں گرتے گرتے بچا۔ دوسری مرتبہ اس نے دروازے پر مضبوطی سے پیر جمایا اور کنڈی کے لوہے کو زور سے پکڑ کر گھر کے پچھلے حصے میں کود گیا۔ غسل خانے کی طرف سے کپڑے دھونے کی دھپ دھپ سن کر اسے سخت مایوسی ہوئی۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ اس جانب سے گھر میں داخل ہوا تو وہ اسے دیکھ کر پریشان ہو جائے گی۔ وہ چپکے سے دبے پاؤں واپس چلا گیا، مگر شک کا کانٹا کسی طور اس کے دل سے نہیں نکل سکا۔

شام کو دکان سے واپس آنے کے بعد اس نے دبے لفظوں میں نذیر سے دکان پر نہ آنے کی شکایت کی تو ندامت محسوس کرتے ہوے اس نے اگلے دن دکان پر جانے کا وعدہ کر لیا۔

اگلی صبح وہ دکان  پر جانے کے لیے تیار ہو کر گھر سے نکلا، مگر اس کے قدم اسے بہکا کر میرواہ کے کنارے واقع چائے خانے پر لے گئےجہاں اس کی مڈبھیڑ نورل سے ہو گئی۔ اس کے ہمراہ چرس پینے کے بعد دکان جانے کا خیال اس کے ذہن سے نکل گیا۔ اس نے چاچے غفور کی نافرمانی کی اور مزید کچھ روز تک جان بوجھ کر دکان نہیں گیا۔ چاچے نے اپنے بھتیجے کی ہٹ دھرمی دیکھتے ہوئے اسے دوبارہ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔

چاچا غفور نہیں چاہتا تھا کہ اس حوالے سے کوئی بھی بات نکل کر مشہور ہو جائے۔ وہ خاندان بھر میں اپنی بدنامی سے خوفزدہ تھا۔ اس لیے اس نے اپنے بھتیجے پر دھونس نہیں جمائی، اسے ڈانٹا ڈپٹا نہیں۔

اس نے میرپور ماتھیلو میں رہنے والے اپنے بڑے بھائی سے ایک مرتبہ نذیر کو اس کے پاس بھیجنے کے لیے کہا تھا۔ اس لیے وہ سوچ رہا تھا کہ اگر اس نے گالم گلوچ کر کے اسے نکال دیا تو اس کی بہت جگ ہنسائی ہو گی اور پوری برادری میں اس کی ناک ہمیشہ کے لیے کٹ جائے گی۔

شام کی آوارہ گردی کے دوران ایک گلی میں اس کی مڈبھیڑ نورل سے ہو گئی۔ اس نے نذیر کو ایک ایک حیران کن مگر خوشی سے لبریز خبر سنائی۔ کچھ دیر پہلے ہی نذیر نے زرگر کی دکان پر جا کر اس سے ہار وصول کیا تھا۔ ہار کے بارے میں پکوڑافروش کو بتانے سے پہلے ہی اس نے اسے مژدۂ جاں فزا سنا دیا۔

نذیر وہ بات سن کر اس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کے تو سان گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی عورت اتنی جرأت مند اور دلاور بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں اپنے عاشق کو ملاقات کے لیے دعوت دے دے۔ خوشی میں اس نے بےاختیار ہو کر نورل کے کھردرے گالوں کو چوم لیا اور اس کی بےترتیب مونچھوں کو تھپتھپانے لگا۔ اس کے بعد شام بھر وہ پکوڑافروش کو ساتھ لیے مختلف چائے خانوں میں گھومتا پھرا۔ اس نے نورل کو خوش کرنے کے لیے پچاس روپے کا نوٹ زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیا۔ اس نے ہار والی بات جان بوجھ کر اس سے پوشیدہ رکھی مبادا اس کے دل میں حرص پیدا ہو جائے اور وہ اپنی بیوی کے ذریعے مسرتوں بھری آئندہ ملاقات میں کھنڈت ڈال دے۔ رات نو بجے کے آس پاس اس نے اسے میرواہ کے پل پر خدا حافظ کہا۔

صبح کو عجیب واقعہ رونما ہوا۔ نذیر گہرے خوابوں میں گم مزے کی نیند سو رہا تھا۔ غفور چاچا غصے میں بپھرا ہوا برآمدے میں آیا اور اس نے بلند آواز میں مخاطب کرتے ہوے اسے شانوں سے جھنجھوڑ کر جگایا۔ اس نے ہڑبڑاتے ہوئے آنکھیں کھول دیں۔ اس نے آج پہلی بار چادر میں لپٹے ہوئے اپنے چاچا کو غیظ وغضب کے عالم میں دیکھا۔ اس کے چہرے پر شدید تناؤتھا۔ اس کی مٹھیاں بھنچی ہوئی تھیں اور غصے کی شدت سے اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔

نذیر چارپائی پر اٹھ کر بیٹھا تو بوڑھے درزی نے اسے سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ وہ اسے گریبان سے پکڑ کر اس کے چہرے اور سینے پر زوردار مکے رسید کرنے لگا۔

ایسی بےموقع پٹائی کے بارے میں نذیر نے سوچا بھی نہیں تھا۔ دو چار لمحوں تک وہ اپنے جسم پر چاچے کے زوردار گھونسوں کی ضربیں برداشت کرتا رہا۔ اس نے آس پاس نگاہ دوڑائی مگرچاچی خیرالنسا اسے کہیں نظر نہیں آئی۔ اس نے اپنے ہاتھ اور منہ سے جواب دینے کے بجاے خود کو بچانا ہی مناسب سمجھا۔

وہ چاچے کی کرخت اور فحش گالیوں کا جواب اپنے مسکین سوالوں سے دیتا رہا۔ کچھ دیر بعد وہ لاچار اٹھا اور وہ بوڑھے درزی کو دھکا دیتا ہوا صحن کی طرف بھاگ نکلا۔ اس کے دھکے سے چاچا غفور فرش پر گر گیا اور ہانپتا ہوا اُٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔

چاچی خیرالنسا غسل خانے سے باہر آئی تو اس نے پہلے نذیر کی طرف اور پھر اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔ کچھ دیر تک وہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ ان دونوں کے درمیان کیا چل رہا ہے۔ چاچا ایک مرتبہ پھر نذیر پر حملہ کرنے کے لیے اس کی طرف لپکا تو اسے چاچی نے روک لیا اور اسے سمجھاتی ہوئی زبردستی کمرے میں لے گئی مگر اس کے منہ  سے لگاتار گالیاں سنائی دیتی رہیں۔

نذیر نے چاچے کی غصے بھری بڑبڑاہٹ سے اندازہ لگا لیا تھا کہ بوڑھے زرگر نے کل شام نے اس کے پاس جا کر اسے ہار کے متعلق بتا دیا تھا جو اس نے اسے بنا کر دیا تھا۔ اس نے زیرِلب اس رذیل سنار کو جی بھر کر گالیاں دیں۔

غسل خانے میں ہاتھ منہ  دھونے کے بعد وہ چائے پینے کے لیے باورچی خانے میں جا کر بیٹھ گیا تاکہ چاچا کی غضب ناک آنکھوں سے دور رہ سکے۔ پتیلی میں موجود چائے کو چھان کر اس نے پیالی میں ڈالا اور بلند آہنگ سُڑکے لے کر چائے پیتے ہوئے باربار دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔

اس کے ذہن میں خیالات کی رو چل رہی تھی۔ آج رات اسے شمیم سے ملنے جانا تھا اور صبح سویرے ایسی بدمزگی کا رونما ہونا اسے اچھا شگون نہیں لگ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ غفور چاچا کے دل میں اس کے لیے جو نفرت بھر گئی ہے کسی طرح سے وہ ختم ہو جائے۔

وہ باربار سوچ کر خود کو تیار کر رہا تھا کہ کچھ بھی ہو وہ جوگیوں کے گوٹھ ضرور جائے گا۔ اس نے کئی مرتبہ شلوار کی جیب میں رکھے ہار کو ٹٹول کر اس کی موجودگی کو محسوس کیا۔

باورچی خانے کی طرف آتے ہوے قدموں کی آہٹ سن کر وہ چونکا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو چاچی خیرالنسا کو آتے دیکھ کر اسے اطمینان ہوا۔

چولھے کے قریب بیٹھتے ہوئے اس نے نذیر کو گہری نظر سے دیکھا۔ اس کی جھکی ہوئی نگاہ اور جھکا ہوا سر دیکھ کر چاچی کے چہرے پر تمسخرآلود تاثر نمایاں ہونے لگا۔ اس سے کوئی بات کیے بغیر اس کے منہ  سے ہونہہ کی آواز نکلی۔ نذیر نے یہ آواز سنتے ہی اس کا مطلب سمجھ لیا۔ وہ صبح ہونے والی اپنی پٹائی کی وجہ سے اس کے سامنے عجیب سی خفت محسوس کر رہا تھا۔ اس نے خالی پیالے کو ایک بار پھر چائے سے بھر لیا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی موضوع پر اس سے بات چیت شروع ہو مگر وہ پہل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہا تھا۔ وہ سر جھکائے صرف اس کے سانسوں کی آواز سنتا رہا۔

خاموشی میں اس کے سانسوں کی آواز نے اسے چاچی خیرالنسا کے اس وقت کے محسوسات کے بارے میں بہت کچھ بتا دیا۔ بےدھیانی میں چسکی لیتے ہوئے چائے کا گھونٹ اچانک اس کی سانس کی نالی میں چلا گیا۔ وہ اتنے زور سے کھانسا اور چھینکا کہ اس کے حلق اور ناک سے نکلتے چائے کے ذرّے چاچی کے کپڑوں پر جا گرے۔ اس کا ہاتھ کانپا اور چائے کا پیالہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

اس کی یہ حالت دیکھ کر چاچی بےساختہ ہنسنے لگی۔ اس نے زمین پر پڑے ہوئے اوندھے پیالے کو سیدھا کر دیا، کیونکہ اوندھی پڑی ہوئی چیزیں اس کے خیال میں بدشگونی کی علامت ہوتی تھیں۔

ایسے حساس ترین موقعے پر اس کا ہنسنا نذیر کو ناگوار محسوس ہوا۔ اس نے نزدیک ہی رکھے ہوئے گھڑے سے پانی نکال کر منہ  اور ناک صاف کیا۔

چاچی کچھ دیر تک اسے کریدنے والی نگاہوں سے دیکھتی رہی۔ پھرکسی تمہید کے بغیر اس سے پوچھنے لگی، ’’تم نے وہ ہار آخرکس لیے بنوایا تھا؟‘‘

’’کون سا ہار؟‘‘ وہ خود کو سنبھالتے ہوئے صاف مکر گیا۔

’’وہی جو تم نے رحیم سنار سے بنوایا تھا؟‘‘

’’کیا یہ بات سنار نے خود چاچے کو بتائی ہے؟‘‘ نذیر اس قضیے کے ماخذ تک پہنچنا چاہتا تھا۔

’’ہاں! اسی نے تیرے چاچے کو بتایا ہے۔ ‘‘ وہ اس کی طرف دیکھتی اس کی دلی کیفیت کو آنکنے کی کوشش کر رہی تھی۔

’’میں نے وہ ہار…‘‘ وہ کہتے کہتے رک گیا۔ اچانک اسے ایک اور خیال سجھائی دیا اور اس نے بغیر سوچے بےدھڑک کہہ دیا، ’’میں نے… وہ ہار… تیرے لیے بنوایا تھا۔ میں وہ تجھے دینا چاہتا تھا۔ مگر کل رات وہ میری جیب سے کہیں گر گیا۔‘‘ اپنی جرأتِ اظہار پر وہ خود حیران تھا۔

’’میرے لیے؟‘‘ اس کی بات سن کر اس کی حیرانی کی کوئی حد نہ رہی۔ ’’مگر میرے لیے کیوں؟‘‘

’’ اس لیے کہ کچھ دن پہلے جب میں بیمار ہوا تھا تو تُو نے میری بہت خدمت کی تھی،‘‘ وہ معصومیت سے بولا۔

چاچی اسے گھورتی رہی، پھر جھرجھری لیتے ہوئے بولی، ’’اپنے چاچا کو مت بتانا، ورنہ وہ ہم دونوں کو جان سے مار دے گا۔‘‘ اس نے سہمی نظر سے دروازے کی طرف دیکھا۔

’’میں نے سوچ لیا ہے کہ اسے کیا بتانا ہے۔‘‘

بےیقینی سے اس کی طرف دیکھنے کے بعد وہ ناشتے کی تیاری میں مصروف ہو گئی جبکہ وہ وہیں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ جب ناشتہ تیار ہو چکا تو وہ اسے اپنے ساتھ غفور کے کمرے میں لے گئی۔

چاچے کے تیور اب تک ویسے ہی تھے۔ اس کے ماتھے پر شکنیں پڑی ہوئی تھیں۔ انھیں کمرے میں آتے دیکھ کر اس نے اپنا منہ  دوسری طرف پھیر لیا۔

’’رحیم سنار کی بات سچی ہے یا نہیں؟‘‘ اس نے تحکم آمیز لہجے میں اس سے سوال کیا۔

’’اس کی بات میں سچائی ہے، مگر میں نے وہ ہار حیدری کے کہنے پر بنوایا تھا۔‘‘

’’حیدری کے کہنے پر؟ وہ کیوں؟‘‘

’’اس کا کسی لڑکی کے ساتھ کوئی چکر ہے،‘‘ نذیر نے بتایا۔

اس کا جواب سن کر چاچے کے لبوں پر خودبخود مسکراہٹ پھیل گئی۔ ’’اچھا، اس کا چکر ہے! کہیں تمھارا بھی کوئی چکر تو نہیں ہے؟‘‘

اس نے سنجیدگی سے جواب دیا، ’’نہیں چاچا۔‘‘

وہ ہنستے ہوئے اپنی بیوی کو دیکھنے لگا جو پائینتی بیٹھی ہوئی تھی۔

چاچے کا مزاج بدلتا دیکھ کر نذیر کے علاوہ چاچی نے بھی اطمینان کا سانس لیا۔

ناشتہ کرتے ہوئے نذیر کو اپنی کوتاہی کا احساس ہو گیا۔ اسے دکان کی طرف سے تغافل نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میرپور ماتھیلو سے شہربدر ہوتے ہوئے اس کے والد نے اسے نصیحت کی تھی کہ ٹھری میرواہ جا کر درزی کے کام میں دل لگانا۔ آدمی کے پاس کوئی ہنر ہو تو اس کی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے چاچا کے پاس کام کرنے آیا تھا۔ پچھلے کئی دنوں سے دکان سے اپنی غیرحاضری کے حوالے سے وہ اس کی تشفی نہیں کر سکا تھا۔ اس کے چھوٹے موٹے بہانے زیادہ عرصے تک کارآمد نہیں ہو سکتے تھے۔ اسی لیے سنار کی بات سن کر وہ غصے سے لال بھبھوکا ہو کر اس پر برس پڑا تھا۔ چاچا کے غصے میں بھرے ہوئے سرخ چہرے میں نذیر کو اپنے والد کی جھلک دکھائی دی تھی۔

جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *