ہمارے بوٹ اور مسائل دونوں کوڑے دان میں۔۔عظمت نواز

خدا معلوم اب دیوانگی کا عالم طاری ہو چکا تھا یا پھر ممکن ہے کسی کائناتی گتھی کی سوچ میں الجھا ہوا تھا یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ قومی ڈرامے کے قومی ہیرو کی بروقت موت کا رنج تھا بہرحال کوئی اہم وجہ تو ضرور رہی ہو گی جو کل میں ایک ہاتھ میں کسی کاغذ کے ٹکڑے رہائش کے باہر لگے کوڑے دان میں پھینکنے کی غرض سے پکڑے ہوئے تھا اور دوسرے ہاتھ میں ایک عدد شاپر میں ذاتی کالے بوٹ اٹھا رکھے تھے جن کو میرا ہمسفر ہو کر منزل مقصود تک پہنچنا تھا-مگر یارو وہاں کوڑے دان تک پہنچ کر عجب ایک سانحہ ہو گیا کہ آپکے بھائی نے سالم بوٹوں والا تھیلا کوڑے دان میں پٹخ دیا اور کاغذ کے ٹکڑے نہایت احتیاط سے تھامے رکھے ۔ ساتھ چلتے ایک دوست نے ہم سے اس درجے سخاوت کی وجہ پوچھی تو ہم بھونچکا  رہ گئے – یعنی ہمیں اسکے بتلانے  کےبعد احساس ہوا کہ  بوٹ تو کوڑے دان میں” وگا” دیے ہیں-

اس پر ہم فوری واپس لپکے اور کوڑے دان میں آدھا تن خستہ  گھسا کر بوٹ صحیح سلامت نکال لیے اور اس پر خود کو داد بھی دی کہ یار کوڑے دان میں پھینکی ہوئی چیز بھلا کون یوں تن لٹکا کر نکالتا ہے، جو خطرہ تم نے مول لیا ،وہ کوئی نہ لیتا – اس سے فتنہ گاہ دماغ میں ایک بات آئی ۔۔

میری حکومت جو بہرحال” میری” ہی حکومت ہے کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہو چکا ہے یا شاید پہلے سے ہی ایسا تھا – یہ کسی اہم ترین اور فوری نوعیت کے کام کو نہایت اطمینان سے کسی کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے اور کسی لایعنی قسم کے مدعے کو نہایت چابکدستی سے سنبھالے رکھتی ہے کہ کہیں یہ ہاتھ سے گرتا تو حکومت کی موت نہ واقع ہو جائے – مثلاً تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنی تھی شاید ہو گئی ہو؟ لیکن آئے روز شعبہ تعلیم کے ارسطو نئے سے نیا قانون بیک جنبش میسج نکال دیتے ہیں کہ آج سے فلاں کام ہو گا اور فلاں نہیں ہو گا – مطلب تعلیمی نظام کا مسئلہ تو گیا کوڑے دان میں ،البتہ عین اسی وقت حکومت نے بزدار کی سربراہی میں نہایت اہم تھیلا پکڑ رکھا ہے – انصاف کی بلا تعطل فراہمی کا مسئلہ بھی حل ہو گیا ہے بس عدالتی دھکے، پولیس سسٹم، الغرض ایک گھبمیرتا ہے جو باقی ہے- صوفیوں نے انفراسٹرکچر جوں کا توں چھوڑ دیا ہے کہ یہ بھی کوئی کرنے کا کام ہے بھلا اور اسی کارن اس شعبے میں ٹکے کا کام نہیں کر رہے اس سے متعلقہ تمام لوگ ویلے تے بھوکے مر گئے ۔صحت کا معاملہ تو کامل انہوں نے اللہ کے سپرد کر دیا ہے کہ جس کوصحت دینی ہوگی اللہ دے گا ورنہ قبر میں سکون والی نوید تو خستہ تنوں نے سن ہی لی ہے ۔

مگر  ان سے ہو نہ پائے گا، کیوں بھلا ؟۔۔وہ اس لیے کہ دنیا بھر میں بہترین نتائج کے لئے ہزاروں لاکھوں میں سے چن کر right person at the right place لگایا جاتا ہے اور یہ کسی بھی مطلوبہ نتیجے کے حصول کا سب سے اہم اور پہلا مرحلہ ہوتا ہے – وائے حسرتا ،جب  عظیم کپتان کے چنیدہ لوگوں کو دیکھتا ہوں تو ہر گوہر نایاب کو بس تکتا رہ جاتا ہوں کہ کیسا چن کراور  کیسی صحیح جگہ بندہ لگایا ہے۔فقط مثال کے طور اپنے وہ وسیب والے بھائی جو آجکل لاہور میں شہباز شریف لگا رکھے ہیں انہی کو دیکھ سن کر اطمینان ہو جاتا ہے۔مگر  اطلاعاً عرض ہے کہ ہمیں انکی نیت پر شک نہیں ہے –

کپتان نے ہم ایسے عاشقان و انکی امیدوں کو تقریباً کوڑے دان میں پھینک دیا ہے مگر عین اسی وقت ایک بے وقعت سا گروہ  وزراء تھام رکھا ہے نہ انکو کچھ ادراک ہے نہ انکا کوئی مقصد ہے نہ انکی کوئی ورکنگ ہے کہ متعلقہ وزارتوں کے کیا عوامی مسائل ہیں اور انکا حل کیا کرنا ہے، آیا کرنا بھی ہے کہ نہیں ۔شاید کپتان کو کوئی بتا دے کہ آپ نے قوم کے اصل اور فوری نوعیت کے مسائل تو کوڑے دان میں پھینک دیے ہیں۔ خدارا واپس لپک کر ان مسائل کو سامنے رکھ کر عوام دوست پالیسیاں ترتیب دیں ورنہ آپ بہت جلد پچھلوں سے بری تاریخ بننے جا رہے ہیں –

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *