یومِ کشمیر اور ہماری حکومتی پالیسی۔۔انجینئر عمران مسعود

صبح 5 فروری کی خبروں میں بتایا جا رہا تھا کہ آئی ایس پی آر نے ہوم کشمیر کے لیے نیا نغمہ جاری کر دیا. گزشتہ 73 برسوں سے یہ متنازعہ علاقہ اقوام عالم کی توجہ کا خواہاں ہے . اقوام متحدہ میں 18 سے زائد قراردادیں پیش ہو چکی لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے. بلکہ بھارتی ہٹ دھرمی میں اضافہ ہوتا گیا. اس معاملے میں ہماری حکومتوں کا کردار کیا رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 5 فروری 1989 سے لیکر 1991 تک جہاد کشمیر اپنے بام عروج پر ہونے اور آزاد کشمیر میں ہزاروں مجاہدین کی موجودگی کے باوجود حکومت پاکستان کی اس وقت تک کوئی سرکاری کشمیر پالیسی وجود میں نہیں آئی تھی کہ وہ کشمیری مجاہدین کی کس نوعیت اور کس حدتک باقاعدہ مدد کرے۔ اس وقت مرحوم سردار عبدالقیویم خان صدر آزاد کشمیر، سردار سکندرحیات خان وزیر اعظم آزاد کشمیر کی کاوشوں اور پاک آرمی کے باہمی اتفاق سے آپریشن بالا کوٹ کے نام سے کشمیری مجاہدین کو کچھ ہتھیار اور سرسری تربیت کا انتظام کیا گیا تھا۔ حکومت وقت اس دوران گو مگوں کشمیریوں کی کچھ حد تک سفارتی حمایت کررہی تھی مگر باقاعدہ سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر کشمیریوں کی ہرقسم کی مدد کا ابھی تعین نہیں ہوا تھا۔اس وقت ابھی پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھی کشمیریوں کی کھل کر حمایت میں نہیں آئی تھیں۔ اس وقت یہ جرأت جماعت اسلامی پاکستان اور اسکے امیر مرحوم قاضی حسین احمدنے ناصرف جماعت اسلامی پاکستان بلکہ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کو مجاہدین کشمیر کی ہر طرح کی دیکھ بھال اور سیاسی و اخلاقی مدد کے لیے متحرک اور منظم طریقے سے مجاہدین کشمیر کے ساتھ جوڑا تھا بلکہ پورے پاکستان میں جہادکشمیر کے لیے آگاہی اور عوامی رابطہ مہم جاری کی تھی حکومت پاکستان اورپاکستانی سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے اثر ورسوخ سے کشمیریوں کی سیاسی حمایت پر آمادہ کیا تھا اسی سیاسی مدد گاری مہم کا ایک اہم نقطہ یہ تھا کہ قاضی حسین احمد نے اس وقت کی مسلم لیگی حکومت کو قائل کرلیاکہ کشمیری قوم کا مورال بلند رکھنے اور حکومت پاکستان کی طرف سے خیر سگالی اور حمایت کا بھر پور اظہار کر نے کے لیے یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جائے۔ یوں وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے قاضی حسین احمد کے ہمراہ مظفر آباد کا دورہ کیا ایک سیاسی عوامی جلسہ کیا گیا اور کشمیریوں کی قربانیوں کو سلام عقیدت پیش کیا گیا ۔ پاکستانی قوم کی طرف سے کشمیریوں کی باقاعدہ حمایت کا اعلان کیا گیا اور ہرسال پانچ فروری کو پاکستانی قوم کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ سرکاری سطح پر اظہار یکجہتی کا عہد کیا گیا۔تب سے لے کر آج تک پاکستان میں بالعموم سب حکومتوں نے مسند اقتدار کی زیب و زینت بنتے ہی کشمیریوں کی عملاً حمایت کی قسم کھائی اور نیم دلانہ حمایت کا عہد کیا۔مگر ہرکسی نے چند حریت رہنماؤں سے ملاقات تک اس عہد کو نبھایا۔ ہر حکومت نے یوم یکجہتی کشمیر ہر سال ۵ فروری کو سرکاری طور پر باقاعدہ طور پر منایا۔عمران خان کی حکومت نے گزشتہ برس ڈی چوک میں یوم یکجہتی کشمیر پر ایک بہت بڑا جلسہ کیا اور وزراء نے کشمیریوں کی حمایت کا دم بھرامگر اپنی پیشرو حکومت کی طرح تذبذب کا شکار رہ کر گزشتہ سال 27 ستمبر کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے علاوہ کوئی خاطر خواہ حمایت و یکجہتی کے اقدامات نہ اٹھائے ۔

5 اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد سے جس طرح امید کی جا رہی تھی کہ حکومت کشمیر معاملے پہ اپنا کردار ادا کرے گی لیکن یہ صرف دعوؤں اور تقریبات تک ہی محدود رہا. اس برس بھی 5 فروری کو مظفرآباد میں تقریب کا اہتمام کیا گیا. عالمی سطح پر اس معاملے پہ اجاگر کیا گیا لیکن اس کے بھی کچھ خاطر خواہ اثرات کا نظر آنا بعید از قیاس ہے جب تک کہ اس معاملے کو آئی سی جے میں لے کے نہ جایا جائے اور سرکاری سطح پر اپنی کشمیر پالیسی کو حتمی طور سے واضح کیا جائے.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *