مطالعہ مذاہب عالم اور اس کے بنیادی اصول۔عبدالحلیم شرر

حق ایک کلی حقیقت ہے۔حال و مقام کے بدلنے سے حق کی اصلیت اور حیثیت بدل نہیں سکتی۔ایک مذہب کی تعلیمات کو درست ثابت کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ دوسرے مذہب کی تعلیمات کو کلیۃ غلط ثابت  کیا جائے۔  یہ بھی ضروری نہیں  کہ ایک   مذہب میں حق و صداقت موجود ہونے سے دوسرے مذہب میں اس کا عدم لازم آتا ہو۔ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حق صرف اس کے مذہب کے سوا کہیں  اور موجود نہیں ، دراصل وہ دوسرے مذہب پر ہی نہیں بلکہ خود حق پر بھی ظلم کرتا ہے ۔ حق و صداقت کی روشنی کم و بیش سب  جگہ  موجود ہوتی ہے البتہ ارباب تحقیق ایک مذہب کو دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں۔  کسی مذہب کا  مکمل مطالعہ کرنے سے پہلے کسی بھی قسم کا پیشگی فیصلہ کرنا  درست نہیں کیونکہ آپ کے سامنے حق و صداقت  دونوں  ملے جلے آجائیں گے۔

مطالعہ مذاہب عالم سے مراد مختلف مذاہب کے بنیادی عقائد، عبادات اور رسوم کا ایسا ناقدانہ اور عادلانہ جائزہ لینا جس سے ہر ایک مذہب کی قدروقیمت، خوبیاں اور خامیاں پوری طرح روشن ہوجائیں ۔ مطالعہ مذاہب عالم کا  بنیادی مقصد یہ کہ  دنیا  میں پائے جانے والے مشہور مذاہب اور معروف ادیان کی تعلیمات کا غیر متعصابہ تقابل اور غیرجانبدرانہ موازنہ کیا جائے۔ نیز تمام مذاہب کی خوبیوں بنیادی عقائد، عبادات اور رسوم  کا کھلے دل سے اعتراف کیا جائے۔مطالعہ مذاہب کے دوران اگر کسی دین کی خوبی سامنے آئی تو اسے بلاتکلف سراہا جائے۔ نیز اگر کوئی خامی ہےتو اسے دلیل اور برہاں کے ساتھ رد کیا جائے تاکہ حق تک رسائی ممکن ہو۔ دین اسلام کی فضیلت کو دلائل عقلی اور اس کی حقانیت کو تاریخی شواہد کے ساتھ ثابت کیا جائے تاکہ نئی نسل اور تعلیم یافتہ طبقہ اس پر شعوری ایمان لائے،اسے شرحِ صدر کے ساتھ قبول کرے اور اس کے نتیجے میں وہ اپنی زندگیوں میں مطلوبہ پسندیدہ تبدیلیاں لائے۔مطالعہ مذاہب کے ذریعے سےاسلامی عقائد کی دیگر مذاہب کے مقابلے میں حقانیت اور صداقت، اسلامی مصادر کی دیگر مذاہب کی کتب مقدصہ کے مقابلے میں سلامتی اور نقص و اضافہ سے محفوظ ہونا کھل کر واضح ہوجاتا ہے۔ بلکہ اسلامی شریعت کا دیگر شریعتوں کے مقابلے میں آسانی اور فطرت سے ہم اہنگی بھی کھل کر سامنے آئے گی۔

اسلام کے پاس روحانی، عقلی، مادی، اجتماعی اور سیاسی تاثیر کی جو قوت ہے وہ کسی اور مذہب کو حاصل نہیں ۔ان تمام پہلوؤں سے مذاہب عالم کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔ اس سے نہ صرف فکری لحاظ سے مستشرقین و  مستعربین کا مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ اقدامی پوزیشن میں آکر مذاہب عالم اور جملہ افکار و نظریات پر اسلام کو غالب کر سکتے ہیں اور پھر یہ فکری غلبہ عسکری غلبے کی جانب لے جائے گا۔ ایک محقق اور داعی دین کے لیے مطالعہ مذاہب بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔  اس کے  ذریعے محقق  اور داعی مخاطب اقوام کی نفسیات، تاریخ، تمدن و ثقافت اور عقیدے سے واقف ہوتا ہے۔ ان کے عقائد و شریعت میں واقع کمزوریوں کو نمایاں کر کےان کے سامنے غور و فکر اور تحقیق کی راہیں ہموار کرتا ہے۔

مذاہب عالم کے تقابلی مطالعے سے مراد یہ ہے کہ مذہب کا حقیقی محور کیا ہے۔ کیابنیادی تعلیمات مذہب کی مشترک ہیں؟ مذہب کی تسلیم شدہ  کتب لفظی و معنوی لحاظ سے محفوظ ہیں  یا ان میں تبدیلی کی گئی ۔ مذاہب کی کتب انسانی ذندگی کے ہر شعبے کی راہنمائی کرتی ہیں یا  مخصوص شعبوں کی طرف ۔  بانیانِ مذاہب کے حالات ذندگی کہاں تک تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ مندرجہ بالا شرائط جس میں مذہب میں  بھی موجود ہو  وہی مذہب اس قابل ہے کہ اس کو مانا جائے اور وہی انسانیت کی فلاح کا حقیقی مذہب ہے۔

مذہب اور مذہبی مسائل کا معروضی مطالعہ  جدید دور کے انسان کا ایک ناگزیر تقاضہ ہے۔ادیان کا مطالعہ اور تقابل درحقیقت ایک بہت مشکل کام ہے۔ انسان جس عقیدے اور رائے پر ایمان رکھتا ہو وہ  اس کے مخالف عقائد و آراء کے ساتھ بہت کم انصاف کر سکتا ہے۔ ایک مذہب کے پیرو جب دوسرے مذہب پر تنقید کرتے ہیں تو اس کے تاریک پہلوؤں کو ہی تلاش کرتے ہیں اور روشن پہلو یا تو دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں یا دیدہ و دانستہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طریقے سے مطالعہ مذاہب عالم کے تمام فوائد ضائع ہو جاتے ہیں اور خود اس مذہب کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچتا جس کی تائید میں یہ گمراہ کن طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ مطالعہ  مذاہب عالم  کی ضرورت و اہمیت مسلمانوں کے انتشار، و افتراق اور ضعف کے اس دور میں دو چند ہو گئی ہے۔

انسان کی زندگی سے مذہب اور دین کا اٹوٹ رشتہ ہے۔ یہ رشتہ اتنا گہرا ہے کہ اس کا انکار کر کے بھی وہ اس سے اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔  جب دین اور مذہب کا رشتہ انسانیت سے ایسا ہی ہے تو اس کا مطالعہ بھی سنجیدگی سے ہونا چاہیے۔ لیکن انسان کو ایسا روگ لگا ہوا ہے کہ وہ اکثر اس معاملے میں غیر سنجیدہ واقع ہوا ہے اور مذہب کے لیے تحقیق کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ اس غیر سنجیدگی کی وجہ سے بہت سےاچھے خاصے صاحب علم بھی مذہب کے معاملے میں بغیر سوچے سمجھے بے حقیقت چیزوں کو پہلے سے قائم کردہ خیالات کی بنیاد پر حقیقت تسلیم کرتے ہیں۔اس طرح انسان کی زندگی تباہ ہو کر نامرادی سے ہمکنار ہو جاتی ہے۔ اس لیے مذہب کے معاملے میں انسان کو   حساس ہونا چاہیے جیسا کہ وہ زندگی کے دوسرے معاملات میں ہوتا ہے۔

ادیان و مذاہب کا تقابلی مطالعہ انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ جتنا مشکل ہے اتنا ہی ضروری بھی ہے۔مطالعہ مذاہب عالم اہل مذاہب کے لیے ایک چیلنج کا درجہ رکھتا ہے۔ جب تک عقیدہ چیلنج نہیں ہوتا، تب  تک وہ عقیدت مندیوں کے سہارے جیتا ہے۔ لیکن جب وہ چیلنج ہوتا ہے تو اسے اپنے اندر کی قوت کا ثبوت مہیا کرنا پڑتا ہے۔ اس دنیا میں صرف اس عقیدے کو پذیرائی ملتی  ہے جو اپنے اندر کی طاقت کے ذریعے دل و دماغ کو متاثر کرتا ہے۔ عقیدے کے اندر کی طاقت اس کا معقولی اور استدلالی پہلو ہے۔ انسانی دماغ اس عقیدے کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے جو دلائل کی دنیا میں اپنی طاقت کو منوا تا ہے۔ اور جو عقیدہ دلائل کی دنیا میں کمزور ثابت ہوتا ہے اس  کے ماننے والون کو ازسرنو  اس پر غور و فکر کرنے کا موقع میسر آتا ہے اور وہ اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ عقیدے کی کمزوریوں کو دور کرنے کا موقع ان  کے پیروکاروں کو ہرگز میسر نہ آئے اگر تقابل کا منظر پیدا نہ ہو۔

اگر مطالعہ مذاہب عالم یا تقابل مقصدِ حق کی تحقیق اور اس کے احقاق کے سوا  کچھ اور نہیں ہے تو یقینا اس مقصد کے حصول کا بھی یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے ۔اس قسم کی فریب کاری سے کسی مذہب کی برتری کا اثبات  نہ تو فی الحقیقت  اس کی برتری کا اثبات ہوگا اور نہ ایسی کامیابی کسی دین حق کے لیے باعث فخر ہو سکتی ہے اور حق و صداقت کی نظر میں ایسے مذہب کو کوئی وقعت  حاصل ہو سکتی ہے۔ مطالعہ مذاہب عالم ایک طرف علم ہے اور دوسری طرف اس کو دیکھا جائے تو یہ ایک فن ہے۔ اس لیے اس علم یا فن کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہوئے بغیر اس میدان میں کود پڑنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مطالعہ مذاہب عالم کے چند بنیادی اصول و ضوابط درجہ ذیل ہیں:

تعصب یا مرغوبیت سے بالاتر ہوکر غیر جانبدرانہ انداز میں مطالعہ و تحقیق کرنا۔

کسی بھی مذہب کی خوبیوں اور خامیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرنا۔

اختلافات کو دلائل سے رد کرنا اور کسی بھی پیشگی فیصلے سے گریز کرنا۔

ادیان کے مطالعے کے لیے مذہب کی تاریخ، نفسیات اور فلسفہ سے واقفیت ضروری ہے۔

کسی موضوع کو سمجھنے کے لیے ان الفاظ کی وضاحت ضروری ہے جن کے ذریعے ہم اپنی تحقیق کے نتائج بیان کرتے ہیں۔ مختلف مسائل کے صحیح حل اور ان کو واضح طور پر سمجھنے کے لیے الفاظ اور اصطلاحات کا تعین ضروری ہے۔

تحقیق کرنے والا شخص حق بات کو اچھی طرح سمجھتا ہو، اور حق و باطل اور صحیح و غلط میں امتیاز کرنے کی صلاحیت کا مالک ہو، اسے اپنے آپ پر مکمل اعتماد ہو کہ وہ کسی شبہ اور فتنے میں مبتلا نہیں ہوگا اور نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

محقق بنیادی علوم قرآن، حدیث، علم فقہ۔ عربی زبان و ادب اور دیگر روایات پر دسترس رکھتا ہو۔

کسی مذہب کے متعصب مخالفین اور خالص متبعین دونوں کی تصنیفات کا مطالعہ کرنے سے گریز کیا جائے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس طرح کی تصنیفات کے مطالعے سے ایک ناظر کبھی بھی صحیح نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا ۔

غیر جانبدرانہ انداز میں جو حقائق ہمارے سامنے آئیں ہمیں ان کی تعبیر کرتے وقت اپنے مزعومہ تصورات اور خواہشات سے بالاتر رہنا چاہیے۔

ایسے مستند علماء ضرور ہونے چاہئیں جو ادیان اوران کی کتب سے باخبرہوں، تاکہ وقت ضرورت ردباطل کا حق ادا ہوسکے اورلوگوں کی اصلی پوزیشن سامنے رہے۔ان کے مطالعے اورتحقیق کا مقصد لوگوں کو ان میں پائی جانے والی خرابی، عقل وفطرت سے اختلاف، اور لوگوں کے سامنے اللہ کے ہاں پسندیدہ دین اسلام کی حقانیت بتلانا مقصود ہو تو جائز ہے۔

مذاہب عالم کا علم اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان۔ مطالعہ مذاہب عالم خالص اسلامی دور کی پیداوار ہے۔ قرآن کریم نے اس فن کی بنیاد رکھی اور قرآن کریم مطالعہ مذاہب عالم کی پہلی کتاب ہے۔جس میں تقابل ادیان کے اصول و اسلوب اور طریقہ کا ر ملتا ہے۔ بعض مغربی محققین اور مشتشرقین کا دعویٰ ہے کہ مطالعہ مذاہب کا آغاز انہوں نے کیا ہے اور اولیت کا سہرا مغرب کے سر ہے لیکن یہ دعویٰ حقیقت کے خلاف ہے۔ البتہ مغربی ممالک میں تحریک احیا ئے علوم کے نتیجے میں یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا اور سائنسی اور جدید علوم میں  ترقی کی بدولت یورپی اقوام نے افریقی اور اشیائی اقوام پر غلبہ اور تسلط حاصل کر لیا۔

اگرچہ ایک گروہ مطالعہ مذاہب عالم کی مشروعیت کا قائل نہیں اور ان کی مخالفت کا خلاصہ یہ ہے کہ مطالعہ مذاہب عالم  ، تقابلی یا  موازناتی مقصد کے لیے نہیں ہوگا   بلکہ اعداء اسلام کی کاٹ انہی  کی کتابوں سے کی جائے نہ کہ ان کی کتابوں سے اسلام سمجھنے اورسمجھانے کی کوشش کی جائے۔ علماء کا اسلوب رد باطل  ہونا چاہیے  نہ کہ موازناتی مطالعہ۔ لیکن قرآن مجید اوراحادیث نبویﷺ میں ہمیں اس بارے میں واضح دلائل اور ثبوت ملتے ہیں جن کے ذریعےہم ایک طرف ان کے مذاہب کے اندر خامیوں اور ان کی کتابوں کے اندر تحریفات کو انہی کی مذہبی تعلیمات اور انہی کی کتابوں سے ثابت کر سکتے ہیں اور  پھر قرآن مجید اور احادیث نبویﷺ کی روشنی میں ان کے اندر ان خرابیوں اور تحریفات کا رد کر سکتے ہیں تو دوسری طرف دین اسلام کی وحدانیت اور حقیقت کو نہ صرف  قرآن و حدیث سے واضح کر سکتے ہیں بلکہ خود ان ادیان کی تعلیمات اور کتابوں سے بھی اسلام کی برتری کو مدلل انداز میں ثابت کر سکتے ہیں۔ قرآن مجید خود یہود و نصاریٰ کی کتابوں سے دین اسلام اور پیغمبر اسلام کی صداقت کو ثابت کرکے دکھایا ہے۔ عہد نبویﷺ اور عہد صحابہ و خلفائے راشدین میں بھی اس کی زندہ مثالیں موجود ہیں۔ بعد میں مسلم علماء، مفکرین، مصلحین اور مجددین    بھی انہی اصولوں پر عمل پیرا رہے ہیں۔

عبدالحلیم شرر
عبدالحلیم شرر
اک سنگ بدنما ہے بظاہر میرا تعارف ۔۔ کوئی تراش لے تو بڑے کام کا ہوں میں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مطالعہ مذاہب عالم اور اس کے بنیادی اصول۔عبدالحلیم شرر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *