برگسان کا زمانہ اورتصورِ وجدان۔۔ادریس آزاد

اپنی کتاب ’’مابعدالطبیعات کا تعارف ‘‘ میں برگسان نے کہا کہ، علم دوقسم کا ہے، ایک مطلق کاعلم (Knowledge of absolute) اوردوسرا اضافی کا علم (Knowledge of Relative) ۔ دونوں قسم کے علوم کو حاصل کرنے کے طریقے بھی الگ الگ ہیں۔ اضافی کاعلم حاصل کرنے کا طریقہ برگسان کے مطابق اینالسس (Analysis) ہےجبکہ مطلق کے علم کے حصول کا طریقہ وجدان (Intuition) ہے۔ برگسان کہتاہے کہ وجدان ہمیں شئی فی الذات میں داخل کرتاہے جبکہ اینالسس ہمیں شئے فی الذات سے باہر ہی فقط اُس کی صفات تک محدودرکھتاہے۔

برگسان نے وجدان کو عقل (یعنی اینالسس) سے برگزیدہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ عقل کا تجزیاتی طریقہ یعنی اینالسس دراصل ایک قسم کی تیاری ہے جو وہ وجدان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اختیار کرتی ہے۔ برگسان نے کہا کہ عقل کی آخری خواہش تو یہی ہے کہ وہ شئے فی الذات کا حقیقی علم حاصل کرسکے لیکن وہ براہِ راست شئے کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی اِس لیے اُسے اینالسس کا طریقہ اختیار کرنا پڑتاہے۔ وہ شئے کی حقیقت کا ادراک حاصل کرنے سے خود کو قاصرپاتی ہے تو اسی علم پر اکتفا کرلیتی ہے جو اُسے شئے کی فقط صفات سے حاصل ہوجاتاہے۔ حالانکہ شئے کی فقط صفات کا علم بذاتِ خود علم کہلانے کا بھی مستحق نہیں کیونکہ کسی شئے کی صفات ہمیں اس کی حقیقت تو بتا نہیں سکتیں ، بلکہ اس کے برعکس شئے کی انفرادیت سے بھی دورلے جاتی ہیں۔

برگسان کا کہناہے شئے کی انفرادیت کا وجود باقی رکھناعقل کے بس میں نہیں ہے۔ عقل شئے کو اپنے پسندیدہ نکتۂ نظر سے مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرکے دیکھتی ہے۔ اس کے مختلف اجزا مثلاً رنگ، شکل، حجم، وزن وغیرہ کو مختلف اور متعدد مشاہدوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔اس طرح شئے کی انفرادیت باقی نہیں رہتی۔ وہ ایک شئے نہیں رہتی بلکہ بے شمار اشیا کا مجموعہ بن جاتی ہے، جن میں ہرایک شئے پھر اُسی اصول کے تحت تجزیاتی عقل کی تفہیم کا شکار بنتی اور اپنی انفرادیت کھوتی چلی جاتی ہے۔ عقل اشیا کی انفرادیت کو ختم کرنے یا کھودینے کی خواہش نہیں رکھتی بلکہ وہ تو شئے کی انفرادیت کو ہی تلاش کرنے کا عمل انجام دینے کی کوشش کرتی ہے۔ اُس کی آخری تمنّا تو یہی ہے کہ وہ شئے کی اصلیت جان سکے لیکن ایسا کرنے کے لیےاُس کا طریقۂ کار تجزیاتی ہے۔

عقل بالآخر جب شئے کے مختلف اجزأ کو جمع کرتی اور اسے اس کی انفرادیت واپس لوٹانے کا عمل ، اپنے تئیں مکمل کرنے بیٹھتی ہے تو اُسے گویا حقیقی کا ایسا خیالی مجسمہ تشکیل دینا پڑتاہے جوحقیقی کی اصلیت ظاہر کرنے کی بجائے اُسے مزید چھپاتا چلا جاتاہے۔

یہاں مجھے سید مبارک علی شاہ کا ایک شعریاد آرہاہے۔

؎ جمال پر نقابِ خدوخال کردیاگیا

نگاہ دے کے دیکھنا محال کردیاگیا

برگسان کہتاہے کہ عقل جب اتنی محنت کے بعد یہ مجسمہ تشکیل دے دیتی ہے تو معلوم ہوتاہے کہ اس نے شئے کو بیان کرنے کے لیے مختلف علامتوں سے کام لیا۔ علامتوں میں نقص یہ ہے کہ وہ حقیقی کو بیان کرنے کا کام انجام دینے کے لیے وجود میں نہیں آئیں کیونکہ وہ شئے کے کسی ایک جزو کو بیان کرنے کے لیے بھی آپس میں متفق نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے علامتیں شئے کا کچھ حصہ ہمیشہ ہی مسخ کربیٹھتی ہیں۔ پھرجب اس مسخ شدہ حصے کو باقی حصوں کے ساتھ جوڑ کر مجسمہ مکمل کیا جاتاہے تو معلوم ہوتاہے کہ شئے کی انفرادیت بالکل ہی فناہوچکی ہے۔

عقل کا یہ عمل عقل کی فطرت ہے۔ زبان انسانوں کی مشترکہ حس (کامن سینس) کا نتیجہ ہے، اِس لیے زبان کبھی غیرجانبدار نہیں رہ سکتی۔ مثال کے طورپر زبان ’’نقل و حرکت (Mobility) کا ترجمہ کرتی ہے ، خط ِحرکت (Trajectory) ۔ یعنی نقل و حرکت کو ایک قطار(Row) کی طرح بیان کرتی ہے, جیسے نقل و حرکت سلسلہ ہے بہت سے قابلِ تقسیم لمحات اور نقاطِ مکانی کا۔ اب علامات کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ علامات ہمیشہ مکان سے متعلق ہی ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ علامات مکان کے ہی مختلف استعارے ہیں جو ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ ہم مکان میں کسی خاص نقطے پر موجود ہیں اور جو کررہے ہیں وہ ہمارے مکانی ماحول میں ہمارا منصب ہے۔ علامات ہی سائنس کو پیشگوئی کا اہل بناتی ہیں کیونکہ ان کا تعلق مکان کے ساتھ ہے۔

لیکن فلسفیانہ سوالات اس وقت اُٹھتے ہیں جب علامات کو شئے کے مختلف حصوں کی علامات تصورکرنے کی بجائے اُنہیں بذاتِ خود شئے سمجھ لیاجاتاہے۔ چنانچہ علامات شئے کی نمائندگی کرنے لگتی ہیں۔ حالانکہ یہ تو علامات کی ترتیب (Composition) ہے جسے ہم شئے سمجھ لیتے ہیں۔ ہم سمجھ لیتے ہیں کہ حقیقی شئے اسی سمُلیکرم (Simulacrum) کے اندر ہی کہیں موجود ہے۔ سِمُلیکرم (Simulacrum) اُس علامت کو کہتے ہیں جس میں اصل کی خصوصیات کم ہوں۔ مثلاً جب اداکاروں کی تصویریں بنائی جاتی ہیں تو ان کے خدوخال میں اصلی شکل و صورت سے ہٹ کر اضافے کردیے جاتے ہیں۔ ایسی تصویر سِمُلیکرم کی مثال ہے۔

برگسان کہتاہے ایسے سِمُولیکرم کی ایک مثال تو عقلیت پرستوں کا ’’نظریہ ٔ مواد (Theory of Substance) ہےاوردوسری مثال اس کے اُلٹ ’’بنڈل تھیوری (Bundle Theory) ‘‘ ہے۔ نظریۂ مواد یا تھیوری آف سبسٹینس ایک وجودی (Ontological) نظریہ ہے جو شئے کے بارے میں یہ رائے رکھتاہے کہ مواد (Substance) اپنی صفات (Properties) سے جُدا ہے۔ دراصل تھیوری آف سبسٹینس کے ماننے والے جن میں ڈیکارٹ سب سے بڑانام ہے، موضوع کو معروض پر فوقیت دیتے ہیں۔ ڈیکارٹ کہتاہے کہ موضوع یعنی سبجیکٹ پر کبھی شک نہیں کیا جاسکتا۔ شک صرف معروض یعنی آبجیکٹ پر کیا جاسکتاہے، کیونکہ سبجیکٹ تو خود شک کرنے والا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ شئے اپنے آپ میں کوئی چیز نہیں ہے۔ شئے کا وجود موضوع پرمنحصرہے۔ یہ ایک انتہا ہے اور اس کے مقابل بنڈل تھیوری دوسری انتہا پر موجود ہے۔ بنڈل تھیوری کا سب سے بڑا نام ڈیوڈ ہیوم ہے۔ ڈیوڈ ہیوم کے ہاں یہ ’’تھیوری آف آبجیکٹ ہُوڈ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ڈیوڈ ہیوم نے کہا کہ شئے میں انفرادیت کی تلاش ہی عبث ہے۔ شئے کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ اس میں ’’کُل‘‘ کوڈھونڈاجائے۔ شئے فقط چندصفات کا نام ہے۔ صفات ہی شئے ہیں اور اس سے الگ شئے کے کوئی مابعدالطبیعاتی معنی نہیں ہیں۔ اِس طرزِ فکر کو تجربیت، حسیت یا امپریسزم (Empiricism) کہتے ہیں۔ یہ دوسری انتہاہے۔

برگسان کہتاہے علامات (اَسمأ) پر بھروسہ کرنے کا یہی نتیجہ نکلتاہے۔ برگسان کے مطابق علامات کو شئے سمجھ لینے سے ایسی ہی انتہاؤں تک پہنچالازم ہوجاتاہے۔علامات کا کام اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ ہم شئے کی بعض صفات کو بعض دوسری صفات کے مقابلے میں شناخت کرسکیں ۔ اگرہم علامات سے حتمی نتائج اخذ کرنے لگ گئے تو ہم اِن دو انتہاؤں میں سے کسی ایک کو چننے پر مجبور ہونگے کیونکہ ایک انتہا یہ ہے کہ شئے فقط مابعدالطبیعاتی موضوع ہے اور دوسری انتہا یہ ہے کہ شئے ایک خالصتاً مادی معروض ہے۔

برگسان کہتاہے اِن میں دوسری انتہا پر موجود لوگ یعنی تجربیت پسند (Empiricists) علامتوں کی ترتیب میں موجود خلاؤں کے اندرمواد کو تلاش کرتے ہیں اوراپنی طرف سے ان خلاؤں کو پُر کردیتے ہیں۔ یہ تسلیم کرنے کی بجائے کہ یہ علامتوں کی ترتیب یعنی کمپوزیشن کے درمیان پائے جانے والے خلا ہیں۔ یہ جگہیں خالی اِس لیے ہیں کہ شئے کے بارے میں غورکرتے وقت حواس نے جن جن صفات کو علامتیں یا نام دیے تھے وہ شئے کی کُل صفات نہیں تھیں بلکہ ہرایک صفت اوردوسری صفت کے درمیان ایک تیسری صفت تھی جسے علامت نہیں ملی تھی۔ یوں گویا علامتوں کے درمیان خلا تھے۔ یہ علامتوں کے ترتیب کےخلا تھے لیکن ہم نے عقل سے انہیں پُرکردیا اوریہ رائے قائم کرلی کہ مواد فی الحقیقت اپنے اندر کوئی اورمعنی نہیں رکھتا۔ مواد کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ معنی ہیں تو فقط صفات کے اور ان علامتوں کے، جو ایک ترتیب میں جوڑ کر شئے کے بارے میں رائے قائم کرلی گئی۔ حالانکہ یہ علامتیں شئے کے حصوں کی حقیقی نمائندہ ہی نہ تھیں بجائے اس کے کہ ان سے کوئی نتیجہ اخذکرلیاجاتا۔

برگسان کہتاہے، دوسری طرف عقلیت پرست مواد کی جان نہیں چھوڑتے۔ وہ مواد کو ایک ناقابلِ معلوم خالی برتن سمجھتے ہیں جو بہت سی صفات سے بھراہوا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ شاید وہ شئے کواس کی انفرادیت کےساتھ دریافت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ وہ مواد کو صفات کی سواری سمجھتے ہیں اور شئے میں مسلسل صفات کا اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ مواد ہرصفت کو اپنے اندر سمولیتا ہے اورپھر ایک وقت آتاہے کہ مواد میں خدا بھی اورنیچر بھی ، سب ہی اکھٹے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ برگسان نے اسے سونے کی ایسی ڈلی قراردیا ہے جسے اس کا مالک کبھی تبدیل ہی نہیں کروانا چاہتا یعنی اُسے سونے کو ڈلی کی شکل میں ہی سنبھالنے کا شوق ہے اوروہ اس سے کبھی زیور نہیں بنواتا۔ ایسے ہی تھیوری آف سبسٹیسن کے ماننے والوں کا حال ہے جو مواد یعنی سبسٹینس کو دریافت کرنے کی خواہش میں اس پر صفات لادتے چلے جاتے ہیں۔ اس کی انفرادیت تو وہ کیا دریافت کرتے اس کا شئے ہونا بھی اس سے چھِن جاتاہے اور وہ ایک ایسے کُل میں گھل مل جاتی ہے جس میں تمام ترصفات یکجا ہوجاتی ہیں۔

برگسان نے مابعدالطبیعات کو ایسی سائنس قرار دیا جو علامتوں کا علاج کرتی ہے۔ مابعدالطبیعات کا منصب ہی مطلق کو گرفت میں لانا اور سمجھنا ہے تو مابعدالطبیعات ایسے طریقے کیسے قبول کرسکتی ہے جن میں علامتوں کی ترتیب اورکمپوزیشن کا نظام ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتاہو؟ مابعدالطبیعات شئے کے بارے میں جاننے کےعقلی طریقے قبول نہیں کرتی۔ اس کا اپنا طریقہ ہے۔ برگسان اس طریقے کو وجدان (Intuition) کا نام دیتاہے۔ برگسان کہتاہے کہ وجدان ایک سادہ اورناقابلِ تقسیم تجربہ ہے۔ وجدان علم کا ذریعہ ہے اوربراہِ راست شئے کی انفرادیت تک پہنچنے کا واحد وسیلہ ہے۔ وجدان شئے کی صفات کو علامتوں سے نہیں پہچانتا بلکہ وہ شئے کو صفات کے ایک متحدہ نظام کے طورپر دیکھتاہے۔ ایسا کرنے کے لیے وجدان کو اپنے الگ زمان و مکاں میں کام کرنا پڑتاہے ۔ لیکن جب وجدان کے اجزا کو عقل کے ذریعے جائزے کے عمل سے گزاراجاتاہے تو وجدان کو عقل کے زمان ومکاں یعنی ایک کے بعد دوسرے کی ترتیب کےنظام میں ڈھل جانا بھی آتاہے۔

برگسان اپنی کتاب’’مابعدالطبیعات، ایک تعارف‘‘ میں کچھ تصویروں کی مدد سے وجدان کے عمل کوسمجھانے کی کوشش کرتاہے۔ وہ شہر کی مختلف تصویروں کے ذریعے سمجھاتا ہے کہ اگر شہرکو دوبارہ تعمیر کردیا جائے تو ہمارے لیے اس کے ابعاد کھوجاتے ہیں۔ ہم شہرکوایک کلیت میں شہر سمجھتے ہیں نہ کہ اس کے اجزا میں۔

برگسان کہتاہے کہ اگر ہم ہومر کی ایک سطر پڑھیں اورچاہیں کہ وہ تجربہ جو قدیم یونانی زبان میں ہومر کی اس سطر کو سننے سے ایک یونانی کو حاصل ہوسکتا تھا وہ ہمیں بھی حاصل ہوسکتا لیکن وہ تجربہ ہم کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔ ہم کمنٹری پر کمنٹری کرسکتے ہیں لیکن یہ کمنٹری کبھی بھی حقیقی ابعاد (Dimensional value) گرفت میں نہیں لاسکتی۔

معلوم ہوتاہے کہ برگسان کا وجدان چیزوں کی طرف ، اُن کی تمام تر انفرادیت اور ناقابلیتِ بیان سمیت واپس لوٹنے اور شئے فی الذات تک پہنچنے کا طریقہ ہے ۔ برگسان کہتاہے وجدان کا اپنا زمان ومکاں ہے جو عقل کے زمان و مکاں سے مختلف ہے۔ یہ ’’ڈیوریشن‘‘ یعنی استدام ہے۔ لیکن وجدان کے زمانے کو جب برگسان ’’دورانیہ‘‘ یا استدام کہتاہے تو ہمیں یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ دورانیہ بھی تو عقل کے زمانے میں دومختلف اوقات کے درمیانی وقفے کو کہتے ہیں۔ ایسا سوچنے کی بجائے ہمیں یوں سوچنا چاہیے کہ دورانیہ ایک لمحہ ہے۔ ایک لمحہ جسے کھولاجائے تو لمبا ہوکر عقلی زمان و مکاں کے ایک وقفے جتنا طویل ہوجاتاہے۔ یہ ایسا دورانیہ ہے جو اپنے اندر کئی بلکہ لامتناہی دورانیے سموسکتاہے۔ جیسے رنگوں کے لامتناہی سپیکٹرم میں کوئی اپنے آپ کو مالٹا رنگ (اورینج) میں محسوس کرے تووہ اپنے آپ کو ایک گہرے اور ایک ہلکے رنگ کے درمیان پھنسا ہوا پائے گا۔ وہ اوپر پیلے رنگ کی طرف بھی حرکت کرسکتاہے اور نیچے سُرخ رنگ کی طرف بھی۔ وجدان کا ایک دورانیہ اورینج رنگ کی طرح سے ہے لیکن اس کے اندر پیوست دوسرے رنگ بھی مختلف دورانیے ہیں۔ بالکل ویسے جیسے کسی دورانیے کے سپیکٹرم میں کوئی اپنے آپ کو اُوپر روح (Spirit) تک یا نیچے مادے تک حرکت کرتاہوا محسوس کرے۔

دراصل برگسان کانٹ کی تنقیدِ عقلِ محض سے مطمئن نہیں تھا، جس نے عقل کی حدود اس طریقے پر متعین کی تھیں کہ اس نے مابعدالطبیعات کو ملعون ہی قرار دے دیاتھا۔ یوں گویا کانٹ نے یہ ظلم کیا تھا کہ اس نے مطلق کے علم کا حصول ناممکن قراردے دیاتھا۔ برگسان کا وجدان دراصل کانٹ کی تنقیدِ عقلِ محض کا جواب ہے۔ برگسان کو کانٹ کے اس خیال پر سخت اعتراض ہے کہ ہم کائنات کو فقط اُتنا سمجھ سکتے ہیں جتنا وہ اپنے آپ کو ہم پر کھولنا چاہتی ہے نہ کہ اُتنا جتنا ہم اُسے سمجھنا چاہتے ہیں۔ مثلاً ہم سمجھنا چاہتے ہیں کہ کائنات کی حقیقت کیا ہے تو کانٹ کہتا ہے کہ ہم یہ نہیں جان سکتے ۔ ہم اپنے حواس کی وجہ سے کائنات کے بارے میں فقط ایک انسانی رائے قائم کرنے کا حق رکھتےہیں۔ اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ برگسان نے کہا کہ جاننے کی کوشش ہمیشہ تضادات کے علم پر مبنی ہوتی ہے۔اور غورکریں تو یہ خود ایک فلسفیانہ پیراڈاکس ہے جو فقط عقلیت کے عمل کی وجہ سے پیدا ہوتاہے۔ برگسان کہتاہے کہ عقل کا تو کام ہی تضاد ات کا مطالعہ ہے۔ اگر حقیقت کو جاننا ہے تو وجدان سے مدد لینا ہوگی جوتضادات سے پاک ہے کیونکہ وہ علت و معلول سے ماوراہے۔ برگسان کہتاہے کہ کسی شئے میں کوئی اتحادِ وجود نہیں، نہ ہی کوئی کثرتِ وجود ہے۔ ہرشئے میں ایک انفرادیت ہے۔ یہی انفرادیت ہے جوعقل پر کھلتی نہیں تو وہ اسے اتحادِ وجود یا کثرتِ وجود میں تلاش کرنے لگتی ہے۔برگسان کا دعویٰ ہے کہ وجدان کے ذریعے ہم اپنے آپ کو مادہ و روح کی ازلی لڑائیوں اور دوفلسفوں کے قدیمی تضاد سے بچاسکتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *