سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط37

SHOPPING

غریب کے خوابوں نے بُنیں کہانیاں
اپنی ہی خاک و خون میں لُتھڑی کہانیاں
شعلوں میں جلیں راکھ ہوئیں کہانیاں
ظالم ہوائیں اڑاتی پھریں کہانیاں
کہاں غلطی ہوئی۔کِس گناہ کی سزا ملی۔ہمارے اہداف میں تو کہیں کھوٹ نہ تھا۔مخلص تھے ہم۔ لوگ بھی جذبوں سے سرشار تھے۔انہوں نے بغاوت کی حمایت ہر اُس چیز سے کی جس کے وہ مالک تھے۔
یہ کرنل عفیف محمد سلیما تھا۔جس کے گلے میں آواز پھنستی تھی۔جس کے چہرے پر حُزن و یاس تھا۔
سچ تو یہ ہے کہ جو لوگ اسلحہ یا ہتھیاروں کے مالک تھے انہوں نے وہ ہمارے حوالے کردیے۔بریگیڈ کا بجٹ 88,000شامی پاونڈز ماہانہ سے بھی بڑھ گیاتھا۔وہ سب جنہیں کسی نہ کسی جرم میں جلاوطن کردیا تھا۔ انہوں نے حوصلہ بڑھاتے ہوئے پیغامات بھیجے۔

”گبھرانا نہیں۔ہم اپنے ملک کے لئیے ہر چھوٹے سے چھوٹا کام کریں گے دنیا بھر میں پھیلے بااثر شامیوں سے التجا کریں گے کہ تمہارے مادر وطن پر یہ بڑا کڑا وقت ہے۔ اس کا ساتھ دو۔“
کرنل عفیف نے اپنے مخاطب کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے سلسلہ کلام جاری رکھا۔
حقیقتاً انہوں نے جی جان سے ساتھ دیا۔ وہ سب ہمیں پیسہ بھیج رہے تھے۔عرب ریاستوں کا کردار بھی اپنی جگہ بڑا اہم تھا۔ خصوصاً خلیجی ریاستوں کا کہ اُن کی طرف سے رقوم ملنا شروع ہوگئیں۔لیکن ہوا کیا؟تھوڑے ہی عرصے بعد انہوں نے اپنا (ہدف) ہم پر مسلط کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔
دمشق میں ایک بہت بڑی ایف ایس اے(فری سیرئین آرمی) بریگیڈمیری زیر کمان تھی۔ غوطہ کے ایک ضلع (مودامیہ) میں 3500سے زیادہ مسلح جنگجوؤں نے ڈٹ کر ساتھ دیا۔ پہلے سال تو وہیں احتجاج اور مزاحمت کی تاریخ لکھتے رہے۔
جولائی 2012کے دن تھے۔ہمارے عزائم جوان تھے۔ہمیں کامیابیاں نصیب ہورہی تھیں۔ ہم صدارتی محل سے محض تین کلومیٹر دور تھے۔حکومتی نظام ٹوٹ کر بکھر جانے کے قریب تھا۔
لیکن جب طیاروں نے دمشق کے مرکز کو نشانہ بنایا تو ہمیں منظرہ جوکہ دارالحکومت کے جنوب مغربی حصّہ میں ہے،کی طرف فرار ہونا پڑا تھا۔جہاں ہمیں درختوں کے جھنڈ میں بڑی جانفشانی سے کھودی گئی خندقوں میں چھپنا پڑا۔دعائیں مانگتے اور اس بات کا انتظار کرتے کہ فوجی آگے بڑھ جائیں تو باہر نکلیں۔
احمد ندیم کیا میری یادوں سے کبھی محو ہوسکتا ہے۔کبھی نہیں۔وہ نوجوان لڑکا جس کی آنکھوں میں ولولے تھے۔ جس کے وجود میں بجلیاں تھیں۔ احمد ندیم میرے سا تھ ہی ایک خندق میں تھا۔جب سنائپر کی طرف سے ایک گولی اس کے سر میں آکر لگی۔اس نے میرے بازوؤں میں جان دی۔ اس کی عمراُس وقت صرف 22سال تھی۔ نوگھنٹوں تک میں اس کی لاش کے ساتھ خندق میں تھا جبکہ اس دوران فضائی حملے اور توپوں کی گولہ باری جاری تھی۔میں اسے تکتا رہا جبکہ وہ مرچکا تھا۔یہ وہی لڑکا تھا جو چند گھنٹوں پہلے میرے ساتھ مل کرکھانا کھارہا تھا،باتیں کررہا تھا۔کامیابیوں کے امکانات پر مجھ سے سوال جواب کررہا تھا۔ ہم دمشق میں پہلے احتجاجی مظاہرے سے اکٹھے تھے۔اس نے آخری لفظ جو مجھے کہے تھے وہ یہ تھے:
”کرنل اتنا احسان ضرور کرنا مجھے ایک ایسے شامی کے طور پر یاد رکھنا جس نے اپنے ملک کی خاطر جان دی۔“
آدھی رات کے بعد جب گولہ باری قدرے کم ہوئی تب ہم اسے ایک زیتون کے درخت کے نزدیک دفنانے کے قابل ہوئے۔
شامی لوگ ہم سے متنفر ہونا شروع ہوئے۔میں تو یہی کہوں گا کہ FSA(فری سیرین آرمی) آدھے راستے سے ہی بھٹک گئی تھی۔جب داعش، النصرہ فرنٹ،باغی شامی اسلامی گروپ اور ایسی ہی چند اور شدت پسند تنظیمیں آکر اُس سے ملیں۔
شامیوں نے ایف ایس اے سے متنفر ہونا شروع کردیا تھا۔جب بغاوتوں نے شدت پکڑی تو لوگوں نے ہمیں کوسنا اور برا بھلا کہنا شروع کردیا

ط کہ ہم نے حکومتی نظام کے خلاف بغاوت کی۔ان کے خیال میں ہم ہی وہ وجہ تھے جن کی وجہ سے بنیاد پرست جنگجوؤں کو ہمارے ملک میں آنے کا موقع ملا۔ لیکن ہم تو آزادی چاہتے تھے۔فرقہ واریت پر مبنی تنظیم داعش نہیں۔
کچھ لوگ اب یہ خیال کرتے ہیں کہ بغاوت سے پہلے کی زندگی زیادہ اچھی تھی۔ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا کوئی بہن بھائی نہیں کھویا یا۔ جن کی کار کو دھماکے سے اُڑایا نہیں گیا تھا۔ یا ان کے گھر مسمار نہیں کئیے گئے تھے۔اُن کا کوئی بچہ اٹھایا نہیں گیا۔ میرے بہت سے ایسے عزیز دوست،محلے دار اور جاننے والے ہیں جو جب اکٹھے بیٹھتے ہیں یا خبریں دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں۔
”کتنے افسوس کی بات ہے ہم اچھی بھلی زندگی گزارہی رہے تھے نا۔“
یہ بات صحیح ہے کہ اگرچہ ہمارے پاس شان و شوکت تو نہ تھی مگر مناسب مقدار میں خوراک تو تھی۔امن تو تھا۔
اب کیا مجھے یہ چاہیے کہ میں شہیدوں کے لئیے بغاوت جاری رکھوں اور حکومتی بمباری کے نیچے اور زیادہ لوگوں کو مرنے دوں؟کیا مجھے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیے؟یا حکومتی فوج کے سامنے اس امید کے ساتھ ہتھیار ڈال دینے چاہیں کہ ایک دن ان لوگوں میں سے ہی ایک بچہ ایک اور شامی بغاوت کی راہنمائی کرئے گا کیونکہ ہماری بغاوت خدا کی لعنت کا شکار ہوئی۔
ہم نے محسوس کیا ہے کہ سمجھدار اور چالاک قومیں اپنے اپنے مفادات کے تحت کام کرتی ہیں۔آپ کہیں وہ مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے ساتھ کوئی وابستگی رکھتی ہیں۔ایسا ہرگز نہیں۔ترکی ہمیشہ شام کے معاملات میں مخل رہنا پسند کرتا ہے۔اب بھی جب ملک آگ اور خون میں نہا رہا ہے۔ اُسے اپنے طویل کوئی نو سو میٹر لمبے بارڈر کو خاردار بنانے کی مصیبت پڑی ہوئی ہے کہ وہ ایسا کرنے سے مہاجرین کو روک سکے۔بقول ترکی سمگلروں کا ناطقہ بندکرسکے۔پہاڑیوں میں گھری یہ اونچے نیچے راستوں والی سرحد اپنی دیواری تکمیل کے بعد یقینا شام کو ایک بڑے قید خانے میں بدل دے گی۔
شاید میں بہت جذباتی ہورہا ہوں۔لیکن کیا کروں لبنان نے بھی اپنے بارڈر بند کردئیے ہیں۔
بہر حال ان ملکوں کے اپنے مسائل بھی بے شمار ہیں۔اب حال ہی میں میں نے ترکی بارڈر پر موجود فوجی (چیک پوائنٹس)یعنی ناکوں سے گزرنے کے لئیے 3000ڈالر کے عوض جعلی شناخت حاصل کرنے کے بعد دمشق چھوڑ دیاہے۔میں اب ترکی کے باب ال سلامہ کیمپ میں ہوں اور واپس جانے کی بجائے کسی اور ملک روانہ ہونے کے لئیے تیار ہوں۔
جو لوگ حکومتی فوج سے لڑئے وہ کبھی بھی حکومتی فوج کے ساتھ مفاہمت نہیں کریں گے۔جب ایک دفعہ انہوں نے آزادی کا مزہ چکھ لیا ہے تو وہ ذلت کی طرف کب واپس لوٹیں گے۔اگر تم ایک بار اپنا سر جھکالو گے تو پھر یہ جُھکا ہی رہے گا۔

SHOPPING

٭٭٭

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *