سماجی تھیٹر۔۔ڈاکٹر ظہور بابر

تم ایک بہترین کشن والی کرسی پر بیٹھے ہو اور منرل واٹر کی بوتل تمہارے سامنے ایک ذرا سا ہاتھ بڑھانے پر تمہاری پہنچ میں ہے۔ تم نہایت بے چینی سے اپنی ویڈیو بنوانے اور فوٹو کھینچوانے کے لئے اپنے چہرے پر نہایت درد انگیز تاثرات لیے اسٹیج پر اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہو۔ اور پھر تم سٹیج پر جا کر بولتے چلے جاتے ہو بولتے چلے جاتے ہو۔۔۔ ۔ تم کچی آبادیوں میں پھیلے گندے پانی، غربت، جرائم، امن، علم، انصاف، ترقی، خوشحالی، تبدیلی، اور سماجی نظام پر مسلسل بولے چلے جاتے ہو یہاں تک  کہ تمہارا گلا خشک ہو جاتا ہے اور منرل واٹر کی بوتل اپنے ہاتھ میں لے کر ایک گھونٹ پانی پینے کے بعد پھر بولنے لگ جاتے ہو۔۔اور تمہاری یہ ادا کیمرے کو بہت بھا جاتی ہے کہ انسانی حقوق کے علمدار کا انسانی بے بسی اور درد ناک زندگی پر تقریر کرتے کرتے حلق خشک ہو گیا۔ ۔ پھر تمہارے اور دیگر مقررین کے لئے لنچ یا ڈنر کا اعلان ہو جاتا ہے۔ ۔ عزت مآب قابل احترام آئیے تشریف لائیے، آپ کے لئے انتہائی لذیذ اور انواع و اقسام کا کھانا تیار ہو چکا ہے۔ کیونکہ آپ جناب ایک روشن خیال معاشرے کے فکری نمائندے ہیں، جس کے دل میں انسانیت کا درد اور زبان پر غربت زدہ معاشرے کے مسائل کا حل موجود ہے۔۔۔ اور آپ جناب انسانی حقوق کے لئے کس قدر پریشان رہتے ہیں۔۔ ۔ کہ جیسے   مصیبت میں مبتلا غربت زدہ معاشرہ آپ کی سوچ کے بغیر بہت نقصان میں چلا جائے گا۔۔۔اور آپ کی گفتگو سے اس یقین کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ کے دیے گئے مشوروں سے غریب اور مسکین ہم وطنوں کی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں آ جائیں گی۔

پھر آپ کراچی میں واپسی اپنی 90 لاکھ کی گاڑی میں یا نیویارک سے امارات ائیرلائن کے بوئنگ میں بیٹھ جاتے ہیں اور سوچنے لگ جاتے ہیں کہ کیا میری باتوں سے کوئی متاثر ہوا ہوگا؟

کیا کل سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں میرے نام کے چرچے ہوں گے؟ اور میری تصویریں اور ویڈیو پورے ملک میں دیکھی جائیں گی اور بین الاقوامی فورم پر میرا نام نوٹ کر لیا جائے گا؟۔۔ تاکہ مجھے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم میں شامل کر لیا جائےگا؟۔۔۔

چلو کل دیکھیں گے ۔۔خود کو ہر سکرین پر جس سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ اگلے پروگرام میں کونسا لباس زیادہ دلکش لگے گا۔۔۔

پر دوسری جانب غریب کی بستی میں ایسی تقریروں سے کبھی روشنی نہ ہوسکی۔۔۔ جہاں اندھیروں کا راج رہا اور گندے پانی کے جوہڑ میں غریب کے بچے پینے کا پانی لیتے رہے اور نہاتے بھی رہے ۔ اور غریب کی صبح ان کے لیے کوئی کھانا نہ لا سکی۔۔ اوردن بھر منوں بھاری بوریاں ڈھوتے ڈھوتے بلآخر غریب کی کمر کے مہرے بھی جواب دے گئے۔۔۔ اور ادھر تم اپنے امریکن کچن میں زور زور سے چلانے لگے کہ آخر وہ مارملیڈ میں نے کہاں رکھ دیا جو کل شہر کی مہنگی ترین سپر مارٹ سے بڑے شوق سے خرید کے لایا تھا۔ ۔

تم کیا جانو غربت اور بے بسی کیا ہوتی ہے۔۔۔ ہونہہ !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *