طاہر چوہدری ایڈووکیٹ کے قانونی مشورے

سوال:کتنی رقم کے چیک پر ایف آئی آر درج ہوتی ہے؟ایف آئی آر کے اندراج کیلئے کوئی رقم مقرر ہے کہ کم از کم اتنی مالیت کا چیک ہو تو ہی اس پر ایف آئی آر کا اندراج ہوگا؟
جواب:چیک باؤنس ہونے پر ایف آئی آر کے اندراج کیلئے کسی بھی مخصوص یا کم از کم رقم کی کوئی شرط مقرر نہیں ہے۔کسی بھی قانون میں ایسی کوئی شق نہیں کہ کم از کم اتنی مالیت کا چیک ہوگا تو صرف تب ہی اس کیخلاف ایف آئی آر درج ہو گی۔یہ 5 ہزار کا چیک باؤنس ہونے پر بھی ہوسکتی ہے اور 5 لاکھ،5 کروڑ کے چیک پر بھی۔۔۔

سوال:میرے خاوند نے میری اجازت،یونین کونسل سے سرٹیفکیٹ لیے بغیر دوسری شادی کرلی ہے۔میرے دو بچے ہیں۔میرا اور بچوں کا خرچہ پورا نہیں کرتا اور دوسری شادی کر لی۔اسکے خلاف کارروائی کیسے ہوگی؟ سزا کیا ہوسکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں :طاہر چوہدری ایڈووکیٹ کے قانونی مشورے
جواب:آپ مجسٹریٹ کی عدالت میں استغاثہ دائر کرسکتی ہیں۔شوہر نے اجازت کے بغیر دوسری شادی کی ہے تو اسے ایک سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
نیز ایسی صورت میں شوہر آپ کا سارا حق مہر،معجل یا غیر معجل فوری طور پر ادا کرنے کا پابند بھی ہو گا۔

سوال:میرے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی گئی۔میں اس کیس سے بری ہوگیا۔میں جھوٹی ایف آئی آر درج کرانے والے کیخلاف کیا قانونی کارروائی کر سکتا ہوں؟
جواب:آپ جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے والے کیخلاف کارروائی کیلئے مجسٹریٹ کی عدالت میں استغاثہ دائر کرسکتے ہیں۔مجسٹریٹ پولیس کو جھوٹا پرچہ درج کرانے والے کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 کے تحت کارروائی کا حکم دے گا۔پولیس بذات خود جھوٹی ایف آئی آر درج کرانے والے کیخلاف مقدمہ درج نہیں کرسکتی۔قانونی فورم مجسٹریٹ کی عدالت ہے۔جس کی اجازت اور حکم سے پولیس حرکت میں آئے گی۔

سوال:پولیس ملزم کو کتنے عرصے تک اپنی حراست میں رکھ سکتی ہے۔جسمانی ریمانڈ کتنے عرصے کا دیا جاسکتا ہے؟
جواب:کوئی بھی مجسٹریٹ کسی بھی ملزم کا زیادہ سے زیادہ 15 دن کا فزیکل ریمانڈ دے سکتا ہے۔ان 15 میں سے بھی ایک دن پہلے ہی گزر گیا ہوتا ہے جب پولیس 24 گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش کرتی ہے۔15دن سے زیادہ کسی بھی ملزم کو پولیس کسٹڈی میں نہیں دیا جاسکتا۔ملزم کو جوڈیشل کر دیا جائے گا۔صرف نیب قانون کے تحت ملزم کو 90 دن کے جسمانی ریمانڈ پر دیا جاسکتا ہے۔

سوال:کیا کسی خاتون ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کسٹڈی میں دیا جاسکتا ہے؟خاتون ملزم کو تھانے میں رکھا جاسکتا ہے؟
جواب:صرف قتل یا ڈکیتی کی ملزم خاتون کا جسمانی ریمانڈ دیا جاسکتا ہے۔اس صورت میں بھی جیل سپرنٹنڈنٹ اور ایک افسر کی موجودگی میں تفتیش ہوگی۔ویمن پولیس اسٹیشن کے علاوہ کسی بھی مقدمے میں پولیس کا کسی خاتون کو تھانے میں بٹھا لینا غیر قانونی ہے۔اسی طرح کوئی بھی عدالت قتل یا ڈکیتی کے علاوہ کسی بھی اور مقدمے میں خاتون ملزم کا جسمانی ریمانڈ نہیں دے سکتی.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *