• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔11,آخری قسط/پروفیسر حکیم سید صابر علی

استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔11,آخری قسط/پروفیسر حکیم سید صابر علی

روضہ ء حضرت ابو ایوب انصاری پر حاضری
جب سے محترم حافظ محمد ادریس صاحب کی حضرت ابو ایوب انصاری کے روضہ پر حاضری،اُن کے ترکی کے سفر نامہ،کا مطالعہ کیا تھا،اُسی روز سے یہ خواہش مچل رہی تھی کہ اس عظیم صحابی رسولﷺ کے قدموں میں حاضری کا موقع ملے،آج اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے یہ موقع فراہم کردیا۔
آپ کے روضہ تک سفر کے دوران بلند و بالا پتھر وں کی فصیلیں نظر آئیں،جو کہ انسانی ہاتھوں کی تعمیر اور تُرک قوم کی عظمتِ رفتہ کی یاد دلاتی ہیں۔

استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔قسط10/پروفیسر حکیم سید صابر علی
یوں ہی روضہ کے قریب پہنچے تو خیالات اور تصور میں وہ منظر گھول گیا،جب   اشرف الانبیاء محبوب کبریا،فخرِ موجودات،مقصودِ کائنات حضرت محمد ﷺ اپنے یارِ غار حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ میں داخل ہورہے تھے،مدینہ کی فضا معصوم بچیوں کی صدا،طلع البدر علینا کا محبت بھرا نغمہ الاپ رہی تھیں،ہر انصاری کی خواہش تھی کہ اللہ کے پیارے نبیﷺ میرے گھر مہمان بن کر قیام فرمائیں،اللہ تعالیٰ کے پیارے رسولﷺ نے فرمایا،جہاں میری اونٹنی رُکے گی،اُسی گھر میں میرا قیام ہوگا،اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ اونٹنی جس ہستی کے گھر کے سامنے رُکی،وہ عاشقِ رسولﷺ،حضرت ابو ایوب انصاری تھے۔۔۔یہ سعادت اللہ تعالیٰ نے اُن کے مقدر میں لکھ دی تھی،پھر وہ منظر آنکھوں کے سامنے گھوم گیا،جب اِن عاشقِ رسولﷺ اور شمعِ رسالت کے پروانے نے اپنی زندگی نبی ﷺ کی رضا کے مطابق بسر کی،قیامت تک یہ سعادت اُن کے مقدر میں لکھ دی گئی کہ وہ میزبان رسولِ عربیﷺ کہلائے۔

آپ مختلف غزوات میں شریک رہے،مگر شہادت کی تڑپ موجزن رہی،طویل عمر،کمزوری اور پلکوں کے ڈھلک جانے کے باوجود شوقِ شہادت جوں کا توں رہا۔اور یہی جذبہ صادق اُنہیں مدینہ سے اٹھا کر ترکی تک لے آیا،عمر کے اس حصے میں شہادت نصیب نہ ہوئی،لیکن یہ عاشقِ رسولﷺ ترکی میں خالقِ حقیقی سے جاملے۔اور آج اُن کی آخری آرامگاہ مرجع خلائق ہے۔
آپ کا روضہ قدرے بلندی پر ہے۔زائرین کی سہولت اور رش سے بچنے کے لیے حکومت نے بائیں طرف کے دروازے سے داخل ہوکر،آپ کے مزار کے سامنے،جہاں پہرے دار کھڑے ہیں،دعاکرنے کے بعد دائیں طرف سے باہر نکلنے کا راستہ بنا دیا ہے۔انتہائی ادب و احترام اور آبدیدہ آنکھوں سے حاضری دی،چند منٹ میں سیڑھیوں ہوکر امتِ مسلمہ کا حالِ دل اور اس مت میں حیاتِ نوء اور اللہ تعالیٰ سے نشاطِ ثانیہ کی دعا کی۔

باہر نکلے تو نمازِ ظہر کا وقت تھا،روضہ کے باہر شاندار فوارے چل رہے تھے،ہزاروں کی تعداد میں خوبصورت کبوتر مدینۃ النبی کی یاد دلاتے ہیں۔خوبصورت وسیع مسجد میں نمازِ ظہر ادا کی،دعا کا ترکی اسلوب دل کو بھایا،دوپہر کے لیے کسی ریسٹورنٹ کا رُخ کرنے سے پہلے کچھ وقت کی مہلت تھی،رش کم ہوچکا تھا۔چپکے سے دوسری مرتبہ اندر داخل ہور،پھر دعا کی اور حسرت بھری نگاہوں سے اس عاشقِ رسولﷺ کی آخری آرامگاہ کو دیکھا،شایدزندگی میں دوبارہ حاضری کا موقع ملے۔۔۔
قریبی ہوٹل سے کھانا کھایا،قرب و جوار میں درجنوں دیگر اولیاء کے مزار دیکھے۔

اس علاقہ میں قبرستان،ہر قبر پر پتھر کا کتبہ،درجنوں گنبد جس پر سبز رنگ ہے،اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا بھر میں گنبدوں کا سلسلہ شاید ترکوں کی روایات کا حصہ ہے۔
حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار سے واپسی پر ایک وسیع کاروباری مرکز گئے،اس مرکز کی تعمیر انتہائی خوبصورت اور شاپنگ مال میں مختلف ورائٹی کا کروڑوں کا مال تھا،جو مختلف ممالک کے سیاح یادگار کے طور پر خرید رہے تھے۔

چھ بجے شام کے قریب اپنے ہوٹل واپس پہنچے۔ہانڈی ہوٹل سے کھانا کھایا،مالک کا رویہ انتہائی عمدہ اور فراغ دلانہ تھا۔
آج ترکی میں آخری رات تھی،پانچ روزہ قیام میں جس انداز سے ہمارے گروپ کو عمدہ ہوٹل،کھانوں اور سیاحت سے نوازا گیا،خیال پیدا ہوا کہ عمرہ پیکج تو محض چونگا ہے،ٹرکش ائیر لائن کی آفر ترکی کی سیاحت کا تحفہ ہے۔

استنبول کے گردو نواح اور چند تاریخی مقامات کو دیکھ کر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ترکی دیکھا۔۔۔ترکی کی وسیع و عریض اور خوبصورت علاقوں،تاریخی مقامات،برفانی علاقوں، اور اسلامی مشاہیر کے مقامات کو دیکھنا چاہیں تو چند دن  کم ہیں۔لہذا میں اس سفر کو مختصر عنوان دے رہا ہوں
استنبول تجھے بھلا نہ سکوں گا!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *