کالی پالش اور موجودہ حکومت۔۔ذیشان نور خلجی

یاد پڑتا ہے روٹی دو روپے کی بجائے دس روپے میں ملا کرتی تھی۔ آٹا تو ڈھونڈے سے نہ ملتا تھا سو اس کے حصول کے لئے چکیوں کے تالے توڑے جاتے یا راہزنی کی وارداتیں  ہوتیں ۔ اور تو اور ٹماٹر اتنے مہنگے ہوچکے تھے کہ جلسوں میں مارنے کو بھی نہ ملتے تھے۔ لہذا حکومت نے جذبۂ خیر سگالی کے تحت جلسوں اور دھرنوں وغیرہ پر پابندی لگا رکھی تھی۔ یار لوگ کہا کرتے تھے کہ ٹماٹر مہنگائی کے پس منظر میں دراصل حکومت نے مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کا سد باب کیا ہے۔ چینی کی قلت ہو چکی تھی۔ سو منہ کا ذائقہ بدلنے کو حکومت نے کئی کئی معاون خصوصی رکھ چھوڑے تھے۔ حالانکہ اس کام کے لئے اکیلے وزیر ریلوے ہی کافی تھے۔ گو ان کی مدد کو کابینہ میں وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور وفاقی وزیر فوجی بوٹ بھی موجود تھے۔ لیکن ان تین رتنوں سے زیادہ ٹیلنٹ تو خود وزیراعظم حضور میں تھا۔ موصوف ایسی ایسی پھبتیاں کسا کرتے تھے کہ سارے کس بل نکال دیتے۔ ویسے بھی باتوں سے شلواریں گیلی کرنے کا کام تو دھرنے سے ہی جاری تھا۔ تمام کرپٹ سیاستدانوں کو ملک سے بھگایا جا چکا تھا۔ لیکن کرپشن کی وجہ سے مہنگائی کی شرح تین فیصد سے بلند ہو کے پندرہ فیصد کو پہنچ چکی تھی۔

قارئین ! آپ سمجھ رہے ہیں کہ یہ ساری کارستانیاں موجودہ حکومت کی ہیں۔ تو یقیناً آپ اس حکومت کے مخالفین میں سے ہوں گے۔ ورنہ یہ داستان تو سابقہ حکومت کی ہے۔
ان سب باتوں کے باوجود، لیکن سنا ہے کہ ان کے دور میں بے روزگار نوجوانوں کو کافی سپورٹ کیا جاتا تھا۔ شاید حکومت کا ماننا تھا کہ ہم ان بیچاروں کے لئے کچھ کر نہیں سکتے تو ان کے راستے میں روڑے بھی نہ اٹکائیں۔ سو ان دنوں پاکستان فری لانسنگ کے میدان میں بھارت، بنگلہ دیش اور روس سے بھی آگے جا رہا تھا۔

پھر اس کے بعد الیکشن ہوئے اور حکومت تبدیلی کے دعوے داروں کی گود میں آن گری۔ روٹی دو روپے کی ہوگئی۔آٹا سستا اور اتنا وافر ہو گیا کہ گوند، گلو اور بانڈ بنانے والی فیکٹریاں بند ہونے لگیں کہ لوگ اب ساری چیزیں آٹے کی لئی سے جوڑنے لگے۔ بچپن کے سہانے دن، جیسے پھر سے لوٹ آئے جب چودہ اگست پہ جھنڈیاں لگانے کے لئے آٹے کا لیپ تیار کیا جاتا تھا۔ ٹماٹر اتنے سستے ہوگئے کہ لوگوں نے خریدنا ہی چھوڑ دیے مبادا عزیز رشتہ دار ان کا شمار غریب غرباء میں نہ کرنے لگیں۔ غریب سے یاد آیا اس حکومت کو غربیوں کی بھی بڑی فکر ہے۔ یہ باتیں پرانی ہوچکی ہیں اور صرف یار لوگوں کے طنز ہیں کہ حکومت غربت کی بجائے غریب مکاؤ کی پالیسی پہ عمل پیرا ہے۔ ورنہ بات اب بڑھ کر امیر مکاؤ پہ آ چکی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا وزیراعظم قائداعظم ثانی کہلوانا پسند کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ میں قائداعظم کا پاکستان بناؤں گا۔ اور قائد اعظم کے ساتھ علامہ اقبال کا ذکر نہ ہو یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ لہذا یہ حکومت علامہ اقبال کی بھی بڑی مداح ہے۔ اور غریبوں کے لئے یہ اقبال کے اس شعر پر عمل پیرا ہے۔
؂ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

ان کا ماننا ہے کہ غریب تو بچارا پہلے ہی غریب ہے۔ اور ویسے بھی بے وقوفی اور غربت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے بھلا۔ لہذا انہوں نے سب کو ایک صف میں کھڑا کرنے کے لئے امیروں کو ہی غریب کرنا شروع کر دیا ہے۔ کہ جب گدھے گھوڑے ایک ساتھ ہانکے جائیں گے تو کوئی فرق نہیں بچے گا اور اس مساوات سے ریاست مدینہ کی تکمیل بھی ہو گی۔ (سبحان اللہ)
اور دوسرے مصرعے کا انہوں نے ایسے استعمال کیا ہے کہ بندہ نواز (شریف) بھی نہ رہے اور نہ ہی ان کا کوئی اور بندہ رہے۔ سو ذرا کوئی نگاہوں میں کھٹکا نہیں کہ سیدھا اندر۔

بات ہو رہی تھی سابقہ حکومت نے فری لانسنگ کے شعبہ میں نوجوانوں کو آسانیاں فراہم کیں۔ لیکن سنا ہے موجودہ حکومت کے پاس ایک تجویز زیر ِغور ہے جس کے مطابق ٹوئٹر اور فیس بک چینل بنانے والوں سے پچاس لاکھ سے ایک کروڑ تک لائسنس فیس کی مد میں وصول کیے جائیں گے۔ پہلے مجھے دھچکا لگا لیکن پھر میں نے غور کیا تو اندازہ ہوا کہ مسئلہ زیر غور ہے۔ لہذا اللہ کا شکر ادا کیا کہ زیر غور ہی ہے۔ کیوں کہ یہاں تو قیام پاکستان کے وقت سے ہی کئی مسئلے زیر غور ہیں اور اس ایک مسئلے کو تو پھر جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔

قارئین ! کالم لکھتے مجھے اندازہ نہیں ہو رہا کہ کس کے گناہ کس کے کھاتے میں ڈال رہا ہوں۔ موجودہ حکومت کون ہے۔ سابقہ حکومت کون تھی۔ اور میں زمانے کی کون سی حالت کا استعمال کر رہا ہوں ماضی کا یا کہ مستقبل کا۔ لہذا ان باتوں کو ادھر ہی چھوڑیں۔ آپ کو حال کا حال سناتا ہوں۔

آج صبح ڈیپارٹمنٹل سٹور سے گروسری خریدی۔ بل اندازے سے کافی زیادہ بن گیا۔ سو نزدیکی اے ٹی ایم سے مدد حاصل کی۔ گھر واپسی پہ سوچنے لگا
شاید پہلی دفعہ ہمیں بھی محسوس ہو رہا ہے کہ پیسے کی قدر کافی کم ہو چکی ہے اور عوام سچ مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں۔ گھر آ کے بل چیک کیا سب چیزیں ہی ڈیڑھ سے دوگنی قیمت کی ہو چکی تھیں۔ لیکن پھر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ایک لوکل سی شو پالش، جس کی قیمت سابقہ حکومت میں بمشکل تیس روپے ہوا کرتی تھی۔ وہ اب ایک سو دس روپے میں آئی ہے۔
ویسے مجھے پہلے ہی تھوڑا بہت اندازہ تھا کہ اس کی قیمت زیادہ ہوگی کیوں کہ وزیراعظم ہر جگہ کہہ رہے ہیں کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔
سو ان کو بوٹوں پر مارنے کے لئے اتنی پالش تو درکار ہو گی نا۔ اور طلب اور رسد کے اصول کے تحت اس کا مہنگا ہونا تو بنتا ہے۔
آپس کی بات ہے ایک سو دس روپے میں صرف اتنی سی کالی پالش ملی ہے جو بمشکل ایک حکومتی عہدیدار کے منہ پر ملی جا سکے۔
اور اس چھوٹی سی ڈبی کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ مجھے پھر سے بچپن کے ان دنوں میں لوٹنا ہوگا جب  سکول اسمبلی میں پنڈلیوں پر بوٹ رگڑ کے کام چلایا کرتا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *