میں گلیاں دا روڑا کوڑا ۔۔عارف انیس

میں بھاگتا جارہا تھا.

میری سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی. پسینے کے قطرے پیشانی سے بہتے ہوئے میری آنکھوں میں سما چکے تھے اور میں نمکین پانی آنکھیں بھینچ کر اپنی دھندلی بصارت بحال کر رہا تھا. میری آنکھوں سے آنسو اور ناک سے لعاب دونوں بہہ رہے تھے، جنہیں میں اپنی آستین سے صاف کرتے ہوئے بھاگ رہا تھا. انگہ کے اوپر والے محلے کی پتھریلی سڑک پر بھاگتے ہوئے میرے پلاسٹک کے ‘صدی’ بوٹ عجیب آوازیں نکال رہے تھے. مجھے معلوم تھا کہ انگہ سے خوشاب جانے والی لال رنگ کی ڈیزل کی بو سے بھری بوسیدہ جی ٹی ایس بس میرا انتظار کررہی ہے اور اس میں بیٹھے پندرہ بیس لوگ دیر کرنے کی وجہ سے مجھے صلواتیں سنا رہے ہوں گے. ابا جی بھی غیض و غضب کا مجسمہ بن چکے ہوں گے کہ ان کی وقت کی پابندی ضرب المثل تھی. لیکن مجھے کسی بھی طرح بس میں بیٹھنے سے پہلے اپنی ماں سے ملنا تھا کہ اگر میں اس سے نہ مل پایا تو تو میرا دل پھڑک کر چھاتی سے باہر ڈھیر ہوجائے گا.

1986 کا سون سکیسر میں واقع انگہ ایک اونچی نیچی پہاڑی پر آباد گاؤں تھا، جس میں ابھی بجلی نہیں پہنچی تھی اور سڑکیں پہاڑوں سے نکلے پتھروں سے بنی ہوئی تھیں. مجھے انہی پتھروں پر بھاگنا تھا کہ میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں تھی، مگر مجھے کہکشاں کی تلاش بھی تھی.

انگہ چار پہاڑیوں پر پھیلا ہوا گاؤں تھا، جس کے دامن میں میٹھے پانی کے کنوئیں تھے. میرے گھر سے کوئی ڈیڑھ سے دو میل دور، کھیتوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے اور بڑے قبرستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک تنگ سڑک نیچے اترتی تھی اور دو تین کنوئیں رستے میں پڑتے تھے. کنوئیں کی گہرائی 60 سے سو فٹ تک تھی. پانی کھینچنے کے لیے چمڑے کا بوکہ (مشکیزہ) کنوئیں میں پھینکا جاتا تھا اور رسی ہاتھ کا ماس اڑاتے ہوئے نیچے پہنچتی تھی اور بتدریج گیلی اور بھاری ہوجاتی تھی. پھر اس بوکے کو اوپر کھینچنا ہوتا تھا اور پانی گھڑے میں منتقل کرنا ہوتا تھا. دس لٹر کا یہ گھڑا بعض اوقات ایک اور گھڑے کے ساتھ گاؤں کی ناریوں کے سروں پر لاد دیا جاتا تھا اور وہ لچکیلی شاخ کی طرح جھک جاتی تھیں اور ڈیڑھ دو میل کا عمودی سفر طے کرتی تھیں جو ان کی ہڈیوں کو ٹیڑھا میڑھا کردیتا تھا. انہی میں میری ماں بھی تھی جسے میں نے ملتان جانے سے پہلے بہت زور کا ملنا تھا اور میں انگہ کی گلیوں میں بھاگا جارہا تھا.

اسی انگہ کی پہاڑیوں میں اور اوپر جہاں آبادی ختم ہوتی تھی، وہاں سے گھنے جنگل یا کھدری کا آغاز ہوتا تھا. وہاں گھنے درخت، جھاڑیاں، گول گول پتھر اور بہت سے چتکبرے سانپ تھے. وہاں میرے خاندان کے لوگ بکریاں چروانے کے لیے لے جاتے تھے. انگہ میں موجود ہم قطب شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے اعوان تھے اور ایک نیم قبائلی معاشرے کے مکین تھے. تاریخ اعوان کے مطابق قطب شاہی اعوان قبیلہ عرب ماخذ ہے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی غیر فاطمی اولاد سے قطب شاہ غزنی تھے جہنوں نے سلطان محمودغزنوی کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا اور اعوان (مددگار) کہلائے اور ان کی اولاد سکیسر، کالاباغ، کشمیر، پشاور، کپورتھلہ وغیرہ میں بکھر گئی. یوں تو ہم والد صاحب کی صوبیداری کی وجہ سے علاقے میں کافی سربلند تھے، مگر گڈریا پن وراثت میں ملا تھا. مجھے بھی برادر بزرگ طارق انیس کے ساتھ کھدری میں جانے اور بکریوں کے پیچھے بھاگنے اور ہلکان ہونے کا مختصر موقع ملا تھا، مگر میں ایک قدرے نوآموز اور جاہل قسم کا گڈریا تھا جسے ابھی پکنے میں کافی دیر تھی.

اس دن میری اپنی ماں سے ملاقات نہ ہوسکی. شاید ہوجاتی تو میں اس سفر پر روانہ ہی نہ ہوپاتا اور زندگی کوئی اور ڈھب اختیار کرتی. لیکن میں اس سفر پر نکل گیا اور بدبودار جی ٹی ایس میں بیٹھا زکام کے بہانے رومال اپنی آنکھوں پر ملتا اور آنسو اس میں جزب کرتا جارہا تھا. یہ میری زندگی کا پہلا لمبا سفر تھا جو سفر در سفر کا آغاز تھا.

میں بارہ سال کا تھا جب میرے مسلسل اصرار سے لاچار ہوکر والد بزرگوار صوبیدار فاضل نے مجھے وادی سون سکیسر سے ملتان بھیجنے کا فیصلہ کیا جہاں ہمارے تایا غلام محی الدین رہا کرتے تھے. میرے لیے ملتان، سرگودھا یا خوشاب یا کوئی بھی شہر اس امر کا ثبوت تھا کہ وادی سون کے پہاڑوں کے پار بھی زندگی پائی جاتی ہے تو مجھے بس اس پار جانے کی طلب تھی. تایا اللہ بخشے تیس چالیس برس سے ملتان میں مقیم تھے. میں ایک دفعہ کسی شادی پر آیا تو بچپنے میں ملتان شہر سے باہر کھاد فیکٹری دیکھ کر ویسے ہی ریجھ گیا کہ یہ کوئی بہت ترقی یافتہ ‘ملک’ ہے. میرا ہم ہمر خالہ زاد بھائی (مسیر) ناصر رضا بھی اس ایڈونچر میں میرا ہم قدم تھا. کہیں نہ کہیں تو جانا تھا، مگر کوئی سا بھی جانے والا شہر ملتان نکل آیا، جس سے نکل آنے کے باوجود، ملتان آپ سے نہیں نکلتا.

اگر لوٹ کے دیکھوں تو جب بھی زندگی کے ہزاروں سفر در سفر کرنے کے لیے گھر سے باہر نکلا تو 1986 کا وہ سفر سب سے مشکل تھا. ایک دفعہ گھر سے نکلا تو پاؤں چکر میں آگیا. پھر کوئی سفر مشکل نہ رہا. 2019 میں اماں کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں منتقل ہوئیں تو انہوں نے بہت اداس ہو کر طارق بھائی سے کہا کہ عارف تو پوری زندگی بھاگتا ہی رہا ہے، بارہ سال کا تھا کہ انگہ سے نکلا، اس سے تو ملاقات ہی نہیں ہو پائی. میں اس وقت ویانا میں تھا.

انگہ سے بھاگتے بھاگتے نکلا اور نہ جانے کیوں اور کیسے گوروں کے دیس میں پہنچ گیا.

2010 میں ولایت جانے سے پہلے زندگی رب کریم کی برکت سے موٹر وے پر چڑھ چکی تھی. 1986 میں پہاڑوں سے باہر نکلنے والا پینڈو گڈریا 2001 میں سی ایس ایس کرچکا تھا اور ملتان میں بحیثیت ڈپٹی کمشنر خدمات سرانجام دے رہا تھا. میں ایک فلمی شادی کرنے کے بعد اپنی محبتوں کے ہمراہ ایک فلمی سی زندگی گزار رہا تھا. تنخواہ میں گزارا مشکل تھا، سو اپنے دیرینہ دوست اور ماہر تعلیم ایم اے جہانگیر کے ساتھ ملتان میں برٹش یونیورسٹی کالج کی بنیاد ڈال دی تھی اور دفتر سے نکلنے کے بعد شامیں وہیں گزرتی تھیں. جنوبی پنجاب سے ہزاروں طلباء وہاں پہنچ رہے تھے. نامور ٹرینز قیصر عباس کے ساتھ دو کتابیں شائع ہوچکی تھیں اور کارپوریٹ ٹریننگ کے زریعے دو تین لاکھ کر دیہاڑی بھی لگ جاتی تھی. کچھ عرصہ قبل امریکی سفیر ریان سی کروکر اسلام آباد سے ملتان آکر ہمارے ساتھ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑا پروجیکٹ سائن کر چکے تھے. ‘تہزیبوں کے درمیان مکالمہ’ نام کی ایک کانفرنس بھی منعقد کرا چکا تھا جس میں شاہ محمود قریشی، مولانا فضل الرحمن، اعجاز الحق اور دیگر نامی گرامی لوگ شریک ہوئے تھے. عمران خان آخری وقت پر آتے آتے رہ گئے. یوں میں نے اپنے ارد گرد ایک سرکس برپا کیا ہوا تھا اور ولایت جانا، کسی بھی طرح پلان میں شامل نہ تھا، مگر ہوگیا.

اے ابن آدم
ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت
پر ہو گا وہ ہی جو میری چاہت ہے
پس اگر تو نے سپرد کر دیا خود کو اس کے جو میری چاہت ہے
تو میں بخش دوں گا تجھ کو وہ جو تیری چاہت ہے
… پر ہو گا وہ ہی جو میری چاہت ہے
اور اگر تو نے نا فرمانی کی اسی کی جو میری چاہت ہے
تو میں تھکا دوں گا تجھ کو اس میں
جو تیری چاہت ہے
پر ہو گا وہ ہی جو میری چاہت ہے
اے ابن آدم
ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت
پر ہو گا وہ ہی جو میری چاہت ہے
پس اگر تو نے سپرد کر دیا خود کو اس کے جو میری چاہت ہے
تو میں بخش دوں گا تجھ کو وہ جو تیری چاہت ہے
… پر ہو گا وہ ہی جو میری چاہت ہے
اور اگر تو نے نا فرمانی کی اسی کی جو میری چاہت ہے
تو میں تھکا دوں گا تجھ کو اس میں
جو تیری چاہت ہے
پر ہو گا وہ ہی جو میری چاہت ہے

کم وبیش دس برس ہونے کو ہیں اور میں بدستور سوچتا ہوں کہ میں یہاں کیوں ہوں. مجھے تو لگتا ہے کہ ‘ولایت’ کا رگڑا شاید ‘ولایت’ کے لیے ضروری ہوتا ہے. زہن پر لگے بہت سے جالے اتر گئے اور بہت سی کھڑکیاں کھل گئیں. میں پاکستان سے نکلا تھا، مگر پاکستان سے نکل کر پاکستان کی سمجھ آنی شروع ہوئی. پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ سبز پاسپورٹ کے ساتھ سفر کرنا کیسا لگتا ہے اور جب آپ اپنی قومیت پاکستانی بتاتے ہیں تو سامنے والے کا پتہ کیسے پانی ہوتا ہے. گوروں کے دیس میں پہنچا تو یہاں مزدوری بھی کی، کرسیاں، میزیں بھی سیدھی کیں، آکسفورڈ، کیمبرج، لندن سکول آف اکنامکس بھی پہنچا اور آکسفورڈ یونین میں بھی خطاب کیا.

پاکستان سے باہر 30 سے زائد ممالک میں یونیورسٹیوں اور کارپوریٹ تقریبات میں سینکڑوں کانفرنسوں اور ورکشاپس میں شرکت کی. امریکی صدور بل کلنٹن، ڈونالڈ ٹرمپ، صدر پرویز مشرف، برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے، بورس جانسن، آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور یوسف رضا گیلانی سمیت ٹونی رابنز، جیک کینفیلڈ، برائن ٹریسی، ٹونی بیوزان اور دیگر کئی معروف ترین بین الاقوامی سپیکرز کے ساتھ انٹرنیشنل کانفرنسوں سے خطاب کیا. کئی دفعہ اسیے مجمعوں سے خطاب کیا، جہاں سامعین کی تعداد پانچ ہزار سے پندرہ ہزار تک تھی. یہ میرے رب کریم کا فضل ہی گنا جاسکتا ہے کہ ایک بے مایہ شخص کے حلقہ احباب میں مس ورلڈ اور پرنس آف ویلز سے لے کر کئی ملکوں کے سربراہ اور دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کی فہرست میں شامل لوگ بھی موجود رہے.

ولایت پہنچتے ہی پہلا قدم فیوچر آف پاکستان کانفرنس کا انعقاد کرانا تھا جس میں دنیا کے نامی گرامی ددانشور شریک ہوئے، یہیں ایم ٹی وی کی معروف اینکر نومسلم اور عمران خان کی سابقہ گرل فرینڈ کرسٹیان بیکر سے ملاقات ہوئی، جو اس وقت بحران کے دور سے گزر رہی تھی. اس نے چھ سال اپنی کتاب “فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ” پر کام کیا تھا، جسے اب کوئی بھی مین سٹریم پبلشر ہاتھ لگانے کو تیار نہیں تھا، کہ اسلام مخالف کتابوں کی ہاتھوں ہاتھ مانگ تھی، مگر اسلام کے حق میں کتاب چھاپنے کو کوئی تیار نہیں تھا. میں اس وقت خود ایک سٹوڈنٹ تھا اور بقا کی جدوجہد میں مصروف تھا، تاہم لگ بھگ ایک سال بھرپور کوشش کی، اللہ نے غیب سے اسباب مہیا کیے اور ایک خطیر رقم جمع کرلی گئی. “فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ” کتاب شائع ہوئی اور اس نے بین الاقوامی سطح پر بھرپور پزیرائی حاصل کی. آج بھی یہ کتاب گزشتہ برسوں میں اسلام اور پاکستان پر کیے گئے بہترین کاموں میں شمار ہوتی ہے.

یادگار لمحات بہت سے ہیں. ایک یادگار لمحہ ایک طاقتور ترین برطانوی وزیراعظم سے ایک ایسا خط لکھوانا بھی شامل ہے جس میں اسے اپنے ایک وزیر کے طرزِ عمل ہر پاکستانیوں سے معافی مانگنی پڑی.

لندن میں بین الاقوامی اداروں، یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس کے ساتھ اہم پالیسی امور پر کام کیا. معروف برطانوی سماجی رہنما سید قمر رضا کے ساتھ “ورلڈ کانگریس آف اوورسیز پاکستانیز” کی بنیاد رکھی جس نے برطانوی اور پاکستانی حکومتوں کے ساتھ مل کر کئی اہم معاملات اور موضوعات پر کام کیا. میں “کنزرویٹو فرینڈز آف پاکستان” کی تشکیل کے مراحل میں بھی شامل رہا جس نے موجودہ حکومتی ٹوری پارٹی میں پاکستان کے حوالے نمایاں خدمات انجام دیں. تب کنزرویٹو پارٹی میں پاکستانی پارلیمنٹ کے ممبران کی تعداد دو تھی، تاہم حالیہ الیکشن کے بعد ٹوری پارٹی میں پاکستانی نژاد ممبران پارلیمنٹ کی تعداد پانچ ہوچکی ہے اور تین لارڈز اس کے علاوہ ہیں کہ بیسٹ وے کے چیف ایگزیکٹو ضمیر چوہدری کو بھی حال ہی میں لارڈ بنا دیا گیا ہے.

برطانیہ میں ایک یادگار چیلنج ہوم سیکرٹری اور بعد میں وزیراعظم تھیریسا مے کو پاکستانی کمیونٹی کے روبرو کرنا تھا کہ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اس خیال سے ہی بدکتی ہیں. خیر اس سلسلے میں دو سال کی جدوجہد کے بعد 2015 میں، میں انہیں وومین اچیورز کانگریس میں بلانے میں کامیاب ہوگیا. جب وہ ہال میں پہنچیں تو وہاں موجود تقریباً ایک ہزار کے آس پاس پاکستانی نژاد خواتین رہنماؤں کو دیکھ کر ششدر رہ گئیں. اسی تقریب میں اس راز سے بھی پردہ اٹھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے تھیریسا مے کی شادی کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا. ان کی وزارت عظمیٰ کی پیشین گوئی کی جو جلد تپوری ہوگئی اور بعد میں ان کا پاکستان کے حوالے سے رویہ دوستانہ اور خوش گوار رہا.

پاکستان میں پولیو کے اختتام کے حوالے سے ایک مہم کا حصہ بننے کی سعادت حاصل ہوئی اور اس سلسلے میں روٹری انٹرنیشنل اور بل گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر کام کیا. 2016 میں پاکستان دنیا میں پولیو کا آخری مورچہ قرار دیا جاچکا تھا اور اسی حوالے سے اچھوت سمجھا جاتا تھا. یہ وہ موقع تھا جب دنیا پولیو مرض کے خلاف اربوں روپے صرف کرکے نڈھال ہوچکی تھی اور ضرورت اس امر کی تھی کہ مزید فنڈز جمع کیے جائیں. میں بھی کچھ سال مقدور بھر روٹری انٹرنیشنل اور بل گیٹس فاؤنڈیشن کی اس مہم کا حصہ بنا. خوشی کی بات یہ ہے کہ چند ماہ قبل ہی عرب امارات میں اس حوالے سے دو ارب ڈالرز کیے فنڈز جمع کیے گئے ہیں. برطانیہ نے چار سو ملین سے زیادہ فنڈز مختص کردیے ہیں. اس تازہ ترین انجکشن سے امید کی جاتی ہے کہ پاکستان زیادہ سے زیادہ دو سال میں پولیو سے پاک ہو جائے گا.

میں نے بیرسٹر داؤد غزنوی کی رہنمائی میں بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹنگ حقوق کا مقدمہ بھی پانچ سال لڑا جس کا سپریم کورٹ میں فیصلہ 17 اگست 2018 کو ہوا جس کی وجہ سے ایک کروڑ سے زائد پردیسی پاکستانی، پاکستان کے سیاسی عمل میں شامل ہوئے. میں اس روز خاص طور پر سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں موجود تھا. بعد ازاں جسٹس ثاقب نثار نے میری دعوت پر دیامیر بھاشا مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈریزنگ کی مہم کے لیے برطانیہ کا دورہ بھی کیا جو کہ اپنی جگہ ایک بڑی کہانی میں بدل گیا.

ورلڈ کانگریس آف اوورسیز پاکستانیز کے پلیٹ فارم سے ہم نے پاکستانی عدلیہ کے سامنے بیرون ملک پاکستانیوں کے عدالتی حقوق کے لیے آواز اٹھائی. سات سال سے جاری اس جدوجہد کا صلہ یہ ملا کہ بالآخر 2019 میں لاہور ہائی کورٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ایک خصوصی جج تعینات کردیا جنہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے عدالتی کیسوں کو فاسٹ ٹریک بنیاد پر سننا شروع کردیا. یہ ہزاروں افراد کے لئے ایک بہت بڑا ریلیف ہے جوکہ اپنی خون پسینے کی کمائی اپنے ہی دوست احباب کے ہاتھوں لٹا بیٹھتے ہیں اور پھر عدالتی بھول بھلیوں میں سالہا سال رسوا ہوتے ہوئے اپنے جائز حقوق سے بھی محروم ہوجاتے ہیں.

میں وادی سون سکیسر کے جس حصے میں پیدا ہوا وہ پاکستان میں مارشل بیلٹ کہلاتا ہے. اعوان قبیلہ ضدی، جنگجو، لڑاکا اور جفاکش سمجھا جاتا ہے جو میدان جنگ کے حساب سے مثالی خوبیاں ہیں. پاکستان سے پہلے اور بعد میں بھی اس خطے نے بے شمار جانباز پیدا کیے. میرے والد بزرگوار صوبیدار فاضل نے برطانوی فوج میں خدمات سرانجام دیں جب ان کی عمر بمشکل چودہ برس تھی. بحیثیت باکسر انہوں نے ایک یادگار میچ تب کے برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ کھیلا تھا. میرے نانا محمد خان نے بھی دوسری جنگ عظیم میں خدمات سرانجام دیں اور ہانگ کانگ کے محاذ پر جاپانی فوج کے قیدی بھی رہے. یوں تو یہ قصے غلامی کے دور کی یادگار ہیں مگر میں نے محسوس کیا کہ برطانیہ میں جنگ عظیم اول اور دوم میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلمان فوجیوں کے کردار کو نظر انداز کردیا گیا ہے جنہوں نے برطانوی راج کے لیے بڑی شان سے اپنی جانیں دیں. میرے خیال میں برطانیہ اور یورپ میں پائے جانے والے اسلاموفوبیا اور پاکستانوفوبیا کا ایک توڑ یہ بھی ہے کہ اکیسویں صدی کےیورپ کو ان مسلمان سپاہیوں کے بارے میں بتایا جائے جنہوں نے ان کے لیے زندگی ہتھیلی پر رکھ لی. اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لئے میں نے رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ کا دورہ کیا اور برطانوی اور پاکستانی فوج کے سینئر جرنیلوں سے گفت وشنید کی. دونوں نے گرم جوشی سے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا. اس سلسلے میں میں ایک کتاب اور ایک ڈاکومنٹری پر 2017 سے کام کر رہا ہوں جو انشاءاللہ کئی حوالوں سے سنگ میل ثابت ہوگی.

ایک اور یادگار لمحہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے والی امریکی اور برطانوی خاتون کوہ پیما وینیسا اوبرائن کی جانب سے تصویر وصول کرنا تھا جب 2017 میں وہ پہلی برطانوی اور امریکی خاتون بن گئی جس نے دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے ٹو پر برطانیہ اور امریکا کا پرچم لہرایا. تاہم یادگار بات اس میں تیسرے پرچم، ایک پاکستانی جھنڈے کی موجودگی بھی تھی، جس کا ایک باعث میں بھی تھا کہ اس کی اس مہم کی فنڈ ریزنگ میں حصہ ڈالا تھا اور پاکستان میں اس کی معاونت کی تھی جس کا اعتراف وینیسا نے اپنی کتاب “ٹو دی گریٹسٹ ہائیٹس” میں کیا جو کہ اس سال ایک نامور امریکی پبلشنگ ہاؤس کی جانب سے شائع ہورہی ہے اور یقیناً بین الاقوامی سطح پر توجہ کی مستحق ٹھہرے گی.

2018 میں برٹش پارلیمنٹری ریویو نے ‘پاور 100’ کی فہرست میں مجھے یورپ کے سو بااثر ترین مسلمانوں میں شمار کیا. اسی سال یورپین اکنامک سینٹ کے صدر انگو فریڈرک نے مجھے بحیثیت اکنامک سینیٹر مدعو کیا اور سینٹ میں شمولیت کی منظوری دی. تب میں یورپین اکنامک سینٹ میں شامل ہونے والا پہلا پاکستانی تھا. 2019 میں لندن سے شائع ہونے والے گلوبل مین میگزین نے مجھے 27 ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین میں سے ‘گلوبل مین آف دی ایئر’ کا ایوارڈ پیش کیا. اسی سال لندن میں سفیر پاکستان نے بااثر ترین پاکستانی سپیکر اور رائٹر کا ایوارڈ پیش کیا. انگہ کی گلیوں میں بھاگنے والے ایک گڈریے کے لیے یہ سب کیوں اور کیسے ہوا جس کی کی قمیض کے بازو اکثر اس اس کی ناک کے لعاب سے تر رہتے تھے، یہ میرے علم میں نہیں ہے. یہ سب کسی ایسے قلم سے لکھا گیا تھا جس کی سیاہی انمٹ تھی اور جس کا ہونا، طے ہوچکا تھا.

گزشتہ دس سال میں “گوروں کے دیس میں” پاکستان اور پاکستانیوں کے حوالے سے بہت سے پانی پلوں کے نیچے سے گزرتے دیکھے. 2010 کے اوائل میں جہاں بات ہوتی وہاں برطانوی اور یورپین روز پھٹتے بموں کے بارے میں بات کرتے اور سوال کرتے کہ پاکستان کا کیا بنے گا. گاہے حالات نارمل ہوتے چلے گئے تو ہم پاکستان کی خوبصورتیوں اورحسن وجمال کے بارے میں بات کرنے لگے. کبھی کبھار برطانیہ میں کوئی پاکستانی نژاد خودکش بمبار پھٹ جاتا تو شدت پسندوں کے حوالے سے بات تیز ہوجاتی. تاہم آہستہ آہستہ برطانوی حکام اسے ہوم گرون ٹیرارزم کے کھاتے میں ڈالنے لگے. 2014 کے آس پاس درجنوں پاکستانی سفید فام بچیوں کا جنسی استحصال کرتے پکڑے گئے تو نفرت کی ایک طویل لہر نے پیچھا کیا. غیرت کے نام پر قتل کرنے، وی ای ٹی اور ویزا فراڈ کے حوالے سے خبریں آتی رہتیں. تاہم اسی برطانیہ میں صدیق خان کے لندن مئیر بننے کی مہم چلائی، اور ساجد جاوید کو وزیر اعظم بننے کا سپنا بھی دیکھا. صدیق خان مئیر بن گئے. اگلے دس سال کے اندر میں ایک پاکستانی نژاد برطانوی وزیراعظم ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں داخل ہوتے دیکھ رہا ہوں.

2013 میں، میں نے دنیا میں مانے جانے والے نامور ادارے “YouGov” کے ساتھ مل کر برطانیہ میں پاکستانیوں کے حوالے سے پہلا جامع سروے کروایا جس میں پوچھا گیا کہ گورے پاکستانیوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں. اس موضوع پر یہ تحقیق آج تک ہزاروں مقالات میں بطور ریفرینس شامل کی جاچکی ہے. نتائج حیرت انگیز تھے. سامنے آیا کہ جو لوگ پاکستانیوں سے آج تک نہیں ملے وہ ٹی وی اور اخبارات اور افواہوں کے زیر اثر پاکستانیوں کو جاہل، اجڈ اور شدت پسند سمجھتے ہیں. تاہم جن برطانویوں کی پاکستانیوں سے ملاقات ہوچکی ہے، وہ انہیں محنتی، زہین اور اپنے خاندان سے محبت کرنے والے لوگ سمجھتے ہیں. یہ بھی سامنے آیا کہ پاکستانیوں میں انٹریپرینیورشپ، یعنی بزنس میں مہارت گوروں اور دیگر برطانویوں سے تین گنا زیادہ تھی. اس امر سے حوصلہ پا کر ہم نے ورلڈ کانگریس آف اوورسیز پاکستانیز کے پلیٹ فارم سے کرسمس ڈنر کی روایت شروع کی جسے بہت اونچے پیمانے پر سراہا گیا اور جو آج کل سال کا یادگار ترین پروگرام بن چکا ہے.

برطانیہ میں پاکستان کا عمومی تاثر تیسری دنیا کی ایک طفیلی ریاست کا ہے جو اپنے حکمران طبقات کی لوٹ کھسوٹ کا نشانہ ہے. مجھے اعتراف ہے کہ مسیحا سنڈروم کے زیر اثر میں نے اپنے تئیں تحریک انصاف کو کافی پروموٹ کیا. عمران خان سے آکسفورڈ یونیورسٹی، تھنک ٹینکس اور ذاتی طور پر بھی درجنوں ملاقاتیں ہوئیں. تاہم بہت قربت پر نظر آیا کہ کسی بھی قسم کا ہوم ورک ندارد ہے اور ممی ڈیڈی فینز کا ایک ٹولہ ہے جو ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہے. حکومت ملنے پر اسی طرح کی پرفارمنس نظر آئی جیسی توقع تھی. تاہم دیگر دونوں پارٹیوں کو بھی بہت اندر سے جانتے ہوئے، میرا پلڑا تحریک انصاف کے حق میں جھکا رہا، یہ الگ بات کہ وہ بنیادی تضادات کا شکار ہو کر وہ بھی کان نمک میں جا کر نمک ہوگئی اور سفید گھوڑے پر سوار سورما کی تھیوری بھی موت کے گھاٹ اتر گئی.

پاکستان کے کچھ مسائل دنیا سے الگ، اپنے جغرافیے اور مجبوریوں کے مسائل ہیں. یہاں میں شہزاد حسین کا حوالہ دینا چاہوں گا جو کہتے ہیں کہ دنیا میں امن، سویلین بالادستی اور سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے، ممالک کی تین کیٹیگریز ہیں:

پہلی کیٹیگری میں وہ ملک شامل ہیں جو سپر پاور ہیں، رہے ہیں یا بننے کی دوڑ میں شامل ہیں جیسے کہ امریکہ، روس، چین وغیرہ. دوسری کیٹیگری میں وہ ممالک جن کو دوسرے ممالک یا پڑوسیوں سے سیاسی، جغرافیائی یا معاشی سطح پر اپنی بقاء کا چیلنج درپیش ہے جیسے کہ پاکستان، اسرائیل، بھارت وغیرہ. تیسری کیٹیگری میں وہ ممالک شامل ہیں جنکے وجود کو کوئی خطرہ ہے نہ ہی وہ سپر پاور بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں جیسے کہ سوئٹزرلینڈ، ناروے، سوئیڈن، کینیڈا، آسٹریلیا وغیرہ

دنیا میں سب سے زیادہ تعداد تیسری کیٹیگری کے ممالک کی ہے۔ حقیقی جمہوریت یا سویلین بالادستی آپ کو زیادہ تر تیسری کیٹیگری کے ممالک میں میں ملے گی۔ پہلی اور دوسری کیٹیگری میں یا تو دکھاوے کی جمہوریت ہوگی یا سرے سے جمہوریت ہوگی ہی نہیں۔ ان ممالک میں اسٹیبلشمنٹ (ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس ، بگ بزنس، میڈیا ) انتہائی طاقتور اور اثر و رسوخ کی حامل ہوتی ہے-تیسری کیٹیگری کے ممالک کو اگر پہلی یا دوسری کیٹیگری کے ممالک جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑجائے، تو انہیں بھی حقیقی جمہوریت کی بعض قدروں کو معطل کرکے سیکیورٹی اسٹیٹ بننے کی طرف جانا پڑتا ہے. جس طرح نائن الیون کے بعد امریکا تبدیل ہوگیا.

پاکستان کے حوالے سے، پاکستان کے باہر مجھے دنیا میں جتنے بھی بڑے دانشور ملے، حال ہی میں دنیا سے رخصت ہونے والا ایک اچھا دوست پروفیسر سٹیون کوہن ان میں سر فہرست تھا. وہ مجھے کہا کرتا تھا کہ ‘پاکستان از ٹو نیوکلیئر ٹو فیل. پاکستان ایک ملک کی حیثیت سے قائم رہے گا. ہاں یہ ضرور ہے کہ تمہاری گاڑی چلتے چلتے دلدل میں پھنس جائے گی، سب کو نیچے اتر کر زور لگانا ہوگا، پھر تم موٹر وے پر چڑھ جاؤ گے اور بگٹٹ بھاگنے لگ جاؤ گے. اور جیسے ہی ٹیک لگا کر زرا آرام کرنے لگو گے، پتہ چلے گا کہ ایک بار پھر کسی دلدل میں اتر آئے ہو. تمہارے ریاستی تضادات اتنے زیادہ ہیں کہ کیچڑ سے موٹر وے کے مراحل آتے رہیں گے. میں کوئی نجومی نہیں مگر سیدھی سی بات یہ ہے کہ اگر پاکستانی نہیں بدلیں گے تو جو پاکستان نظر آرہا ہے وہ بھی نہیں بدلے گا. میں پاکستانی سٹیٹ کرافٹ میں عمران خان کی وجہ سے کوئی جوہری تبدیلی نہیں دیکھ رہا. تاہم بھارت میں مودی کی وجہ سے جوہری تبدیلی آ چکی ہے اور پورے خطے کو متاثر کرے گی. اب مسلمان بھینسے کا ہندو بھینسے سے مقابلہ ہے اور حالات مزید تلخ ہوں گے. امریکی جتنا بھی چاہیں دونوں ملکوں کے درمیان سمجھوتہ نہیں کراسکتے. یہاں میں اپنی بات پھر دوبارہ دہراؤں گا. تم پاکستانی، اپنی کنپٹی پر بندوق رکھ کر دنیا کے ساتھ ڈائیلاگ نہیں کر سکتے کہ اگر میری بات نہ مانی گئی تو میں خودکشی کر لوں گا. بدقسمتی سے جنوبی ایشیا تاریخ کے ہاتھوں یرغمال ہے اور میں اگلے سو سال بھی بھارت اور پاکستان کو اسی طرح ایک دوسرے پر گولیاں چلاتے دیکھ رہا ہوں“۔

“گوروں کے دیس سے” ،گزشتہ دس سال کے کالمز اور تحریروں کا انتخاب ہے جو روزنامہ ایکسپریس، نئی بات یا سوشل میڈیا پر لکھے گئے. یہ ولایتی زندگی، طرز فکر اور ولایتی شب وروز کا احوال ہے. میں ان تحریروں کا کریڈٹ برادر بزرگ طارق انیس، معروف صحافیوں ایاز خان، لطیف چوہدری، نعیم بلوچ، عامر ہاشم خاکوانی، اور ماہر نفسیات ڈاکٹر صداقت علی اور نامور سپیکر اور لکھاری قیصر عباس کو دیتا ہوں.

“گوروں کے دیس سے” ، دورافتادہ گاؤں انگہ سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے گڈریے کے زہنی سانچے کی روداد ہے جسے ولایت میں کئی اعتبار سے اعلیٰ ترین مقامات اور شاہی گھرانے تک رسائی حاصل ہوئی، مگر اس کا عدسہ پاکستانی ہی رہا. یوں یہ گوروں کے دیس سے زیادہ اپنے دیس کی ہی کہانیاں ہیں. انگہ کے سفر سے ولایت کے سفر تک آج تک جتنے در کھلے یا جتنے بھی کھلیں گے، اس کا میری لیاقت، کوشش یا کاوش سے کم ہی تعلق ہے، یہ سب اس مولا کی دین ہے جس نے انگہ کے جنگل میں بکریاں چرانے والے ایک گڈریے کو عجائبات عالم دکھانے کے لیے طلسم ہوش ربا کے دروازے کھول دیئے.

خس خس جناں قدر نہ میرا ،میرے صاحب نوں وڈیایاں
میں گلیاں دا روڑا کُوڑا، محل چڑھایا سائیاں!!!

( گوروں کے دیس سے – باب اول)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *