• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان میں کمسن بچوں کیلئے عدالتی قانون۔۔حسن رضا نقوی

پاکستان میں کمسن بچوں کیلئے عدالتی قانون۔۔حسن رضا نقوی

کمسن بچوں کے لئے علیحدہ عدالتی قانون کوئی نئی سوچ نہیں ہے، البتہ پاکستان میں یہ قانون ابہام کا شکار رہا ہے، جب تک پاکستانی پارلیمنٹ نے اس کو کمسن بچوں کے عدالتی قانون کے آرڈینس 2000ء کے تحت 2018ء میں پاس نہیں کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی کمسن بچوں کے حقوق کے بارے کمیٹی، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور مختلف عالمی NGOs کی پاکستان میں کمسن بچوں سے عدالتی نا انصافی کے بارے رپورٹوں نے اِس قانون کی اہمیت کو اور زیادہ اجاگر کر دیا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی قانونی ماہرین نے بھی اِس قانون کے بارے کوئی زیادہ تشریح نہیں کی ہے، جس کی وجہ سے عوام میں کمسن بچوں کے حقوق کے بارے اتنی زیادہ آگاہی نہیں ہے۔ قانون کے مطابق مذکورہ قانون کا اطلاق پاکستان کے چاروں صوبوں کے علاوہ شمالی علاقہ جات، قبائلی علاقوں اور آزاد کشمیر پر بھی ہوتا ہے، لیکن ابھی تک شمالی علاقہ جات، قبائلی علاقوں اور آزاد کشمیر میں بالکل عمل میں نہیں لایا جا سکا ہے، جبکہ باقی چاروں صوبوں میں بھی یہ قانون عدم اجراء کا شکار ہے۔

فروری 2005ء میں لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے کمسن بچوں پر لمبی سزا کے ساتھ بھاری جرمانے عائد کئے گئے، یہاں تک کہ بعض نابالغ بچوں کو سزائے موت سنائی گئی بلکہ مجموعی طور پر پاکستان میں 13 کمسن بچوں کو مختلف عدالتوں میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ اسی طرح مختلف صوبوں کی عدالتوں میں کم عمر بچوں کو بھاری جرمانے اور طویل سزائوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے عدالتی نظام کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچوں پر یہ قانون لاگو ہوتا ہے، جس کے تحت کمسن بچوں کی سزائوں اور جرمانوں میں خصوصی رعایت برتی جاتی ہے۔ یہ قانون درحقیقت حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کے دبائو پر ہی پاس کیا گیا اور پارلیمنٹ میں بھی اِس قانون کی جزئیات کے بارے کوئی زیادہ بحث نہیں کی گئی، لہذا وقتی طور پر تو اِس قانون کو قانونی حیثیت دے دی گئی، لیکن اس قانون کی عملی شکل تاحال سامنے نہیں آسکی ہے۔

قانون کے بند نمبر 4 کی شق نمبر 10 میں لکھا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کمسن بچوں اور بچیوں کے کیسز سماعت کرنے کے لئے علیحدہ علیحدہ عدالتیں بنائے گی۔ قانون کے بند 17 کی پہلی اور دوسری شق میں بھی صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ کمسن بچوں اور بچیوں کے لئے جدا جدا حوالات اور جیلیں بنائی جائیں گی اور اسی طرح حکومت تمام کارروائیوں اور سہولیات کے جائزے کے لئے قانونی ماہر افراد پر مشتمل ایک جائزہ کمیٹی بھی بنائے گی، جو کہ حکومت پاکستان کی طرف سے باقاعدہ گورنمنٹ ملازم ہوں گے، لیکن بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے کمسن بچوں اور بچیوں کے لئے علیحدہ عدالتیں، حوالات اور جیلیں ابھی تک نہیں بنائی جا سکی ہیں، بلکہ عام عدالتی جگہوں سے ہی جہاں دوسرے کیسز سنے جاتے ہیں، استفادہ کیا جاتا ہے اور کم سن بچوں کو بڑی عمر کے قیدیوں کے ساتھ ہی عام جیلوں میں رکھا جاتا ہے۔

پاکستان کی وزرات خارجہ کی طرف سے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 89 جیلیں ہیں، جن میں 35365 قیدیوں کی جگہ ہے، لیکن مذکورہ جیلوں میں 81449 قیدی موجود ہیں اور ان قیدیوں میں بڑے اور کمسن دونوں طرح کے قیدی ایک ساتھ ہیں۔ اِسی طرح پاکستان کے قانون اساسی کے بند 203D کی شق نمبر1 میں لکھا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی قانون اسلامی قوانین کے خلاف ہو تو حکومت اس کو پاس نہیں کرے گی۔ اب اسلامی قوانین کے مطابق سن ِ بلوغ 15 سال ہے جبکہ مذکورہ قانون میں 18 سال رکھا گیا ہے۔ اس کی تشریح بھی نہ حکومت کی طرف سے کئی گئی ہے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے منصوب اسلامی و شرعی ماہرین نے کی ہے۔ ایک طرف حکومت نے پاکستان میں بچوں کو مفت تعلیم مہیا کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری طرف جو کمسن بچے مختلف جرائم کا شکار ہوتے ہیں، اس کی وجہ بھی مختلف رپورٹوں میں تعلیم کا نہ ہونا سامنے آئی ہے۔

لہذا حکومت کو اس معاملے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کیسے پسماندہ علاقوں اور غریب خاندانوں کے بچوں کی تعلیم کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ایک طرف کمسن بچوں کی طرف سے جرائم میں کمی ہو اور دوسری طرف ملکی شرح خواندگی بڑھائی جا سکے۔ اگر پاکستانی پارلمینٹ اس قانون کو پاس کرنے سے پہلے عدالتی و قانونی ماہرین اور اس قانون کو اجراء کرنے والے متعلقہ اداروں جیسے، ججز، پولیس، بیوروکریٹس، وزات خزانہ وغیرہ سے ہم آہنگی کرتی تو شاید مذکورہ قانون کے اجراء کے لئے مناسب حکمت عملی تیار کی جاسکتی تھی۔ متعلقہ اداروں کی آپس میں ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ قانون عملی شکل اختیار نہیں کرسکا ہے بلکہ اور بہت سے پارلیمنٹ سے پاس شدہ قانون ناقابل اجراء ہیں۔ کسی بھی قانون کو پاس کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اُس قانون کو اجراء کرنے کے لئے ماہر افراد بھی میسر ہیں کہ نہیں ہیں۔؟ مجوزہ بجٹ موجود ہے کہ نہیں۔؟

بعض دفعہ کسی قانون کو اجرا کرنے کے لئے خاص ٹیکنالوجی کی ضرورت پڑ سکتی ہے تو کیا وہ ٹیکنالوجی ہمارے پاس موجود ہے یا نہیں۔؟ قانون کے اجراء کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے حل کے لئے لائحہ عمل کیا ہونا چاہیئے؟ جس مقصد کے لئے قانون بنایا گیا تھا، اگر وہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے ہیں تو پھر کیا قانون کو ختم کرکے کے نیا قانون بنایا جائے یا اُسی قانون میں ترمیم کی جائے۔؟ ایسے اور بھی بہت سے سوالات ہیں کہ جو کسی بھی قانون کو پاس کرنے سے پہلے حکومت کو دیکھنے چاہییں۔ میرے خیال میں پاکستان میں کمسن بچوں کے لئے عدالتی قانون کے عدم اجراء کی ایک وجہ یہی ہے کہ قانون کو پاس کرنے سے پہلے اس کے مختلف مذکورہ پہلوئوں کا جائزہ نہیں لیا گیا ہے، جس کی وجہ سے قانون پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔ جہاں ایک طرف کم سن بچوں کے مذکورہ قانون کی بہت زیادہ اہمیت ہے، وہاں اتنی زیادہ ہی غفلت موجود ہے۔ پاکستانی پارلیمنٹ کو چاہیئے کہ قانون سے متعلقہ اداروں سے ہم آہنگی کرکے قانون کو دوبارہ تدوین کرکے پاس کروایا جائے، تاکہ اس کو اجراء کرنے میں آسانی ہو۔

(Phd اسکالر، تہران یونیورسٹی، ایران)

اسلام ٹائمز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *