• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کم علمی،نااہلی، بے ہمتی یا پھر بدنیتی(دھرتی جائے کیوں پرائے سے اقتباس،حصہ اوّل)۔۔اعظم معراج

کم علمی،نااہلی، بے ہمتی یا پھر بدنیتی(دھرتی جائے کیوں پرائے سے اقتباس،حصہ اوّل)۔۔اعظم معراج

SHOPPING

جب اگست 2017ءمیں افراد شماری جسے پتہ نہیں کیوں مردم شماری لکھا جاتا ہے کے نتائج اخبار میں آنا شروع ہوئے تو میرے ایک دو دوستوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور گلہ کیا کہ دیکھو اس دفعہ  پھر کہیں پاکستان میں مسیحیوں کے بارے میں اعداد و شمار نہیں چھپ رہے ہیں میں ان دنوں اپنی کتاب ”شان ِسبزو سفید “اور ”دھرتی جائے کیوں پرائے “کے ترجمے میں مصروف تھا اس لئے میں نے اس طرف توجہ نہیں دی اور پھر ایک دن ایک مسیحی مسلم لیگی بلکہ نون لیگی کا فون آیا کہ دیکھا ہمارے اعداد شمار نہیں دیئے تو اسے میں نے کہا یار اگر میں نے غلطی سے اس موضوع پر کچھ لکھ دیا ہے تو یہ میری ذمہ داری تو نہیں بن گیا کہ اب وفاقی حکومت کی جگہ بھی میں ہی جواب دوں پھر میں نے اسے کہا کچھ شرم کرو کچھ حیا کرو آج شماریات کا وفاقی وزیر بھی تمہارا ہے یعنی مسیحی سینٹر ہے میں نے اسے مزید کہا اگر وفاقی وزیر برائے شماریات مسیحی ہوں پھر بھی مسیحیوں کو اپنے آبادی کے اعداد وشمار پر شک بھی ہو اور گلہ بھی ہو تو اس کا تو کوئی علاج نہیں اس کا جواب جو اس مسیحی نون لیگی نے دیا وہ حیران کن اور خوفناک تھا کہنے لگا ہم نے وفاقی وزیر صاحب سے پوچھا ہے لیکن وہ کہتے ہیں ہم پر دباؤ  ہے کہ مسیحیوں کی تعداد نہیں بتانی۔

مصنف:اعظم معراج

موصوف کا یہ انکشاف میرے لئے حیران کن تھا کہ آخر کیا ایسی وجہ ہے؟ کہ وفاقی وزیر بھی مجبور ہے پھر اس نون لیگی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سینٹر صاحب ذاتی محفلوں میں کہتے ہیں منسٹر تو میں ہوں لیکن ہماری آبادی جو کہ بہت زیادہ ہے لیکن کم بتانے پر اور اب نا بتانے پر ہم مجبور ہیں مجھے لگا یہ موصوف غلط بیانی کر رہے ہیں بے چارہ وزیر ایسی بات اپنی ہی حکومت کے خلاف کیوں کرے گا کیونکہ افراد شماری تو ان کی حکومت ہی کر رہی ہے۔ اسی طرح ایک مسیحی نوجوان جو سوشل میڈیا پر بڑا ایکٹیو تحصیل سطح کا کوئی صحافی اور ایک نون لیگی ایم این اے کے ساتھ اکثر تصویریں بھی لگاتا ہے میرے کسی آٹھویں، نویں کزن کا بیٹا ہونے کے ناطے میں میرا بھتیجا لگتا ہے ایک دن حال ہی میں ،میں اس سے پوچھ بیٹھا بیٹا آپ بتاؤ آپ تو صحافی سیاسی ورکر اور پتہ نہیں کیا کیا ہو مسیحیوں کی آبادی کتنی ہو گی اس نے مجھے بتایا کہ پانچ کروڑ تو ہو گی یہ سنتے ہی میرا بلڈ پریشر شوٹ کیا اور میں نے اسے کہا بیٹااگر میں آپ کے نزدیک ہوں تو آپ کے ساتھ وہ کروں جو عموماً پنجاب کے دیہی علاقوں کے چاچے اپنے بھتیجوں کے ساتھ کرتے ہیں یعنی پہلے پیار بھری گالی گلوچ اور پھر تپھا ترول( دھول دھپا)کہنے لگا کیوں سر کیا ہوا؟ میں نے کہا بیٹا یہ تم نے 3303615 تینتیس لاکھ تین ہزار چھ سو پندرہ کو پانچ کروڑ کیسے بنایا؟ تمہاری حکومت کے اعداد و شمار تو یہ ہیں تمہیں کس نے بتایا پانچ کروڑ ہیں وہ کہنے لگاکیا یہ اعداد و شمار غلط ہیں؟ میں نے کہا تم تو نون لیگی بھی ہو اور صحافی بھی اور ہاں پھر سب سے بڑھ کر شماریات کا وزیر بھی دوران افراد شماری اور اس کے بعد تمہارا نون لیگی مسیحی تھا نیشنل اسمبلی کے اسٹیڈنگ کمیٹی برائے شماریات کا چیئرمین بھی تمہارا بلکہ ہندو رکن قومی اسمبلی پھر تمہارے ساتھ اتنا ظلم کیسے ہو گیا؟ یا پھر تم بہت بڑھا چڑھا کریہ بات کر رہے ہو میں نے کہا مانا کہ تم نون لیگی ہو اگر معاملہ پیسے کا ہو تو چلو پھر تو ٹھیک ہے تمہارے توبہت چھوٹے بھی لاکھوں سے کھربوں بنا لیتے ہیں لیکن تم نے جیتے جاگتے انسانوں کو کیسے لاکھوں سے کروڑوں میں پہنچا دیا وہ کہنے لگا سر ہمارے منسٹر صاحب ہی کہتے ہیں کہ ہماری تعداد ہے زیادہ لیکن ہم پر پہلے یہ تعداد صحیح نہ بتانے پر دباؤتھا اور اب بالکل نہ بتانے پر دباؤہے۔ میں نے زور دے کر پوچھا تم نے یہ بات وزیر کے منہ سے سنی ہے وہ فوراً مکر گیا کہنے لگا نہیں میں نے اس سے نہیں سنا ہے بلکہ جس کے سامنے وزیر نے کہا تھا میں نے اس سے سنا ہے۔

پھر اسی طرح کے گلے اور کئی جگہوں سے بھی آئے مثلاً 2018ءکے الیکشن کے بعد جب این اے53 کی سیٹ عمران خان صاحب نے خالی کی تو ایک دن اسلام آباد کے ایک نوجوان مسیحی کا فون آیا جس نے بتایا کہ محمود شام صاحب نے آپ کا نمبر دیا تھا پھر اس نے اپنا تعارف کروانا شروع کیا وہ کوئی چار پانچ تنظیموں کے چیئرمین اور کئی کاروبار کے مالک تھے( جس کے بعد میں نے تحریکِ شناخت کے رضا کاروں سے چیک کیا تو اتنا بڑا کوئی کاروباری اور سماجی رہنما وہاں ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے) پہلے تو میں ان کے تعارف اور محمود شام صاحب کے حوالے سے گھبرا گیا پھر میں نے گھبراتے ہوئے پوچھا حکم کریں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں انہوں نے کہا سر ابھی عمران خان صاحب جوسیٹ خالی کر رہے ہیں اس پر پی ٹی آئی کسی مسیحی کو ٹکٹ کیوں نہیں دیتی میں نرمی سے کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں دیتی ہے تو دے اس سے میرا کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔ اس نے کہا بس سر محمود شام صاحب نے کہا تھا آپ سے ضرور بات کروں میں نے کہا ویسے آپ کے خیال میں جو پی ٹی آئی کے این 53 سے ضمنی انتخاب کے امیدوار ہیں ان میں سے ایک دو مسیحی ایسے ہیں جو آج کے ماحول کے مطابق سیاسی امیدوار والی خوبیوں پر سب سے اوپر ہوں۔ مثلاً پیسہ بے تحاشا اڑا سکتے ہوں حلقے میں برادری اور پارٹی کے ووٹ بینک کو متحرک کر سکتے ہوں پارٹی پالیسی کا دفاع دل کی گہرائیوں سے سردھڑ کی بازی لگا کر کر سکتے ہوں اور ان خوبیوں میں باقی تمام امیدواروں سے آگے بھی ہوں وہ کہنے لگا نہیں سر ایسا تو نہیں لیکن این اے53 میں مسیحیوں کے ووٹ بڑے ہیں میں نے پوچھا تقریباً کتنے ہوں گے وہ کہنے لگا کچھ نہیں لاکھ تو ہوں گے میں نے کہا کوئی ثبوت اس نے کہا ثبوت تو نہیں میں نے کہا جاؤ الیکشن کمیشن سے ڈیٹا لو پھر جا کر لابنگ کرو اس کے بعد وہ آج تک کوئی ثبوت لے کر نہیں آیا جبکہ 2017ءکی افرادشماری کے مطابق اسلام آباد میں مسیحیوں کی کل آبادی81667اکیاسی ہزارچھ سو ستاسٹھ ہے یعنی اگر ملک بھر میں مجموعی آبادی کا ووٹوں کی شرح نسبت تناسب 48/52کا ہے تو اسلام آباد کے دونوں حلقوں میں مسیحیوں کے ووٹ زیادہ سے زیادہ40ہزار ہوں گے اس سارے شوق سیاست اور مزید بھلائی میں چھپے جذبہ خود نمائی کا سب سے بُرا پہلو یہ ہے کہ نہ تو یہ لوگ کسی پارٹی سے ٹکٹ حاصل کر پاتے ہیں اور پھر صرف مسیحیوں کے ووٹوں پر یہ ٹھرک پورا کرنے نکل پڑتے ہیں جب کہ الیکشن صوبائی یا قومی لڑنا ہوتا ہے لیکن جو چند سو ووٹ انہیں ملتے ہیں اس میں ایک بھی ووٹ کسی مسلمان کا نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ اس حلقے سے کئی مسیحیوں نے اس غلط فہمی میں الیکشن لڑا اور آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑا اور بالترتیب160،123اور1349ووٹ حاصل کئے ۔ ایک صاحب نے تو باہر سے ان خاک نشینوں کی سماجی بہبود کے نام پرپیسے منگوا کر بقول اس کے اپنے ایک کروڑ خرچ کر دیئے اور یقیناً اگر اس کا کوئی کاروبار نہیں تو ان مسکینوں کے نام پر ہی بطور بھیک جسے نرم زبان میں چندہ کہا جاتا ہے منگوا کر خرچ کئے ہوں گے اور یقیناً ان خاک نشینوں کی بھلائی کے لئے ہی اپنا چسکا خود نمائی پورا کیا ہو گا۔ اچھا پھر اس مہم جوئی کے لئے جو نکلتے ہیں ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اس حلقے کے سارے مسیحی ووٹرز اگر مجھے ووٹ دے دیں تو میں اسمبلی پہنچ کر بہت بڑا پریشر گروپ بن جاؤں گا جبکہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک بھر میں کوئی ایسا صوبائی یا قومی حلقہ نہیں جہاں اتنے ووٹ ہوں جو کسی مسیحی امیدوار کو کاسٹ ہو جائیں تو وہ جیت سکتا ہے اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو اندازہ کریں وہ ایم پی اے یا ایم این اے اس حلقے میں کیسی نفرتیں بوئے گا تو یہ پھل کاٹے گا اور پھر ایسے حلقے میں غیر مسیحیوں کا رویہ مسیحی ووٹروں سے کیسا ہو گا۔

اپنے شوق پرپیسے خرچ کرنا ہر کسی کا حق ہے لیکن مسیحیوں کے کیس میں الیکشن میں عموماً جو پیسے خرچ ہوتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح چندے کے نام پر آتے ہیں وہ چاہے این جی او کے ذریعے آئے یا کسی ان رجسٹرڈ چرچ کے پلیٹ فارم سے آئیں اس طرح میری آبادی بارے غلط فہمیوں پر مبنی بیانے پر ریسرچ شائع ہونے کے بعد میں ایک دن بشپ ہاؤس کراچی کسی کام سے گیا۔ جاتے ہوئے تو میں نے خیال نہیں کیا لیکن باہر نکلتے ہوئے میری چرچ کے مین گیٹ پر لٹکے دو بڑے بڑے بینروں پر نظر پڑی جس پر ایک دو سیاسی لوگوں کی تصویریں اور بہت سارے فادر صاحبان اور بشپ حضرات کی تصاویر تھیں اور اوپر لکھے ہوئے مطالبوں میں سب سے نمایاں یہ تھا کہ ہم اپنی تین کروڑ آبادی کو منوائیں گے ہمیں 30لاکھ کیوں بتایا جاتا ہے میں نے اپنے بھائی سردار امجد معراج کو کہا گاڑی واپس اندر لے چلو بشپ صاحب نہیں تھے میں نے وہاں موجود سینئر ترین فادر سے کہا باہر یہ پوسٹر لگے ہیں جب کہ ہماری کاتھولک ڈائریکٹری بتاتی ہے کہ ہم 2010 کے اعداد و شمار کے مطابق1151319 گیارہ لاکھ اکیاون ہزار تین سو انیس ہے اب اتنے ہو گئے ہوں گے اس طرح دوسرے مسالک والے اتنے ہوں گے تقریبا اً تنے ہی بنتے ہیں جتنے حکومت بتاتی ہے پھر میں نے کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن باہر جو پڑھے لکھے مسلمان ا پنے بچے سینٹ جوزف اور سینٹ پیٹرک گرلز اسکول میں چھوڑنے آتے ہیں وہ کیا تاثر لیں گے کیوں آج ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ایک منٹ میں پتہ چل جاتا ہے پھر یہ ڈائریکٹری بھی کچھ اور بتا رہی ہے فادر نے فوراً وہ پوسٹر وہاں سے اتروائے بعد میں میں نے بشپ صاحب سے بات کی تو پتہ چلا انہوں نے باقی ماندہ پوسٹر بینر جلوا دیئے تھے لیکن سیاسی لوگوں نے یہ پوسٹر کراچی بھر میں آویزاں کر دیئے تھے اب کراچی بھر کی مسیحی بستیوں میں پھیلا یہ غلط الاعام کا یہ تاثر نوجوانوں کو ذہنی مفلوج کرتا رہے گا کہ ہماری حکومت، ریاست و معاشرہ ہمارے خلاف ہے اور خاص کر اس بات کا گلہ کہ ہندوؤں کو ہم سے زیادہ کیوںبتایا جاتا ہے جب ہم ہر جگہ نظر آتے ہیں اور ان سے کہیں زیادہ میں ان لوگوں کے مجھ سے یہ گلہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ میں نے 2014ءمیں اس موضوع پر خاصی مغز ماری کرکے ایک ریسرچ کی تھی جس کو میں نے اپنا گریبان چاک کے نام سے اس کتاب میں بھی شامل کیا ہے اس سے پہلے میری بیٹی مشعل معراج نے اس کا ترجمہ اسٹیسٹکل متھ آف کرسچن پاپولیشن ان پاکستان کے نام سے کیا جسے دی نیشن اخبار نے اپنے6نومبر 2015ءکے اخبار میں اسٹیسٹکل متھ کے نام سے چھاپا اور پھر رانا آصف نے اس مضمون کو اردو اخبار دنیا نیوز کے میگزین میں ”مردم شماری اور پاکستان میں مسیحی آبادی“ کے نام سے26فروری 2017ءکو بطور فیچر چھاپا پھر2018ءکو یہ مضمون اسٹیسٹکل متھ ہی کے نام سے میری اس کتاب یعنی دھرتی جائے کیوں پرائے کے انگریزی ترجمے نیگلیکٹڈ کرسچئن آف انڈس میں بھی چھپا لہٰذا یہ وجہ بنی لوگوں کی مجھ سے گلہ کرنے کی کیونکہ میں نے اپنے تئیں ایک بڑی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن شک کی ناگن ایسی ہوتی ہے جس جگہ یہ ایک دفعہ انڈے دے دے اور پھر ان سے بچے بھی نکل آئیں تو پھر اگر وہ سارے سنپولیے مارنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوتی اور ہمارے جیسے بے انصافی پر مبنی معاشروں میں تو کبھی بھی نہیں ہوتی۔اوراگر بڑی کوشش کی بھی جائے تب بھی ان میں سے کچھ نہ کچھ ضرور محرومیوں کی جھاڑ جھٹکار میں چھپ کر ناگ بن جاتے ہیں اور پھر چاہے جتنی مرضی صفائی کر لیں ایسے معاشرے زہر آلودہ ہی رہتے ہیں جہاں لوگ شفافیت سے خوف زدہ ہوں اور ایسے میں محرومیاں بیچنے والوں کی چاندی ہو جاتی ہے اور جہاں معاشرتی ناانصافی و ناہمواری بے تحاشا ہو اور وہاں مسائل کے حل بھی طویل المیعاد بنیادوں کے طورپر نہ سوچے جائیں تو ایسے معاشرے تو شک اور بدگمانیوں کے لئے نرسری ثابت ہوتے ہیں۔اسی دوران لاہور کے ایک سکہ بند این جی او والے سے بھی بات ہوئی۔ وہ میری لمبی چوڑی تقریر سننے کے بعد بڑی معصومیت سے کہنے لگا بھائی جان چلو دو تین کروڑ نا سہی لیکن ہم کروڑ ڈیڑھ تو ضرور ہیں۔ پشاور میں ایک دو سنجیدہ پڑھے لکھے سماجی کارکنوں سے بات ہوئی لیکن وہ ہی شک یہ ہمیں جان بوجھ کر کم بتاتے ہیں اور اب کے تو بتایا ہی نہیں۔

قارئین یہ عمومی تاثر ہے جومسیحیوں میں پایہ جاتا ہے اور ظاہر ہے یہ تاثر بنانے والوں نے بڑی محنت سے بنایا ہے یقینا اس میں حکومت بھی ذمہ دار ہے جو اس طرح کے ابہام کو دور ہی نہیں کرتی پھر یہ موقع پرست اور بد نیتوں کو موقع مل جاتا ہے وہ غلط الاعام پھیلائیں اور ٹکے کما ئیں جن کے لئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
کبھی بیعت فروخت کر دی فصلیں فروخت کر دیں
میرے وکیلوں نے میرے ہونے کی سب دلیلیں فروخت کردی
وہ اپنے سورج تو کیا جلاتے میرے چراغوں کو بیچ ڈالا
فرات اپنے بچا کے رکھے میری سبلیں فروخت کردی
میرے لئے دکھ کی بات یہ تھی کہ میں نے اپنے تئیں اس پر بڑی محنت کرکے یہ تاثر دور کرنے کی کوشش کی تھی کیونکہ مجھے اس میں سب سے خوفناک بات یہ لگتی ہے کہ اس تاثر کو عام کرکے ہم اپنے نوجوان کو یہ سبق دے کر گھر سے نکالتے ہیں کہ تمہاری ریاست تمہارے خلاف ہے جو تمہاری تعداد کو ہی کم بتاتی ہے لہٰذا اس ذہنی کیفیت والا نوجوان اس معاشرے میں خاک ترقی کرے گا جس معاشرے میں اس کا مذہبی ، سیاسی اور سماجی کارکن بتا رہا ہے کہ تمہاری ریاست تمہارے وجود سے ہی انکاری ہے پھر بری بات یہ ہے کہ ہم اس موقع پر کوئی دلیل بھی نہیں دیتے۔
اسی دوران دورِ حاضر کے مقبول خاکہ نگار افسانہ نگار عرفان جاوید جوکئی کتابوں کے مصنف جن میں سرخاب اور دروزے قابلِ تحسین ہیں میں ہمیشہ انہیں کہتا ہوں عرفان بھائی آپ کا یہ کام برصغیر کے اردو پڑھنے والوں کے لئے ایسا اثاثہ ہے جو کئی نسلوں کے کام آئے گا۔
وہ میرے کام کو سراہتے ہیں اور پچھلے دنوں انہوں نے نیگلیکٹڈ کرسچن چلڈرن آف انڈس اور شانِ سبزوسفید پڑھنے کے بعد فون کیا اور کہنے لگے اعظم بھائی میں آپ پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ اس لئے آپ کا انٹرویو کرنا ہے آئیں کھانا کھاتے ہیں کچھ باتیں ہوں گی کھانے کے دوران بات چیت ہوتی رہی آخر میں انہوں نے مجھے ایک پرچہ تھما دیا جس پر یہ سوال تحریر تھے؟
1….پاکستان میں کتنے مسیحی ہیں، صوبہ وار ؟(2017ءCensusکے مطابق)
2….Gaan مسیحی مختلف یا علیحدہ کیوں؟
3…. کیا حال میںConversionsہوئی ہیں؟
4…. نمایاں، ماضی کی فوجی، سول اور کاروباری شخصیات؟ کھلاڑی اداکار، ادیب
5…. حال ، نمایاں فوجی، سول اور کاروباری شخصیات؟
6…. وہ پاکستانی مسیحی جو بیرون ملک گئے اور نام کمایا؟
7…. دلچسپ واقعات، ماورائی، روحانی؟
8…. کیا آج مسیحی پادری اورNunsبننے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
9…. تحریکِ پاکستان میں مسیحیوں کا کردار؟
10…. اعلیٰ ملازمتوں میں کوٹہ؟
جاری ہے

SHOPPING

تعارف:اعظم معراج پیشے کے اعتبار سے اسٹیٹ ایجنٹ ہیں ۔13 کتابوں کے مصنف ہیںِ جن میں  ، پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار۔دھرتی جائے کیوں پرائے،شناخت نامہ،اور شان سبز وسفید نمایاں ہیں۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *