عشق منجدھار:انیلا رزاق/تبصرہ محسن علی

انیلا رزاق بنیادی طور پر ایک شاعرہ ہیں،لیکن اُن کی پہلی کتاب یہی ناول ہے،جو اُردو ادب میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہوگا ۔۔
اس ناول کے نام سے ظاہر ہے یہ ایک عشق کی کہانی ہے ۔مصنفہ  نے اس میں ہمارے سماج کےجاگیرداری  نظام کی فرسودہ روایات کو ہدف بناتے  ہوئے ، سماج میں پنپتے فطری جذبہ محبت کے طلاتم کو دکھایا ہے ۔

میرے نقطہ ء نظر سے یہ کہانی اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں مر ذات کے دو زاویے دکھائے گئے ہیں ،صرف ایک انتہا کو ہی کہانی کا موضوع نہیں بنایا گیا۔عورت کے معاملے میں بھی ایک مخصوص رویہ جو ہمارے سماج میں مشرق و مغرب کی تفریق کا ہے،   اُسکی بھی نشاندہی خوبصورتی کیساتھ  کی گئی ہے ۔ ساتھ ساتھ عورت جب اپنی زبان بند رکھتی ہے تب خاص کر سماج میں اُس سے عورت ذات کو کس قدر نُقصان ہوتا ہے وہ باور کروانے کی کوشش کی ہے تو دوسری جانب عورت جب اپنا حق لینے پر آتی ہے تو وہ کسی بھی مرد کی طرح دلیر ہوجاتی ہے یا یوں کہہ  لیں برابری پر آجاتی ہے ۔

یہ کہانی بہاولپور کے خاندان  میں پنپتی ہے   اور اس کہانی کے ہر کردار کو مصنفہ  نے بڑی خوبصورتی سے   قلم بند کیا ہے۔ انیلا رزاق نے اس ناول میں شاعرہ ہونے کی حیثیت سے اپنے کچھ  دوستوں کی شاعری کا بھی   موقع محل کی مناسبت سے استعمال کیا ہے، ساتھ ایک روایت ڈالنے کی کوشش کی ہے گویا کہ ایک نثر نگار اپنے دوستوں کو آگے بڑھانے پر مائل دکھتا ہے اور سراہتا ہے ۔

میری خواہش ہے انیلا کے قلم کی جولانیاں یونہی قائم و دائم رہیں ، وہ بہترین ادب تخلیق کرتی رہیں ،اور اُردو ادب میں اور سماج میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں، تاکہ ہم فرسودہ نظام سے نکل سکیں ۔۔میری نیک تمنائیں  ہمیشہ میری بڑی بہن انیلا رزاق کے ساتھ رہیں گی۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *