معاشرتی نظم میں جماعتوں کا کردار۔۔اسلم اعوان

SHOPPING

مسلم لیگ نواز کی طرف سے موجودہ سیاسی بندوبست کے خلاف مزاحمت ترک کردینے کے بعد قومی سیاست میں اک گوناں ٹھہراؤ  کے امکانات پیدا ہونے لگے تو مرکزی دھارے کے فعال میڈیا نے اپنی پوری توانائیوں کو حکمراں جماعت کے داخلی اختلافات کو ابھارنے اور کمر توڑ مہنگائی کی تلخیوں کو نمایاں کرنے پہ مرتکز کرکے رائے عامہ کے اضطراب کو دوام بخشا۔یعنی اپوزیشن جماعتیں چار وناچار اگر پی ٹی آئی گورنمنٹ کو اپنی”صلاحیتوں“ کو آزمانے کا موقع  دینے پہ رضامند ہو بھی جائیں تو سوسائٹی کے پیچیدہ عوامل حقیقی ایشوز سے صرف نظر نہیں کرسکتے۔ایک ایسا سیاسی بندوبست جہاں حکمراں اشرافیہ کے علاوہ اپوزیشن بھی سلیکٹڈ ہو اورہر سطح کے سیاسی کردار متعین کردہ دائروں میں محو خرام رہنے پہ مجبور ہو جائیں تو وہاں قدرتی طور پہ عوامی امنگوں اور انسانی جذبات کی ترجمانی کا عمل لکھاریوں کے رشحات قلم،شاعروں اور ادیبوں کی پرواز خیال اورسماجی سائنسدانوں کے توانا افکار سے منسلک ہو جاتا ہے۔جیسے یورپ میں تحریک اصلاح اور نشاة ثانیہ کا غیرجمہوری عہد سپائی نوزا، والٹئیر،روسو،شوپنہار، نطشے اور امانومل کانٹ جیسے عظیم فلسفیوں،شعرا اور ادیبوں کی لازوال قربانیوں اور نور فکرسے درخشاں نظر آتا ہے۔

متذکرہ بالا سب لوگ سیاسی جدوجہد کے نہیں بلکہ سماجی عمل کی پیدوار تھے۔آج بھی سیاسی جماعتوں کی قیادت کے مابین گٹھ جوڑ کے باعث پیدا ہونے والے خلاءکو پُر کرنے کی خاطر ایسے ہی کردارسامنے آ سکتے ہیں۔ہم نے دیکھا کہ حکومتی پالیسی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ناقابل برداشت مہنگائی،خاص کر آٹا بحران کی سنگینی پہ سیاسی جماعتوں نے مصلحت آمیز خاموشی اختیار کی تو قومی دھارے کا فعال میڈیا،شعرا اورسماجی کارکن عوامی دکھوں کے مداوا کےلئے آواز اٹھانے لگے۔سیاست اور سماجیات کی سائنس کو سمجھنے والے ماہرین اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ فعال معاشروں کو سنبھالنے کےلئے جہاں ریاستی اداروں کا کردار اہم ہوتا ہے وہاں انسان کے تغیرپذیر فکری دھاروں کو کنٹرول کرنے کےلئے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا ٹول بھی ناگزیر ہے،اگر سیاسی جماعتیں نہ ہوتیں تو کئی متنوع افکار اورطاقتور خیالات ہمہ وقت سماج کو دگرگوں رکھتے،جس کی وجہ سے قانون کی تادیب اور ریاست کی قوت قہرہ کند ہو جاتی کیونکہ بھرپور انسانی معاشروں میں سمندر کی لہروں کی مانند ہر وقت فکر وخیال میں مد وجزر برپا رہتا ہے جسے ریاستی قوت کے ذریعے کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوتا،اس لئے ہر اتھارٹی رائے عامہ کے اسی فطری نشیب و فراز کو کمانڈ کرنے کےلئے معاشروں کو طبقاتی و نطریاتی تقسیم اور مذہبی گروہوں کی طاقتورعصبیتوں میں مقید رکھتی ہے۔

کوئی بھی ریاست بائیس کروڑ لوگوں کا براہ راست سامنا نہیں کر سکتی اس لئے وہ سیاسی،مذہبی اور طبقاتی سطح پہ نمائندگی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تاکہ مختلف گروہوں کی گنی چنی لیڈرشپ کوسنبھال کے انبوہ کثیر کو مسخیر کرسکے۔ہندوستان جیسے وسیع و عریض اور متنوع سماج کو کنٹرول کرنے کی خاطر انگریز سرکار نے بھی بلآخر سیاسی اور مذہبی تحریکوں کو فعالیت کے مواقع فراہم کئے تاکہ کروڑوں انسانوں کے ہر لحظہ وسعت پذیر مشاہدات،اجتماعی زندگی بارے بدلتے تصورات اور پیچیدہ خیالات کے بہتے دھاروں کوسیاسی و مذہبی جماعتوں کے مقدس نظریات اور نصب العین کے تابع لا کر سماجی نظم و ضبط قائم کیا جا سکے۔

اگر ہم برصغیر کی تاریخ پہ نظر ڈالیں تو انگریزوں نے کانگریس،مسلم لیگ اور ان سے ملتی جلتی سیاسی پارٹیوں کی افزائش میں مدد دیکر جہاں ہمیں موہن داس گاندھی،جواہر لعل نہرو اور محمد علی جناح کی صورت میں بہترین لیڈرشپ فراہم کی وہاں اس نے انہی مقبول سیاستدانوں کے عوامی اثر و رسوخ کوبروکار لاکر لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو بلاواسطہ طور پہ کنٹرول کرنے میں بھی کامیابی پائی۔حتّی  کہ انگریز گورنمنٹ نے مذہبی رجحانات کی حامل جن تحریکوں کی حوصلہ شکنی کرنی تھی انہیں بھی پہلے ابھرنے کی مہلت دی تاکہ ان تحریکوںکی مستند لیڈرشپ کوریاستی مشینری کے ذریعے کچل کے پیروںکاروں کے حوصلے توڑے جا سکیں۔انگریزوں کے بعد اس خطہ کی ہر ریاستی مقتدرہ نے منصوبہ بندی کے تحت بتدریج سیاست کے اسی آرٹ کو فروغ دیکر یہاں کی معاشرتی فعالیت کو کنٹرول کرنے میں کامیابی پائی۔ہماری مقتدرہ نے انگریز کے انہی تجربات سے فائدہ اٹھانے کی خاطر ملک بھر میں خاص طور پہ مذہبی تحریکوں کی آبیاری کرنے کے علاوہ خانہ ساز سیاسی جماعتوں کی تشکیل کے ذریعے ایسی لیڈرشپ پیدا کی جس کے تال میل سے سماج پہ اپنا نفسیاتی کنٹرول قائم کر لیا تاہم اس سب کے باوجود ماضی میں بھی اور آج بھی ہمارے سماج کے سیمابی عناصر یعنی شعرا،اُدبا اور صحافیوں نے بنیادی انسانی حقوق کے حصول اور سیاسی آزادیوں کی بحالی کےلئے لازوال جدوجہد کر کے نہایت دلیرانہ انداز میںریاستی استبداد کا مقابلہ کیا۔

ایسے شوریدہ سر لوگوںمیں فیض احمد فیض،حبیب جالب،نعیم صدیقی اور احمد فراز جیسے کئی باکمال شاعر اورنثار عثمانی جیسے عظیم صحافی شامل تھے،جنہوں نے ریاستی جبریت کی تاریکیوں کے دوران روح عصرکی ترجمانی کر کے ہمارے سماج کو ضمیر کی قید سے نجات دلانے کی کوشش کی۔ضیا الحق کی آمریت کے زمانہ میں جب سیاسی قیادت تہہ خاک سو گئی اورمذہبی قوتیں استبداد کی حمایت میں مفاد تلاش کر رہی تھیں اس زمانہ میں فیڈرل یونین آف جنرنلسٹ آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت بن کے سامنے آئی۔اب بھی ریاستی مقتدرہ تھوڑی سی ردّ و بدّل کے ساتھ انسانی افکار اور سیاسی نظریات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو گرفت میں رکھنے کی خاطر سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ کو سنبھال کے معاشرے کو کنٹرول کر رہی ہے۔

ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد سندھ کے سماج میں مقتدرہ کے خلاف پنپنے والی ناراضی کو پیپلزپارٹی جیسی مقبول جماعت کی لیڈر شپ کو رام کر کے مینج کر لیا گیااور پنجاب میں پائے جانے والے اضطراب کو شریف خاندان کے ساتھ ڈیل کے ذریعے بے اثر بنایا جا رہا ہے۔بلاشبہ ہر استبدادی قوت فکری و سیاسی آزادیوں کے حصول کےلئے بیقرار جذبات کی رخ گردانی کی خاطر ایسی ہی سیاسی جماعتوں اور مذہبی تحریکوں کی آبیاری کرتی ہے جن کی مخصوص لیڈر شپ کے ذریعے انبوہ کثیر کو مینج کیا جا سکے۔لیکن شعور انسانی کی نورانی کرنیں،مشاہدات کی قوت اور افکار کے بہتے دھارے ذہنی ارتقاءکےلئے متبادل راستہ تلاش کر لیتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ اس عظیم مقصد کےلئے فطرت نے ہمیشہ،شاعروں،ادیبوں،لکھاریوںاور فلسفیوں کا انتخاب کیا۔

SHOPPING

اس وقت مملکت خدا داد میں جہاں حکومت کے سلکٹڈ ہونے کا تاثر عام ہے وہاں اپوزیشن کی بڑی جماعتیں،علاقائی گروپوں اور متعدد مذہبی گروہوں(مولانا فضل الرحمٰن کے سوا) کی لیڈرشپ بھی سلکٹڈ دیکھائی دیتی ہے،یعنی تمام جماعتیں طاقتور حلقوں کی منشا کے مطابق کردار ادا کرکے سوسائٹی کے تغیر پذیر افکار و نظریات اور جذبات کو پا با زنجیر رکھنے میں مدد گار بنی بیٹھی ہیں۔البتہ رسی کودنے کی مشق کی طرح ان کی لیڈر شپ کو محدود دائروں کے اندر سیاسی اچھل کود کی اجازت ضرور ہوتی ہے لیکن یہ لوگ فکر و خیال کی وسعتوں میں جھانکنے یا سماج کی وسیع دنیا میں گام فرسائی کے قابل نہیں رہتے بلکہ انکی لیڈنگ پوزیشن کو انسانی شعور کی وسعتوں کو محدود اور فکری آزادیوں کوکنٹرول کرنے کا ٹول بنا لیا جاتا ہے۔قصہ کوتاہ،اگرعوام فلاح چاہتی ہے توپھر اسے سیاسی جماعتوں کی تقلید کا طوق گلے سے نکال کے سماجی جدلیات کا حصہ بننا ہو گا۔

SHOPPING

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *