ہم حسرت کو مرنے نہیں دیں گے۔۔قمر رحیم

مرنے والوں کے ساتھ اگر مرا جاتا تو حسرت وہ آدمی تھا جس کے ساتھ میں خوشی سے مر جاتا۔دونوں کی قبریں ایک ساتھ ہوتیں۔ نہ بھی ہوتیں توکوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔فرصت کے یہ رات دن ہمیں کہاں نصیب ہوتے۔ ہم قیامت تک کا سفر ٹھنڈی چائے، نرم گرم گفتگو، ہنسی مذاق، خوبصورت تذکروں، تبصروں، قیاس آرائیوں اور پیش گوئیوں میں گزار دیتے۔فرشتے ان کے پاس حساب کے لیے آتے تو مجھے بھی وہیں پاکر حیران ایک دوسرے کو دیکھتے۔ حسرت صاحب مسکرا کر ان کا استقبال کرتے۔ انہیں اپنے کمرے کی پرانی کرسی پیش کرتے۔ اور ان کی تشویش دور کرنے کے لیے کہتے، جناب آپ ان کی موجودگی سے ہر گز پریشان نہ ہوں۔ دراصل ہمیں دنیا میں مل بیٹھنے کو کافی وقت نہیں ملا۔ اب جو ملا ہے تو کیوں اسے اپنی اپنی قبر میں لیٹ کر ضائع کریں۔جب سو طرح کے غم اور پریشانیوں کا علاج کرتے کرتے ہم خود علاج کے محتاج ہو گئے۔تو ہم نے ایک دن بیٹھے بیٹھے مشورہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے۔اصل میں ہم مرے ہی اس لیے تھے کہ اب دنیا جینے کے قابل نہیں رہی تھی۔

اتنے میں حسرت صاحب نے ڈبل راڈ والا ہیٹر جس کا ایک ہی راڈ بمشکل جلتا ہے گھسیٹ کر آگے کیا، مگر جب دیکھاکہ بجلی نہیں ہے تو پریشان میری طرف دیکھا اور پھر مہمانوں سے مخاطب ہوئے۔دیکھیے نا صاحب آپ نے بھی ایسے موسم میں ہمیں بلایا کہ نہ آپ کی ہی کوئی خدمت کر سکے،نہ جنازے پر آنے والوں کی۔ہم نے ساری سردیاں اپنے جذبات کی گرمی تاپی ہے۔پتہ نہیں اس حرارت سے آپ کا گزارا ہو پائے گا یا نہیں۔کہیں آپ کو ٹھنڈ نہ لگ جائے۔یا شاید آپ اس طرح کے احساسات سے آزاد ہیں۔ آپ کے اور ہمارے تخلیقی عناصر میں واقعتاً زمین آسمان کا فرق ہے۔ آپ نوری ہیں، ہم خاکی۔ہمیں اس پر اعتراض نہیں تھا۔ سارے مسائل مٹی پر اتارے جانے کے بعد شروع ہوئے۔مٹی جب مٹی سے مل جائے تو اسے الگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔لہٰذا روح کے تقاضے مٹی کے تقاضوں میں گھل مل کرتحلیل ہو گئے۔ ہماری ساری زندگی انہی کی بازیابی میں گزر گئی۔ اپنی ذات پہ توجہ دے سکے نہ کوئی ڈھنگ کاکام ہی کر پائے۔ اس اعتبار سے ہم سے خیانت ہوئی ہے۔ یہ اقبال جرم ہم پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ گو کہ ہمارے پاس اپنے جرم کے دفاع کے لیے بہت مواد ہے۔ لیکن قادر الکلام ہستی کے سامنے، جو آپ کی خالق بھی ہو، کیا کلام کریں گے۔ اسے تو ہماری پیدائش سے پہلے پتہ تھا، ہم نے کیا کیا گل کھلانے ہیں۔

دنیا کائنات کی مشکل ترین جگہ ہے۔وہاں پر گزر بسر کے لیے ابراہیم ؑ کا یقین چاہیے۔ آج پوری دنیا ابراہیم ؑ والی آگ کی لپیٹ میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری چند روزہ زندگی حواس باختگی میں گزر گئی۔ دنیا ہمیں ہر قدم دشمن کی طرح ملی ہے۔ مگر ہم نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ مرنے کے بعد بھی معاف نہیں کرے گی، یہ سوچا نہ تھا۔ ہمارے مہمانوں کو کتنی تکلیف سے گزرنا پڑا۔آج کا دن اگر دھوپ رہتی تو کسی کا کیا جاتا۔ لوگ اطمینان سے ہمیں الوداع تو کرسکتے۔ اپنے چند مہرباں تھوڑی دیر بیٹھ کہ رو ہی لیتے۔ موسم نے انہیں اتنی بھی سہولت نہیں دی۔وہ بھی یقیناً سوچتے رہے ہوں گے،حسرت مرا بھی تو کیسے دن کہ بارش تھمنے کو نہیں آئی۔ ویسے دنیا کا یہ دستور ہے کہ ایسے موسم میں کوئی گھر آئے تو اس کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔ہمارے مرنے کا دن دیکھ کر آپ کو بھی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ اُدھر ہمارا وقت کیسے گزرا ہوگا۔ ہم سخت جان تھے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ مگر ہم پر پڑنے والی مصیبتیں ہم سے زیادہ سخت جان ثابت ہوئیں۔آپ نے سوچا ہو گا، پتہ نہیں کیا کچھ کر کے  آئے ہیں۔ کچھ بھی نہیں کیا،سوائے محبت کے۔جہاں بھی اپنے جیسے گرے پڑے لوگ ملے، ان کی دلجوئی کی، سہارا دیا، ہمت بندھائی، امید دلائی۔ جتنا ہم اللہ کو جانتے تھے، اتنا اس کا تعارف کروایا۔ خود بھی اس کے سامنے ایک حقیر ذرّے کی طرح ہمہ وقت ہوا کے دوش پہ رہے۔ خزاں رسیدہ پتے کی مانند کبھی یہاں کبھی و ہاں۔ یہ بھی یاد نہیں کہاں کہاں سے گزر کر یہاں پہنچے ہیں۔ تھک ہار کر پہنچے ہیں، اس امید پر کہ یہاں سکون ملے گا۔دنیا چھوڑنے پر خوش ہیں لیکن اپنے لوگوں سے جدائی کاقلق بھی ہے۔
اس بات پر مجھ سے رہا نہ گیا اورحسبِ سابق بدتمیزی کر ہی لی، ”حسرت صاحب، آپ کی آخری بات سے اختلاف کی گنجائش ہے“؟
وہ کھلکھلا کر ہنسے اور کہا ”جناب آپ کیسی بات کر رہے ہیں۔ اختلاف کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں ہو تی۔ آپ کھل کر اختلاف کیجیے، بلکہ ببانگ دہل کیجیے“۔
’آپ کو ان لوگوں سے جدائی کا غم ہے جن سے تنگ آکر ہم نے دنیا ترک کی ہے“؟میں نے اپنی بات کو طول دینا مناسب نہ سمجھا۔اس کے بعد وہ بولنا شروع ہوئے۔”آپ کی بات سو فیصد درست ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس میں فرد کا قصور کتنا ہے او رہمارے معاشرے، معیشت اور ماحول کا کتنا؟اس پر زیادہ کیا بات کریں، انسان اور زندگی، زندگی بھر ہماری گفتگو کا موضوع رہے ہیں۔ہم نے انہیں اتنا ٹٹولا کہ انگلیاں زخمی ہو گئیں۔پھر مرحم کی تلاش میں نکلے، نتیجتاً پورا وجود ہی زخمی ہو گیا۔یہ زخم جب روح تک پہنچے تب بات سمجھ آئی۔آپ نے دیکھا نہیں، لوگوں نے لوگوں کو دو گروہوں میں بانٹا ہوتا ہے۔ اپنے اور غیر۔ اکثر اوقات ان کے ساتھ بھی ہاتھ ہو جاتا ہے جب وہ کہتے ہیں کہ اپنوں نے دھوکہ دیا۔حالانکہ انسان جن لوگوں میں رہ رہا ہوتا ہے، وہ سب اس کے اپنے ہوتے ہیں۔ کوئی پرایا نہیں ہوتا۔آپ نے دیکھا کہ 47ء کی تقسیم کے ستر سال بعد جب لوگوں کا فیس بک کے ذریعے رابطہ ہوا تو وہ اپنے وطن اور لوگوں کو دیکھ اور سن کر کتنا روئے ہیں۔یہاں اپنے اور پرائے کا تصور خلط ملط ہو گیا ہے۔مجھے اپنے صحن سے نظر آنے والے سارے کچے اور پکے گھر اپنے لگتے ہیں۔ان کے دکھ میرے دکھ اور ان کی خوشیاں میری خوشیاں ہیں۔میں دوسروں کی خوشیاں دیکھ کر خوش ہوتا تھا اور ان کے دکھ دیکھ کر اپنے آپ کو زیادہ خوش نصیب سمجھتا تھا۔ لوگ مجھ سے اپنی قسمت کا حال پوچھتے تھے۔ اور میں ان کی زندگی کے روشن پہلوؤں کو اجاگر کرتا اوران کی امیدوں کو تقویت دیتا تھا۔میں ان کے مستقبل کو خوبصورت خوابوں کی صورت ان کے سامنے رکھتا تھا۔میری کوشش ہوتی تھی لوگ اپنے حالات سے پریشان اور اپنے آپ سے مایوس نہ ہوں۔میں اتفاقاً پامسٹری کی طرف آگیا ورنہ میں نے کبھی اسے اپنا پیشہ نہیں سمجھا۔دراصل انسانیت ہی انسان کا اصل پیشہ ہے۔انسان بننے کی کوشش میں لگے رہنا ہی زندگی کا مقصد ہے۔ کامیابی اور ناکامی کا اصل معیار یہی ہے۔ مال و دولت،جاہ و جلال نہیں ہے۔دنیا میں انسان کی محنت کا مرکز و محور یہی دو تصورات ہیں۔ امتحان میں فیل ہو جانا یا مال و مرتبے کا نہ ملنا ناکامی نہیں ہے۔بلکہ نقل لگا کر پاس ہو جانااور بلا تمیز مال و حیثیت کاحاصل کرنا ناکامی کی بنیاد ہے۔یہیں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

دنیا دولوگوں کی بنائی یا بگاڑی ہوئی ہے۔ ایک نبی اور دوسرا حکمران۔نبی ہر حال میں انسانوں کو انسانوں اوراللہ سے جوڑنے کا کام کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کام میں وہ جان دے دیتا ہے مگر پیچھے نہیں ہٹتا۔ حکمران ہرحال میں انسانوں کو انسانوں سے جدا کرتا ہے۔یہاں تک ہی نہیں بلکہ وہ انسانوں کو خدا سے جدا کر کے  خود سے جوڑنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنی جان تک گنوا دیتا ہے۔ ان دونوں میں سے کبھی ایک کی محنت غالب آجاتی ہے کبھی دوسرے کی۔جس کے اثرات دنیا پر پڑتے ہیں۔یہیں سے اچھائی اور برائی جنم لیتی ہے۔ یوں دنیا دو گروہوں میں بٹ جاتی ہے۔نبی کے لیے سارے انسان برابر ہوتے ہیں۔ اس کے دل میں کسی کے لیے نفرت نہیں ہوتی۔ نبی خالق اور مخلوق سے محبت کی تبلیغ کرتے ہیں، حکمران مال، طاقت اور اختیار کی“۔
ایک شام ہم سیر کو نکلے ہوئے تھے۔نہر کی دوسری طرف سے ایک آدمی ہاتھ ہلا کر کچھ کہہ رہا تھا۔ مگر آواز ہم تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ ہم تھوڑی دیر اس کی طرف متوجہ رہے پھر اپنی باتوں میں لگ گئے۔ کچھ دیر بعدجونہی پل کے نزدیک پہنچے سامنے سے وہی آدمی برآمد ہو ا اور بھاگ کر حسرت صاحب کے گلے لگ گیا۔ ان کے ماتھے اور ہاتھوں کو چوما اور کہا ایک گھنٹے سے نہر کی دوسری طرف سے آپ کا پیچھا کر رہا ہوں۔
”کیوں بھائی صاحب ہم نے کیا خطا کی ہے جو آپ ہمارا پیچھا کر رہے ہیں“؟ حسرت صاحب نے ہنستے ہوئے کہا
”یہ تھوڑی خطا ہے، بن بتائے چلے آئے“؟ اس نے جواب دیا۔
”آپ کتنوں کو بتا کرآئے ہیں“؟حسرت صاحب برابر مسکرا رہے تھے۔
”ارے حسرت صاحب، میرے لیے تو ساری دنیا نے دعائیں کیں یہ مر جائے۔ کینسر کی وجہ سے میری حالت خراب ہو گئی تھی۔ کچھ دن اور نہ مرتا تو درد کی شدت سے پاگل ہو جاتا“۔اس نے جواب دیا۔”آپ کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ یہ بتائیے کہ آپ کب تشریف لائے ہیں“؟حسرت صاحب نے پوچھا۔
”مجھے تین مہینے ہو گئے ہیں۔ آپ کو بہت تلاش کیا،کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا، آج اچانک نظر پڑ گئی۔“ وہ بھی بہت خوش تھا۔ حسرت صاحب بہت دیر تک اس سے اپنے دوستوں پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے بارے میں پوچھتے رہے۔اس نے ایک ایک کے احوال بیان کیے۔ میں ان کی گفتگو بہت دلچسپی سے سن رہا تھا۔ اچانک مجھے اپنے عزیز واقارب اور دوستوں کی یادستانے لگی۔میں نے غیر ارادی طور پر ادھر ادھر دیکھا، شاید اپنے محلے کا کوئی نووارد نظر آجائے۔مگر یہ میری خام خیالی تھی۔ میں ناچار دوبارہ ان کی طرف متوجہ ہو گیا۔
وہ آدمی برابر بولے جا رہا تھا۔”آپ کی وفات کا لوگوں کو بہت افسوس ہوا۔ انہوں نے آپ کی کمی کو بہت بری طرح محسوس کیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہم حسرت صاحب کی زندگی میں ان کی قدر نہیں کر سکے۔ ہم ناقدر شناس لوگ ہیں۔ ہماری یہ رِیت بہت پرانی ہے۔ اسی ناقدری کی وجہ ہے کہ ہمارے اندر بڑے لوگ نہیں پیدا ہو رہے۔ ہمار ا معاشرہ قحط الرجال کا شکار ہو گیا ہے۔یہ بات موضوعِ بحث بن گئی ہے“۔

’حسرت صاحب نے خاموشی سے میری طرف دیکھا اور پھر اس آدمی کی طرف متوجہ ہوکر بولے۔”اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم قحط الرجال کا شکار ہیں۔ لیکن میری ذات کی حد تک یہ درست نہیں ہے۔ الگ بات ہے کہ ہم نے خواب بہت دیکھے مگر ان کی تعبیر کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ اس کے باوجود اگر لوگ ہمیں یاد کر رہے ہیں تو یہ ان کی ذرّہ نوازی ہے۔ ورنہ حسرت تو ایک نکمّا آدمی تھا، اس نے کسی کو کیا دیا ہے۔ اگرلوگوں کا خیال ہے کہ میں کام کا آدمی تھا تو یہ ان کا خیال ہے۔شکر ہے ہماری زندگی میں کسی کو یہ خیال نہیں آیا ورنہ کتنا شرمندہ ہونا پڑتا۔مرنے کے بعداب اگرلوگ تعریف کررہے ہیں تو اچھی بات ہے۔ تعریف ہمیشہ پیٹھ پیچھے ہی اچھی لگتی ہے“۔

وہ آدمی بات میں مخل ہو گیا اور بولا، ”حسرت صاحب آپ کو اندازہ نہیں ہے۔آپ ایک ماڈل لائف گزر کر آئے ہیں۔ سادگی، ہمدردی، محبت، اخلاص اور اخلاق دنیا میں کتنا کم رہ گیا ہے، اس کا اندازہ ہمیں آپ کی موت کے بعد ہوا۔آپ کی زنداہ دلی مثالی تھی۔آپ اللہ کی رضا پر راضی رہے۔ یہ بہت سعادت کی بات ہے۔ آپ دنیا کی دوڑ سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔ آپ نے دوسروں کے لیے وقت نکالا، انہیں سنا، ان کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئے اور ان کی رہنمائی کی۔ آپ نے لوگوں میں فرق نہیں کیا، سب کو برابر سمجھا۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے آپ کی صحبت اختیار کی وہ بھی آپ کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ آپ ایک مضبوط اور پراثر شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی اچانک موت پر ہر شخص اس قدر رنجیدہ تھا جیسے اس کا کوئی قریبی عزیز فوت ہو گیا ہو۔ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ وہ حسرت کو مرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے آپ کے گھر کی طرف جانے والی سڑک کو اے ایچ حسرت روڈ کا نام دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’آستانہ حسرت‘ کے نام سے ایک مجلس قائم کر دی ہے۔ جس کے مقاصد میں سے چند ایک یہ ہیں کہ نوجوانوں کی کیریئر کونسلنگ، تربیت کی جائے۔ ہر شعبے کے کامیاب لوگوں سے انہیں لیکچر دلوائے جائیں اور انہیں اچھا انسان بننے کے لیے درکار ماحول مہیا کیا جائے۔ اور یہ کہ سون ٹوپہ کے علاقے کے چھوٹے چھوٹے تنازعات کو مقامی سطح پر حل کیا جائے۔علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ نادار مریضوں کی سرپرستی کی جائے وغیرہ۔ یہ کہ مقامی سکول میں ایک عدد لائبریری قائم کی جائے جس کا نام حسرت میموریل لائبریری ہو۔ شروع میں ہر گھر سے ایک کتاب ہدیہ کرنے کی اپیل کی جائے“۔

حسرت صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انہوں نے دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھ دیے۔ وہ تھوڑی دیر اس کیفیت میں رہنے کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا”آپ نے دیکھا ہمارے لوگ کتنے عظیم ہیں۔ جو انسان زندگی میں کسی کے کام نہ آسکا، لوگوں نے اسے مرنے کے بعد کام کا بنا دیا“۔ان کی آنکھوں میں آنسو برابر چمک رہے تھے۔ وہ دوسرے آدمی سے مخاطب ہوئے ”لوگ مجھے اچھے لفظوں میں یاد کرلیتے، کافی تھا۔یہ توانہوں نے بہت زیادہ کر دیا۔ اتنے کا میں حقدار نہیں تھا۔ لیکن ایک بات ضرور کہوں گا کہ اگر میرے بس میں ہو تو لائبریری ساقی صاحب کے نام کردوں جس کا نا م ’خیابانِ قیوم امام ساقی‘ ہو۔جہاں بیٹھ کر ہماری نئی نسل اپنی تاریخ اور جدید علوم سے آگاہی حاصل کرے تاکہ وہ اپنے ماضی اور مستقبل کو ہم آہنگ کرنے کے ساتھ اپنے خالق کی معرفت بھی حاصل کر سکے“۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *