• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کم علمی،نااہلی، بے ہمتی یا پھر بدنیتی(دھرتی جائے کیوں پرائے سے اقتباس،دوسرا،آخری حصہ)۔۔اعظم معراج

کم علمی،نااہلی، بے ہمتی یا پھر بدنیتی(دھرتی جائے کیوں پرائے سے اقتباس،دوسرا،آخری حصہ)۔۔اعظم معراج

باقی سب سوالوں کے زیادہ تر جواب تو میری کتاب شناخت نامہ کچھ شانِ سبزو سفیداور دھرتی جائے کیوں پرائے میں موجود ہیں لیکن مسیحیوں کی پاکستان میں آبادی اور وہ بھی صوبہ واریہ سوال مجھے بہت مشکل لگا کیونکہ مجھے 2017ءاگست میں افراد شماری کا نتیجہ آنے کے بعد سے مسلسل یہ ہی بتایا جا رہا تھا کہ ہمارے اعدوشمار تو دستیاب ہی نہیں اور پھر میں اپنی مصروفیات سستی اور بے ہمتی کی بدولت کچھ تحقیق بھی نہیں کر سکا اور ظاہر ہے تحقیق جان جوکھوں کا کام ہے ایسے ہی کسی سیانے نے نہیں کہا مذہب آپ کو سکون اور طمانیت دیتا ہے اور تحقیق سچ دیتی ہے اور ظاہر ہے سچ جاننے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے کبھی میرا دل کرتا میں عرفان جاوید سے کہہ دوں میرے 2013ءکے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق لکھے ہوئے مقالے سے ہی استفادہ کر لیں، لیکن پھر بھی اس میں صوبہ وار کہاں سے لاؤں؟ ۔پھر ایک دن ڈرتے ڈرتے میں نے گوگل کے جن سے رجوع کرنے کا سوچا ویسے مجھے میرے سیاسی، سماجی اور کسی حد تک مذہبی لوگوں نے پکا کیا ہوا تھا ہمارے اعداد و شمار دستیاب ہی نہیں اور پکائی میں وفاقی وزیر برائے شماریات کے نام کا بھی تڑکا لگایا ہوا تھا۔ لہٰذا مجھے مسیحیوں کی پاکستان میں آبادی پر تو اپنے اعدادوشمار کے بارے میں لکھے ہوئے اپنے مقالے پر بہت یقین ہے اور مجھے آج تک ایسی کوئی دلیل اور ثبوت بھی نہیں ملا کہ حکومت ہماری تعداد غلط بتاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کم علمی،نااہلی، بے ہمتی یا پھر بدنیتی(دھرتی جائے کیوں پرائے سے اقتباس،حصہ اوّل)۔۔اعظم معراج

لیکن مجھے اس بات پر میرے سیاسی اور سماجی راہنماؤں نے یقین دلادیاہے کہ اس بارکی افراد شماری میں ہمارے اعداد و شمار دستیاب ہی نہیں لہٰذا میں نے کوشش ہی نہیں کی پھر ایک دن میں نے جھجکتے ہوئے گوگل کے جن کو کہا پاکستان میں 2017ءکی افراد شماری کے مطابق آبادی بتاؤ، اس نے کھٹ سے جواب دیا۔پاکستان کی آبادی صوبہ وار بتا دی پاکستان207774520 بیس کروڑ ستتر لاکھ چوہترہزار پانچ سو بیس، صوبہ پنجاب 110012442 گیارہ کروڑ بارہ ہزار چار سو بیالیس، صوبہ سندھ 47886051 چار کروڑ اٹھتر لاکھ چھیاسی ہزار اکیاون،صوبہ خیبر پختونخوا 30523371 تین کروڑ باون ہزار تین سو اکہتر، بلوچستان12344408 ایک کروڑتئیس لاکھ چوالیس ہزار چار سو آٹھ، وفاقی دارالحکومت2006572 بیس لاکھ چھ ہزار پانچ سو بہتر فاٹا 5001676پچاس لاکھ ایک ہزار چھ سو چھیتر۔

مصنف:اعظم معراج

جب میں نے یہ اتنی تفصیل سے دیکھا تو میں نے آگے بڑھ کر گوگل کے جن کو کہا پاکستان میں 2017ءکی افراد شماری کے مطابق مسیحیوں کی آبادی بتاؤ، تو اس نے فوراً ایک ایک چاٹ پاپولیشن بائے ریلیجین دیکھائیں۔ یعنی مذہب کے اعتبار سے آبادی کا چارٹ سامنے رکھ دیا جس میں پاکستان میں مسلمانوں مسیحیوں، ہندوؤں، احمدیوں کے شیڈول کاسٹ ودیگر کے کالم بھی بنے ہوئے تھے بس اس میں مسیحیوں کے کالم میں پاکستان بھر میں مسیحیوں کی آبادی پاکستان کی آبادی کا1.59 فیصد اور پھر مزید اس آبادی کی تفصیل یوں تھی۔ وفاقی دارالحکومت کی کل آبادی کا4.07 فیصدصوبہ پنجاب کی آبادی کا2.31 فیصد، سندھ کی آبادی کا0.97 فیصد، بلوچستان کی آبادی کا0.40 فیصد ،خیبر پختونخواہ کی آبادی کا 0.21فیصد ، فاٹا کی آبادی کا 0.7فیصدہے۔

اب مجھے سمجھ آئی کہ کیوں میرے سیاسی و سماجی مچھندروں نے یہ غلط الاعام   پھیلایا ہوا تھا۔ ایک تو یہ کہ کبھی کسی نے کوشش ہی نہیں کی اور اگر کسی کو توفیق ہوئی بھی تو وہ ان فیصد کے بکھیڑوں سے ڈر گیا اور رہی بات مسیحی شماریات کے وزیر کی تو اسے اپنے روحانی ساتھیوں کے ساتھ مل کر روحانی ساتھیوں اور سیاسی آقاؤں کے روحانی معجزوں کی کرامات سے ہوتے مالیاتی معجزوں کے نتیجے میں جمع ہونے والے بہت سارے کروڑوں کی تعداد میں حاصل ہونے والے تیس تیس سکوں کی پوٹلیوں کے اعداد و شمار جمع کرنے سے ہی فرصت نہیں ہو گی تو وہ   کیوں ان خاک نشینوں کے اعداد و شمار جمع کرتا پھرے جن کی شناخت کو بیچنے کے عوض اسے کروڑوں کی تعداد میں تیس سکوں والی پوٹلیاں دستیاب ہوتی ہیں ۔جو پھر کھربوں کا نہیں بھی تو اربوںکا روپ دھارتی ہیں۔یقیناً ان کا اگر اس غلط العام کو پھیلانے میں ہاتھ نہیں بھی ہو گا تو وہ بحیثیت وزیر شماریات اس کو میڈیا پر کھل کر بیان تو کرتا۔۔۔

قارئین اندازہ کریں ہم پاکستانی مسیحی کتنے بدقسمت ہیں ہمارے مذہبی سیاسی و سماجی راہنما اور کسی حد تک لائی لگ ٹائپ کی مذہبی راہنما بھی جو ان کے غلط العام کو پھیلانے کے لئے مذہبی پلیٹ فارم ان کو مہیا کرتے ہیں یقین جانیے یہ مذہبی سیاسی و سماجی راہنما مسیحیوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔ اگر دیئے ہوئے چھ اعداد کا فیصد نکالنے کا و قت ہمارے لئے نہیں نکال سکتے تو یہ ہماری سماجی بھلائی میں گھلی جاتی این جی اوز ہمارے مسائل کوایکسپلائٹ کرتے گلی گلی کے سیاسی رہنما اور ہماری روحانی غذا کے لئے اپنے گوداموں میں غلوں کے انبار لگاتے مذہب کے بیوپاری ہمارے لئے کیا کریں گے۔ اندازہ  کریں یہ کسی سطح کے بدنیت لاعلم اور بے ہمت ہیں جو ہمارا تجزیہ طکمخ نہیں کرسکتے وہ ہمیں درپیش خطرات دستیاب موقعوں اور ہماری طاقتوں اور کمزوریوں کا تخمینہ خاک لگائیں گے ،جنہیں ہماری تعداد کا ہی صحیح پتہ نہیں۔

اب آتے ہیں،2017ءکی افراد شماری کے مطابق اگر اس فیصد کو لفظوں اور گنتی میں بیان کریں تو پاکستان میں مسیحی 3303615، جن میں سے صوبہ پنجاب میں 2541287 صوبہ سندھ میں464494 صوبہ سرحد میں 64099 بلوچستان میں 49379 اور وفاقی دارالحکومت 81667 ہے فاٹا میں35012 انہی اعداد وشمار سے مجھے پتہ چلا کہ ہمارے پاکستانی ہندو بھائی ہم سے صرف اعشاریہ ایک فیصد زیادہ ہیں یعنی وہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا1.60فیصد ایک عشاریہ ساٹھ فیصد ہیں اور ہم پاکستان کی آبادی1.59 لیکن پاکستان میں مسیحیت کے بانیوں اور اس خطے کے مسیحیوں کے محسنوں کی بدولت ہر چھوٹے بڑے شہر میں موجودگی ہے جس کی بدولت ہم ہر جگہ نظر آتے ہیں اور ہندوؤں کی بڑی اکثریت صرف اندرون سندھ اور وہاں بھی تھر کے علاقے میں زیادہ ہے ہندو جاتی کے لوگ سندھ کی آبادی کا6.51فیصد اور اگر شیڈول کاسٹ ہو سندھ کی مکمل آبادی کا0.99فیصدلگا لیں تو یہ سندھ کی مکمل آبادی کا7.50 ہیں ہماری آبادی جو زیادہ تر پنجاب میں اور باقی ساری پورے پاکستان میں پھیلی ہوئی ہے اور یہ ہندوؤں کے علاقوں سے زیادہ واقفیت بھی نہیں رکھتی۔ لہٰذا عام مسیحی یہ تاثرلئے بیٹھا ہے کہ ہندوؤں کو جان بوجھ کر زیادہ دکھایا جاتا ہے، یعنی ریاست پاکستان مسیحیوں کے مقابلے میں ہندوؤں کو زیادہ دکھاتی ہے۔۔ اس سے بڑا لطیفہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ پاکستانی ریاست اور معاشرہ مسیحیوں کے مقابلے میں ہندوؤں کا زیادہ مددگار ہے اور ان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں باقی مجھے یہ معاملہ صرف لاعلمی کا لگتا ہے جسے لاعلموں نے میرے جیسے بے ہمتوں پر تھوپا ہے اور پھر بدنیت اس بیانیے کو دوسری محرومیوں کی چھابڑی میں رکھ کر بیچ ڈالتے ہیں ۔

پچھلے دنوں ایک بچی جسے میں خاصی پڑھی لکھی سمجھتا تھا نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہندوؤں کو اس لئے زیادہ دکھایاجاتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کی بات نہیں کر سکتے ۔اس بیچاری کو یہ پتہ ہی نہیں کہ ہندو سندھ کی قومی اور صوبائی سیاست میں کتنا اثرو رسوخ رکھتے ہیں کیونکہ پاکستانی سیاست میں اس وقت سب سے زیادہ اثر انداز ہونے کا فیکٹر (عنصر) پیسہ ہے اورپیسہ ان کے پاس بڑا ہے پھر دوسرا فیکٹر ووٹ بینک ۔۔وہ چاہے آبادی میں ہم سے عشاریہ ایک فیصد ہی زیادہ ہے لیکن ان کا ووٹ بینک ایک صوبے کی مجموعی آبادی کا ساڑھے سات فیصد اور وہ ساڑھے سات فیصد بھی دیہی سندھ کے مخصوص علاقوں میں ہے ۔اس طرح وہ اپنے پیسے کے بل بوتے پر سیاست میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور نفع کماتے ہیں اور اکثر ووٹ بینک اور پیسے کے زور پرڈائریکٹ الیکشن بھی جیت لیتے ہیں جب کہ ہمارے مورکھ یہاں بھی چالاکیوں سے کماتے ہیں مثلاً کبھی کوئی شفائیہ دعائیہ اجتماع دکھا کر اپنے آقاؤں کو رام کیا، کبھی کسی این جی او کی سفارش پر سیٹ گھسیٹ لی اور اگر یہ دونوں پلیٹ فارم بھی کسی کو دستیاب نہ ہوں تو پارٹی کے نظرئیے کو سمجھے بغیر خوشامد کے زور پر ہی کام چلا لیا کیونکہ خوشامد ایسا ہتھیار ہے جس کا وار کبھی خالی نہیں جاتا اور یہ کام آ ہی جاتا ہے ایک اور دلیل جو ہمارے سیانے دیتے ہیں کہ ہماری آبادی کم اس لئے بتائی جاتی ہے کہ ہمیں سیٹیں زیادہ نہ دینی پڑیں، لیکن اعداد و شمار بڑے دلچسپ ہیں مثلاً بلوچستان کی مسیحی آبادی2017ءکی افراد شماری کے مطابق49377 اس کا مطلب کہ ووٹ زیادہ سے زیادہ چوبیس پچیس ہزار ہوں گے اس تعداد پر بھی دو ایم پی ہیں اور پچھلے دور میں دو ایم این اے بھی وہاں سے تھے، جب کہ کوئٹہ کے عموماً صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں کئی سیٹوں پر تقریباً پچھتر ہزار ووٹوں پر ایک سیٹ ہے لیکن مسیحی زیادہ سے زیادہ ساڑھے بارہ ہزار پر ایک ایم پی اے اسمبلی میں ہے اسی طرح خیرپختونخوا  میں 2017  کے اعداد و  شمار کے مطابق مسیحیوں کی64099 اور فاٹا میں35012 ہے اور اس طرح سے سرحد میں ووٹ32ہزار ہوں گے اور فاٹا میں17000 کے قریب ہوں گے اور اس تعداد پر بھی دو ایم این اے ایک سینیٹر ہے لہٰذا اگر ریاست واقعی اس خوف سے آبادی زیادہ نہیں دکھاتی کہ سیٹیں نہ دینی پڑیں  تو پھر کم تعداد پر زیادہ سیٹیں کیوں دیتی ہے۔

قارئین یقین مانیے مجھے ان فیصدوں کو گنتی اور لفظوں کا روپ دینے میں تیس منٹ سے زیادہ نہیں لگے ۔اس مشقت سے میں اس بات کا بھی قائل ہو گیا ہوں کہ نا صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے  جیسے  لوگ بھلائی کے کاموں میں مصروف ہیں ،میری کمزوریوں محرومیوں پسماندگیوں کو بیچتے ہوئے بیوپاری اور ان کے تنخواہ دار حواری، ان اعداد و شمار کے لئے تیس منٹ بھی نہیں نکال سکتے توان کی باقی ساری اہلیتیں اور نیتیں مشکوک ہو جاتی ہیں اور بے تحاشا دل سے آہ نکلتی ہے یا خدا مجھے میرے نادان محسنوں سے بچا اور اگر ان میں سے جونیک نیتی سے میرے لئے کچھ کرنے میں کوشاں ہیں انہیں فہمِ و فراست عطا کر۔میں سمجھتا تھا، پاکستان کے ہندوؤں کے سیاسی رہنما، معاشی ، تہذیبی اور علمی طور پر ہم مسیحیوں کے سیاسی راہنماؤں سے بہتر ہیں لیکن جنوری 2019ءمیں پاکستان ہندو کونسل کے ایم این اے رمیش کمار سہیل وڑائچ صاحب کے پروگرم ایک دن جیو کے ساتھ میں یہ بتاتے پائے گئے کہ ہندو پاکستان میں 80  لاکھ ہیں جبکہ محکمہ شماریات جسکی قومی اسمبلی کی کمیٹی کے یہ چیئرمین نواز شریف کو چھوڑنے تک رہے ہیں ،کہتا ہے، پاکستان کے ہندو جاتی عقیدے سے وابستہ لوگوں کی تعداد3324392تینتس لاکھ چوبیس ہزار تین سو بانوے اور اگر اس میں شیڈ و ل کاسٹ کوبھی شامل کر لیا جائے جو کہ وہ کرتے ہیں تو اس تعداد میں 519436پانچ لاکھ انیس ہزار چار سوچھتیس اس طرح ٹوٹل یہ 3843828اڑتیس لاکھ تنتالیس ہزار آٹھ سو اٹھائیس بنتی ہے۔

پتہ نہیں یہ رمیش کی لاعلمی ہے یا بد نیتی ؟ اس طرح کی لاعلمی ، بدنیتی یا بے ہمتی یا کسی بھی وجہ سے پھیلا دی گئی غلط فہمی ہندو نوجوانوں پر برے اثرات مرتب کرتی ہے رمیش کے کیس میں لاعلمی توہو نہیں سکتی کیونکہ موصوف اتنے ذہین ہیں 2002ءکے الیکشن میں آزاد حیثیت میں جس جرنل الیکشن میں 34 ووٹ لے کر دس امیدواروں میں سے ساتویں نمبر پر آئے تھے اسی اسمبلی میں قاف لیگ کی قیادت کو صحرائی گیدڑ سنگھی سونگھا کر مخصوص سیٹ پر ایم پی اے بن کر 32424 ووٹ لینے والے رجیور سنگھ سوڈھا کے ساتھ جا بیٹھے تھے لہٰذایہ 3843828 اڑتیس لاکھ تنتالیس ہزار آٹھ سو اٹھائیس بتانے میں ضرور کوئی حکمت رہی ہوگی ورنہ اتنا ذہین بندہ جو اپنی برداری میں چونتیس ووٹ رکھتا ہو وہ پانچ سال نواز شریف کے ساتھ اور پھر اچانک عمران کی مخصوص سیٹوں کی ترجیح میں پہلے نمبر پرآجائے۔ یقیناً اس میں پیسہ فیکٹر اور سیلف فنانس اسکیم کا عمل دخل بھی رہا ہو گا۔ رمیش یا رمیش جیسے جو مرضی کریں ،جیسے مرضی ایم این اے ، ایم پی اے یا سینیٹر بنیں۔ آبادی چاہے لاکھوں کی جگہ بغیر ثبوت کے کروڑوں میں بتائیں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن جو مجھے بغیر ثبوت کے ان دعوؤں کا خطرناک پہلو نظر آتا ہے۔ وہ یہ ہے مثلاً اگر2017ءدو ہزار سترہ کے افراد شماری کے نتائج اگر کوئی ہندو پاکستانی نوجوان دیکھے اور پھر وہ رمیش کا یہ انکشاف سنے تو اس سے وہ یہ پیغام لے گا کہ میری ریاست میرے خلاف ہے جو میری تعداد کو اتنا کم دکھا رہی ہے اس سوچ کے ساتھ وہ دس طرح کی ترقی کے راستے اپنے لیے خودہی بند کر لیتا ہے لہٰذا بغیر ثبوت کے اس طرح کی غلط فہمی پھیلانا اپنی اس برادری جو ووٹ توآپ کو چونتیس دیتی ہے لیکن انکی شناخت کی بدولت آپ کبھی مشرف کبھی نواز شریف اور کبھی عمران کے پہلو میں بیٹھتے ہیں ان میں اس طرح کا غلط العام کو بغیر کسی ثبوت کے پھیلانا بہت بڑا ظلم ہے اور یہ ہی غلطی اکثر پاکستانی مسیحیوں کے سماجی مذہبی اور سیاسی راہنما بھی کرتے ہیں۔ جس کے بہت دور رس منفی اثرات نوجوانوں پر پڑتے ہیں۔

قارئین اندازہ کریں اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں غیر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی رویے امتیازی قوانین و دیگر معاملات ہیں ،لیکن ایک سابقہ ایم پی اے، ایم این اے وزیر پورٹ اینڈ شپنگ و شماریات کا وزیر مسیحیوں کی طرف سے اور ایک ہندو کونسل کا چیئرمین سابقہ ایم پی اے چاہے اس کی اپنی کمیونٹی اسے چونتیس ووٹ ہی ڈالتی ہو سابق و حالیہ ایم این اے نیشنل اسمبلی اسٹیڈنگ کمیٹی برائے شماریات کا چیئرمین یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کی مسیحی یا ہندو مذہبی شناخت کی بدولت اپنے اپنے ہم عقیدہ کے لوگوں کوپاکستان کے ہر سطح کے ایوانوں میں اپنی برادری کا نمائندگی کا موقع ملا لیکن وہ اپنی کسی لاعلمی، نااہلی،بے ہمتی یا بدنیتی کی بنا پر ملک قوم اور اپنے لوگوں کو کس طرح گمراہ کر رہے ہیں اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں پھر ان کے نیچے والے کیا کر رہے ہوں گے۔

ان غلط العام کے جہاں اور بہت سارے نقصانات ہیں وہاں مسیحیوں کو ہر الیکشن میں ایک بڑا نقصان اور ہوتا ہے کہ وہ اس دفعہ بھی ہوا ہے کہ وہ اپنی افرادی قوت کا اندازہ لگائے بغیر الیکشن میں کودتے ہیں اور مجموعی طور پر معاشی طور پر نہایت کمزور کمیونٹی کے لاکھوں کروڑوں روپے برباد کرکے بیٹھ جاتے ہیں جب کہ ان وسائل کو سیاسی سطح پر نمایاں ہونے اور اپنے آپ کو منوانے کے اور راستے اور طریقے بھی اختیار کئے جا سکتے ہیں۔ رہنماؤں کے ان رویوں کی بدولت ہی شائد پاکستان کے مسیحیوں اور ہندوؤں کا یہ حال ہے۔
اور مجھے تو یہ اعداد و شمار اس وقت تک صحیح ہی لگتے ہیں اور لگتے رہیں گے جب تک کوئی منطق اور حقائق و شواہد پر مبنی دلیلیں نہیں دی جاتی ورنہ پھر حکومتی اعداد و شمار کو میری ان دلیلوں کی روشنی میں جو میں نے اسی کتاب کے ایک باب اپناگریبان چاک میں دی ہیں کو مان کر تعداد سے زیادہ اپنے لوگوں کی حالات اور معیار زندگی کو بہتر بنانے پر زور دینا چاہیے۔

اگر اس کے جواب میں کوئی بیانیہ کسی کے پاس ہے تو ضرور پیش کرے ،ورنہ انہیں اعداد و شمار پر گزارا کرے۔ ہاں بہت آسان طریقہ جس سے ان اعداد شمار کے خلاف بیانیہ ثابت کیا جا سکتا ہے جس سیاسی راہنما کو اس پر اعتراض ہے وہ اپنے حلقے کے پانچ ہزار شہری جن کو نادرا نے و وٹنگ لسٹ میں قومی شناختی کارڈ ہونے کے باوجود ڈالا اکھٹے کریں اور اس شہر کے پریس کلب میں بیٹھ جائیں اسی طرح مذہبی رہنما کاتھولک اور چرچ آف پاکستان و دیگر مسالک اپنے اعداد و شمار لے کر شماریات کے دفتر پہنچ جائیں کہ ہمیں کم کیوں بتایا جا رہا ہے؟ یہ ہیں شناختی کارڈ اور دیگر ثبوت اسی طرح سماجی اداروں اور این جی اوز والے تو اپنے آقاؤں کی مدد سے بغیر شناختی کارڈ والے شہریوں کو پیش کریں گے یہ ہیںوہ مسیحی شہری جن کو مسیحی ہونے کی وجہ سے شناختی کارڈ نہیں مل پا رہے اسی طرح یہ گنتی سے باہر رہ گئے ہیں ورنہ پھر بات تو بڑی عام سی ہے۔ ” ہمت ہے تو پاس کر ورنہ برداشت کر“ لیکن ہے بڑے پتے کی ۔ کہ اگر آپ کے پاس ثبوت ہیں تو پھر پیش کریں ورنہ صرف خواہشوں پر مقصد نہیں ملتے مقصدوں کے حصول کے لئے فہم و فراصت اور صبر سے کوشش کرنی پڑتی ہے اور اس طرح کے معاملات کو تو حقائق اور شواہد سے ہی ثابت کیا جا سکتا ہے اور اگر ثابت نہیں کر سکتے تو پھر جو تعداد پاکستانی مسیحیوں کی حکومت بتاتی ہے ان کے لئے ہی کچھ کر لو یا پھرتین،چار کروڑ ہوں گے تو ان کے لئے کچھ کرو گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *