• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • غیر جانبدار طرز فکر کی بنیاد! کائنات کے ریاضیاتی اصول۔۔قیصر عباس فاطمی

غیر جانبدار طرز فکر کی بنیاد! کائنات کے ریاضیاتی اصول۔۔قیصر عباس فاطمی

SHOPPING

نا صرف گفت و شنید اور بحث و تمحیص بلکہ غور وفکر کے لیے بھی ضروری ہے کہ جتنا غیر جانبدار ہونا ممکن ہو، رہا جائے۔ تبھی کوئی ایسا موقف سامنے آ سکتا ہے جو اکثر قابلِ  قبول رہے، اور اکثریت کے لیے ناقابلِ  تردید بن جائے۔ کوئی انسان جانبدار کیوں ہوتا ہے؟ شعوری وجوہات (اور مقاصد) کے علاوہ لاشعوری طور پر انسان کی عقائد، روایات اور نظریات سے وابستگی اسے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے، اور غلط یا صحیح ہر دو کی توجیحات تراشنے پر مجبور کرتی ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان کے افکار و افعال کسی نظریے کے محتاج ہوتے ہیں ، یا ہونے چاہئیں۔ اس سے جہاں ایک طرف ہمیں کسی کے موقف کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے تو دوسری طرف کسی معاملے کی نوعیت کو مختلف زاویوں سے دیکھنا بھی ممکن ہوتا ہے۔ مگر کیا نظریات بذات خود عالمگیر اور قطعی ہوتے ہیں یا وہ اصول جن کی بنیاد پر نظریات قائم کیے گئے ہوں؟ کیا بہتر نہیں کہ نظریات سے ایک قدم پیچھے ان اصولوں کو ہی موقف کی بنیاد بنایا جائے؟

البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ “اصولوں” کا تعین کیسے کیا جائے؟ کسی بھی معاملے کے ریاضیاتی پہلوؤں کا تعین، تفہیم و تشریح، اور تردید و تصدیق میں جانبداری کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، مگر سماجی پہلوؤں میں شاید دو اذہان بھی پوری طرح متفق اور مطمئن ہوتے نظر نہیں آ رہے ہوتے، حالانکہ کائنات تو ریاضیاتی اصولوں پر ہی چل رہی ہے، اور سماجی معاملات کو بھی ایسے اصولوں پر پرکھا جا سکتا ہے۔

SHOPPING

زندگی میں ایک بار اپنے ذہن کو تمام وابستگیوں سے نیوٹرلائز کرنا ضروری ہے،کیونکہ ہم میں سے سب ہی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سب موقف حتمی نہیں، سب نظریے ابدی نہیں، سب احساس دائمی نہیں، سب قدریں عالمگیر نہیں اور ساری عقلیں کامل نہیں۔ حتمی، ابدی، دائمی، عالمگیر اور کامل ہیں تو فقط وہ اصول جن پر کائنات کا نظام چل رہا ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *