کتابی شخص۔۔رمشا تبسم

SHOPPING

اس کو صرف کتابیں پسند ہیں
دنیا کھوجنے کا شوق رکھتا ہے
رنگ برنگے موسموں کو پڑھتا ہے
محبت کی الگ الگ دنیا دیکھتا ہے
کتابوں میں ہجر اور وصل کو دیکھتا ہے
سمندر کے شور کا مطلب سمجھتا ہے
وہ کتابوں میں سرخ شاخوں پر
چھائی خزاں دیکھتا ہے
کتابوں میں قید محبت کو آزاد سمجھتا ہے
الفاظوں کی دنیا میں جیتا ہے
جذبوں کی کائنات میں ٹہلتا ہے
احساسات کی کہکشاں کا مسافر ہے
عشق کی تتلیوں
دیوانگی کے جگنوؤں کو
کتابوں میں مردہ پا کر اداس ہوتا ہے
بغیر وصل کے تڑپتی محبت کے بوئے ہوئے بیج
کو اگتا دیکھنے کا خواہش مند ہے
لمحہ لمحہ چہرے پر انتظار کی پڑی سلوٹوں
کی وجہ کتابوں سے ڈھونڈتا ہے
اسکی نگاہوں سے الفاظوں کے دریا بہتے ہیں
اسکے لبوں سے الفاظوں کے جھرنے گرتے ہیں
اسکی پلکوں پر الفاظوں کی کہکشاں ٹھہری ہے
اسکی زلفوں پر الفاظوں کا ریشمی وجود سنورتا ہے
کتابیں اسکا سرمایہ ہیں
کتابیں اسکی زبان ہیں
کتابیں اسکے الفاظ ہیں
کتابیں اسکے جذبات ہیں
کتابیں اسکے احساسات ہیں
کتابیں اسکی بہار ہیں
کتابیں اسکی روح ہیں
کتابیں اسکا لباس ہیں
کتابیں اسکی جوانی ہیں
ہاں کتابیں
ہی اسکا وصل ہیں
کتابوں کے لمس سے وہ جیتا ہے
کتابوں کی سرگوشیوں سے چہکتا ہے
کتابوں کے عشق میں جھومتا ہے
کتابی چولہ پہنے
کتابی عشق کی بولی سے
کتابی سارے جذبات سے
میری سادہ سی محبت کا اقرار چاہتا ہے
بھلا اس کتابی عشق کے اظہار کو
میں کونسی کتاب پڑھ لوں
الفاظوں کی کائنات سے کون سے لفظ چراؤں
کہ وہ کتابی شخص
کتابوں کے ہر پنے پر موجود لفظوں
سے واقف ہے
اس سے اظہار کی غرض کو
مجھے ایک کتاب تخلیق کرنی ہے
کہ
جسکا کوئی پنہ بھی اس پر عیاں نہ ہو سکے
کہ جسکے الفاظوں سے وہ واقف نہ ہو
اس کتاب کے جذباتوں کی بارش میں
وہ کتابی شخص
بھیگتا جائے کہ اسکا کتابی چولہ بھیگ جائے
اور پھر میری تخلیق کردہ عشق کی کتاب
کے الفاظ پہن کر وہ
سر بازار رقص کرے
کے الفاظ اسکے سر کا آسمان بن جائیں
جذبات اسکے قدموں کی زمین بن جائیں
اور میرا عشق
اسکے وجد کی وجہ بن جائے
اور میں۔۔
میں اسکے قدموں کی دھول بن کر
تب تک اڑتی جاؤں
جب تک وہ مجھے اڑانا چاہے
کہ وہ ایک کتابی شخص
میری زندگی کی مکمل کتاب ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *