کتاب “بلوچ اور اُن کا وطن”۔۔۔ریویو: منّان صمد

جامعہ بلوچستان کے شعبہِ تاریخ میں بحیثیتِ لیکچرار فاروق بلوچ نے اپنی کتاب “بلوچ اور اُن کا وطن” میں بلوچ قوم اور اُن کے حقیقی وطن کا تاریخی نقشہ انتہائی عمیق اور دقیق انداز میں کھینچا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ملکی اور غیر ملکی مورخین نے بلوچوں کی نسلی اور سیاسی تاریخ پر جتنی بھی کتابیں لکھی ہیں وہ نا صرف ٹھوس حقائق سے عاری ہیں بلکہ بلوچوں کی نسلی، سیاسی اور تاریخی اصلیت کو ملیامیٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو غیر تحقیقی طریقہِ کار کی عکاسی کرتا ہے۔

غیر ملکی خاص کر برطانیہ کے مورخین نے بلوچوں کو ڈاکو، جنگلی، لٹیرا، ظالم، سفاک، وحشی، غیر مہذب اور نجانے کتنے القاب و خطابات سے نوازا جو زمینی حقائق سے ہٹ کر ہے۔ بلوچوں کو تاریخ کے اوراق میں غارت گر، جفاگر، ستم گر، ڈاکہ زن اور راہ زن سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ ان کے فوجی کارناموں سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔ بلوچ ظالم اور جابر نہیں تھے بلکہ جنگجو اور آزاد منش تھے جو محمود غزنوی جیسی عالمی طاقتوں کے سامنے اُٹھ کھڑے ہوگئے جب بلوچ خطے پر تسلط جمانے کی کوشش کی گئی۔ بلوچ ڈاکو نہیں بلکہ سپاہی تھے جو ایران کی فوج میں اعلیٰ و ارفع مقام رکھتے تھے۔ بلوچ خانہ بدوش نہیں بلکہ بڑے بڑے عہدوں پہ فائز تھے کیونکہ خانہ بدوشوں کو عظیمِ شہنشاہ کی فوج میں اوّل دستے کا سپاہی بننے کا اعزاز نہیں مل سکتا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ برطانیہ نے کبھی بھی بلوچوں کے ساتھ نیک سلوک نہیں کیا بلکہ مزید قلم کی نوک سے بلوچوں کی تاریخ کو مسخ کر کے بلوچ مورخین کو الجھا کر اختلافات کا شکار کر دیا۔ بلوچ مورخین نے تحقیق کیے بغیر غیر ملکی مورخین کی لکھی گئی تاریخی مواد اور حقائق سے عاری نظریات کی تقلید کر کے من وعن تسلیم کیا اور تاریخِ بلوچستان کو لاحاصل بحث میں مبتلا کر دیا۔

اس ضمن میں ٹی ڈیلیو وال بینک (T, W Wall Bank) اور کے معاون ایم ٹیلر (M Taylor) لکھتے ہیں کہ بلوچوں کا تعلق اقوام کے عظیم خاندان “سامی” سے ہے جو حضرتِ نوح کے صاحبزادے حضرت سام کی نسل ہے۔ زبان میں تغیرات کی وجہ سے اس نظریہ کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے پہلا غیر ملکی مورخ پروفیسر راولنسن (Prof. Rawlinson) تھا جس نے بلوچوں کو “نمرود” کی اولاد لکھا اور انھیں کالدین اقوام سے منسوب کیا۔

محمد سردار خان بلوچ اسی مصنف کی تقلید کر کے بغیر تحقیق کے بلوچوں کو سامی نسل سے منسلک کر کے کلدانیوں کے کوش (Kosite) شاخ کی باقیات گردانتے ہوئے لکھتے ہیں:

“بلوچ قوم کلدانی کوش حکمرانوں کی نسل سے ہیں اور نمرود بیلوس کی اولاد ہیں جو بابل کا حکمران تھا، کلدانیوں کے خاتمے پر یہ وہاں ہجرت کر کے عرب، ایران، سیستان اور پھر مکران میں آ کر آباد ہوئے۔”

سرٹی ہولڑچ (Sir, T. Holdich) بھی اس نظریہ کے حامی ہیں جو بلوچوں کو کلدانیوں سے منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ لفظ “بعل” جو کہ کلدانی دیوتا تھا بگڑ کر بعل سے “بعلوث” اور بعد ازاں “بلوچ” بنا۔

فاروق بلوچ اپنے دلائل کی مد میں اس نظریے کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“قرآن پاک میں لفظ نمرود کا تذکرہ کسی بھی آیت یا سورہ میں نہیں آتا۔ ہو سکتا ہے مفسرین نے عراق کے کسی ظالم حکمران کو نمرود کہہ دیا ہو۔ تاریخ میں ایک نمرود کا تذکرہ ملتا ہے لیکن وہ نوح کے دوسرے بیٹے “حام” کی نسل سے ہے، یعنی “نمرود بن کوش بن کنعان بن حام بن نوح۔”

عالمی طاقتوں نے براہوئی اور بلوچوں میں دراڑیں پیدا کرنے کی نہ صرف ناکام کوشش کی بلکہ مزید انتہائی بھونڈے اور مضحکہ خیز انداز میں بلوچ نسلی اصلیت کی تاریخ لکھ کر آنے والے بلوچ مورخ اور محقق کو ایک نہ ختم ہونے والی بحث میں ڈالا۔ حقائق سے عاری ان برطانوی شاطروں کے دلائل اور نظریات کے انبار نے ہمیشہ کے لیے بلوچ محقق کو اپنی اصلیت ڈھونڈنے میں مشغول کر دیا اور بلوچ مورخین اپنی شناخت جاننے اور کھوج نکالنے کی تگ و دود کرتے رہے ہیں۔

تمام مورخین کے خیالات اور نظریات ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ خلفائے راشدین کے بعد جب بنوامیہ کے خلیفہ یزید بن معاویہ اور حضرت امام حسینؓ کے درمیان معرکہ کربلا گرم ہوا، کہتے ہیں کہ بلوچ قبائل نے اس جہاد میں حضرت امام حسین کی مدد کی اور آخرکار حضرت امام حسین ؓ شہادت کے بعد یزید کے خوفِ انتقام سے ہراساں ہو کر بلوچ قبائل علاقوں کو چھوڑ کر شام کے علاقے حلب کے پہاڑوں میں پناہ گزیں ہوئے اور گزارہ معاش کے لیے شہریوں کو لوٹتے اور غارت کرتے رہے اور بعد ازاں باجبروت گورنر حجاج بن یوسف بلوچوں سے تنگ آ کر اُن پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے اور مجبوراً اُن کو وہاں سے ہجرت کر کے ایران آنا پڑا۔

کئی ملکی اور غیرملکی مورخین کہتے ہیں کہ بلوچ حضرت نوح کے پوتے فارک بن سام بن نوح کی اولاد ہیں جس کا ایک بھائی مکران بن سام بن نوح تھا اور دوسرا بھائی کرمان بن سام بن نوح تھا۔ جب کابل میں زبانیں بٹ گئیں تو دونوں کرمان اور مکران میں آباد ہوگئے۔ تو کوئی کہتا کہ سفید ہنوں کے حملوں کے نتیجے میں بلوچوں نے بحیرہ خزر کے ساحلوں سے ہجرت کی اور پھر مکران، کرمان اور بولان میں قیام پذیر ہونے لگے۔ کوئی بلوچوں کو ہندوستانی نسل راجپوت لکھتا ہے کیونکہ راجپوتوں کا ایک قبیلہ “بل اوچھا” ہے، صرف لفظ کی مماثلت سے اس مضحکہ خیز اور بے بنیاد نظریے کو قائم کیا گیا ہے۔ کوئی ایرانی نسل کا خانہ بدوش گردانتا ہے۔ کوئی عرب تو کوئی آریائی نسل سے تعلق بتاتا ہے۔

فاروق بلوچ کے نقطہِ نظر کے مطابق بلوچ قبائل کی اکثریت اجدادی ناموں کے بجائے علاقائی، شہریتی، پیشہ یا کسی واقعہ سے منسوب ملتے ہیں اور ان ناموں سے اس نظریہ کو زیادہ تقویت ملتی ہے کہ بلوچ کسی فرد کی اولاد نہیں بلکہ کئی گروہوں کا مجموعہ ہے۔ جیسا کہ لاشار سے لاشاری، بگٹ کا رہنے والا بگٹی، کرمان کا رہنے والا کرمانی، مکران کا رہنے والا مکرانی، مگس کا رہنے والا مگسی، قیصر کا رہنے والا قیصرانی، سرباز کا رہنے والا سربازی کہلاتا ہے۔

بلوچ مورخین اپنے آباواجداد کو مہاجر، لٹیرا، ستم گر لکھتے ہیں جو تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے۔ ٹھوس شواہد اور سنجیدہ دلائل سے عاری نظریات اور خیالات نے بلوچستان کی تاریخ پڑھنے والوں کو شش و پنج میں ڈال دیا ہے۔ اس کے منفی اثرات میرے جیسے کم پڑھے لکھے نوجوانوں پر پڑ رہے ہیں۔ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ کالج میں ہمارے محترم استاد جب تاریخِ بلوچ بیان کر رہے تھے تو میرا سر شرم سے جھک گیا تھا۔ میں ہکابکا اور ششدر رہ گیا تھا کہ ہمارے آباواجداد کیسے ڈاکو، جنگلی، لٹیرا، ظالم، سفاک، وحشی، غیرمہذب ہو سکتے ہیں؟ جب کلاس ختم ہوئی، سب کلاس فیلوز نمرود کی اولاد کہہ کر ایک دوسرے کا مذاق اُڑا رہے تھے جو نسلی اصلیت کو ستیاناس کرنے کے برابر ہے۔

ہمارے بلوچ مورخین بغیر کسی تحقیق کے غیر ملکی مورخین کی تقلید کر رہے ہیں۔ ہمارے اساتذہ کرام آنکھ بند کر کے بلوچ مورخین کی تقلید کر رہے ہیں اور تتیجتاً ہم جیسے ناواقف اسٹوڈنس ٹیچروں کی تقلید کر کے بلاشبہ ان پہ یقین کر رہے ہیں اور سر فخر سے بلند کر کے اپنے آپ کو نمرود کی اولاد کہلواتے ہیں جو انتہائی شرمناک، تشویشناک اور ناگفتہ بہ صورتحال ہے۔

ہمارے تمام بلوچ محقق، دانشوروں اور مورخین کو مل جل کر بلوچستان کی تاریخ کا حقیقی اور لاریب نقشہ کھینچنا چاہیے۔ ٹھوس دلائل اور حقائق کی مد میں سب کو یکجا طور پر ایک مشترکہ کتاب لکھنا چاہیے جو حقیقت پر مبنی بلوچوں کی نسلی، سیاسی اور تاریخی عکاسی کرے، جسے پڑھنے کے بعد قاری خیالات اور نظریات کو من وعن تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے اور مشتبہ سوالات کی بوچھاڑ لگانے کی نوبت نہ آئے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *