مرگ انبوہ سید عاصم رؤف( گورکھپور ) کی نظر میں

محترم بھائی ذوقی عالم صاحب کا ناول مرگ انبوہ ایک ایسا دستاویز ہے جو بیک وقت اردو ادب کا بہترین شاہکار بھی ہے کل اور آج کا موازنہ بھی اور تواریخ بھی ۔یہ ناول سچ پر مبنی ایک آنکھ کھول دینے والا ناول ہی نہیں بلکہ ہمارے ماضی اور حال دونوں نسلوں کی کشمکش ہے جنریشن گیپ کی جیتی جاگتی تصویر بھی ہے اور ہماری سماجی سیاسی دینی اور ملی بے راہ روی کا نوحہ بھی ۔ہماری بدقسمتی اور ہماری ناقص قیادت کی طرف اشارہ کرتی ہوئی ایک بہت ہی کامیابی سے لکھی ہوئی کتاب ہے ۔
اس ناول میں ان نوجوانوں کی داستان ہے جو نا نا نانی کی کہانیوں سے نابلد ہیں اور جو 20 سال کی عمر میں 80 سال کے تجربات رکھنے کا داوا کرتے ہیں ۔وہ اخلاقی اقدار اور خاندانی رواداری کے قائل نہیں ہیں ۔انکے لئے اسٹیو جاب اور زکربرگ ہی آئیڈیل ہیں ۔انکی کائنات انٹرنیٹ ۔ایپل ۔گوگل ۔فیس بک ٹیبلٹ جیسی چیزیں ہی سب کچھ ہیں ۔وہ اپنے بزرگوں کی کتابوں سے بھری شیلف کوڑے دان سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ۔وہ نوجوانوں کی ایک ایسی نئی طرح کی نسل ہے جو رومانس اور سیکس کی افراط سے دل بھر جانے کے بعد غصہ اور تشدد کی لہروں میں بہہ رہی ہے ۔
ناول کا مرکزی کردار جہانگیر مرزا اور پاشا مرزا بھلے ہی ہیں لیکن اس ناول کا قاری خود اپنے آپ کو اس ناول کے کردار ہونے اور سمجھنے پر مجبور ہے اور یہی ناول کے خالق کی کامیابی کا ضامن ہے ۔
ناول میں ایک جادوگر کا بھی کردار ہے جو اپنے جادو کے بل پر بہت سی انہونی کو ہونی میں تبدیل کر دینے میں ماہر ہے ۔اور اس کا استعمال وہ خوب ہوشیاری مکاری اور اعیاری کے ساتھ وہ اکثریت کے دل و دماغ پر حاوی ہے ۔
وہ جادو گر ایک بہت بڑی کمپنی کا مالک ہے جو اقلیتوں کو ہر طرح سے پریشان کرنے اور انکے ساتھ ظلم کی انتہا کر دینے پر آمادہ ہے ۔وہ سبھی خاص اداروں کو اور جمہوریت کے سبھی ستون کو ہیک کر کے کبھی نام نہاد دہشت گردی کے الزام لگا کر کبھی فریج میں رکھے مٹن کو جادوگری سے بیف بنا کر انکا قتل عام کرتا ہے اور کبھی جانوروں کے تحفظ کے نام پر قتل کر تا ہے اور یہ قتل عام مجرم کی شناخت کے باوجود ہجومی تشدد کہہ کر یا تو ختم کر دیا جاتا ہے یا اگر کبھی گرفتار کر لیا گیا تو جلد ہی ضمانت پر رہا کر دیئے جانے کے اسکی بڑی بڑی شخصیات جیل پر پھول مالے سے اسکی پذیرائی کرتی ہیں ۔
لاکھوں کے سوٹ اور کیپ پہنے داری رکھے ہوئے جادوگر اور اسکی کمپنی اقلیتوں کے بچوں کی موت پر بہت ہی بے حیائی کے ساتھ یہ کہہ دیتا ہے کہ کار کے سامنے آنے پر کتے کے پلے دب کر مرتے ہی رہتے ہیں ۔
جادو کا اثر صرف نفرت کے ذریعے ہی دکھائی دیتا ہے ۔اقلیتوں کو کیا کھانا ہے کیا پہننا ہے کتنی بار طلاق کہنا ہے یہ سب جادوگر اور اسکی کمپنی طے کرتی رہی اور سیاسی ۔سماجی ۔دینی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کسی انجان خوف کی وجہ سے خاموش ہو کر تماشہ دیکھنے میں مشغول ہیں ۔
ان سبھی باتوں کو ناول کے خالق محترم ذوقی عالم صاحب نے بہت خوبصورت انداز میں لیکن بہت ہی کرخت لہجے میں سمیٹنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔
اس ناول میں جادوگر کے ذریعے راتوں رات تین سو ستر چنار کے پیڑ کاٹنے اور پینتیس جھیلوں کو برباد کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں مکین و مکاں کے برباد کرنے کی بھی تواریخ رقم کی ہے جو کی شاید اردو ادب کے کسی بھی ناول میں اتنی ہمت اور جرات کے ساتھ نہیں کی گئی ہے ۔
ناول جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے اسکی ہولناکی بڑھتی جاتی ہے ۔اور جادوگر اور اسکی کمپنی کی اگلی خوفناک اور دل دہلانے والی لیکن بالکل سچی اسکیم سے آگاہ کرنے کا باب نظر آتا ہے جس میں ان اقلیتوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے یا پھر انکو اپنا زرخرید غلام بنا نے کی منصوبہ بندی ہے ۔اور اسکے تحت اس کمپنی کی حمایت کرنے اور اسکے ہاتھوں اپنا قلم اپنا وقار اور اپنی آئیڈیالوجی کو بیچنے اور اسکے بدلے میں منہ مانگا انعام دینے کی پیش کش کی جاتی ہے اور   اسکو موت کے فارم پر دستخط کر نے کو مجبور کیا جاتا ہے ۔ جادو گر کی کمپنی کے ملازمین اس بات کی بھی ضرورت پر زور دیتے ہیں کہ اقلیتیں بیمار اور کمزور لوگ ہیں اور انکو راحت انکی آسان موت کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔جسکا وہ بندوبست کر لیں گے ۔
یہودیوں اور ارمینین کو جس طرح ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔
اس دور میں بھی موجود جادوگروں کے ظلم کی داستانیں ونسٹن چرچل جیسے لوگوں نے لکھی تھیں وہی اس دور میں مرد مجاہد ذوقی عالم بھائی نے لکھی ہے جو شاید دن بہ دن ایک آنکھ کھولنے والی بات ہی نہیں بلکہ اب وقت بھی نہیں ہے اور آپکی ہماری نادانیوں کی وجہ سے اور سیاسی جماعتوں کے اقلیت اقلیت کے شور اور تماشے سے جادوگر اور اسکی کمپنی کو جو سیاسی فائدہ ملا وہ اب حیات سے کم نہیں ہے ۔
کامریڈ  لوگوں نے بھی اپنا سیاسی وجود اقلیت اقلیت کر کے کھو دیا اور وہ حاشیے پر آگئیں اس لئے انہوں بھی انکی لڑائی لڑنے کی ہمت کھو دی ۔
ناول نگار کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے کیوں کہ یہ ناول لکھ کر بڑا رسک اور خطرہ مول لیا ہے لیکن اپنے قومی فریضہ کو ادا کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔آنے والے دنوں کے لئے یہ ناول ایک ایسا دستاویز ہے جو عقلمندی اور دانشمندی سے کام کرنے کے لئے روشنی بھی دکھا نے کا کام کر تا ہے ۔
اللہ پاک ذوقی بھائی کی جان مال عزت آبرو کی حفاظت کرے اور اقلیتوں کو اب سے بھی عقل کے ناخن لینے کی توفیق عطا ء فرمائے ۔ آمین ۔
یقین مانیں تو ناول پڑھنے کے بعد میں عجب وحشت اور ہیجانی کیفیت سے دوچار ہو گیا تھا ۔اور چاہتے ہوئے بھی کچھ لکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھا تھا کیونکہ میرے سامنے اس ناول   کا  ایک ایک لفظ مجھے نہ  تو سونے دے رہا  تھا  نہ ہی میں اس ناول کی سچائی کو کسی بھی وقت بھول پا رہا ہوں مجھے   لگاتا ر یہ خوف ستا تا ہے کہ ہماری قوم کے رہنماؤں کی نااہلی اور ناعاقبت اندیشی کا خمیازہ ہماری اگلی نسلوں کو کس طرح بھگتنا پڑے گا ۔بس اللہ ہی حافظ ہے ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *