ہمیں صرف آنسو نہیں بہانے۔۔حامد میر

وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔ عاصمہ جہانگیر کو یہ دنیا چھوڑے دو سال گزر بھی گئے۔ گیارہ فروری کو اُن کی دوسری برسی پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں عاصمہ جہانگیر میموریل لیکچر کا اہتمام کیا اور اس لیکچر میں آئی اے رحمان صاحب نے آج کے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر روشنی ڈالی۔

وہ بتا رہے تھے کہ ایک طرف پاکستان میں بےروزگاری بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف جن کے پاس روزگار ہے اُنہیں تنخواہ نہیں ملتی۔

اُنہوں نے خبردار کیا کہ آزادیٔ اظہار پر مزید پابندیاں لگنے والی ہیں لہٰذا انسانی حقوق کی تنظیموں کو صحافیوں، وکلا اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ اشتراکِ عمل بڑھانے کی ضرورت ہے۔

سوالات شروع ہوئے تو ماحول دکھ اور تکلیف میں ڈوب گیا۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے انسانی حقوق کے کارکن اپنے سوالات میں اپنی اپنی بےبسی کی کہانیاں بیان کرنے لگے اور میں یہ سوچنے لگا کہ جو ریاست اپنے ہی لوگوں کے انسانی حقوق پامال کرتی ہے وہ کسی دوسری ریاست پر انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام لگانے میں کتنی حق بجانب ہے؟

پاکستان کو اگر کسی دوسری ریاست کے ظلم کے خلاف موثر آواز بننا ہے تو سب سے پہلے پاکستان کو ایسی ریاست بنانا ہے جہاں آزادیٔ اظہار پر پابندیاں نہ ہوں، ہزاروں افراد لاپتا نہ ہوں، سیاسی اختلاف کرنے والوں پر بغاوت کے مقدمے نہ بنتے ہوں اور سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کو ریاستی ادارے دھمکیاں نہ دیں۔

آئی اے رحمان صاحب کا لیکچر ختم ہو گیا تو چند نوجوان وکلا میرے پاس آئے۔ ایک نوجوان وکیل نے بتایا کہ وہ آن لائن ہراسمنٹ پر ریسرچ کر رہا ہے اور کچھ سوالات کرنا چاہتا ہے۔ میرے پاس وقت نہیں تھا لیکن اُس نے صرف چند منٹ مانگے۔ ہم ایک کونے میں چلے گئے۔

میں نے کہا پلیز جلدی فارغ کر دینا۔ اُس نے کہا صرف تین سوال پوچھنے ہیں۔

پہلا سوال یہ تھا کہ سوشل میڈیا پر تواتر کے ساتھ آپ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ نے ممبئی حملوں کے ملزم اجمل قصاب کے گائوں میں جا کر پروگرام کیا اور جیو نیوز پر آپ نے اُسے پاکستانی ثابت کیا ہم نے آپ کا وہ پروگرام بہت ڈھونڈا لیکن نہیں ملا اگر حکومتِ پاکستان نے اُسے پاکستانی تسلیم کیا تو آپ پر اعتراض کیوں ہے؟

میں نے جواب دیا کہ مجھے نہیں پتا اجمل قصاب کا گائوں کدھر ہے، نہ میں کبھی وہاں گیا، نہ وہاں پروگرام کیا۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ پرویز مشرف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ 2007میں آپ نے لال مسجد میں آپریشن کرایا تھا اور جب مشرف نے یہ بات کی تو اُن کے سامنے بیٹھے ہوئے اینکر صاحب نے تائید میں سر ہلایا۔

ہم نے اُس اینکر سے پوچھا کہ حامد میر نے کب اور کہاں مشرف کو لال مسجد پر حملے کے لئے اُکسایا تو اُس اینکر نے کہا کہ پتا نہیں۔ ہمیں بھی کوئی ثبوت نہیں ملا تو مشرف نے یہ الزام کیوں لگایا؟

میں نے بتایا کہ آپ چوہدری شجاعت حسین کی کتاب ’’سچ تو یہ ہے‘‘ پڑھ لیں اُنہوں نے لکھا ہے کہ جب وہ مذاکرات کے ذریعہ لال مسجد کا معاملہ حل کرنے کی کوشش میں تھے تو حامد میر نے اُن کی مدد کی۔

مشرف نے مجھ پر جھوٹا الزام اس لئے لگایا کہ میں اُنہیں 1998سے جانتا ہوں جب وہ کور کمانڈر منگلا تھے اور حمید اصغر قدوائی کے ذریعے آرمی چیف بننے کے لئے لابنگ کر رہے تھے بعد ازاں میں اُن کی کشمیر پالیسی کا ناقد رہا۔

اُن پر سخت تنقید کرتا رہا لہٰذا وہ جھوٹ بول کر انتقام لیتے رہے۔ تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا آپ کے والد پروفیسر وارث میر مرحوم نے بنگلا دیش بنانے میں شیخ مجیب الرحمٰن کی مدد کی تھی؟

یہ سوال سُن کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔ میں نے بتایا کہ 1971میں میرے والد پنجاب یونیورسٹی لاہور میں صحافت کے اُستاد تھے۔ وہ لاہور میں بیٹھ کر شیخ مجیب کی کیسے مدد کر سکتے تھے؟

مارشل لا کا زمانہ تھا اور وہ سرکاری ملازم تھے۔ مشرقی پاکستان میں ملٹری آپریشن کے مخالف تھے لیکن یہ مخالفت تو لیفٹیننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان نے بھی کی تھی اور ایسٹرن کمانڈ چھوڑ دی۔

وکیل نے سوال کیا تو پھر بنگلا دیش کی حکومت نے آپ کے والد کو ’’فرینڈز آف بنگلا دیش‘‘ کا ایوارڈ کیوں دیا؟ میں نے بتایا کہ یہ ایوارڈ تو فیض احمد فیضؔ اور حبیب جالبؔ کو بھی ملا۔

میرے والد کو اس لئے ملا کہ وہ پاکستان ٹوٹنے سے چند ہفتے قبل پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کا ایک وفد لے کر ڈھاکا یونیورسٹی گئے اور وہاں کے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھ کر کچھ سال کے بعد سچائی لکھ ڈالی۔

یہ سچائی اُس وقت شائع ہوئی جب بنگلا دیش بن چکا تھا۔ وکیل نے حیرانی سے پوچھا کہ تو پھر سوشل میڈیا پر کچھ لوگ آپ کے والد کو گندی گالیاں کیوں دیتے ہیں؟ میرے پاس کوئی جواب نہ تھا شاید گالیاں دینے والے کسی کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہیں کیونکہ آج کل کچھ نوجوانوں کا روزگار آن لائن گالی گلوچ سے وابستہ ہے۔

نوجوان وکیل نے مجھے اپنے لیپ ٹاپ پر چالیس ٹویٹر اکائونٹس دکھائے جو میرے سمیت کچھ دیگر صحافیوں اور سیاستدانوں کو گالی گلوچ کرتے ہیں۔ پھر اُنہوں نے حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے حوالے سے کہا کہ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ حامد میر نے احسان اللّٰہ احسان کا انٹرویو کیا تھا حالانکہ آپ نے یہ انٹرویو نہیں کیا۔

اس خاتون نے دعویٰ کیا کہ آپ نے اجمل قصاب کا معاملہ اٹھایا یہ بھی غلط ہے، اس خاتون کو کئی بھارتی چینلز نے اپنے پروگراموں میں بلایا اور اس نے آپ پر الزامات لگائے، آپ نے کارروائی کیوں نہ کی؟

میں نے پوچھا کہ کیا آپ کے خیال میںFIA کا سائبر کرائمز ونگ حکمران جماعت کے لوگوں کے خلاف میری درخواست پر کارروائی کریگا؟

وکیل نے کہا کہ ہم نے اس خاتون سمیت چالیس افراد کے ٹویٹر اکائونٹس اور یو ٹیوب چینلز کی نشاندہی کر لی ہے جو صرف جھوٹ اور نفرت پھیلا رہے ہیں ہم ان کے خلاف مشترکہ کارروائی کیلئے درخواست دائر کریں گے ہمیں صرف آپ کی تائید چاہئے۔

میں نے کہا کہ عدالتوں کے چکر نہیں لگا سکتا کیونکہ آئی اے رحمٰن صاحب نے بھی اپنے لیکچر میں کہا ہے کہ ہر معاملہ عدالت نہ لے کر جائو، عدالتیں ہمیشہ انصاف نہیں دیتیں۔ نوجوان وکیل نے مجھے کچھ ٹویٹس دکھائے جن میں صرف مجھے نہیں بلکہ کچھ دیگر لوگوں کو بھی قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں، کچھ لوگوں نے ایف آئی اے کو شکایت کی لیکن کچھ نہ ہوا لہٰذا اب یہ نوجوان وکیل مل کر قانونی کارروائی کرنا چاہتے تھے۔

میں نے اُن سے اجازت مانگی تو نوجوان وکیل نے کہا کہ آپ کشمیریوں پر ظلم کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتے ہیں آپ یہ آواز ضرور بلند کریں لیکن یہ بتائیں کہ جو لوگ سوشل میڈیا پر آپ کے خلاف باتیں کر کے انڈین میڈیا کی آنکھ کا تارا بن رہے ہیں اُن کا سرپرست کون ہے؟

میں جواب دیے بغیر ہاتھ ملا کر وہاں سے روانہ ہوا تو ایک بوڑھی خاتون بھاگی بھاگی پیچھے آئی۔ اُس نے یاد دلایا دو سال پہلے نیشنل پریس کلب کے باہر آپ نے عاصمہ جہانگیر کے ہمراہ کشمیریوں کے حق میں مظاہرہ کیا تھا، میرا بیٹا بھی اس مظاہرے میں شریک تھا، پچھلے تین ہفتوں سے وہ لاپتا ہے اُس کی واپسی کے لئے میری مدد کریں۔

یہ سُن کر میں ٹھٹک گیا۔ واپس مڑا اور نوجوان وکیل کو ڈھونڈ کر کہا کہ تم جو بھی کرو گے میں تمہارے ساتھ ہوں، ہمیں عاصمہ جہانگیر کی یاد میں صرف آنسو نہیں بہانے بلکہ اُس کی طرح ظلم اور دہشت کے خلاف زور دار آواز بھی بلند کرنا ہے۔

جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *