ایک دیرینہ دوست کے نام۔۔۔سلمیٰ سید

SHOPPING

رفیق میرے
تمھاری آنکھوں میں زرد موسم ٹھہر گیا ہے
وہ زندگی سے جڑی تمنا
وہ ساحلوں سی سبک روانی
تمام جذبوں میں گندھ کے نکھری
سنہری مٹی سی مست جوانی
گھنے اندھیروں میں روشنی کی
قلم لگانے کا خواب کیونکر بکھر گیا ہے
تم آنے والے کل میں چلے گئے ہو
یا اپنے ماضی میں جا بسے ہو ؟
مگر یہ سن لو
کہ زندگی کو گزار دینا ہی فن نہیں ہے
تمھیں یہ جینا ہی پڑ گئی ہے
تو اپنے حصے کی سانس تو لو
یہ کب کہا ہے کہ گزری باتیں بھلا کے جی لو
مگر یہ دیکھو کہ زرد موسم
حدوں سے اپنی نکل رہا ہے
تمھاری آنکھوں تمھارے خوابوں
تمھارے چہرے کو پٹ رہا ہے
یہ دشت آنکھیں یہ پیاس آہیں
لہو کو کیسے جلا رہی  ہیں
تمھیں بتاؤں میں راز ایسا ؟؟
اگر جو اس پر عمل کروگے
تو خواب پھر سے سجا سکو گے
کبھی جو فرصت تمھیں ملے تو
تمام دنیا کو تج کے آنا
میں تیری آنکھوں کی پتلیوں سے
تمام صحرا نکال دوں گی
میں بادلوں کے کئی قبیلے
تمھاری روح کو ادھار دوں گی
پھرکھل کے رونا کہ دشت دریا چناب ہوگا
وہ صد صدیوں کا تشنہ راہی
حقیقتوں میں سمو کے خود کو سیراب ہوگا
وہیں اسی پل ختم اداسی کا باب ہوگا!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *