چاچا بلو اور جمہوریت۔عظمت نواز

ہمارے ایک واقف کار ہیں نام یاد نہیں ۔۔جب سے جانت ہوں تب سے سب ان کو “چاچا بلو” کہہ کر پکارتے ہیں – ایک دفعہ طلاق واقع ہو چکی ہے اب دوسری کے ساتھ زندگی کا سفر پاٹ رہے ہیں – چاچا سکول کبھی سکول کے پچھواڑے سے بھی نہیں گزرے  مگر ہم نے ایک روز ترنگ میں پوچھ لیا – چاچا پہلی والی طلاق کیونکر واقع ہوئی کیا چاچی کا بی ہیویر اچھا نہیں تھا؟ –

فرمایا “اس کا بی ہیویر تو بہت”  گرم “تھا  بس میری ماں کے ساتھ جھگڑا بہت کرتی تھی۔۔ اس لیے نوبت بہ ایں جا رسید –

ہمارے سابق وزیراعظم کی نا اہلی پر فیسبک کے چند مشہور و معروف وکلاء و ججز نے عدالت عالیہ کے وہ لتے لیے کہ خدا کی پناہ – ایسا کوئی لفظ کوئی اصطلاح روئے فیسبک پر نہیں بچی جو بقول موسیو ان دانشگردوں نے استعمال نہ کی ہو – قائد و اقبال کی بات ہو تو ہر نقص صاحبان عقل و دانش نکال لیتے ہیں اور شخصیت پرستی کا ڈھول بھی انہی کے گلے میں گاھے گاھے ہم سب بجتا ہوا دیکھتے ہیں، حالانکہ چشم فلک نے دیکھا کہ ایک شخص تھا جہاں میں جس سے تھی رنگین ان کی حیات میں  جس کے جانے پر اس کی وہ صفات بھی گنوائی گئیں جن سے حلفا کہا جا سکتا   ہے ،وہ “شریف”  آدمی خود بھی واقف نہ ہو گا۔۔۔۔

مگر ایں پاسبان جمہوریت نے وہ سب اس کی ذات میں دیکھ لیا جو عشروں میں کسی نے نہیں دیکھا تھا  ، قانون و آئین کے اسباق انہیں ازبر ہیں مگر یہ فکری یتیم ٹولہ اس نا اہلی پر بین کرتا ہوا اور ساتھ پھپھے کٹنی بنا ہوا بھی نظر آیا – یعنی عدالتیں فیصلہ تو کریں مگر ان کی منشا کے مطابق ۔۔ورنہ وہ فیصلہ کہیں اور سے نازل ہوا ،یہ ثابت کرنے میں آہ و بکا میں پیش پیش رہنا ہے انہوں نے اور ایسا ہی کیا ہے –

ابھی تازہ ترین ایک دختر نیک اختر کو ملک و قوم کی راہنما بنا کر مسلط کیا جا رہا  ہے مگر ہم دیکھ رہے ہیں تمام دانشگردان ِ وطن لب بستہ ہیں اور مرحبا مرحبا کے نعرے لگا رہے ہیں نہ ان کو اس وقت کوئی آئین و قانون یاد ہے نہ انہیں اپنے ہی پڑھائے ہوئے شخصیت پرستی والے اسباق یاد ہیں۔۔ فقط یاد ہے تو جمہوریت یادہے – جبکہ فقیر سمجھتا ہے ان کو بھی جمہوریت کا اتنا ہی پتہ ہے جتنا چاچا بلو کو بیوی کے بی ہیویر کا پتہ تھا –

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *