ارینج میرج سسٹم کی وفات۔۔کاشف حسین سندھو

میں ارینج میرج کی موجودہ شکل کو قانونی جسم فروشی سمجھتا ہوں یہ بہت بڑی بات ہے اور شاید کچھ دوست اسے گالی بھی سمجھیں لیکن میری یہ رائے کچھ نا کچھ بنیاد رکھتی ہے جس سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں۔
میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ہماری شہری عورت ڈرامہ سیریل ” میرے پاس تم ہو” کی ہیروئن مہوش سے ذہنی طور پہ یا تو گلے مل چکی ہے یا بس ایک دو ہاتھ پرے کھڑی ہے اسکی وجہ سرمایہ دارانہ نظام کے زیرِاثر پنپتی اخلاقیات ہے یا کچھ اور وجہ ہے میں نہیں جانتا برصغیر کے شادی کے ادارے میں مرد کا لالچ جہیز کی شکل میں بہت پرانا ہے لیکن عورت کو ہمارے سماج نے “جہاں بیاہ کر جا رہی وہاں سے تمہارا جنازہ ہی نکلے” کے زیراثر بیاہنے کی روایت ڈالی تھی۔ اس ہندوستانی روایت پہ دوسرا تڑکا اسلام کی برصغیر آمد سے لگا جو مجازی خدا کا تصور دیتا تھا۔ چنانچہ شادی کا بندھن بہت مضبوط ہو گیا یہاں تک کہ مرد سے ناپسندیدگی بھی عورت کو علیحدگی کی جانب نہیں جانے دیتی تھی ۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ روایتی طور پہ عورت کی  جانب سے اس بندھن میں لالچ کا عنصر بہت کم تھا اور اسے وفاداری کا سمبل سمجھا جاتا تھا لیکن اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے “چنگا رشتہ” اور “اُچے نصیب” کا مطلب اب پیسے والا مرد بنتا جا رہا ہے۔

میری مسز ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرتی رہی ہیں ،وہ اس بات پہ حیرانی ظاہر کرتی ہیں کہ انکی بہت سی کولیگز نے خود میں انٹرسٹڈ ہم عمر مرد کولیگز کی بجائے خود سے پندرہ بیس برس بڑی عمر کے کھاتے پیتے ویل سیٹلڈ یا فارن نیشنیلٹی کے حامل مردوں سے شادی کو ترجیح دی ،جو معمولی شخصیت کے مالک تھے، ایسے رشتے کی حقیقت اگرچہ کم کھلتی ہے لیکن تب ضرور کھلتی ہے جب مرد پیسے کی طرف سے کمزور ہو جائے۔

اگر ہم عورت کے اس لالچ کو مغربی سرمایہ داری سے آئی علت سمجھیں تو بھی بات مکمل نہیں ہوتی۔ ہم نے مغرب سے سرمایہ دارانہ ازدواجی اخلاقیات کو مکمل شکل میں وصول نہیں کیا مغرب لومیرج یا شادی سے قبل ایک دوسرے کو دیکھ پرکھ کر قبول کرنے کی رسم اپنا چکا ہے، ساتھ ہی ساتھ وہ عورت کی معاشی و سماجی آزادی کو بھی رواج دے چکا ہے ۔ہمیں ان دونوں کو جوڑ کر دیکھنا ہو گا تبھی مکمل تصویر بنے گی ۔اب ہو یہ رہا ہے کہ ہم نے اس نظام کی برائی تو قبول کر لی ہے لیکن اس برائی کو توازن میں رکھنے والے اسی نظام کے دوسرے عوامل یعنی شادی سے قبل مرد و عورت کی ایک دوسرے کو پرکھ لینے کی سہولت اور عورت کی معاشی و سماجی آزادی کو ہندوستانی و مذہبی روایات کی وجہ سے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ آگے میں یہ دکھانے کی کوشش کرونگا کہ یہ عوامل کیسے ایک دوسرے کو توازن میں رکھتے ہیں۔

عورت کی معاشی و سماجی آزادی ۔
پاکستانی سماج میں چونکہ عمومی طور پہ مرد کے ہوتے عورت کا کما کر گھر چلانا بہتر نہیں سمجھا جاتا۔ یا یوں کہیے کہ وہ کما بھی رہی ہو تو عورت اور سماج گھر چلانے کی بنیادی ذمہ داری مرد پہ ہی رکھتے ہیں اس لیے یہاں کی عورت کی ترغیب اس مادی دور میں خودبخود پیسے والے رشتے کی طرف ہو جاتی ہے اسے اچھے کپڑے جوتے اور پُرآسائش زندگی کی تمنا پوری کرنے کا یہ آسان رستہ نظر آتا ہے جبکہ معاملہ بھی پوری زندگی گزارنے کا ہو، اگر دونوں فریقین پہ اپنا بوجھ خود اٹھانے اور ملکر گھر چلانے کی ذمہ داری ہو تو عورت یا دونوں فریقین کے اس لالچ میں کمی ممکن ہے۔

شادی سے قبل ایکدوسرے کو پرکھ لینے کی سہولت۔
چونکہ ہمارے ہاں عمومی طور پہ شادی سے قبل ایک دوسرے کو پرکھنا یا ساتھ رہنا اچھا عمل نہیں سمجھا جاتا اس لیے مرد و عورت ایک دوسرے کے مزاج ، نیت اچھی بری عادات کو نہیں جان پاتے گویا وہ ایک دوسرے کی شخصیت سے محبت ہو جانے کے عمل سے گزر ہی نہیں پاتے اور انکے پاس ایک دوسرے کو پرکھنے کے ظاہری پیمانے پیسہ، شکل، اور جسم ہی رہ جاتے ہیں۔

اب اس مضمون پہ تنقیدی نکتہءنظر سے بھی بات کر لی جائے ایک اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ کیا مغرب میں عورت اور مرد ایک دوسرے کے جسم ،پیسے ،شکل کی وجہ سے ایک دوسرے سے شادی نہیں کرتے ؟ اور کیا ہم اس نظام میں ایک دوسرے کی نیت جان لینے کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟

میں اس کا جواب یوں دونگا کہ اگر مجھے مکھی نگلنے پہ مجبور کیا جانا ہی ہے تو میں یہ شرط کیوں نا رکھوں کہ میں اپنے ہاتھ سے پکڑی ہوئی مکھی کو دھو کر نگلوں گا ؟ یعنی کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ مادی لالچ ہی دونوں نظام ہائے ازدواجیات کا مقصد ہے تو میں یہ لالچ مکمل طور سے کیوں نا کروں ،اخلاقی قدر تو دونوں جانب فوت ہے۔

ایک تنقیدی زاویہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مغربی طرز حیات میں ہماری نسبت گھر ٹوٹنے اور شادی کے بغیر رہنے کا رحجان بہت زیادہ ہے اس لیے ہمارا ارینج میرج سسٹم زیادہ بہتر ہے۔

میں اسکے جواب میں یہ کہونگا کہ سماجی روایات کے جبر میں ناپسندیدہ شخص کے ساتھ نبھاتے رہنا زیادہ بہتر عمل ہے یا شخصی آزادی کا ایسا تصور جس میں دونوں فریق جبر سے آزاد رہ کر اپنی اپنی زندگی کا مزہ لیں ؟ چوائس آپکی اپنی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *