شمشیر الحیدری: نئی روشنی کا سندھی استعارہ۔۔۔۔ مشتاق علی شان

شمشیر الحیدری جدید سندھی ادب کا ایک معتبر حوالہ ، ایک کثیر الجِہات شخصیت کا نام ہے ۔ ا نھوں نے شعر وادب سے لے کر صحافت ،تحقیق اور تراجم تک کے میدانوں میں اپنا لوہا منوایا اور سندھی ادب کے دامن کو اپنے شہہ پاروں سے مالا مال کیا ۔ ان کا اصل نام شمشیر علی تھا ۔وہ 15ستمبر 1931کو ضلع بدین کے علاقے کڈھن میں پیدا ہوئے ۔ بدین میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سندھ مدرستہ الاسلام کراچی میں داخل ہوگئے ۔ جون 1947میں جب سندھ مدرستہ الاسلام کے معلم اور بعد ازں معروف ترقی پسند دانشور کے طور پر سندھ کے ادبی افق پر نمودار ہونے والے سائیں محمد ابرہیم جویو کو “Save Sindh Save The Continent”کے نام سے پر خلوص وطن پرستی پر مبنی معرکہ آرا ء کتاب لکھنے کی پاداش میں دس سالہ ملازمت سے جبری طور پربرخاست کیا گیا اور ان کی کتاب پر پابندی عائد کی گئی تو یہ نوجوان شمیشر الحیدری ہی تھے جنھوں نے اس غیر قانونی عمل کے خلاف طلباء کو منظم کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ۔اس احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے پر انھیں سندھ مدرستہ الاسلام سے خارج کر دیاگیا ۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ طالبعلمی کے زمانے سے ہی شمشیر الحیدری ظلم وجبر اور فِسطائی حربوں کے خلاف مزاحمت کے قائل تھے ۔ استبدادی قوتوں کے خلاف ان کا یہ مزاحمتی رویہ اور کردار آخری سانسوں تک ان کا طرہ ء امتیاز رہا ۔

سندھ مدرستہ الاسلام سے نکالے جانے کے بعد وہ کراچی اور حیدر آباد میں زیر تعلیم رہے۔کچھ عرصے بعد انھوں نے تعلیمی سلسلہ منقطع کرتے ہوئے ملازمت اختیار کر لی ۔ پھر طویل عرصے بعد ہی وہ سندھ یونیورسٹی سے سندھی ادب کی اعلیٰ اسناد حاصل کر سکے۔اس زمانے میں شمشیر الحیدری اپنے ماموں کامریڈ نذیر حسین حیدری کے ساتھ رہائش پذیر تھے ۔وہ سندھ ہاری کمیٹی کے ایک متحرک رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک زبردست ادیب ،صحافی اور مقرر تھے ۔ شمشیر الحیدری کی نظریاتی تربیت میں کامریڈ نذیر حسین حیدری کی شخصیت اور شاندار کتب خانے نے کلیدی کردار ادا کیا ۔اپنے اس استاد کی نسبت سے ہی انھوں نے اپنے لیے شمشیر الحیدری کا ادبی نام منتخب کیا۔ سندھ ہاری کمیٹی کی طبقاتی وقومی جدوجہد اور سامراج مخالف روایات کا ورثہ ہی تھا جس نے شمشیر علی کو شمشیر الحیدری کے قالب میں ڈھالا ۔

شمشیر الحیدری کے کیے ہوئے کام کی ایک طویل فہرست ہے ۔ڈاکٹر غلام علی الانا نے اپنے مقالے ’’ شمشیر الحیدری : اک مسلسل جدوجہد جو نالو‘‘ میں مختلف موضوعات پر ان کی طبع زاد،مرتب کردہ اورتحقیق و تراجم پر مبنی 19کتابوں کے نام درج کیے ہیں ۔جن میں انسانِ کامل، کاروانِ کربلا، تھنجوں گالھیوں سجن، لاٹ،تاریخِ سندھ کلھوڑاعہد، امریکا جو سیاسی سرشتو ،سوکڑی، سندھ میں آزاد نظم جی اوسر ،بہترین سندھی افسانہ ، سجاگ سانگھڑ، تاریخ جو کچرو ،پیار جو نو گیت، زینت، لاٹ ( اضافہ شدہ دوایڈیشن) ،کاک محل، سندھی شاعری جو ابھیاس ،Poet of The Time , Flute of flame , Sindh Updateشامل ہیں ۔’’سریلا گیت‘‘ نامی کتاب سے ان کتابوں کی تعداد بیس ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ شمشمیر الحیدری نے متعدد مقالے، اخباری مضامین ، ڈرامے اورکتابوں کے پیش لفظ تحریر کیے ۔

شمشیر الحیدری ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک سندھی ادبی بورڈ کے زیر اہتمام شایع ہونے والے سہہ ماہی جریدے ’’ مہران‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر رہے ۔ اتنا ہی عرصہ وہ ماہنامہ’’ نئی زندگی‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے ۔اس کے علاوہ وہ روزنامہ ہلچل،روزنامہ ہلالِ پاکستان ،مہران، ہفت روزہ پارس، ہدایت ، اعلانِ حق اور خلق سمیت متعدد رسائل وجرائد سے وابستہ رہے ۔پیر صاحب پاگارا کا اخبار مہران ہو یا محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا اخبار ہلالِ پاکستان ہو شمشیر الحیدری کے زیر ادارت شایع ہونے والے شمارے اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ انھوں نے کبھی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا نہ ہی ان اخبارات کو کسی شخصیت یا جماعت کا ترجمان بنایا ۔یہی وجہ تھی کہ وہ ان اخبارات کے ساتھ مستقل بنیادوں پر نہیں رہ سکے ۔اس حوالے سے مرزا فیاض علی بیگ اپنے مقالے ’’ شمشیرِ سندھ ،شمشیر بکف ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’شمشیر الحیدری صاف دامن کے ساتھ صحافت کے میدان میں آئے اور اپنے صاف دامن کے ساتھ اخبارات کو خیر باد کہتے ہوئے گھر جا بیٹھے ۔‘‘

پاکستان ٹیلی ویژن کی سندھی نشریات کا آغاز ہوا تو شمشیر الحیدری اس کے منتظم مقرر ہوئے ۔ یوں انھوں نے ٹیلی ویژن پر سندھی زبان کے پہلے میزبان ، ڈرامہ نگار اوراسکرپٹ رائٹر کا اعزاز حاصل کیا ۔ سلیم حیدری اپنے مضمون ’’ شمیر الحیدری جو ادبی خاکو ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ انھوں نے نہ صرف یہ اعزاز حاصل کیا بلکہ اس میدان میں سندھی لکھاریوں کی رہنمائی کرتے ہوئے نت نئے رحجانات بھی متعارف کرائے ۔‘‘

شمشیر الحیدری مختلف اوقات میں مختلف اداروں سے وابستہ رہے جن میں سندھی ادبی بورڈ ، وفاقی وزراتِ اطلاعات کے محکمے فلمز ایند پبلی کیشنز ،وفاقی محکمہ مواصلاتی اطلاعات ،یوتھ انویسمنٹ پروموشن سوسائٹی وغیرہ شامل ہیں ۔شمشیر الحیدری سندھی ادبی سنگت کے الیکشن نہ ہونے کے باعث 11سال تک اس کے سیکریٹری جنرل رہے ۔وہ کئی ایک تنظیموں کے بانی بھی تھے جن میں سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن اور سندھی زبان سوسائٹی شامل ہے ۔

اپنی عوام دوستی اور جمہوریت پسندی کی پاداش میں شمشیر الحیدری کو کئی بار ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے ۔1978میں ضیاء الحق کے مارشل لا دورمیں محکمہ مواصلاتی اطلاعات کے ڈپٹی مینجر کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے ان کی ملازمت ختم کی گئی ۔جون 1984میں انھوں نے محمد ابراہیم جویو کے ساتھ مل کر ’’ ہدایت ‘‘ کے نام سے سندھی اخبار نکالا جس میں سندھی عوام کے حقوق سے متعلق خبروں ،تبصروں ،مضامین اور ایڈیٹوریلز سے خائف آمرانہ حکومت نے محض 7ماہ بعد اس پر پابندی عائد کر دی ۔اسی طرح مئی 1993میں انھوں نے سندھی ادبی بورڈ کے سیکریٹری کے طور پر خدمات سرانجام دینا شروع کیں لیکن 1995میں انھیں یہاں سے ہٹا دیا گیا ۔

اپنے ترقی پسند افکار ، حقیقی انسان دوستی اور وطن پرستی کا مختلف ادوار میں خمیازہ بھگتنے والے شمشیر الحیدری نے سندھی زبان اور خود سندھ کی وحدت پر ہونے والے حملوں کے خلاف بھی بھرپور کردار ادا کیا۔1954میں ون یونٹ کا قیام ہو یا پھر 1958میں ایوب خان کے آمرانہ دور میں ’’شریف کمیشن‘‘ کی طرف سے ملک بھر میں پرائمری کی سطح سے صرف اردو زبان کو ذریعہ ء تعلیم قرار دینے کی سفارش ہو ، شمشیر الحیدری ہمیں متحرک نظر آتے ہیں ۔اس کمیشن کے خلاف انھوں نے سندھی ادبی سنگت اور سندھی زبان سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے سندھ بھر میں ایک دستخطی مہم چلائی ۔یوں یہ سفارش منظور نہ ہو سکی ۔ ان کی وفات کے بعد 19اگست 2012کو روزنامہ کاوش میں سندھ کی معروف انقلابی، سیاسی وادبی شخصیت کامریڈ سوبھو گیان چندانی نے اپنے مضمون ’’ شمشیر کی اجا جینڑوہو ‘‘میں لکھا کہ ’’ ون یونٹ کے خلاف ادبی مورچے سے شمشیر الحیدری نے جو کردار ادا کیا وہ سندھ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے ۔‘‘

شمشیر الحیدری جیسا کہ ہم نے شروع میں کہا تھا کہ ایک کثیر الجہات شخصیت کا نام ہے ۔ان کا ایک تخصص ان کی ترقی پسند ،مزاحمتی شاعری بھی ہے ۔ ہر چند کہ انھوں نے شاعری کی کوئی ضخیم کلیات نہیں چھوڑی لیکن مجھے کہنے دیجیے کہ اگرشمشیر الحیدری اور کچھ بھی نہ کرتے تو ان کا 60نظموں،12قطعات پر مبنی شعری مجموعہ’’لاٹ ‘‘ ( دیے کی لو ) سندھی ادب میں ان کا نام زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے ۔ 1962میں شایع ہونے والا یہ شعری مجموعہ 2012میں دوبارہ کچھ اضافوں اور ان کی نظموں کے تراجم کے ساتھ شایع ہوا ۔لیکن نصف صدی کا عرصہ اور دو نسلوں کا بُعد بھی ان کی نظموں کی تاز گی کو کُملانے سے قاصر رہی ۔شمشیر الحیدری کی نظموں کی شگفتگی برقرار ہے ۔ ان کی شاعری جن مادی حالات کی پیداوار ہے وہ تاریخ کے سفر میں شاید چند لمحات ہی تصور کیے جائیں ۔نہ ان مادی حالات کو دوام حاصل ہے اور نہ ہی فرد کے ہاتھوں فرد کے استحصال پر مبنی نظامِ زراپنے ساتھ آبِ بقا لایا ہے جس کے خلاف جدوجہد کرنے والوں میں ہمارے ممدوح بھی شامل ہیں۔ استحصال کی تاریک قوتوں کے خلاف شمشیر الحیدری کی لو ابھی روشن ہے ۔ جبر واستبداد کے خلاف سندھ کے جن اہلِ قلم کو فراموش کرنا تاریخ کے لیے ممکن نہیں ہو گا بِلاشبہ ان میں ایک نام شمشیر الحیدری کا بھی ہے ۔چونکہ تاریخ محنت کار عوام بناتے ہیں سو شمشیر الحیدری جیسی شخصیات ان کا انقلابی ورثہ ہوتی ہیں ۔وہی محنت کار عوام جن کے بارے میں شمشیر الحیدری نے کہا تھا ؛

مزدور  کی محنت نظر  انداز نہیں  ہے

جمہور  کا   آہنگ    بے  آواز   نہیں  ہے

انصاف کے آئین کافَتویٰ میں سُنا دوں

زردار  سا کوئی  بھی دغا باز نہیں ہے

( منظوم ترجمہ : مشتاق علی شان )

شمشیر الحیدری کے فکروفلسفے کا محور محنت کش اور صدیوں سے جبر کی جہنمی مشین کا ایندھن بنائے گئے مظلوم انسان تھے ۔ان سے تعلق کو ملفوف رکھنا اور اپنے خیالات کو چھپانا وہ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہوئے برملا کہتے ہیں ؛

سدا ظلم کو مات کہتے رہیں گے

سرِ عام  ہر  بات  کہتے رہیں گے

ہمیں   چاہے   جتنا   ڈراؤ ، دباؤ

مگر رات کو رات کہتے رہیں گے

( منظوم ترجمہ : مشتاق علی شان )

شمشیر الحیدری کی شاعری کے بارے میں محمد ابراہیم جویو روزنامہ کاوش میں لکھے گئے اپنے مضمون’’ دوست وراکو دل سین ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ طالبعلمی کے زمانے سے شمشیر کا شعر کی طرف رحجان تھا ۔اُس زمانے میں شاعری کے میدان میں متعدد طالبِ علم موجود تھے جنھوں نے اپنے تخلیقی وسائل سے سندھی علم وادب کو طاقت بخشی ۔ ان بہت سیناموں میں ایک نام اس کا بھی ہے جس نے اپنے جدید اُسلوب اور انداز سے جلد ہی اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ۔ خاص طور پر آزاد نظم کے میدان میں اس نے نہایت اعلیٰ اورمن موہنے شعر کہے ہیں ۔شمشیر اپنی آزاد نظم کے حوالے سے اس لیے بھی یگانہ شاعر تھا کہ اس نے موضوعاتی شعر کو زیادہ اہمیت دی ۔ اس کی آزاد نظمیں پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے گویا یہ سب منظوم کہانیاں ہیں ۔‘‘شمشیر الحیدری کو جدید سندھی نظم بالخصوص آزاد نظم کا بانی قرار دیا جاتا ہے ۔ منفردترقی پسند ، مزاحَمتی رنگ اور گُدازرومانوی جذبات کی حامل ان کی نظمیں بجا طور پر جدید سندھی ادب کے ماتھے کا جھومر قرار دی جا سکتی ہیں ۔

شمشیر الحیدری شیاطین کی بادشاہی اور سیم وزر کی خدائی سے بیزار رہے ۔اپنی ایک خوبصورت آزادا نظم’’خدایا ‘‘ میں وہ اس طبقاتی نظامِ زرگری پر یوں گہری چوٹ کرتے ہیں ؛

خدایا ، خدایا زمینوں کے مالک

خدایا ، خدایا اے آدم کے خالق

اے آدم کے خالق

زمینوں کے مالک

خبر ہے تجھے کچھ خداوندِ عالم

کہ تیری زمیں پر

خدائی میں تیری

شیاطین کی بادشاہی ہے چلتی

یہاں سیم وزر کی خدائی

خبر ہے تجھے کچھ خداوندِ عالم

( منظوم ترجمہ : مشتاق علی شان )

بیشتر ترقی پسند شعراء کی طرح شمشیر الحیدری نے بھی لمحاتی موضوعات پر نظمیں کہی ہیں ۔لیکن ان کا فنکارانہ اور جمالیاتی اظہار نہایت توانا ہے۔ ان نظموں میں کہیں بھی فنی تقاضے اور جمالیاتی اقدار کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں شمشیر الحیدری کا موازنہ بجا طور پر اردو زبان کے ممتاز ترقی پسند شاعر ساحر لدھیانوی سے کیا جاسکتا ہے ۔ ان دونوں کو کہیں سے بھی کھول کر پڑھیں ،ان کے بلند آہنگ انقلابی اور لطیف رومانوی خیالات کی رو قاری پر سحر طاری کر دیتی ہے ۔یہ شاعری قاری کو اس کے معروض سے جڑی ایک ایسی طلسماتی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں ’’ سنگین حقائق زاروں میں خوابوں کی قبائیں جلتی ہیں ‘‘ تو کہیں ’’ زندگی کاک محل ہے کوئی رنگین وحسین -جس میں مومل کی طرح نازکناں مقصدِ زیست‘‘ نظر آتا ہے ۔ساحر لدھیانوی کی طرح شمشیر الحیدری بھی لمحے کو دوام بخشنے کا ہنر جانتے تھے ۔اس کی ایک مثال1961میں افریقی ملک کانگوکی بیلجیم سے آزادی کے محض81دن بعد جواں سالہ انقلابی رہنما اور ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم پیٹرس لوممبا کی حکومت کا عالمی سامراجی قوتوں کی ایماء پر خاتمے اور جنرل مبوتو کے ہاتھوں ان کے سفاکانہ قتل کا واقعہ ہے ۔ اس قتل کے خلاف ساحر لدھیانوی نے اپنی معرکہ آرء نظم لکھی جسے اس واقعے سے قطع نظر دوام حاصل ہوا؛

ظلم پھر  ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

اس سانحے پر شمشیر الحیدری نے بھی مزدور بین الاقوامیت کے جذبے سے سرشار ہوکر ’’لوممبا کی شہادت پر‘‘ کے عنوان سے سندھی زبان میں اتنی ہی پُر تاثر اور سدا بہار نظم کہی جس کی تازگی ،جس کا جذبہ ہنوز برقرار ہے ؛

عشق کی سنسان وادی کے قریب

درد  کے  دریا  کی  یہ  طغیانیاں

رفتہ  رفتہ  بیکراں   بنتی   گئیں

قطرے،قطرےمیں محبت کاشعور

قطرہ،  قطرہ  ہے  زمانے کا ضمیر

فاصلوں کی وسعتیں کس کے لیے

وقت  کی  پیمائشیں کس کے لیے

کب  بھلا  یہ  فکر ہو پائی اسیر ؟

( منظوم ترجمہ : مشتاق علی شان )

اس سے قبل جب 13نومبر 1960کو ایوب خان کے مارشل لاء دور میں ملک کے معروف انقلابی رہنما کامریڈ حسن ناصر کو لاہور کے شاہی قلعہ میں اذیتیں دے کر شہید کیا گیا تو شمشیر الحیدری نے ’’ پرانے حربے‘‘ کے نام سے ایک اعلیٰ پائے کی مزاحمتی نظم کہی ۔یہ نظم نہ صرف کامریڈ حسن ناصر شہید بلکہ ہر دور میں جبر کی قوتوں سے نبرد آزما مُزاحَمت کاروں کا رجزنامہ بن گئی ؛

ختم ترکش کے سبھی تیر  ہوئے ہیں  شاید

مان  لیتا   جو   کوئی   وار   نیا  تم   کرتے

یہ  تو  حربے  وہی  صدیوں  کے پرانے نکلے

جن کو ہر دور میں حاصل ہوئی ہے  ناکامی

جن کو ہر دور میں دہرا کے ہے تم نے دیکھا

جن سے ہر دور میں ہاری ہے  فقط سلطانی

( منظوم ترجمہ: مشتاق علی شان)

شمشیر الحیدری ایک ترقی پسند شاعر تھے اور اس حیثیت سے ایک حقیقی انٹرنیشنلسٹ بھی تھے ۔ان کی مزدور بین الاقوامیت کا ایک اظہار 1871کے انقلابِ پیرس کمیون کے رہنما وانقلابی شاعر یوجین پوتئے کی نظم’’ انٹرنیشنل‘‘ کا منظوم سندھی ترجمہ ہے ۔اس نظم کو محنت کشوں کے عالمی ترانے کی حیثیت حاصل ہے اور اس کا دنیا بھر کی زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔مجھے اس نظم کے اردو تراجم کے علاوہ ہندی ، پشتو اور عربی تراجم پڑھنے اور سننے کا اتفاق ہوا ہے لیکن شمشیر الحیدری کا ترجمہ اپنی روانی اور بے ساختہ پن کی بنیاد پر منفرد ہے۔ شمشیر الحیدری کی ترجمہ کردہ یہ نظم یکم مئی 1975کو PTVپر پیش کی گئی جسے دین محمد شیخ اور دیگر فنکاروں نے گایا جب کہ اس کی دھن کریم شہاب الدین نے بنائی تھی ۔

اس نظم پر ترجمے کی بجائے اصل کا گمان ہوتا ہے ؛

اُتھو اُتھو بکھن جا ماریل اُتھو

اُتھو اُتھو دُکھن جا ڈاریل اُتھو

اے گٹتھین  جا  گاریل ، مصیبتن جا ماریل

صدین جی ساز باز ساں،صلیب تے سُمھاریل

اُتھواے وقت جا وساریل اُتھو

اپنی کتاب ’’آزاد نظم جی اوسر‘‘ ( آزاد نظم کا ارتقا) میں شمشیر الحیدری نے یہ نتائج اخذ کیے تھے کہ فارسی بحورکی پابندی شاعری کے لیے لازم نہیں ہے اور سندھی شاعری کے لیے ہندی کے ماترائی چھند ہی مناسب ہیں۔لیکن انٹرنیشنل کے منظوم سندھی ترجمے میں ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے عربی ،فارسی بحر ’’ بحرِ ہزج مثمن مقبوض ‘‘کے وزن ’’مفاعلن‘‘ کو نہایت مہارت سے برتا ہے ۔ نظم کے آخری مصرے میں لفظ ’’ انٹرنیشنل‘‘ کو جس طرح اس بحر میں موزوں کیا ہے وہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ انھیں عربی وفارسی عروض پر مکمل دسترس حاصل تھی ۔

شمشیر الحیدری نے صدام حسین کے دور مین لندن جلاوطن کیے جانے والے عراق کے باغی شاعر اور عربی زبان میں جدید نظم کے بنیاد گزاروں میں سے ایک بلند الحیدری کی نظم کا ’’ویرانی ‘‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے ۔جب کہ ’’نیلی آنکھوں والا چاند ‘‘ کے عنوان سے سولہویں صدی کی یونانی شاعرہ بلز کی نظم کا سندھی ترجمہ انھوں نے فرانس کے مشہور ادیب پیری لوئی کے نثری ترجمے سے کیا ۔شمشیر الحیدری نے شیخ ایاز کی مشہور نظموں

’’سچ وڈو ڈوھاری آھی ‘‘اور ’’مان ڈوھی ھان‘‘ کی بھی خوبصورت پیروڈی لکھی ہے ۔

شمشیر الحیدری کی ایک اور خصوصیت ان کی رجائیت پسندی ہے جو ان کی نظریاتی اساس کی پختگی کی روشن دلیل ہے ۔ ہمارے ممدوح نے زندگی میں متعدد پریشانیوں ، بے روزگاری ، بیماری اور گوناگوں مالی مشکلات کا سامنا کیا لیکن یہ کبھی ان کی مساعی پسندی کی راہ میں حائل ہوئیں اور نہ ان کی تخلیقی دھار کو کُند کر پائیں ۔کوئی امر ،کوئی مشکل ان کی رجائیت چھین نہ پائی ۔شمشیر الحیدری کی حدودِ فکر میں قنوطیت اور مایوسی کا داخلہ ممنوع تھا اور ممنوع ہی رہا ۔انھوں نے بدترین حالات میں بھی آس وامید کے دیے روشن رکھے ۔

وہ اپنی نظم ’’لاٹ ‘‘ (دیے کی لَو) میں کہتے ہیں ؛

دیے کی لَو کو ہمیشہ ہی اونچا رکھنا ہے

یہی تو  میرے  مقدر  کا فیصلہ  ٹھہرا

پہاڑ جیسے ارادے ہیں میرے سینے میں

ہوا کے زور سے بڑھ کر ہے حوصلہ میرا

( منظوم ترجمہ : سلطان جمیل نسیم)

یا پھر شمشیر الحیدری کی نظم ’’ انقلاب کی سرحد‘‘ کے یہ اشعار

صلیب میں سے بھی آئی بہار کی خوشبو

عجیب  ہوتی  ہے  یہ  انقلاب  کی صورت

 

جہاں جہاں بھی جھکا حق کے سامنے باطل

افق   پہ  چمکی  وہاں  انقلاب  کی  سرخی

( منظوم ترجمہ : سلطان جمیل نسیم)

شمشیر الحیدری کی رجائیت پسندی ، ان کا انقلابی آدرش انھیں زندگی سے محبت سکھاتا ہے ۔اپنی تمام تر سختیوں ،محرومیوں اورناانصافیوں کے باوجود ان کا یہ احساس بہت قوی رہا کہ زندگی بہر حال حسین ہے ۔زندگی ، دھرتی اور کائنات کو حسین ہوناچاہیے ، انھیں حسین بنانا چاہیے ۔سو وہ اس جدوجہد کا حصہ رہے ۔

جھومتی ہے زندگی

گا رہی ہے زندگی

زندگی کے ساتھ جھوم

زندگی کے ساتھ گا

موت سے گریز کر

زندگی سے پیار کر

( منظوم ترجمہ : مشتاق علی شان )

یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری جہانِ کہنہ کی دم توڑتی روایات کی نوحہ گری کی بجائے ایک نئی دنیا کی تعمیر کی جنگ کے رجزناموں میں ڈھل جاتی ہے اور سندرتا کی جیت کے امر ہونے کا احساس جگائے رکھتی ہے ۔ان کا یہی تیقن ان سے کہلواتا ہے ؛

سندرتا کی جیت امر ہے

کھٹورتا کی مات امر ہے

ہتھیا پاپ کی پوجا والو

سندرتا کی پریت امر ہے

وہ شمشیر علی جو 15ستمبر 1932کو پیدا ہوا وہ 10اگست2012کو موت کا بھاری پتھر چوم سکتا ہے ۔اسے چوکنڈی قبرستان میں تہہِ خاک رکھا جاسکتا ہے ۔لیکن ’’لاٹ‘‘ کے خالق شمشیر الحیدری ، اس کی نظموں ،اسے کے کیے ہوئے کام کو موت فنا کے گھاٹ نہیں اتار سکتی ۔ سندھی ادب کے افق پرشمشیر الحیدری روشنی کے استعارے کے طور پر تابندہ رہے گا اور اس کے روشن کیے ہوئے دیے کی لَو جگمگاتی اور صبح کا راستہ دکھاتی رہے گی ۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *