کہ تجھے ہر شوقِ جنوں سے آواز آئے۔۔خالد حسین مرزا

ادبی ذوق، تماشہء حُسن ہائے ساقی کیا کہنے
وہ دیکھو شوقِ مستی میں کیسے مجنوں بنے ہے

حُسن جوان رہتا ہے، زندگی بوڑھی ہو جاتی ہے، حسن دلکش ہوتا ہے ہر کسی کی آنکھ کو بھاتا ہے اور سب سے بڑھ کرحسن کی صحبت میں ہر کوئی قریب ترین رہنا چاہتا ہے، ایک بات کہوں جب فریب کو اپنا کام نکلوانا ہوتا ہے، وہ بھی اکثر حسن کا اندازِ بیاں اپناتا ہے۔ اب زندگی کیا ہے؟ یہ فلاسفر صاحب بیان کر دو! زندگی آگے بڑھنا مانگتی ہے اور کچھ نہیں اور بڑھتے بڑھتے وقت آتا ہے تھکنا شروع کر دیتی ہے، اُس کو بڑھاپا کہتے ہیں ،شاید۔

تجھ میں بھی ناں،ایک فلاسفی کی لہر اُٹھتی ہے، پھر وہ ایک تجسس بیدار کرتی ہے، پھر آخر میں جا کر پتا چلتا ہے کے نہ  بڑھاپے میں دَم تھا اور نہ ہی زندگی میں، ہاں تیرا حُسن جوان ضرور ہے۔

اچھا، ساری باتیں چھوڑ، تجھے ایک راز کی بات بتاؤں! کسی کو نہ بتائیں، ایسے ہی میرے گھر والوں تک پہنچ گئی تو وہ پریشان ہو جائیں گے۔ ہاں بتا، میں نے کسے بتانا ہے اور تیرے گھر والوں میں سے میرا کسی سے کوئی زیادہ مِلنا جُلنا بھی نہیں۔ اچھا! تو بات یہ ہے کہ مجھے  ناں، بہت تیز موٹر سائیکل چلانے کا شوق ہے، اگر سواری دورانِ سفر ہلکی سی بھی پُھک پُھک کرے تو بہت تنگی ہوتی ہے۔
میں آؤں گا نگاہِ اعجاز میں
میں ہزار چھپ کے بیٹھوں
میں لاکھ سمیٹوں خصائل اپنے
میں لا اِنتہا جھجک کے بولوں
تدابیر مکمل، ادھوری سہی
اِک نظر میں تکمیل تک پہنچوں
میں نکلنے سے پہلے ہی ایک منصوبہ بنا کر نکلتا ہوں کہ  یہ طرزِ عمل ہے اور یہ ہم سے پرانوں کا تجربہ ہے اور کچھ نہ کچھ ہم بھی پڑھ لکھ گئے ہیں اور سوچ یہی ہوتی ہے کہ اب اغلاط سے پاک ہو کر چلوں گا۔ سچ بتاؤں ایسا ہوا کبھی نہیں ہے۔

کبھی موٹر سائیکل کو غیر ضروری رُکنا پڑ جاتا ہے، اُس مسئلے کے کارن جس کا میں نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا اور کبھی حکام کی اطاعت بجا لاتے ہوئے راستہ تبدیل کرنا پڑ جاتا ہے۔

میرے دوست، اِس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اپنی طے کی ہوئی ترتیب کے مطابق کام کرنے کا بہت مزہ آتا ہے جیسے کہ  ہم اپنے مقرر کردہ دورانیے کے بعد ایک مخصوص پڑاؤ پر پہنچیں گے، اور اِس بات کا تعین کر لیں کے ہم یقینی طور پر پہنچیں گے، کیونکہ ہما ری تیاری مکمل ہے۔ بہت اچھا لگتا ہے، جب اپنی مرضی کے مُطابق سب کُچھ چلتا ہے، ایک جرنیلی تسکین سی ملتی ہے۔ مگر ایک بات بتاؤں اِس طرح ہم بہت سی باتوں کو نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں، جس طرح اچانک کوئی ناگہانی صورتحال سامنے آجائے جو ہمارے طے کیے ہوئے معمول کو اچھی خاصی مُتاثر کرتی ہو۔
کچھ شور سُن کے وہ مُتوجہ ہؤئے
بے کراں ولولہ مدتوں بے نظر رہا
یقیں میں ہے اب تک وہ حاصل مقام
چُندھیائی آنکھیں بس وہ نظر میں رہا
وہ ڈالیں نگاہیں دل کو چھپا کے
کہ  کہیں سوچ کا تصادم رہا
لبادہ سکوں کا چھیڑا کیوں تھا
چیخا جب کوئی تو تماشا  کیوں تھا

اب میرا بھائی میری بات سُن جہاں تجھے اپنے جنوں سے مُحبت ہے ، وہاں خود سے انتقام نہ لیا کر۔ تیزی میں خوش ہے اگر، تو تھوڑا سنبھل کر چل کہ  نہ خود کو نقصان پُنچائے اور نہ تیری  تیزی کسی دوسرے کو متاثر کرے۔ مختصر یہ کہ خوش رہ اور خوشیاں بانٹ اور جہاں تک ہو سکے درد کو سمجھنا ہے ( وہ درد جو بِن زباں کے ظاہر ہو رہا ہوتا ہے) اور اپنا تو ہر کوئی محسوس کر لیتا ہے جو دوسروں کو سمجھ سکے اور کوشش کرے کہ  دردمند کا علاج کسی نہ کسی مناسب طریقے سے ہو جائے۔ اِس طرح میرا رب بڑی عزت دیتا ہے۔ اور ہاں! ہمیں دوسروں کی خوشی میں بھی بھرپور پورے دل سے خوش ہونا ہے، خاص طور پر تب جب کوئی ہم سے زیادہ پذیرائی حاصل کر رہا ہو۔
کہیں شورش مُنجمد
کہیں بھروسہ تیری عطا
مُجھ پہ رضا عنائت کر
مُجھے لامکاں کا نہیں پتا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *