• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسلمان پھرآر ایس ایس اور بی جے پی کے نشانے پر۔۔ابھے کمار

مسلمان پھرآر ایس ایس اور بی جے پی کے نشانے پر۔۔ابھے کمار

بی جے پی اور آر ایس ایس شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ملک گیر تحریک کو بدنام کرنے کے لیے فرقہ وارنہ رنگ دینے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ اس سازش کے تحت مسلمانوں کے خلاف جھوٹ اور نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ سچ کو جھٹلانے اور حقیقت کو دبانے کے لیے سارے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ملک اور اکثریتی ہندو فرقے کا دشمن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ملک کے تئیں اُن کی محبت اور وفاداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے خلاف ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا بے بنیاد الزام عائد کیا جا رہا ہے اور ان کی ذہنیت کو ’’جہادی‘‘ کہہ کر گالی دی جا رہی ہے۔ آر ایس ایس کے ترجمان میگزین کے حالیہ کچھ شمارے ان پروپیگنڈوں اور نفرت انگیز مواد سے بھرے پڑے ہیں۔

آر ایس ایس اور بی جے پی کا ترجمان ہفت روزہ میگزین ’’آرگنائزر‘‘ (انگریزی ) اور’’پنچ جنیہ‘ (ہندی) مسلسل دو شمارے (2 اور 9 فروری) صرف سی اے اے مخالف احتجاج پر محیط تھے۔ جن کا اصل مقصد مسلمانوں کو نشانہ اور پورے ماحول کو کشیدہ بنانا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ دہلی اسمبلی انتخابات بھی تھے، جہاں بی جے پی اپنے حریف سے کافی پیچھے نظر آ رہی ہے۔ کمیونل کارڈ کھیلنا ہی بی جے پی کے لیے امید کی آخری کرن تھی۔ حالانکہ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس طرح کے پروپیگنڈوں نے ان کو کتنا فائدہ پہنچایا، مگر آر ایس ایس اور بی جے پی کے ترجمان میگزین نے فرقہ وارانہ زہر پر مشتمل مواد پیش کر کے صحافتی اصولوں اور قدرو ںکوحد سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

مثال کے طور پر 2 فروری کے شمارے میں ’’آرگنائزر‘‘ کی رپورٹوں اور اداریوں میں شہریت قانون کے خلاف چل رہے احتجاج کو صرف (شدت پسند)مسلمانوں کی طرف منسوب کر کے پیش کیا گیا ہے اور اسے دوسری’’خلافت‘‘ قرار دیا ہے۔ ’’آرگنائزر‘‘ نے سی اے اے تحریک کو بدنام کرنے کے لیے اسے ’’مسلم شدت پسندی‘‘ اور’’ہندوؤں کے خلاف مظالم‘‘ سے جوڑ ا ہے۔ دوسرے الفاظ میں آر ایس ایس کا یہ ترجمان ہندؤوں میں ’’خوف‘‘ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ملک کے اکثریتی فرقے سے یہ کہہ رہا ہے کہ سی اے اے مخالف تحریک کے پیچھے ملک اور ہندو مخالف ایجنڈا کار فرماہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے ترجمان رسالے ہندوؤں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ جھوٹ پھیلا رہے ہیں کہ جس طرح مسلمانوں نے انیسویں صدی کی دوسری دہائی میں خلافت تحریک کے دوران ہندوؤں پر ظلم کیے تھے اورجبراً اُن کا مذہب تبدیل کروا کے مسلمان بنایا تھا، آج مسلم شدت پسند مذکورہ قانون کی مخالفت کے بہانے اپنی اسی منصوبے کو دہرا رہے ہیں۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ خلافت تحریک اور سی اے اے مخالف احتجاج میں کوئی مماثلت نہیں ہے یہ سراسر ایک بے بنیاد پروپیگنڈہ اور غلط بیانی ہے۔ خلافت تحریک جنگ آزادی کے دوران شروع ہوئی تھی، جس میں مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں نے شرکت کی تھی۔ اس تحریک میں گاندھی جی کے ساتھ ساتھ مسلم دانشور اور علماء بھی شامل تھے۔ اس میں کانگریس بھی شریک تھی اور پوری تحریک کا مقصد برطانوی حکومت کی مخالفت تھا۔ نامور مورخ ویپن چندرا کے مطابق ’’خلافت تحریک اور عدم تعاون تحریک (1922-1919) ‘‘ نے قومی تحریک میں ایک نئی لہر پیدا کر دی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب بڑی تعداد میں ہندو اور مسلمان لیڈران ایک پلیٹ فارم پر آئے۔ اس تحریک کی شروعات اس وقت ہوتی ہے جب سال 1919 میں دہلی میں کل ہند خلافت کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ اگر برطانوی سرکار نے اُن کے مطالبات کو نہ مانا تو وہ سرکار کے ساتھ اپنا تعاون بند کر دیں گے۔ خلافت تحریک میں علی برادران، مولانا آزاد، حکیم اجمل خان اور حسرت موہانی جیسے سرکردہ مجاہدینِ آزادی شامل تھے۔ گاندھی جی نے خلافت تحریک میں نمایاں رول ادا کیا تھا اور اس تحریک کے ذریعے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کی تھی۔ ممتاز مورخ سُمت سرکار نے خلافت تحریک کے تین اہم مطالبات درج کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ ترکی کے سلطان یعنی’’خلیفہ ‘‘ کے اختیار میں مسلمانوں کے مقدس مقامات رہنے چاہئیں۔ دوسرا یہ کہ خلیفہ کے پاس وہ تمام علاقے ہونے چاہئیں جس سےکہ وہ دین اسلام کی حفاظت کر سکیں۔ تیسرا یہ کہ جزیرۃ العرب، جیسے سعودی عرب، سیریا، فلسطین اور عراق مسلمانوں کے زیرِ اقتدار رہنے چاہئیں۔

خیال رہے کہ خلافت تحریک ہندوستانی تاریخ میں کافی اہم اور متنازعہ باب رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک گروپ اسے ہندو مسلم اتحاد کی علامت کے طور پر یاد کرتا ہے تو دوسرا گروپ یہ کہتے ہوئے اسے خارج کرتا ہے کہ اس دوران مذہبی شناخت کا استعمال سیاسی فائدے کے لیے کیا گیا۔ خود شرجیل نے اپنی وائرل ہوئی تقریر میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ مذکورہ تحریک کو ’’خلافت‘‘ کا نام دینا مناسب نہیں تھا، کیونکہ سُنی مسلمانوں میں جب یہ عقیدہ ہے کہ چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ کے بعد خلافت کا سلسلہ ختم ہو گیا تو پھر ترکی کے سلطان کو خلیفہ اور ان کی حکومت کو خلافت کیسے کہا جا سکتا ہے۔بات جہاں تک خلافت تحریک کے دوران ہندوؤں کے خلاف حملوں کی ہے اور زبردستی ان کا مذہب تبدیل کرانے کی ہے تو یہ معاملہ بھی کافی متنازع ہے۔ مگر آر ایس ایس اور بی جے پی کو ان پیچیدگیوں سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کا اصل مقصد تو ہندوؤں کو اس بات سے ڈرانا ہے کہ خلافت تحریک کے دوران مسلمان اسلام کے لیے متحد ہوئے تھے جو کہ حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والی سازش ہے۔

تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے آرگنائزر کے مدیر پرپھُل کیتکر (2فروری) ’’نہ جمہوری اور نہ پُر امن‘‘ کے عنوان سے ایک اداریہ لکھتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خلافت تحریک کے بعد کیرلا کے موپلا مسلمانوں نے ہندوؤں کو مارا پیٹا اور طرح طرح کے ظلم کیے اور ایک لاکھ ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنایا۔ آرگنائزر کے مدیر ہندوؤں پر ہوئے حملے کو جس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اس طرح کی بات تاریخ کی مستند کتابوں میں کہیں بھی نہیں ملتی۔ مورخ سمت سرکار کے مطابق خلافت تحریک اور عدم تعاون تحریک کے بعد ہندوستان میں فرقہ پرستی کے خطرے سامنے آنے لگے تھے اور ہندو مسلم فسادات ہر طرف رونما ہونے لگے تھے۔ البتہ یہ حملے صرف ہندوؤں کے خلاف نہیں تھے بلکہ بہت سارے علاقوں میں مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ مثال کے طور پر سرحدی ریاستوں میں ہندوؤں پر حملے ہوئے۔ یہ فسادات کلکتہ، ڈھاکہ، پٹنہ اورر اولپنڈی میں بھڑکے تھے۔ مگر ان فسادات کے پیچھے اصل وجہ مسلمان اور ان کا مذہب نہیں تھا جیسا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ہمیں بتلاتی رہتی ہے، تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا مقصد انتخابات میں فائدہ حاصل کرنا اور زمینی سطح پر سماجی اور اقتصادی امور کو سیاسی مفاد کے لیے فرقہ وارانہ وارانہ رنگ دے کر اصل مسئلے سے عوام کے ذہن کو بھٹکانا ہے۔ اس دوران ہندو فرقہ پر ستی بھی پروان چڑھ کر سامنے آتی ہے۔ مسلمانوں پر لگے الزام کے علی الرغم آریہ سماج مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے میں ملوث پایا گیا۔ چنانچہ ’’شُدّھی‘‘ تحریک کے تحت اتر پردیش اور ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں پر ہندو بننے کے لیے دباؤ ڈالا جانے لگا۔ ہندو مہاسبھا ماحول کو بگاڑنے میں آگے تھی۔ آر ایس ایس کا چہرہ بھی سامنے آ چکا تھا۔ خود کانگریس کے بڑے بڑے لیڈران ’کمیونل کارڈ‘ کھیلنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ ’ گئو رکشا‘ کے نام پر شدت پسندی کو فروغ دیا گیا۔ ان حالات کو سامنے رکھ کر موجودہ دور کی فرقہ پرستی کو سمجھنے کے لیے وسیع تناظر میں ان تمام چیزوں کو دیکھنا ہوگا۔ مگر آر ایس ایس اور بی جے پی کا مقصد سچائیوں کو چھپا کر بے بنیاد اور جھوٹے حوالوں کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ سی اے اے مخالف تحریک کو دوسری “خلافت ” کا نام دے کر آرگنائزر میگزین کے 2 فروری والے شمارے میں “خلافت-2” کے عنوان سے پرشانت ویدیہ راجا لکھتے ہیں کہ گزشتہ دنوں میں کیرالا کے ایک مسلمان نے ہندو دلتوں کو پانی سپلائی کرنے سے اس لیے انکار کر دیا کیونکہ وہ ( ہندو) مسلمانوں کے بر عکس سی اے اے کی حمایت کر رہے تھے۔ “مالاپورم کے ہندوؤں کو پانی کی سپلائی مسلمانوں نے بند کر دی۔ مالاپورم مسلم اکثریت والا ضلع ہے جہاں 72 فی صد آبادی اسلام کو اپنا دین مانتی ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں 1921 میں دنگے پیش آئے تھے۔ یہاں کے مسلمان اس وقت خلافت کی حمایت کرتے تھے، جنہوں نے دس ہزار سے زیادہ ہندوؤں کو ہلاک کر ڈالا۔ تقریباً ایک صدی بعد مالا پورم کے مسلمان اسی خلافت کے دور میں لوٹ رہے ہیں اور اپنے جنوں کا اظہار ہندوؤں کو نشانہ بنا کر کر رہے ہیں۔ اسی جنوں کے تحت 22 جنوری کے روز یہ دیکھنے کو ملا کہ پانی کی سپلائی اقلیت ہندوؤں کی کالونی میں روک دی گئی۔ مالا پورم کے کوٹی پورم کے (ہندو) باشندوں کو مسلمانوں کے ظلم کا شکار ہونا پڑا۔ جب سی اے اے کے خلاف مظاہرہ تیز ہو گیا اور ہندوؤں نے اس قانون کی مخالفت میں جانے سے انکار کر دیا تو ان کے لیے پانی کی سپلائی منقطع کر دی گئی”۔

یہ خبر کتنی سچی ہے؟ انگریزی کے مشہور اخبار “ہندو” (24 جنوری) کی رپورٹ سی اے اے حمایت کی وجہ سے ہندوؤں کو پانی سپلائی نہ کرنے کی بات کو خارج کرتی ہے۔ ’’ہندو‘‘ اخبار نے مقامی حکام کے حوالے سے کہا کہ پانی کی سپلائی روکے جانے کا کوئی تعلق سی اے اے احتجاج سے نہیں تھا بلکہ سپلائی تکنیکی وجہ سے روکی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر فرقہ ورانہ سیاست بھگوا طاقتوں نے کھیلنی شروع کی۔ سنگھ پریوار نے اس مسئلے کو سی اے اے سے جوڑ دیا پھر بی جے پی نے یہ الزام لگایا کہ دلت ہندوؤں کو مسلمانوں نے پانی سپلائی کرنا بند کر دیا ہے کیوں کہ انہوں نے بی جے پی کی سی اے اے حمایتی جلسے میں شرکت کی تھی۔تب ماحول اور بھی فرقہ وارانہ ہو گیا جب بی جے پی کے ایک ممبر پارلیمنٹ نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ مالا پورم پاکستان بننے کی راہ پر گامزن ہے!

ایک اور بات غور کرنے کی ہے کہ ملک میں مسلمان مختلف حصوں میں رہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اُن کے اختلافات اُن کے پڑوسیوں سے بعض باتوں کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔ بعض مواقع پر اُن سے غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ مگر آر ایس ایس اور بی جے پی جیسی فرقہ پرست طاقتیں اس بات کی تاک میں رہتی ہیں کہ کسی بھی ہندو اور مسلمان کے ذاتی اور مقامی مسئلے کو ملک گیر اور ہندو بنام مسلم بنا کر پیش کیا جائے تاکہ وہ اس پر سیاسی روٹیاں سینک سکے۔ یہ ایک بنیادی فرق ہے جس کی وجہ سے ہندو اور مسلمان کے ذاتی مسئلے کو ہم فرقہ پرستی نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس کا دائرہ کافی محدود ہے اور یہ چند لوگوں کو ہی متاثر کرتی ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی اس فرق کو مٹا دینے کی کوشش کرتی رہی ہے اور دو لوگوں کے باہمی مسئلے کو دو فرقوں کے مسئلے کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرقہ ورانہ سیاست کی شروعات مورخین دو صدی پرانا مسئلہ بتلاتے ہیں کیونکہ 19 ویں صدی کے بعد سے ہندو مسلم جھگڑے کو مقامی سطح تک ہی محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے قومی سیاست کا حصہ بنا دیا گیا۔ کچھ ایسی ہی تخریب کاری آر ایس ایس بی جے پی کیرالا میں بھی کرتی نظر آ رہی ہیں۔

یہی نہیں آرگنائزر کی رپورٹوں میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ سی اے اے مخالف احتجاج میں مسلمان ’’جناح کی حمایت‘‘ میں اور ’’کافروں کی مخالفت‘‘ میں نعرے لگا رہے ہیں۔ یہ دعویٰ بھی کمزور نظر آتا ہے۔ الزام لگایا گیا ہے کہ 10 جنوری کو شاہین باغ میں گاندھی، نہرو، بھگت سنگھ، اشفاق اور جناح حمایتی نعرے لگے۔ ذرا سوچیے کہ کیا کسی بھی انسان کے لیے یہ آسان ہے کہ وہ گاندھی، نہرو کی حمایت میں بھی نعرے لگائے اور اسی سانس میں ’’جناح زندہ باد‘‘ بھی بولے؟

یہ بات پہلے بھی دہرائی جا چکی ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں اس بات میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتیں کہ آخر مظاہرین چاہتے کیا ہیں۔ وہ یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ملک کی بہت بڑی آبادی، بالخصوص خواتین، مہینوں بھر سے سڑکوں پر بیٹھی ہوئی ہیں؟ آخر کیوں پولیس کی لاٹھی اور گولی اُن کے جذبے کو ختم نہیں کر پا رہی ہیں؟ آخر کیوں شاہین باغ سے نکلی چنگاری پورے ملک میں پھیل گئی ہے اور سی اے اے جیسے کالے قانون سے لڑنے کا حوصلہ دیتی ہے؟

یہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی ہٹ دھرمی نہیں ہے تو اور کیا ہے کہ اس نے مظاہرین کی باتوں کو سننے اور اس پر غور نہ کرنے کی قسم کھار کھی ہے؟ وہ زمینی حقیقت کو کب تلک جھٹلائے گی؟ سرکار کے خلاف عوام کا غصہ بڑھ رہا ہے اور سی اے اے کے خلاف نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو اور دیگر مذہبی فرقے بھی ناراض ہیں۔ دلتوں میں بھی اس قانون کی وجہ سے ناراضگی پائی جاتی ہے کیونکہ جس کے پاس زمین اور مکان نہیں ہیں وہ کاغذات کہاں سے لائیں گے اور اپنی شہریت کیسے ثابت کر پائیں گے؟ ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ شہریت ثابت کرنے اور حاصل کرنے کا تعلق جائیداد سے ہے۔ جو محکوم اور غریب ہیں انہیں شہریت ثابت کرنا بڑا مشکل امر ہے۔

آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت ان حقائق سے بخوبی با خبر ہے۔ مگر وہ اسے تسلیم نہیں کرنا چاہتی۔ اس نے اپنی ہندتوا آئیڈیالوجی کے تحت سی اے اے کی بنیاد مذہب کو بنا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوام کے احتجاج کو بدنام کرنے کے لیے اور لوگوں میں سی اے اے مخالف احتجاج کے خلاف ’’خوف‘‘ پیدا کرنے کے لیے وہ یہ افواہیں پھیلا رہی ہے کہ ان مظاہروں کا مقصد آئین بچانا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ’’ملک کو توڑنا‘‘ ہے۔ اسی پروپیگنڈے کے تحت آر ایس ایس اور بی جے پی مسلسل یہ جھوٹ پھیلا رہی ہے کہ ان احتجاج میں ’’اسلام‘‘ اور ’’جناح حمایتی‘‘ نعرے لگ رہے ہیں اور ہندوؤں کو ’’کافر‘‘ کہہ کر گالی دی جارہی ہے!

یہ بات چُھپی ہوئی نہیں ہے کہ سی اے اے کو لا کر بی جے پی حکومت بری طرح سے پھنس چکی ہے۔ اس کی مشکلیں ختم ہونے کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اس کالے قانون کو واپس لے لے۔ مگر اس کے لیے وہ تیار نہیں ہے۔ وہ اب بھی پوری کوشش کر رہی ہے کہ اس قانون پر ہندو اور مسلمان کو تقسیم کر دیا جائے اور احتجاجوں کو بدنام کر کے ختم کرا دیا جائے۔ اس کو یہ نظر نہیں آتا کہ پورا آسام سی اے اے کے خلاف سڑکوں پر اُتر آیا ہے۔ جنوبی، شمالی اور مغربی بھارت سی اے اے مخالف تحریک میں شامل ہوگیا ہے۔ دلتوں سمیت لاکھوں عوام جن میں خاص طور پر خواتین شامل ہیں گھروں سے باہر مُکا تانے نکل پڑے ہیں؟ بین الاقوامی سطح پر بھارت کی مذمت ہو رہی ہے؟ خارجہ پالیسی کے ماہرین یہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ یہ قانون بھارت کو بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کر سکتا ہے۔ ماہرین آئین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ قانون ہندوستانی آئین کے بنیادی ستون سیکولرازم کے خلاف ہے۔جن سیاسی جماعتوں نے شہریت ترمیمی بل کو پاس کرنے میں بی جے پی کا ساتھ دیا تھا انہوں نے بعد میں بی جے پی سے خود کو الگ کر لیاہے اور سی اے اے سے متعلق اپنے اعتراضات ظاہر کر دیے ہیں۔ خود بی جے پی کی معاون جماعت جنتا دل (یو) میں اس کی وجہ سے اختلاف پیدا ہو گیا ہے اور پرشانت کشور اور پون ورما جیسے سینئر لیڈروں کو سی اے اے کے خلاف کھل کر بیان دینے کے پر پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ خود شرومنی اکالی دل، جو بی جے پی کی قدیم معاون جماعت ہے، اس نے سی اے اے میں مسلمانوں کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آر ایس ایس اور بی جے پی ان سوالوں سے بھاگ رہی ہے۔ اُسے اس بات کا خوف ہے کہ وہ مذکورہ قانون کا جواز پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گی کیونکہ یہ قانون مذہب کی بنیاد پر شہریت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی غلطی سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے وہ مسلسل کمیونل کارڈ اور طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ آر ایس ایس کی اسی سازش کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اُن کی تحریک کو بد نام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اُن کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ اُن کو ملک اور ہندوؤں کے لیے خطرہ بتلا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لاٹھی اور گولی سے ان پر حملے کیے جا رہے ہیں اور پروپگنڈے کا سہارا لے کر ان کی شبیہ خراب کی جا رہی ہے۔

اسی حکمت عملی کے تحت یہ کہا جا رہا ہے کہ سی اے اے مخالف مظاہروں میں ’’جناح حمایتی‘‘ اور ’’ کافر مخالف‘‘ نعرے لگائے گئے ہیں۔ مگر یہ کیسے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا کہ ایسے نعرے اگر لگے بھی ہو تو اسے مسلمانوں نے ہی لگایا ہے؟آخر جناح حمایتی يا پاکستان حمایتی یا ہندو مخالف نعروں سے کس کو سیاسی فائدہ ملتا ہے؟ جناح حمایتی یا پاکستان حمایتی نعروں سے مسلمانوں کو فائدہ ملتا ہے یا پھر اُن کی سیاسی دکان چمکنے لگ جاتی ہے جن کا دن رات یہی دھندا ہے کہ وہ ملک کے اقلیتوں کو دیش کا ’’غدار‘‘ اور پاکستان کا ’’ایجنٹ‘‘ ثابت کریں! کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ نعرے اگر وہ لگے ہوں تو اس کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہو جن کی پوری سیاست مسلمانوں کے خلاف ہے؟

اب آپ گنجا کپور کا حالیہ واقعہ دیکھ لیجیے۔ وہ ایک صحافی ہیں اور یو ٹیوب پر حالات حاضرہ پر پروگرام بنا کر ڈالتی ہیں۔ اُن کے چینل کے سبسکرائبر میں خود وزیر اعظم نریندر مودی شامل ہیں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ گنجا کپور بھگوا سیاست سے کس قدر قریب ہیں۔ اُن کے پروگرام اکثر آر ایس ایس اور بی جے پی کے موقف کی ترجمانی کرتے ہیں۔ وہ اس وقت بڑی خبر بنیں جب اُنہیں پولیس نے 5 فروری کے روز دہلی کے شاہین باغ سے پکڑا اور ہجوم سے باہر نکالا۔ محترمہ برقع پہن کر شاہین باغ جاپہنچی تھیں اور مظاہرین خواتین کے مابین بیٹھ کے خفیہ طریقے سے پورے واقعے کا ویڈیو بنا رہی تھیں۔ مگر لوگوں کو ان پر شک ہو گیا اور ان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا، مگر پولیس بیچ میں آ کر وہاں سے انہیں باہر نکال لے گئی۔اگر گنجا کپور بحیثیت صحافی شاہین باغ کی رپورٹنگ کرنا چاہتی تھیں تو اُن کو کوئی نہیں روک رہا تھا۔ اُن کو کوئی اس بات کے لیے بھی نہیں روک سکتا تھا اگر وہ اس معاملے کو بی جے پی کے نقطہ نظر سے پیش کرتیں۔ مگر سب سے قابل اعتراض بات مظاہرین کے نزدیک یہ تھی کہ وہ برقع پہن کر اپنی تشخص کو چھُپا کر وہاں پہنچیں۔ اگر وہ پکڑی نہ جاتی اور خود ہی اسلام/پاکستان/جناح حمایتی اور ملک اور ہندو مخالف نعرے لگاتیں تو اگلے دن یہ اخبارات کی سب سے سرخی بنتی اور ویڈیو وائرل ہوتا کہ برقع پہنی ہوئی مسلم خواتین نے شاہین باغ میں اسلامی شدت پسندی کا مظاہرہ کیا!

’’آرگنائزر‘‘ نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ سی اے اے مخالف احتجاج کا کوئی تعلق آئین اور برابری سے نہیں ہے۔ اس کا اصل مقصد اسلامی تشخص کو اُبھارنا اور اسے مضبوط کرنا ہے۔ خود پولیس کی زیادتی کو فراموش کر دیا گیا ہے اور الٹا مظاہرین پر یہ الزام تھوپا جا رہا ہے کہ وہ تشدد کی راہ پر چل رہے ہیں جو قومی مالیات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ’’آرگنائزر‘‘ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کے اوپر اُلٹا پولیس کے خلاف تشدد کرنے کا الزام لگایاہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پولیس نے جامعہ میں زیادتی اور بربریت کی ساری حدیں پار کر دی تھیں۔ مسلمانوں کو ’’شدت پسند‘‘ اور ’’جہادی‘‘ کہا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی حریف پارٹیوں (جیسے ممتا بنرجی کی ترینمول کانگریس، لیفٹ اور آل انڈیا کانگریس آئی ) کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان پر اور بھی ملک مخالف کارروائیاں کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس سی اے اے/این آرسی/این پی آر سے سب سے زیادہ خطرہ غریب دلتوں کو ہے اُنہی کے نام پر سی اے اے کو درست قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس سے دلت پناہ گزینوں کو شہریت ملےگی۔ اس سے پہلے کے شمارے میں ’’آرگنائزر‘‘ اس طرح کے مضامین شائع کر چکا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امبیڈکر اگر آج زندہ ہوتے تو سی اے اے کو دیکھ کر سب سے زیادہ خوش ہوتے۔

’’آرگنائزر‘‘ کے ایک اور مضمون ’’ڈھال کی طرح خواتین کا استعمال‘‘ (2 فروری) میں خواتین مظاہرین پر قابل اعتراض تبصرے کیے گئے ہیں اور اس میں اُن کی شبیہ مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ مصنفہ خود ایک خاتون ہیں اور خود کو خواتین کے حقوق کا پیروکار بھی بتلاتی ہیں، مگر ان کو یہ کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوئی کہ خواتین مظاہرین غلط فہمی کا شکار ہیں اور اُن کا ’’استعمال‘‘ کانگریس اورلیفٹ پارٹیاںکر رہی ہیں۔ اُن کی تحریر کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک خواتین مظاہرین ’’نادان‘‘ ہیں اور ان کو بی جے پی کی حریف سیاسی جماعتیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر رہی ہیں۔ یہی نہیں وہ یہ بھی بے بنیاد الزام لگاتی ہیں کہ ان مظاہروں میں دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی حمایتی نعرے بھی لگ رہے ہیں! مصنفہ اتنا زہر اُگل کر ہی خاموش نہیں رہیں بلکہ انہوں نے بعض مسلم خواتین صحافیوں پر بھی نازیبا تبصرہ کیا اور کہا کہ وہ خود تو سج دھج کر اپنے بدن کی نمائش کرتی ہیں مگر جب بات تین طلاق کو ختم کرنے کی آتی ہے تو وہ اس کی مخالفت کرتی ہیں!

یہی نہیں وہ بغیر کسی سیاق کے یہ بھی الزام لگاتی ہیں کہ مدرسوں میں استاد طلبہ کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔ ذرا آپ ہی سوچیے سی اے اے کی تائید میں اگر مصنفہ کو مضمون لکھنا ہی تھا تو اُن کو اس کے حق میں مضبوط دلیل پیش کرنا چاہیے تھا مگر ایسا وہ کچھ بھی کرتی نظر نہیں آتیں بلکہ اُن کی پوری کی پوری توانائی مسلمانوں کے خلاف گندے تبصرے کرنے میں ختم جاتی ہے۔جہاں ایک طرف سی اے اے مخالف تحریک کو خلافت کی واپسی کہا جا رہا ہے وہیں ایسے بھی مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں ان کے تار مسلم دنیا سے بھی جوڑے گئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’بہار عرب‘‘ کے طرز پر ہندوستان میں بھی اسلامک عناصر سر گرم ہیں۔ پتھی کریت پاین کا مضمون (2 فروری کے شمارے میں) ’’آرگنائزر‘‘ اور ’’پنچہ جنیہ‘‘ دونوں میں ایک ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ شاہین باغ اور اس طرح کے سی اے اے مخالف احتجاج کے مراکز ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں، جو اسلامی شدت پسند نظریے سے متاثر ہیں جیسا کہ عرب ممالک میں دیکھنے کو ملا تھا۔ ’’بھارت میں ’عرب سپرنگ‘ کے طرز پر پردے کے پیچھے سازش کرنے والے عناصر نریندر مودی سرکار کے خلاف عوامی جذبے کو بھڑکا کر ملک میں بد امنی پھیلانا چاہتے ہیں۔ اس کے تحت شاہین باغ میں اشتعال انگیز بیانات دیے جا رہے ہیں تاکہ سازش کرنے والے عناصر کے لیے ملک میں مسلح بغاوت کا راستہ صاف ہو جائے‘‘ یہی نہیں بلکہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کے نام پر ملک بھر میں پھیلی بد امنی اور خلیجی ملکوں میں ہوئے سلسلہ وار احتجاجی مظاہروں میں بہت حد تک مماثلت دیکھی جا رہی ہے‘‘

کیا سیڈشن جیسے سنگین دفعہ کا ہر چھوٹی موٹی باتوں کے لیے بے جا استعمال نہیں کیا گیا ہے؟

چاہیے تو یہ تھا کہ مصنف سخت کارروائی کے بجائے سرکار سے یہ مطالبہ کرتیں کہ وہ مظاہرین سے مکالمہ شروع کرے اور اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے راستہ تلاش کرے۔ مگر افسوس کی بات کہ مصنف آر ایس ایس اور بی جے پی کے ایجنڈے سے متاثر ہو کر سی اے اے جیسی عوامی تحریک کو پہلے مسلمانوں سے جوڑتی ہیں۔ اور پھر مسلمانوں کے تعلقات عرب ممالک سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ صرف ایک ہی مذہب کو ماننے سے عرب اور ہندوستان کے مسلمان ایک نہیں ہو جاتے ہیں اور ان کے درمیان سارے فرق مٹ نہیں جاتے۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا بھر میں اسلام کے ماننے والوں کا ایک ہی ملک ہوتا۔ اپنی فرقہ ورانہ سوچ کی وجہ سے آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستہ مصنفین یہ بات نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جس طرح دنیا کے دیگر مذہبی فرقے زبان، علاقہ، طبقاتی درجہ بندی اور مسلک کے نام پر منقسم ہیں اسی طرح دنیا کے مسلمان بھی آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے کے مقصد سے یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ شاہین باغ میں بٹ رہی بریانی کا خرچ ’’شدت پسند‘‘ اسلامک جماعت پی ایف آئی اُٹھا رہی ہے۔ پنچ جنیہ (2 فروری) میں میں ونے سنگھ کی ایک رپورٹ ’’پی ایف آئی کی ’زکوٰۃ‘ پر ٹکا شاہین باغ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’ای ڈی کی رپورٹ سے ایک سنسنی خیز خلاصہ ہوا ہے۔ مذہبی شدت پسند گروہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) نے سی اے اے کے نام پر فساد بھڑکانے کے لیے صرف چند دنوں کے اندر 120 کروڑ روپیے خرچ کر دیے۔‘‘ اتنا ہی نہیں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ سی اے اے مخالف احتجاج کے لیے اور سارا پیسہ بھی غیر قانونی طور سے پہنچایا جا رہا ہے۔ ’’بہرحال، 120 کروڑ روپیے دنگے میں لگے کل فنڈنگ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، جو بینک سسٹم کے تحت استعمال کیا گیا ہے۔ اصلی مال تو اس سے پانچ گنا زیادہ ہے۔‘‘

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ شاہین باغ کے مظاہروں کو دنگائی کہا جا رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دنگے بھڑکانے والے وہ فرقہ پرست عناصر ہیں جن کو حکومت اور پولیس کی پوری حمایت حاصل ہے۔ کون اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ شاہین باغ کے مظاہرین کو ڈرانے اور وہاں بھگدڑ مچانے کے مقصد سے نوجوانوں کو پستول دے کر بھیجا جا رہا ہے۔ جس دن پورا ملک بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یوم شہادت پر اُنہیں خراج عقیدت پیش کر رہا تھا تب ایک بھگوا دہشت گرد نوجوان مظاہرین کے خلاف گولی چلا کر ماحول کو کشیدہ بنا رہا تھا۔افسوس کی بات ہے کہ بھگوا لِیڈران اور شرپسند عناصر سی اے اے مظاہرین، بالخصوص مسلمانوں پر حملے کرنے کی بات کر رہے ہیں اور آر ایس ایس اور بی جے پی کا ترجمان اخبار دنگے کے لیے اُلٹا شاہین باغ کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔ کیا میڈیا میں یہ بات سامنے نہیں آئی کہ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے دہلی اسمبلی انتخابات کی ریلی میں سر عام ملک کے ’’غداروں‘‘ کو گولی مارنے کا نعرہ دیا تھا؟ اگر حقیقت میں کسی کے خلاف امن بگاڑنے کے لیے تادیبی کارروائی ہونی چاہیے تو وہ انوراگ ٹھاکر کے خلاف ہونی چاہیے کیونکہ اُن کی اشتعال انگیزی کے فوراً ہی بعد ایک بھگوا دہشت گرد پستول لے کر شاہین باغ کی طرف دوڑ چلا۔

یہ کہنا کہ پی ایف آئی شاہین باغ میں بریانی سپلائی کررہی ہے سیاسی بیان ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ای ڈی کی رپورٹ دہلی انتخابات سے تین روز قبل میڈیا میں لیک کی جاتی ہے۔ آخر یہ رپورٹ انتخابات کے بعد بھی تو سامنے آ سکتی تھی؟ ایک اور مزیدار بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی آئی ایف کے تعلقات کانگریس اور عام آدمی پارٹی سے ہیں۔ دہلی انتخابات میں بی جے پی کی حریف جماعتوں کو بھی پی ایف آئی سے جوڑ نے کے پیچھے یہ مقصد نہیں ہو سکتا کہ سرکار مسلم ’’غدار وطن‘‘ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو آپس میں اتحادی دکھلانا چاہتی تھی تاکہ اس کا فائَدہ بی جے پی کو مل سکے؟

پی ایف آئی سے متعلق خبر شائع کرنے میں ’’پنچ جنیہ‘‘ نے ایک اور بڑی غلطی کی ہے جس سے اس کے جھوٹ کی پول خود بخود کھلتی نظر رہی ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں اس نے خواتین کی ایک تصویر شائع کی ہے جس میں اُن کو کھانا کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کیپشن میں ’’بریانی کی دعوت‘‘ کی لکھا ہوا ہے، جس کا ذکر اُتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی نے بھی دہلی انتخابات کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا، مگر مطبوعہ تصویر میں خواتین کی پلیٹوں میں بریانی کے بجائے پھل نظر آ رہے ہیں! ایسا لگتا ہے کہ افطار کرتی ہوئی خواتین کی فائل فوٹو پنچ جنیہ نے جلد بازی میں لگا دی ہے!

سی اے اے مظاہرے کو مزید بدنام کرنے کے لیے جے این یو کے طلبہ شرجیل امام کو بھی ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ 9 فروری کے شمارے میں پنچ جنیہ اور آرگنائزر دونوں نے اس پر کور اسٹوری بنائی ہے اور یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ’’اسلام کی بالادستی‘‘ بھارت میں قائم کرنا چاہتا تھا۔ ’’شرجیل کے پیچھے کا ڈیزائن‘‘ کے عنوان سے وجے کرانتی نے آرگنائزر میں مضمون لکھا ہے اور یہ الزام لگایا ہے کہ شرجیل کے تعلقات پی ایف آئی سے ہیں۔ آسام میں ’’بلاکیڈ‘‘ کرنے کے اس کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے اور اسے ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ ’’شرجیل کی کوشش کہ آسام کو بھارت سے الگ کر دیا جائے اتنا ہی سنجیدہ معاملہ ہے جتنا ماؤ نواز باغیوں کی تحریک ہے۔ لہٰذا پالیسی ساز لوگوں اور سکیورٹی کے ماہرین کو شرجیل معاملے کو اسی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘‘ ایک طالب علم کی دلیل کو ملک کی سالمیت کے لیے اس قدر خطرہ بتایا جانا کہیں اس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے تو نہیں ہے؟

جو بات شرجیل امام نے کی تھی وہ سیڈیشن کیس کے دائرے میں ہرگز نہیں آتی۔ اگر وہ مسلمان نہیں ہوتا تو کیا اس کو اس قدر پریشان ہونا پڑتا؟ مثال کے طور پر وجے کرانتی کی مذکورہ رپورٹ میں اس بات کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے کہ شرجیل کو اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ مگر اس کی تصویر کے نیچے دیے گئے کیپشن میں یہ لکھا جاتا کہ اُسے مسجد سے گرفتار کیا گیا ہے! کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ایک خاص مقصد کے تحت اس کی گرفتاری کا مقام مسجد بتلایا گیا ہے تاکہ عوام کے دل کے اندر یہ تاثرات پیدا ہوں کہ مسلمانوں کے مذہبی مقامات تشدد کے اڈے ہوتے ہیں!

’’آرگنائزر‘‘ کے مدیر پرپھل کیتکر نے ایک مخصوص اداریہ (9 فروری) شرجیل امام پر لکھا ہے۔ اس میں بھی شرجیل کے ساتھ انصاف نہیں برتا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ شرجیل کابیان ’’کمیونسٹ اور جہادی ذہنیت‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔ جنہوں نے بھی شرجیل کی تحریروں کو پڑھا ہے اور اس کی تقریروں کو سنا ہے اُن کو اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ شرجیل ہندوستان میں تنوع اور تکثیریت پر مبنی جمہوریت کو پسند کرتا ہےاور وہ مسلمانوں کی بد حالی سے کافی مایوس ہے۔ اس کا مطالعہ کافی وسیع ہے اور وہ چیزوں کو وسیع تاریخی تناظر میں دیکھتا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ جب وہ آسام میں ’’بلاکیڈ‘‘ کرنے کی بات کرتا ہے تو اس کا صرف یہی مقصد ہوتا ہے کہ احتجاج اس قدر اثر دار ہو کہ سرکار مظاہرین کی بات سننے کے لیے آئے۔ اس کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ پوری توانائی کو صرف پبلسٹی پر خرچ کیا جائے اور اس کا نتیجہ کچھ حاصل نہ ہو۔ اسی سیاق میں شرجیل نے کہا تھا کہ اگر پانچ لاکھ لوگ اس کے ساتھ ہوں تو وہ آسام میں ’’بلاکیڈ‘‘ کر سکتا ہے اور سرکار کو اُن کی بات سننے کے لیے مجبور کر سکتا ہے۔جن کو یہ لگتا ہے کہ ’’بلاکیڈ ‘‘کا راستہ غلط ہے تو اُن کو اس بات کا بھی جواب دینا ہوگا کہ جب سرکار پر امن طریقوں سے چل رہے احتجاج کی بات سننے کے بجائے اسے بدنام کرنے کا عہد کر لے تو مظاہرین کے پاس کیا متبادل بچ جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب ’’آرگنائزر‘‘ کے مدیر کیتکر نے نہیں دیا بلکہ خوف کا ماحول پیدا کرتے ہوئے کہا کہ شرجیل کا بیان جناح سے ملتا ہے۔

دوسری غلط فہمی یہ بھی پھیلائی جا رہی ہے کہ شرجیل بھارت کے آئین کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ یہ ہرگز صحیح نہیں ہے۔ شرجیل کا مطالبہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی بد حالی کے لیے صرف بی جے پی ذمّہ دار نہیں ہے جیسا کہ بہت سارے مسلمان سمجھتے ہیں۔ اس نے اپنی تحریروں میں یہ لکھا ہے کہ مسلمانوں کی حالت گزشتہ 70 سالوں سے خراب ہوتی چلی آئی ہے، جس کے لیے کانگریس اور بائیں بازو کی حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ اس لیے شرجیل یہ چا ہتا ہے کہ مسلمان اپنی لڑائی بی جے پی بنام کانگریس تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کی تاریخی پس منظر میں دیکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ شرجیل چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو آئین میں ترمیم کا مطالبہ بھی مسئلہ اٹھانا چاہیے تاکہ جو حقوق اُن کو آزادی سے پہلے ملتے تھے وہ پھر سے ملنے لگیں۔ شرجیل مسلمانوں کے لیے بھی ریزرویشن چاہتا ہے۔ وہ یہ بھی مانتا ہے کہ مسلم نمائندگی اور مسلم اکثریت ریاستوں کو زیادہ سے زیادہ حقوق دیے جانے کے جناح کے مطالبات کو اگر کانگریس نے قبول کرلیا ہوتا تو ملک تقسیم نہیں ہوتا۔ کیا مسلمانوں کے حقوق، آئین میں ترمیم اور تنوّع پر مبنی ملک بنانے کی بات کرنا ملک سے غداری ہے؟

ایک اور بات کہی جا رہی ہے کہ شرجیل اسلامک شدت پسند ہے۔ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے۔ یہ ضرور ہے کہ وہ اپنی اسلامی شناخت کو کسی بھی قیمت پر باقی رکھنا چاہتا ہے اور مسلمانوں کے مسائل کو لے کر اس کے دلوں میں درد ہے۔ مگر کہیں سے بھی وہ تنگ نظر نہیں ہے۔ یہاں اس کے ایک مضمون کا مَیں ذکر کرنا چاہوں گا جس میں وہ اردو کے شاعروں کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آزادی سے قبل اردو شاعر ہندو دیوی دیوتا جیسے کرشن کی تعریف میں شعر لکھا کرتے تھے جو آج کے دور میں لکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ اس لیے کہ ہر چیز کو مذہبی خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ مذہبی شدت پسندی کو دیکھ کر نالاں ہے اور اس کی جگہ وہ رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیروکار ہے۔

(ابھے کمار نے جے این یو میں ریسرچ اسکالر ہیں۔)

Avatar
ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *