میر واہ کی راتیں (قسط1)۔۔۔ رفاقت حیات

آج کی رات اس کی بےکار زندگی کی گزشتہ تمام راتوں سے بےحد مختلف تھی، شاید اسی لیے نیند اس کی آنکھوں سے پھسل کر رات کے گھپ اندھیرے میں کہیں گم ہو گئی تھی، مگر وہ اسے تلاش کرنے کی بےسود کوشش کر رہا تھا کیونکہ وہ گہری نیند سو کر خود کو اگلی شب کے رت جگے کے لیے تیار کرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دماغ میں چلنے والے خیالات کے تیز جھکّڑوں اور ان سے اٹھنے والے سرکش بگولوں کی وجہ سے آج رات اس کے لیے پلک جھپکنا دشوار تھا اور آنکھیں موند کر سونا بالکل ناممکن۔ وہ محرابوں والے برآمدے میں چھت کی سیڑھیوں کے قریب چارپائی پر رضائی اوڑھے لیٹا ہو,ا رات گزارنے کی تدبیر ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ اٹھ بیٹھا اور اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنے تکیے کے نیچے سے ایک بوسیدہ اور مڑے تڑے صفحات والا رسالہ نکالا اور کئی مرتبہ کی پڑھی ہوئی کہانیوں پر نظرڈالنے لگا۔ اسے ’مومل رانا‘ کی کہانی بےحد پسند تھی مگر آج اپنی پسندیدہ کہانی پڑھتے ہوئے نجانے کیوں اس کے سر میں درد ہونے لگا۔ باریک لفظوں کی سطریں جو کاغذ کی سطح پر قطار باندھے کھڑی تھیں، دھیرے دھیرے بکھرنے لگیں۔ باریک لفظ قلم بن کر کاغذ کی سطح پر ایک خاکہ بنانے لگے۔ خاکہ مبہم اور غیرواضح تھا، مگر غور کرنے پرکسی عورت کی پشت معلوم ہوتا تھا۔ عورت کا خیال آتے ہی وہ خاکے پر اور زیادہ غور کرنے لگا، مگر یہ کیا؟۔۔ اچانک تمام لفظ کاغذ کی سطح سے یکسر غائب ہو گئے، اور ان کے ساتھ ہی لفظوں سے بنا وہ مبہم سا خاکہ بھی غائب ہو گیا۔ وہ حیرت سے رسالے کے اوراق پلٹنے لگا۔ رسالے کے تمام اوراق لفظوں سے یکسر خالی ہو چکے تھے۔ کسی بھی صفحے پر نہ تو کہانی کا عنوان لکھا نظر آ رہا تھا اور نہ ہی کہانی کی عبارت۔ سارے کے سارے کاغذ کورے نظر آ رہے تھے۔ اسے ایک لمحے کے لیے محسوس ہوا کہ وہ اس وقت مومل کے کاک محل میں موجود ہے۔ اس نے بلاتردد رسالے کو اس کی جگہ واپس رکھ دیا اور تکیے پر اپنا سر رکھ کر وہ سیدھا لیٹ گیا اور رضائی کو اپنے آدھے جسم پر اوڑھ لیا۔ اس نے کئی مرتبہ آنکھیں زور سے میچ کر نیند کے خمار کو اپنے ذہن پر طاری کرنے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ اس کے ذہن نے اس دھوکے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یکے بعد دیگرے کروٹیں لینے کے بعد وہ ایک بار پھر سیدھا ہو کرلیٹ گیا۔

اس کی آنکھیں خودبخود محرابوں والے برآمدے کی اونچی چھت پر بھٹکنے لگیں۔ بےضرورت اور بےسبب وہ چھت کی کڑیاں گننے لگا۔ اس نے پہلے دائیں سے بائیں اور پھر بائیں سے دائیں چھت کی کڑیوں کو شمار کیا مگر دونوں مرتبہ ان کی تعداد اکیس ہی نکلی۔ اکیس بظاہر تو گنتی کا سیدھا سادہ عدد ہے مگر اس کا خودسری پر آمادہ ذہن اس عدد سے کوئی خاص مطلب برآمد کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے اس نے اکیس کے دو اور ایک کو آپس میں جمع کر دیا اور اس کے حاصل جمع تین پر خوامخواہ غور کرنے لگا۔ یہ سادہ سا عدد اس کے ذہن کو اقلیدس کے مسئلے کی طرح پیچیدہ معلوم ہو رہا تھا۔ دو کا عدد اس پیچیدگی کا حامل نہیں تھا جو پیچیدگی تین کے عدد میں پنہاں محسوس ہو رہی تھی۔ تین یعنی تیسرا کئی شکوک کو جنم دیتا تھا، شاید اسی مشکوک تیسرے کو مومل کے پہلو میں سویا ہوا دیکھ کر رانا کاک محل چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا۔ وہ اس بات سے بےخبر تھا کہ مومل نے محض اس کے حاسدانہ جذبے کو انگیخت کرنے اور اس سے تفریح لینے کے لیے اپنی چھوٹی بہن سومل کو رانا کا روپ دیا ہوا تھا۔

مگر نذیر رانا مہندر سنگھ سوڈو نہیں تھا۔ وہ بہت دیر سے محرابوں والے برآمدے سے ملحقہ کمرے سے سنائی دینے والی عورت اور مرد کی دھیمی دھیمی اور مبہم سرگوشیاں سن رہا تھا۔ ان سرگوشیوں کے مختلف اتارچڑھاؤ محسوس کرتے ہوے، جن میں بعض اوقات دبی دبی ہنسی اورگھٹا گھٹا سا قہقہہ بھی شامل ہوتا تھا، وہ بھی حاسدانہ مخاصمت محسوس کر رہا تھا۔ اس نے ان کی سرگوشیوں میں چھپی باتوں کو سمجھنے کی بہت کوشش کی۔ وہ جتنی زیادہ کوشش کرتا اتنا ہی زیادہ رقابت کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا۔ حسد اور رقابت کے جذبات نے اس کے رگ و پے میں عجیب سنسنی اور گرمی سی پیدا کر دی۔ وہ رضائی اتارنے پر مجبور ہو گیا۔ کچھ دیر بعد کمرے سے سرگوشیاں سنائی دینی بند ہو گئیں، شاید وہ دونوں اب سو گئے تھے۔

وہ کھاٹ سے اُتر کر صحن کے ٹھنڈے فرش پر ننگے پاؤں چلنے لگا۔ اس کے رگ وپے میں دوڑنے والی گرمی دھیرے دھیرے ختم ہو گئی مگر ایک عجیب سی سنسنی اب بھی باقی تھی۔ اس کی زندگی میں ایسی مضطرب اور اذیت بھری رات نہیں آئی تھی۔ ا سے توقع تھی کہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت اور لذیذ واقعہ صرف ایک رات کی مسافت پر تھا مگر اس کے درمیان حائل آج کی رات کسی طور کٹنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ اس نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوے آسمان پر ٹمٹماتے ہوے ستاروں کی ماند پڑتی روشنی کو دیکھا۔ آج آسمان پر چاند کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ اس کا دل چاہا کہ وہ آئندہ شب پیش آنے والی مہم جوئی کے متعلق آسمان سے مدد کی درخواست کرے۔ مگر اگلے ہی لمحے اسے خیال آیا کہ آئندہ شب وہ کوئی کارِخیر انجام دینے تھوڑا ہی جا رہا ہے کہ وہ آسمان سے مدد کی درخواست کرے۔ ایسی درخواست کرنے کی صورت میں آئندہ شب اسے کسی افتاد کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔ اس نے فوراً یہ خیال ترک کر دیا۔

صحن میں ٹہلتے ہوے اسے کسی کونے سے دھیمی سی شونکار سنائی دی۔ اسے فوراً یاد آیا کہ رات کی خنکی میں سانپ اور بچھو اپنے اپنے بلوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ وہ فوراً کھاٹ پر جا لیٹا اور ایک بار پھر نیند کی پری کو گرفت میں لینے کی کوشش کرنے لگا۔ اسی کوشش کے دوران اسے نیند آ گئی، نیند کی پری اس پر مہربان ہو گئی۔

وہ رضائی میں سمٹا ہوا سو رہا تھاکہ ایک نسوانی آواز نے اسے پکارا۔ اس کا جواب نہ پا کر وہ اس کے قریب آئی۔ اس کے چہرے سے رضائی ہٹا کر چند ثانیے اس کے سوئے ہوے چہرے کو دیکھتی رہی، پھر اپنے ٹھنڈے ٹھنڈے نرم ہاتھ سے اس نے اس کی پیشانی کو چھوا تو وہ فوراً جاگ گیا۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیرحیرت سے چاچی خیرالنسا کو تکنے لگا۔

’’نذیر، اب اُٹھ جا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔

وہ بستر سے اُٹھا نہیں اور اس نے اپنے ہونٹوں سے کچھ کہا بھی نہیں۔ وہ حیران تھا کہ آج صبح چاچی خیرالنسا اسے پہلے سے زیادہ حسین اور پرکشش کیوں محسوس ہو رہی تھی۔ شاید اپنے لمس کی وجہ سے وہ اس کے لیے یک دم پہلے سے زیادہ حسین ہو گئی تھی۔ وہ عجیب ندامت میں لپٹی ہوئی اس کی کھاٹ کے پاس کھڑی تھی۔ اس کا لباس شکن آلود تھا اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کے چہرے پر نیند کی سوگواری تھی۔ یکایک اس نے اپنے سینے سے چادر ہٹائی اور اپنے دونوں ہاتھوں سے پھیلا کراسے دوبارہ اپنے جسم پر تانا اورغسل خانے کی طرف چلی گئی۔

نذیر اس کے جانے کے بعد اس کی خوشبو کو محسوس کرتا رہا۔ اس کے ہاتھ کا نرم گرم لمس اس کی پیشانی میں جذب ہو گیا تھا۔ کچھ دیر بعد اسے غسل خانے کے فرش پر پانی گرنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ وہ کھاٹ پر لیٹے لیٹے پانی گرنے کی آواز سنتے ہوے کسمساتا رہا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ اسی لمحے بھاگ کر غسل خانے میں جا گھسے اور ٹاٹ کا پردہ ہٹا کر چاچی کو بےلباس دیکھ لے — وہ جسے لباس میں کئی مرتبہ عریاں دیکھ چکا تھا۔ اس نے اپنے تصور میں ہینڈپمپ کے پانی کی دھار کے نیچے سمٹے نسوانی جسم کو دیکھا اور ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔ اس نے اپنے جسم سے رضائی ہٹا دی اور صحن کے ساتھ واقع خالی احاطے کی طرف دیکھنے لگا۔ وہاں صبح کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔

جب وہ ٹھٹھرتی ہوئی غسل خانے سے باہر آئی تو نذیر اسے ٹھیک طرح دیکھ نہیں سکا۔ اس نے اس کے بدن سے اٹھتی صابن کی مہک اور اس کے جسم کے گیلےپن کو محسوس کیا۔ وہ اپنے سامنے کھڑی بھرپور اور پرکشش عورت کو، اس کی نظروں کے سامنے، غور سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ یہ اس کی فطری کم ہمتی تھی یا بزدلی۔ وہ ایسے موقعے کی تلاش میں تھا جب وہ اس کی جانب سے توجہ ہٹا کر کسی اور طرف دیکھنے لگے، مگر وہ اسی کی طرف دیکھتی ہوئی تولیے سے اپنے بال سکھانے لگی۔

’’اندر نلکے کا پانی کوسا کوسا اے۔ اُٹھ، تُو بھی نہا لے۔‘‘ وہ نذیر کو مکمل طور پر مایوس کرتی کمرے میں چلی گئی۔

نذیر نے جماہی لی اور چپلیں پہن کر غسل خانے کی طرف چلا گیا۔ اندر آ کر وہ گیلے فرش اور بھیگی ہوئی دیواروں کو دیکھنے لگا۔ معاً اس کی نظر کیل میں اٹکے ہوے بلاؤز کی طرف اٹھی تو اس کی رگوں میں سنسنی پھیل گئی۔ اس نے پردہ ہٹا کر باہر دیکھا، کوئی اس طرف تو نہیں آ رہا۔ اطمینان کر لینے کے بعد اس نے کیل سے بلاؤزاُتار لیا اور اسے آنکھوں کے قریب لا کر دیکھنے لگا۔ وہ گلابی ریشمی کپڑے سے بنا ہوا اور ہاتھ سے سِلا ہوا بلاؤز تھا۔ وہ انگلیوں سے اسے ٹٹولنے لگا۔ بلاؤز کو دیکھنا اور چھونا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ اس کے کناروں پر ہلکی سی گرد جمی ہوئی تھی اور کہیں کہیں اکادکا بال بھی اٹکے ہوے تھے۔ دھیرے دھیرے وہ بلاؤز کو اپنی ناک کے قریب لے گیا اور اسے سونگھنے لگا۔ اسے سونگھتے ہوے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ وہ خود کو کسی عورت کے قرب میں محسوس کرنے لگا۔ وصل کی سرشاری جیسی سرشاری اس پر طاری ہونے لگی۔ اس نے بلاؤز کو ناک کے قریب سے ہٹایا اور دوبارہ وہیں کیل پر لٹکا دیا۔

اس نے کچھ دیر ہینڈپمپ چلا یا۔ جب اس میں سے کوسا پانی نکلنے لگا تو اس نے اپنی قمیض اُتار کر اسی کیل پر لٹکا دی۔ اب وہ اپنے سینے اور اپنے بازوؤں کا معائنہ کرنے لگا۔ اسے ان کی سپیدی اور نرمی اچھی لگی۔ اپنی چھاتی پر ابھرے نوخیز بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوے اس کا ذہن ایک بار پھر چاچی خیرالنسا کے لذیذ تصورمیں گم ہو گیا۔ اسے اپنی کم مایگی اور ناتجربہ کاری کا احساس ہونے لگا۔

جب وہ اپنی شلوار اتارنے لگا، وہاں اسے ایک گدلاسا دھبا دکھائی دیا۔ دھبا دیکھتے ہی وہ اسے مسلتے ہوے اپنے دانت کچکچانے لگا۔

’’آج یہ نہیں ہونا چاہیے تھا،‘‘ وہ جھلاہٹ میں بڑبڑایا۔

وہ خود کو کمزور و ناتواں محسوس کرنے لگا، جیسے وہ دھبا کسی جان لیوا مرض کی علامت ہو۔ اسے لگا کہ اس کے بدن سے تمام قوت نکل گئی ہے اور اس کی تمام خواہشیں یکایک مرجھا گئی ہیں۔ آج کی رات، وہ شدید بےتابی سے جس کا انتظار کرتا رہا تھا، اب زیادہ دور نہیں تھی۔ اس نے سوچا کہ ذرا دیر کے لیے اس کی آنکھ کیا لگی، نیند کی پری اس کی جان ہی نکال کر لے گئی۔ شاید اس نے کوئی خواب دیکھا تھا اور خواب میں کوئی عورت — مگر وہ عورت کون تھی؟ کیسی تھی؟ وہ اپنے ذہن کو ٹٹولتا رہا مگر اسے مطلق یاد نہیں آ سکا۔ خواب میں آنے والی عورت نہ تو چاچی خیرالنسا تھی اور نہ ہی رانا مہندر سنگھ سوڈو کی چہیتی مومل۔ سوچتے سوچتے وہ زچ ہو گیا۔ اِس نے افسردگی سے اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھا تو وہ اسے سوکھی سڑی معلوم ہوئیں۔

بمشکل وہ اپنے ذہن سے تمام خیالات جھٹک کر ہینڈپمپ چلا کر غسل کرنے لگا۔ غسل کے بعد وہ اپنی شلوار پر چپکے ہوئے چپچپے مادے کوصابن سے رگڑ رگڑ کر دھونے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس نے دھبے کو شلوار سے مٹا ڈالا کیونکہ اسے نماز بھی تو پڑھنی تھی۔ نذیر نادانستہ سرزد ہونے والے عمل پر نادم تھا اس لیے وہ غسل خانے سے نکل کر بھی خود کو ملامت کرتا رہا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ نئے دن کا آغاز کسی بدشگونی سے ہو، مگر اس کی خواہش کے برخلاف بد شگونی رونما ہو چکی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ آج رات اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا تھا۔ اس کی توقع کی تکمیل ہونی تھی یا اسے ملیامیٹ ہونا تھا۔

جب تک اس کی شلوار سوکھ نہیں گئی وہ بار بار اپنی شلوار کو دیکھتا رہا۔ اطمینان کر لینے کے بعد اس نے تکیے کے نیچے پڑا ہوا رومال اُٹھایا اور اسے اپنے سر پر باندھ لیا۔

اسے چاچی صحن اور برآمدے میں نظر نہیں آئی تو وہ دروازے سے کمرے کے نیم تاریک ماحول میں جھانکنے لگا۔ وہاں چاچی اسے نماز پڑھتی نظر آئی، جبکہ غفور چاچا ابھی تک گہری نیند سویا ہوا تھا۔ وہ مڑ کر پچھلے دروازے کی طرف چلا گیا جو پیچھے والی گلی کی طرف نکلتا تھا۔

گلی میں صبح کی دھندلی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ مکانوں کے دروازوں اور کھمبوں پر جلتے بجلی کے بلب صبح کی پھیلتی روشنی کے سبب اپنی چمک کھوتے جا رہے تھے۔ وہ گلی کے پختہ اینٹوں سے بنے فرش پر چلتا رہا۔ اچٹتی ہوئی نیند کے دوران دکھائی دینے والا خواب تو اسے بھول چکا تھا، مگر اس خواب کے دوران ملنے والی لذت کی ہلکی سی رمق اس کے ذہن کے کسی خفیہ گوشے میں اب بھی موجود تھی۔ وہ اس کے بارے میں سوچتا سوچتا رک گیا۔ ایک بار پھر وہ اپنی شلوار کو ٹٹول کر دوبارہ چل پڑا۔

اب روشنی خاصی پھیل چکی تھی۔ ابھی وہ مسجد سے کافی فاصلے پر تھا کہ اسے نمازی مسجد سے باہر نکلتے دکھائی دیے۔ فجر کی نماز پڑھی جا چکی تھی۔ وہ قصبے کی دو چار گلیاں گھوم کر واپس آ گیا تاکہ چاچی کے پوچھنے پر اُسے بتا سکے کہ وہ نماز پڑھ کر آیا ہے۔

وہ گھر میں داخل ہوا تو اسے باورچی خانے سے آنکھوں میں چبھنے والا گاڑھا دھواں سارے گھر میں پھیلا ہوا دکھائی دیا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا باورچی خانے میں چلا گیا۔ یہاں صرف دھواں ہی دھواں بھرا نظر آتا تھا۔ نذیر کی آنکھوں سے فوراً پانی بہنے لگا۔ بہت غور کرنے کے بعد اسے بہ مشکل چولھے کی آگ نظر آ سکی۔ وہ اپنے پیروں سے زمین ٹٹول کر چلتا ہوا چولھے کے پاس پہنچا تو اسے چاچی کی ناک اور آنکھوں سے بہتا ہوا پانی دکھائی دیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ٹال والے نے ایک مرتبہ پھر گیلی لکڑیاں بھیج دیں۔ اس نے دھونکنی اٹھائی اور اس کی مدد سے کچھ دیر تک پھونکیں مارتا رہا۔ اس عمل سے چولھے میں آگ بھڑک اٹھی۔ دھونکنی ایک طرف رکھ کر وہ گیلی لکڑیوں کو چولھے سے نکالنے لگا، جس سے آہستہ آہستہ باورچی خانے میں بھرا ہوا دھواں باہر نکلنے لگا اور دھویں کی چبھن بھی دھیرے دھیرے ختم ہونے لگی۔ اس نے چاچی خیرالنسا کی طرف دیکھا۔ وہ ڈوپٹے سے اپنی ناک اور آنکھیں پونچھ رہی تھی اور اس کا سفید چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ چولھے میں جلتی آگ اس کے چہرے کی تابانی میں اضافہ کر رہی تھی۔ وہ کھنکار کر گلا صاف کرتی ہوئی کہنے لگی، ’’تیرے چاچے کی طبیعت آج خراب ہے۔‘‘

اس نے تجسس سے پوچھا، ’’کیا ہوا؟‘‘

’’میرا خیال ہے اسے سردی لگ گئی ہےــ‘‘ وہ اپنے ڈوپٹے کی مدد سے چائے کی دیگچی اُتارتے ہوئے بولی۔

’’چاچے کو سردی کیسے لگ گئی؟ وہ تو کل کہیں باہر گیا ہی نہیں تھا۔‘‘ وہ اپنے سوالوں میں چھپی حیرت کو چاچی سے پنہاں نہ رکھ سکا۔ اس کی حیرانی کو بھانپ کر چاچی نے جواب دینے کے بجائے اپنا سر جھکا لیا۔

اس سے پہلے کہ وہ اپنی کرید میں مزید کچھ پوچھتا، اسے چاچے کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ کھانسی کی آواز سنتے ہی وہ نذیر کی موجودگی سے غافل ہو گئی اور اپنے لباس کی شکنیں درست کرنے لگی۔ اس کے بعد اس نے اپنی چادر کو سینے پر پھیلا لیا۔ کچھ دیر بعد کھانستا ہوا چاچا غفور سر سے پاؤں تک کھیس میں لپٹا ہوا باورچی خانے کی کوٹھڑی میں داخل ہوا۔

اسے دیکھ کرنذیر فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی چوکی چاچے کو پیش کر دی اور خود زمین پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گیا۔

’’جیتے رہو،‘‘ چاچا نقاہت سے بولا۔ اس نے اپنے سر سے کھیس اُتار لیا۔ شیو نہ کرنے کی وجہ سے اس کے چہرے پر سفید داڑھی نکل آئی تھی۔ گالوں کی ہڈیاں نمایاں تھیں اور آنکھیں اندر دھنس گئی تھیں۔ وہ ہانپ رہا تھا، جیسے اپنی سانسوں پر اسے کوئی اختیارنہیں تھا۔ چاچی نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔

’’ کمرے سے کیوں نکل آئے؟ میں چائے وہیں لے آتی،‘‘ اس نے منہ  بسورتے ہوے شکایت کی۔

’’میں نے سوچا آگ کے پاس بیٹھوں گا تو سردی کم لگے گی، اس لیے یہاں آ گیا،‘‘ وہ لفظوں پر زور دیتے ہوئے بدقت بولا اور دھیرے سے مسکرا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھنے لگا۔

چاچی نے اس کی مسکراہٹ نظرانداز کرتے ہوے نظریں جھکا لیں اور دیگچی اُلٹا کر تام چینی کے پیالوں میں چائے انڈیلنے لگی۔

’’پُتر نذیر! آج میں دکان نہیں جاؤں گا۔ مجھے سردی لگ رہی ہے اور بدن میں کپکپاہٹ سی بھی ہے۔ تُو سویرے ہی دکان پر چلا جا اور دکان کھول لے۔ حاجی اللہ بخش کو بھریاروڈ جانا ہے۔ میں اس کے جوڑے کل ہی سی کر آیا تھا۔ تو اس سے پیسے لے لینا۔ اور ہاں، کل ماسٹر طفیل کے بیٹے کی شادی ہے۔ وہ بھی شام کو اپنے کپڑے لینے آئے گا۔ کوئی اگر میرا پوچھے تو کہنا کہ بخار چڑھا ہے۔ کل ضرور آؤں گا۔‘‘ باتیں کرتے ہوے چاچے کی سانس پھول گئی اور وہ مزید بول نہیں سکا۔

نذیر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے بےدھیانی سے سنتا، ہوں ہاں کرتا رہا۔

چاچی خیرالنسا پریشان لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں چولھے میں راکھ ہوتے اور بجھتے ہوئے انگاروں پر جمی تھیں۔

کچھ دیر بعد چاچا غفور نذیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوے بولا، ’’سلائی مشین پر تیرا ہاتھ صاف ہو گیا ہے۔ اب میری دکان تیرے حوالے۔‘‘ نذیر نے اثبات میں سر ہلایا۔ یہ بات سن کر چاچی زیرلب مسکرائی۔ اس نے تیکھی نظروں سے بھتیجے کو دیکھا اور اپنا نچلا ہونٹ کاٹنے لگی۔

چاچے غفور کی بات سن کر وہ نجانے کیوں ندامت محسوس کر رہا تھا۔ اپنے کندھے پر اس کا کمزور و ناتواں ہاتھ اسے بھاری بھرکم محسوس ہو رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں خود کو چاچے کے اس اعتماد کا مستحق نہیں سمجھتا تھا۔ اپنے ناکردہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے وہ چاچی کی طرف دیکھنا چاہتا تھا مگر نہیں دیکھ سکا۔

تھوڑی دیر بعد وہ باورچی خانے سے باہر نکلا۔ معمول کے مطابق اس نے کمرے سے چارپائی نکال کر صحن کی دھوپ میں بچھائی، پھرچاچے کو سہارا دے کرباورچی خانے سے نکالا اور صحن میں چارپائی پر لٹا دیا۔ آنکھیں مچمچاتا، بدقت سانس لیتا چاچا غفور اس لمحے اسے بچے کی طرح معصوم دکھائی دیا۔

نہ جانے کیوں نذیر نے ارادہ باندھا کہ وہ کبھی چاچی کو ایک نظر نہیں دیکھے گا۔

وہ چاچے کی  پائنتی بیٹھ گیا اور اس کی ٹانگیں دبانے لگا۔

نذیر کو وہ ہڈیوں کا ڈھانچ معلوم ہو رہا تھا۔ اس نے کبھی چاچے کی جسمانی حالت پر غور نہیں کیا تھا۔ اس نے کبھی اس کی آنکھوں میں بھی نہیں جھانکا تھا۔ اب تک وہ صرف اس کی آواز سنتا رہا تھا۔ اس کی بھاری اور گونج دار آواز ہی اس کے لیے چاچے کے مکمل وجود کا درجہ رکھتی تھی، جو سننے والے کو محکوم بنا دیتی تھی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پاٹ دار آواز رکھنے والا شخص درحقیقت اس قدر کمزور بھی ہو سکتا تھا۔

چاچی خیرالنسا نذیر کے ناشتے کے لیے دیسی گھی سے بنے پراٹھے پر ساگ اور مکھن رکھ کر لے آئی۔ رکابی لیتے ہوئے اس نے چاچی کی انگلیوں کے لمس کو اپنی ہتھیلی پر محسوس کیا۔ اس نے جھجکتے ہوے چاچی کے چہرے کی طرف دیکھا تو کچھ پریشان ہو گیا۔ وہ اپنی آنکھوں میں پوشیدہ جذبے کی چمک لیے اب بھی زیرلب مسکرا رہی تھی۔ اس نے جلدی سے رکابی تھام لی اور فوراً اٹھ کر دوسری چارپائی پر جا بیٹھا۔ وہ چارپائی کی ادوائن کے سوراخوں سے سرخ اینٹوں کے فرش کو دیکھتے ہوے نوالے چباتا رہا۔ اس دوران وہ اپنے آپ کو جبراً چاچی کی طرف دیکھنے سے روکتا رہا۔ وہ اپنے شوہر سے دوچار باتیں کر کے اس کی چارپائی پرآ بیٹھی۔ نذیر نے اس کی آنکھوں کو خود پر گھومتے ہوئے محسوس کیا تو نوالے چباتے ہوئے اس کی زبان دانتوں کے نیچے آنے لگی۔ لذیذ ساگ اور پراٹھے کا مزہ خراب ہو گیا۔

اس نے نذیر سے کوئی بات نہیں کی، بس اپنی آنکھوں کے کونوں سے شریر انداز میں اسے دیکھتی رہی اور اسے دیکھتے ہوے اپنی چادر کے کونے کو شہادت کی انگلی پر لپیٹتی رہی۔ وہ بار بار اپنے دانتوں سے اپنے نچلے ہونٹ کو دبا رہی تھی۔ ایسے میں سانسوں کے زیروبم سے اس کی چھاتیاں دھیرے دھیرے لرز سی رہی تھیں۔

چاچا غفور اپنی چارپائی پر بیماری کے زیراثر غافل لیٹا ہوا تھا۔ وہ لاچاری سے ٹھنڈی سانس بھرتی ہوئی اٹھی اور تیز قدموں سے چلتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی نذیر نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ وہ خود کو اس کی پشت دیکھنے سے باز نہیں رکھ سکا۔ چلتی ہوئی عورتوں کی پیٹھ دیکھنا اسے بہت اچھا لگتا تھا۔ ایسے میں وہ کہیں گم ہو جاتا۔ عورت کی پشت کا نظارہ اسے چاند کی چودھویں شب اوس میں بھیگے ہوئے کسی صحرا کی یاد دلاتا تھا، جس کی بھیگی ہوئی نرم نرم ریت پر وہ کچھ دیر سستانا چاہتا تھا۔ اس لمحے بھی اس کے دل میں ایسی ہی خواہش نے سر اٹھایا۔ خوابیدہ جذبے بیدار ہوئے مگر وہ آہ بھرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکا۔ اس نے جلدی سے پراٹھے کا آخری نوالہ توڑ کر اپنے منہ  میں ٹھونسا۔

اچانک چاچے غفور کے سینے سے خرخراتی ہوئی کچھ آوازیں سنائی دیں، جو اگلے لمحے کھانسی میں بدل گئیں۔ اس نے  کروٹ لی اور زمین پر بلغم تھوکنے لگا۔

نذیر رکابی اٹھائے چاچے کے پاس آیا اور اس کا حال دریافت کیا۔ چاچے نے اس کی طرف دیکھے بغیر ہاتھ کا اشارہ کیا، جس کا مطلب تھا کہ میں ٹھیک ہوں، تم جاؤ۔ وہ باورچی خانے میں رکابی رکھنے گیا تو وہاں اس نے چاچی کو گھٹنوں میں اپنا سر دبائے ہوئے دیکھا۔ وہ اس کی آہٹ سن کر چونکی اور اپنا سر اٹھا کر اسے دیکھتی ہوئی خوامخواہ مسکرانے لگی۔ اس کی زرد آنکھیں اوراداس چہرہ دیکھ کر وہ اپنا دل مسوس کر رہ گیا۔

اس کی حوصلہ افزائی کی خاطر وہ گویا ہوا۔ ’’چاچی، پریشان مت ہو، چاچا شام تک بھلا چنگا ہوجائے گا۔‘‘ اس کی یہ بات سن کر چاچی نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے اپنا سر ہلا دیا۔

وہ باورچی خانے میں کچھ دیر ٹھہرنے کے بجائے فوراً وہاں سے باہر چلا گیا۔ چاچے کو خداحافظ کہہ کر وہ گھر سے نکلا اور دکان کی راہ لی۔

گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے کہانیوں والا رسالہ بھی ساتھ لے لیا تھا۔ اس کی طبیعت دکان میں کوئی کام کرنے پر مائل نہیں تھی۔ اس نے سوچا کہ یعقوب کاریگر اکیلا ہی شادی والے کپڑوں کی سلائی کر دے گا اور اس کی تساہل پسندی کے بارے میں چاچے سے شکایت بھی نہیں کرے گا۔

راستوں پر تیز ی سے چلنا اس کا معمول تھا، مگر وہ آج گلی کی ڈھلان سے بہت آہستگی سے اُتر رہا تھا۔ وہ زیادہ سوچنے کا عادی نہیں تھا مگر اس وقت اس کے ذہن میں خیالات کی ایک گتھی الجھی ہوئی تھی جسے سلجھانا بہت ضروری تھا۔ وہ اسے جلدازجلد سلجھانا چاہتا تھا مگر درمیان میں کوئی چیز مزاحم تھی۔

گلی کے درمیان چلتے چلتے بےدھیانی میں وہ داہنی طرف بدرو کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ گلی لوگوں سے یکسر خالی تھی اور اس وقت یہاں سے مویشیوں کے کسی ریوڑ کو بھی نہیں گزرنا تھا۔ رفیق حجام کا بیٹا شلوار اتارے نالی پر بیٹھا ٹٹی کر رہا تھا۔ نذیر کو دیکھ کر وہ شرمانے لگا اور بیٹھے بیٹھے اس نے اپنا چہرہ قمیض کے دامن میں چھپالیا۔

نذیر نے اسے دیکھا تک نہیں اور اپنی دھن میں اس کے قریب سے گزر گیا۔

وہ سوچتا جا رہا تھا کہ اسے چاچے کے پاس رہتے ہوے چھ مہینے گزر گئے تھے۔ اس دوران اس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی کہ چاچی خیرالنسا اس کے بارے میں کسی بدگمانی میں مبتلا ہو جاتی۔ وہ اسے اچھی لگتی تھی — بالکل جس طرح بھابی خدیجہ اسے اچھی لگتی تھی۔ چاچی کا جسم پرکشش تھا اور اسے چوری چھپے دیکھ کر وہ لطف اندوز ہوتا رہتا تھا۔ اس کی آنکھیں بھی اسے اچھی لگتی تھیں مگر وہ انھیں حسین خیال نہیں کرتا تھا۔

آج اس نے پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اسے نیند سے جگایا تھا۔ کیوں؟ اس سے پہلے وہ ہمیشہ اسے آوازدے کر اٹھاتی تھی یا اس کی رضائی کو جھنجھوڑ دیا کرتی تھی۔ رکابی تھماتے ہوے اس کی انگلی کا لمس۔۔اسے لگتا تھا کہ چاچی نے جان بوجھ کر اسے چھوا تھا۔

جب وہ نیا نیا یہاں آیا تھا تو چاچی خیرالنسا نے کبھی اس کے سامنے اپنے سر سے ڈوپٹہ نہیں اُتارا تھا۔ وہ اس کے سامنے قہقہہ لگانے سے بھی گریز کرتی تھی۔ وہ اس کی موجودگی میں کبھی انگڑائی بھی نہیں لیتی تھی۔ لیکن کچھ دنوں سے وہ ان چیزوں کے حوالے سے لاپروا ہوتی جا رہی تھی۔ اب وہ اس کے سامنے ڈوپٹے کے بغیر گھومتی اوربےنیاز ہو کر انگڑائیاں لیتی۔ اپنا لباس سرکنے سے بےخوف ہو کر وہ گھربھر میں جھاڑو لگاتی۔ اور تو اور، بعض اوقات وہ اس کے سامنے کھاٹ پر لیٹ جاتی اور قمیض کا دامن بھی درست نہ کرتی۔

چھ مہینوں سے نذیر کے ذہن میں اس خیال کی پھانس اٹکی ہوئی تھی کہ چاچا غفور ساٹھ برس کا تھا اور چاچی خیرالنسا اس سے پچیس سال چھوٹی تھی۔ وہ اکثر سوچتا رہتا تھا کہ وہ لاغراندام بوڑھے شخص کے ساتھ کس طرح نباہ کرتی رہی تھی۔

چلتے چلتے اسے چاچی کی انگڑائی یاد آئی اور پیشانی پر اس کے ہاتھ کا لمس۔ وہ مسکرانے لگا مگر جب اس نے آس پاس نظر ڈالی تو ٹھٹک کے رہ گیا۔ گلی سے نکل کر اسے بازار والی سڑک کی جانب مڑنا تھا لیکن وہ خیالوں میں چلتے چلتے قصبے کے آخری مکانات تک پہنچ گیا تھا۔ اسے اپنے سامنے گندم کے کھیت دکھائی دے رہے تھے۔

وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا، گارے اور لکڑی کے مکانوں کو دیکھتا، واپس لوٹنے لگا۔ ایک بار پھر وہ خود کوسمجھانے لگا کہ اس کی جانب سے کسی قسم کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا تھا کیونکہ آخرکار چاچا غفور اس کے والد کا سگا بھائی تھا۔

بازار کی سڑک پر واقع پرائمری اسکول سے بچوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔ اس نے محکمۂ بہبودِ آبادی کے دفتر کے باہر لگے ہوے بورڈ کو دیکھا جس پر چہروں کے بغیر مرد، عورت اور ایک بچہ بنے ہوے تھے۔ سڑک پر خاصی چہل پہل تھی۔ دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ دکانداروں کے چھڑکاؤ کی وجہ سے سڑک کیچڑآلود ہو گئی تھی۔ گردوپیش کے دیہات سے گدھاگاڑیوں، سوزوکیوں اور بسوں کے ذریعے قصبے میں لوگوں کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ چائے خانے بھرنے لگے تھے اور وہاں ٹیپ ریکارڈر پر مشہور گانے بجنے لگے تھے۔

چاچے غفور کی دکان سڑک کے آخری سرے پر چھوٹی سی گلی میں واقع تھی۔ اس گلی میں صرف درزیوں کی دکانیں تھیں۔ یعقوب کاریگرنذیر کو راستے میں ہی مل گیا۔ وہ دکان کی چابیاں لینے گھر جا رہا تھا۔ نذیر نے چاچا غفور کی صحت کے بارے میں اسے بتایا تو اسے تشویش ہونے لگی۔

یعقوب کاریگر نے دکان کا تالا کھولا تو نذیر نے شٹر اُٹھانے میں اس کی مدد کی۔ وہ یعقوب کا احترام کرتا تھا، اس لیے کہ ایک تو وہ ادھیڑعمر آدمی تھا اور پھر چاچے کا دوست بھی تھا۔ دکان کے بیشترمعاملات اسی کے ہاتھ میں تھے۔ لوگوں کی نظر میں دکان کا مالک چاچا غفور نہیں بلکہ یعقوب کاریگر تھا۔ کئی بہت پرانے گاہکوں کے ناپ اسے زبانی یاد تھے۔ جب انھیں ردوبدل کروانا ہوتا یا وہ نئے فیشن کا ڈیزائن بنواتے تو اپنی فرمائشیں اِسی کو بتاتے۔ وہ دھاگوں، بٹنوں اور بُکرم کی خریداری میں خودمختار تھا۔

اسے بیک وقت مردانہ اور زنانہ کپڑوں کی سلائی پر دَسترس تھی۔ مگر نہ جانے کیوں قصبے کی عورتوں میں وہ ایک مثالی درزی کی حیثیت سے مقبول تھا۔ دوردراز گوٹھوں کی عورتوں تک بھی اس کی مہارت کی شہرت پھیل چکی تھی۔ کپڑے سِلوانے والی خواتین دیر تک اس کی فضول باتیں بھی سنتی رہتی تھیں۔

نذیر یعقوب کاریگر کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ کچھ عورتوں سے اس کے گہرے تعلقات تھے۔ شاید اسی لیے اتنی عمر گزرنے کے باوجوداِس نے شادی نہیں کی تھی۔

نذیر کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی تھی کہ دکان کا تالا اور شٹر وہی کھولے اور فرش کی صفائی بھی وہی کرے، لیکن یعقوب ہمیشہ ہی اس کا ہاتھ تھام لیتا تھا۔

’’بابو، تم مالک، میں نوکر، یہ کام تمھارے لیے نہیں۔‘‘

مگر آج نذیرنے اپنے دل میں کچھ اور ہی ٹھانی ہوئی تھی۔ اس نے دکان میں داخل ہوتے ہی جھاڑو اُٹھا لی اور صفائی کرنے لگا۔ یعقوب نے اس کے ہاتھوں سے جھاڑو لینے کی کوشش کی تو اس نے مصنوعی غصہ ظاہر کرتے ہوئے اسے دکان سے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ سفید بالوں والا کاریگر اپنے سیٹھ کے بھتیجے کا حکم سن کر ہنسی میں کندھے ہلاتا گلی میں جا کھڑا ہوا۔ اس نے قمیض کی جیب سے بیڑیوں کا بنڈل نکالا اور اسے اپنے ہاتھ سے نرمی سے دبانے لگا۔ پھر اس میں سے ایک بیڑی نکال کر اسے دانتوں میں چبا کر اس نے اسے سُلگایا۔

اس دوران نذیرنے کرسیوں، سلائی مشینوں اور میز کے نیچے سے کچرا صاف کیا۔ اس نے دھاگوں، لیروں اور بیڑی کے ٹکڑوں کو جمع کر کے اخبار میں سمیٹا اور اخبار کو دکان سے باہر پھینک دیا۔

یعقوب کاریگر آستینیں چڑھاتا دکان میں داخل ہوا اور اپنی مخصوص نشست پر جا بیٹھا۔ اس نے اپنی ٹانگیں کرسی پر سکیڑ لیں اور مزے سے بیڑی کے کش لیتا رہا۔ بیڑی ختم ہونے پر اس نے اسے چپل کے نیچے مَسل دیا۔ اس کے بعد میز کی دراز سے اگربتّی کا پیکٹ نکالا اور اس میں سے دو اگربتیاں نکال کر اس نے دیاسلائی کی مدد سے جلائیں، پھر زور سے پھونک مار کر اس نے اگربتیوں کے شعلے کو بجھایا اور ان کے خوشبودار دھویں میں لمبے سانس بھرنے لگا۔ یعقوب کے لیے صبح دکان کھولتے ہی اگربتی جلانا ایک مقدس رسم کی طرح تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگربتی کی خوشبو سے دکان پر پڑنے والا ہر قسم کے شر کا سایہ چھٹ جاتا ہے۔ اس نے سلگتی ہوئی ایک اگربتی کو میز کے کاؤنٹرمیں اٹکایا جبکہ دوسری کو دیوار کے رخنے میں لگا دیا۔

نذیر اپنی سلائی مشین صاف کر رہا تھا کہ اسے چاچے کی بات یاد آ گئی۔ سلائی مشین صاف کرتے ہوے اس نے اپنا ہاتھ روک لیا اور کاریگر سے مخاطب ہوا۔ ’’وہ، ماسٹر طفیل شام کو کپڑے لینے آئے گا۔ اس کے پانچ جوڑے ہیں شاید،‘‘ وہ ہچکچا کر بولا۔ بڑی عمر کے لوگوں سے بات کرتے ہوے وہ اعتماد کھو بیٹھتا تھا؛ اس کی نگاہ جھک جاتی تھی اور زبان میں گرہ پڑنے لگتی تھی۔

یعقوب نے اس کی بات سنی اور مسکراتے ہوے بولا، ’’معلوم ہے۔ دو لیڈیز کے ہیں اور تین مردانہ جوڑے۔‘‘

نذیر نے مطلوبہ دھاگے کی نلکی کو سلائی مشین پر چڑھایا اور دھاگے کو مختلف جگہوں سے گزار کر سوئی کے ناکے میں ڈال دیا۔ بیکار کپڑے کو سوئی کے نیچے رکھا اور مشین چلا کر ٹانکوں کا جائزہ لیتا رہا۔

گزشتہ صبح ہی ا نھوں نے ماسٹر طفیل کے کپڑوں کی کٹائی کر لی تھی اور شام تک آدھے جوڑوں کی سلائی بھی ہو چکی تھی۔ اب نذیر کا ہاتھ سلائی مشین پر رواں ہو گیا تھا۔ وہ اکیلا ہی شام تک بیٹھ کر پانچ جوڑوں کی سلائی کر سکتا تھا۔ مگر اس کا مزاج سیمابی تھا اس لیے اس کے لیے ایک جگہ دیر تک بیٹھنا مشکل تھا۔ یکسوئی سے کام کرتے کرتے اچانک اس پر بےقراری کا دورہ پڑتا اور وہ فوراً دکان سے باہر نکل جاتا؛کچھ دیر سڑک پر ٹہل کر اِدھراُدھر کی چیزوں کو دیکھتا اور پھر واپس آ کر اپنا کام کرنے لگتا۔

درزیوں کی اس گلی کی ہر دکان پر ٹیپ ریکارڈر اونچے سُروں میں بجتا تھا۔ ہر درزی اپنی پسند کے گانے سنتا تھا۔ نذیر بھی فلمی گانے سننے کا شوقین تھا۔ کئی مرتبہ وہ یعقوب کاریگر سے اپنی خواہش کا اظہار کر چکا تھا۔ اسے بھی موسیقی سننا پسند تھا مگر چاچے غفور کو موسیقی سے نفرت تھی۔ گلی میں کوئی درزی جب اونچی آواز میں گانے بجاتا تو چاچا غفور اسے گالیاں دینے لگتا اور ٹیپ بند کروا کے دم لیتا۔ مگر وہ درزی کچھ دیر بعد دوبارہ ٹیپ ریکارڈر بجانا شروع کر دیتا۔ چاچا غفور اس مرتبہ اٹھ کر جانے کے بجاے بیٹھا بڑبڑاتا رہتا۔

یعقوب کاریگر نے ایک اور شوق بھی پال رکھا تھا۔ اس نے کچھ ہٹ دھرمی اور کچھ بےشرمی سے اپنے اس عجیب شوق کی تکمیل کر لی تھی۔ اسے چاچا غفور کے طعنوں کی بھی پروا نہیں تھی۔ اس نے اخباروں، رسالوں، کتابوں اور پوسٹروں سے رنگین تصویریں کاٹ کاٹ کر دکان کی دیواروں پر چپکا دی تھیں۔ چھت سے فرش تک کوئی جگہ خالی نہیں چھوڑی تھی۔ تمام کی تمام تصاویر فلمی اداکاراؤں اور ٹی وی کی ماڈل لڑکیوں کی تھیں۔ وہ سب کی سب جوان اور پرُکشش دکھائی دیتی تھیں۔ یعقوب کا یہ مشغلہ بہت پرانا تھا اور اس میں کبھی کمی نہیں آتی تھی۔ وہ ہر دوسرے دن ڈھونڈ ڈھانڈ کر کوئی نئی نویلی تصویر لے آتا اور اسے کسی پرانی تصویر کی جگہ لگا دیتا۔ گلی میں ایک اور درزی نے بھی اس کی دیکھادیکھی یہی شغل اختیار کر لیا تھا۔ وہ گاہے گاہے یعقوب کاریگر کو اپنی تصویروں کے معائنے کے لیے بلاتا رہتا اور اس کی رائے بھی معلوم کرتا۔

نذیر نے بےدلی سے کٹا ہوا کپڑا اُٹھایا اور سلائی کرنے لگا۔

گلی میں گاہکوں کی آمدورفت شروع ہو چکی تھی۔ یہ مختصر بند گلی شام تک لوگوں سے بھری رہتی تھی۔ دکانداروں نے دکانوں پر کپڑوں کے سائبان لگا رکھے تھے، جس کی وجہ سے گلی صبح سے شام تک سایہ دار رہتی تھی۔

چاچے غفور کی بیماری کی خبر پوری گلی میں پھیل گئی۔ تمام دکاندار نذیر سے اس کی خیریت دریافت کرنے آئے مگر واپس جا کر انھوں نے ٹیپ ریکارڈر اونچی آواز میں بجانا شروع کر دیے۔ ہر دکان پر مختلف گانا چل رہاتھا — ملی جلی آوازوں کے بیچ کسی گانے کے بول سمجھ نہیں آتے تھے۔

جب دکان کے آگے سے گزرنے والے کسی شخص کا سایہ اندر پڑتا تو نذیر بےاختیار ہو کر باہر دیکھنے لگتا۔ وہ احتیاط سے کیے جانے والے کام میں جلدبازی برتنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا ایک ہاتھ تیزرفتاری سے سلائی مشین کے ہینڈل پر گھوم رہا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ کپڑے کو تیزی سے آگے سرکاتا جا رہا تھا۔ سوئی چشم زدن میں کپڑے پر ٹانکے پر ٹانکا لگاتی جا رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے سلائی مشین روک دی۔

یعقوب کاریگرنے شلوار مکمل کر لی تھی۔ کچھ سستانے کے لیے اس نے نئی بیڑی سلگائی۔ نذیر اپنی نشست سے اُٹھا اور دکان کے سرے پر کھڑا ہو گیا۔ ہوٹل کا باہروالا کیتلی اور پیالیاں اٹھائے اس کے سامنے سے گزرا تو اس نے اسے دو چائے کے لیے کہہ دیا۔ پھر وہ دکان کے اندر آ کر یعقوب کاریگر کے پاس جا کھڑا ہوا۔ وہ بیڑی کے کش پر کش لگاتا اپنی گدلی آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے نوجوان لڑکے کو دیکھتے ہوے مسکرایا۔

’’آج کام میں دل نہیں لگ رہا،‘‘ نذیرجھجکتے ہوے بولا۔

’’تمھاری جو عمر ہے نا، اس میں یہ دل بڑا تنگ کرتا ہے، جب کہ یہ کام کرنے کے لیے ِپتہّ مار کر بیٹھنا پڑتا ہے،‘‘ وہ اپنی سفید اور سیاہ داڑھی کھجاتے ہوئے بولا۔ ’’پروا مت کرو۔ میرے ہوتے ہوئے کوئی غم نہ کرو۔‘‘

’’چاچے کو نہ بتانا۔۔۔‘‘ نذیر نے اس سے درخواست کی۔ کاریگر نے یہ سن کرقہقہہ لگایا۔ اس کا قہقہہ سن کر نذیر بھی مسکرایا۔ وہ اسٹول کھینچ کر خوش مزاج کاریگر کے پاس بیٹھ گیا اور اس نے یونہی موسم کی شدت کا ذکر چھیڑ دیا۔

’’اس مہینے سردی اور بڑھ جائے گی۔ سنا ہے کوئٹہ میں برف باری ہو رہی ہے!‘‘

یعقوب کاریگرکندھے جھٹک کر ہنستے ہوئے بولا، ’’تمھارے چاچے کو اسی لیے ٹھنڈ لگ گئی۔۔ مگر یار، اس کے پاس تو بہترین ہیٹر ہے۔ اسے ٹھنڈ نہیں لگنی چاہیے تھی۔‘‘

اس کی یہ بات سن کر نذیر نے شرما کر سر جھکا لیا۔

جاری ہے۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *