جراثیم کی چوری ۔ ٹرانسفورمیشن ۔ جین (6) ۔۔۔وہاراامباکر

فلو کی بدترین وبا 1918 میں پھیلی۔ دنیا بھر میں اس نے کروڑوں جانیں نگل لیں۔ اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کو ایک سیکنڈری بیماری نمونیا کی لگتی تھی۔ یہ اس قدر مہلک تھی کہ برطانوی وزارتِ صحت نے سائنسدانوں کی ٹیموں کو اس بیکٹیریا کی سٹڈی اور اس کے خلاف ویکسین ڈویلپ کرنے کا کام سونپا۔ ان ٹیموں میں ایک بیکٹیریالوجوسٹ فریڈرک گرفتھ نے اس بیکٹیریا نمکوکوکس (سٹریپٹوکوکس نمونائے) پر کام کر رہے تھے۔

گرفتھ نے اس سوال پر کام شروع کیا کہ “نموکوکس جانوروں کے لئے اس قدر مہلک کیوں ہے؟”۔ انہوں نے دریافت کیا کہ بیکٹیریا دو الگ اقسام رکھتا ہے۔ ایک کی سطح سموتھ ہے۔ اپنے اس پھسلنے بیرونی کوٹ کی وجہ سے یہ دفاعی نظام میں سے چالاکی سے پھسل کر نکل جاتا ہے۔ دوسری قسم کے بیکٹیریا کے پاس شوگر کا یہ کوٹ نہیں۔ اپنی کھردری سطح کی وجہ سے یہ دفاعی نظام کے قابو میں  آ جاتا ہے۔ ایک چوہا جس کو سموتھ کوٹ والا بیکٹیریا دیا گیا، یہ نمونیا کی وجہ سے جلد ہی فوت ہو گیا۔ کھردری سطح والا بیکٹیریا چوہے کو دیا گیا تو چوہے کے دفاعی نظام کے ہاتھوں مارا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :جین کا ظلم ۔ جین (5)۔۔۔وہاراامباکر

گرفتھ نے انجانے میں ایک تجربہ کیا جس نے مالیکیولر بائیولوجی میں انقلاب برپا کر دیا۔ پہلے سموتھ بیکٹیریا کو گرم کر کے مارا اور مردہ بیکٹیریا کو چوہے کے جسم میں داخل کر دیا۔ حسبِ توقع، چوہے پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ مردہ بیکٹیریا انفیکشن پیدا نہیں کر سکتے۔ لیکن جب اس مردہ میٹیریل کو کھردری سطح والے بیکٹیریا کے ساتھ مکس کر کے چوہوں میں داخل کیا تو چوہے فوت ہو گئے! گرفتھ نے چوہوں کا پوسٹ مارٹم کیا اور دیکھا کہ کھردری سطح والے بیکٹیریا بدل گئے تھے۔ انہوں نے سموتھ کوٹ حاصل کر لیا تھا۔ اور یہ مردہ بیکٹیریا کے ملبے سے حاصل کیا تھا۔ بے ضرر بیکٹیریا اس کو حاصل کر کے ضرررساں ہو گیا تھا!! ۔
900px-Griffith_experiment.svg
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے؟ ایک مردہ بیکٹیریا جو صرف مائیکروبیل کیمیکل سوپ ہے، اس نے اپنا جینیاتی مواد زندہ بیکٹیریا کو دے دیا؟یہ جینیاتی تبدیلی تھی۔ وہ جین جو سموتھ کوٹ پیدا کرتی تھی وہ بیکٹیریا سے نکل کر اس کیمیائی شورے میں چلی گئی تھی۔ زندہ بیکٹیریا نے اس کو حاصل کر لیا تھا اور اپنے جینوم کا حصہ بنا لیا تھا۔ ایک جاندار سے دوسرے میں جینیاتی مواد کا تبادلہ تھا۔ جینیاتی پیغامات سرگوشی نہیں۔ کوئی پین جین یا گیمول نہیں۔ وراثتی پیغامات کسی مالیکیول کے ذریعے ٹرانسفر ہوتے ہیں اور یہ مالیکیول خلیے سے باہر بھی موجود ہو سکتا ہے۔ ایک خلیے سے دوسرے میں جا سکتا ہے۔ ایک جاندار سے دوسرے میں۔ والدین سے بچے میں۔ کسی جاندار نے کیسے بننا ہے؟ کیا خاصیت رکھی ہے؟ یہ پیغامات کیمیائی صورت میں ہیں۔ یہ اس تجربے سے صاف ظاہر تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر گرفتھ نے اپنے نتائج شائع کئے ہوتے تو یہ بائیولوجی میں تہلکہ مچا دیتا۔ سائنسدان ابھی جاندار اشیاء کو کیمیائی نگاہ سے دیکھنا شروع ہوئے تھے۔ بائیولوجی کیمسٹری بن رہی تھی۔ خلیہ کیمیکلز کا ایک ڈبہ ہے، مرکبات جو ایک جھلی کے بیچ میں موجود ہیں اور ان سے وہ فنامینا برآمد ہوتا ہے جس کو زندگی کہتے ہیں۔ بائیوکیمسٹ نے 1920 کی دہائی میں یہ بتانا شروع کیا تھا۔ جین کے مالیکیول سے وراثت کی منتقلی نے زندگی کی کیمیائی تھیوری کا سٹرکچر بدل دینا تھا۔

لیکن گرفتھ شرمیلے سائنسدان تھے۔ طویل عرصے کے انتظار کے بعد جنوری 1928 میں انہوں نے اپنا ڈیٹا “جرنل آف ہائی جین” میں شائع کیا جس سے زیادہ غیرمعروف جریدہ ڈھونڈنا بھی مشکل ہو گا۔ معذرت خواہانہ انداز میں لکھا گیا پیپر جس میں مائیکروبیل بائیولوجی پر اپنی دریافت کا بتایا۔ وراثت کی کیمیائی ہونے کی دریافت کا ذکر صاف الفاظ میں نہیں کیا گیا تھا۔ اس دہائی کا بائیوکیمسٹری کا سب سے اہم بپیپر کا اعلان دھماکے کے بجائے کسی خوش اخلاق شخص کی کھانسی کے طور پر کیا گیا۔ یہ بہت سے دوسرے ٹیکسٹ تلے دب گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیکٹیریا کا اس طریقے سے جینیاتی مواد کا تبادلہ کرنے کا طریقہ ٹرانسفورمیشن کہلاتا ہے۔ بیکٹیریا میں افقی جین ٹرانسفر کی دریافت نے فوری توجہ تو حاصل نہیں کی لیکن آنے والے وقتوں میں بائیولوجی کے لئے بہت اہم دریافت تھی۔ جین کے کیمیائی ہونے اور اس کی تبدیلیوں کی ممکنہ صورتوں پر دریافت دوسری جگہوں پر بھی ہو رہی تھی اور اس بارے میں سب سے مشہور تجربہ ایک جرمن سائنسدان کا تھا، جو مکھیوں کے کمرے میں کام کر رہے تھے۔ ان کا انقلابی خیال، جو انہیں نوبل انعام تک لے گیا)، یہ تھا کہ کیوں نہ مکھیوں کا ایکسرے کر لیا جائے؟

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *