شگفتہ شفیق۔۔ اردو ادب کا روشن ستارہ/مہر سخاوت حسین

معروف شاعرہ وادیبہ شگفتہ شفیق پاکستان اور بیرون ملک یعنی لندن،امریکہ، کینیڈا ، بھارت کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کی دنیا میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں ۔۔ ان کی چار کتا بیں اب تک پبلش ہو کر اردو ادب میں دھوم مچا چکی ہیں ۔ جن کے نام ہیں

میرا دل کہتا ہے ۔۔۔۔ 2010
یاد آتی ہے ۔۔۔ ۔۔۔ 2012
جاگتی آنکھو ں کے خواب ۔۔۔ 2013
شگفتہ نا مہ ۔۔۔۔۔ 2019

علمی اور ادبی حلقوں میں ان کی ایک خاص پہچان ہے ۔ وہ نامور شاعرہ ہیں ۔ان کا شمار شعراء کے اس طبقے سے ہوتا ہے جو تہذیب و فن کے امین و علمبردار ہیں۔شگفتہ شفیق کی شاعری کا سب سے اعلی وصف یہ ہے کہ قاری اس کے ساحر سے نہیں نکل سکتا کیونکہ ان کی شاعری دل میں اترتی چلی جاتی ہے اور ہر ایک کو اپنی ہی داستان محسو س ہو تی ہے کیو نکہ سیا حت نے ان کے مشاہدے میں چا ر چا ند لگا دیئے ہیں۔ان کی شاعری میں ہجر و وصال کا موضوع تمام موضوعات پر غالب نظر آتا ہے۔ لیکن اس میں مایو سی کی جگہ امید کی پریاں جھلملاتی ہیں۔

میں تم سے مِل کے بہت ہی اداس رہتی ہوں
سزا مِلی ہے مجھے تم سے دل لگانے کی

شگفتہ شفیق نسلِ نو کی نمائندگی کرنے والی صاحب اسلوب شاعرہ ہیں۔ان کا لب و لہجہ پختہ اور فطری ہے۔جس سے ان کی ادبی انفرادیت کا اظہار ہوتا ہے۔انہوں نے اپنے اردگرد کے ماحول سے قوتِ اظہار حاصل کر کے اُسے اشعار کے سانچے میں ڈھالا ہے۔جس سے ان کا کلام عصرِ حاضر کی آواز بن گیا ہے۔انہوں نے ہجر و وصا ل کے ساتھ ساتھ زمانے کے دکھ درد اور معاشرتی نا ہمواری کی بات کی ہے۔جہاں تک شگفتہ شفیق کے  شعری اسلوب کا تعلق ہے وہ انتہائی موثر ہے۔ان کے اشعار ان کے اسلوب کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ان کے اسلوب میں انفرادیت بتدریج نظر آتی ہے۔

طلبِ  عشق مٹادی ہم نے
اس کو روکا نہ صدا دی ہم نے
خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے
راکھ راہو ں میں اڑا دی ہم نے

اسے پھر کام ہم سے آ پڑا ہے
وہ میٹھے لہجے میں گو یا ہوا ہے

ان کی  نعتیہ اور حمدیہ شاعری بھی بے نظیر ہے جو کہ دل کی گہرایئو ں سے پیار و خلو ص کی آئینہ دار ہے انھو ں نے خاص کر نعتیہ کلام بہت عمدہ لکھا ۔

آقائے دو جہا ں ﷺ ہیں ہدایت کی روشنی
یارب عطا ہو سب کو شفاعت کی روشنی

اردو شاعری میں جو موضوعات ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے متعلق ہیں۔ان میں محبت، خواہش اور امید سب سے نمایاں ہیں۔جب ہجر کی آندھی چلتی ہے تو امید انسان کو اچھے دنوں کی خبر دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے شگفتہ شفیق کے ہاں محبت کا جذبہ ماند نہیں پڑتا۔

یہی بس شگفتہ کا کہنا ہے ہر دم
محبت کے نغمے میں گاتی رہی ہوں

شگفتہ شفیق مردانہ اسلوب یا لب و لہجہ کی شاعرہ نہیں ان کا کلام نسائی حسیات پر مبنی ہے۔وہ عورت کے جذبات اور احساسات کی کومل ترجمانی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ان کی شاعری میں درد کی کسک، جذبے کا خلوص اور شدتِ احساس کی لپک ہے

زندگی سے پیار تو ہم کو شگفتہ تھا بہت
وہ ملا تو زندگی کی آرزو بڑ ھتی رہی

شگفتہ شفیق کی نظمیں بھی کما ل ہیں جن کی پروفیسر سحر انصاری صا حب نے شگفتہ شفیق کی چوتھی کتاب ۔۔ شگفتہ نامہ ۔۔ کی تقریب کی صدارت کر تے ہوئے بے حد تعریف فر مائی تھی اور فر ما یا تھا کہ شگفتہ شفیق نے نظم میں بہترین موضوعات کو بہت تخلیقی قوت سے لکھا ہے اور بہت کامیابی سے یہ مضا مین شاعری میں ادا کیے ہیں

اسی طر ح ان کے افسانے اور کہانیا ں بھی لا جواب ہیں جن کی خا ص  خو بی حقیقت نگاری اور سادگی ہے ۔۔ ان کی تحریر قارئین کے دل میں گھر کر تی جا تی ہے جو کہ شگفتہ شفیق کو دوسرے لکھنے والو ں میں منفرد و ممتاز کرتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *