چُھٹکی(ناول)سے اقتباس۔۔۔عارف خٹک

بیسواں حصّہ

چُھٹکی کو ڈُھونڈنے میں پنجاب کے اُس گاؤں جارہا تھا،جہاں چُھٹکی نے جنم لیا تھا۔ آج اٹھارہ سال بعد چُھٹکی سے ملنا تھا،اُس کو دیکھنا تھا۔اٹھارہ سالوں کا ایک ایک لمحہ جو ہم دونوں نے ایک دوسرے کے بغیر جیا تھا،اُس ایک ایک لمحے کا حساب اکیلے مُجھے دینا تھا اُسے۔یوں لگ رہا تھا،جیسے میرے لئے دُنیاوی یومِ حساب تھا۔جانے معافی ملتی بھی تھی یا نہیں۔ پُل ِصراط پر قدم دھرنا،اُسے پار کرنا شاید ایسے ہی خوف سے بھرا اور اذیت ناک ہوتا ہوگا، جیسا اس وقت مُجھے محسوس ہورہا تھا۔اُمید اور نا اُمیدی کے بیچ والی کیفیت میں گِھرا ہر گُزرتے گھنٹے کا ایک ایک منٹ اور پھر اُس منٹ کو مزید آگے سیکنڈوں میں تقسیم کرنے میں لگا ہوا تھا۔احساسِ جُرم،احساسِ گُناہ شاید ایسے ہی مُجرم کو چین سے رہنے نہیں دیتا۔اور میں تو پھر کوئی عام مُجرم نہیں تھا۔جو عُمر قید کی سزا کاٹ کر بری ہوجاتا۔عشق میں بد دیانتی ہوئی تھی مُجھ سے۔اور اس کی سزا اب آخری سانس تک جھیلنی تھی مُجھے۔اُس کا دل توڑنے کا گُناہ،اُس کا اعتبار توڑنے کا گُناہ،اُس کا مان ٹوٹنے کا گُناہ۔جانے ضمیر کے رجسٹر پر کتنے ڈھیر سارے گُناہوں کی سیاہی پھیلی ہوئی تھی۔جس کو جتنا صاف کرتا،وہ اُتنی ہی اور پھیلتی چلی جاتی۔چُھٹکی کے ساتھ کی گئی زیادتیاں کسی طور مُجھے چین نہیں لینے دے رہی تھیں۔دل کے اندر ایک غُبار سا تھا کہ پھیلتا ہی چلا جارہا تھا۔بس جوں جوں فاصلے پاٹتی جارہی تھی،اُس کی یادوں کا ناسُور اور اذیت دینے لگا تھا۔کیسی گلیاں ہوں گی، جہاں میری چُھٹکی کھیلی ہوگی۔ مُجھے اُن گلیوں میں چُھٹکی کا ہاتھ پکڑ کر گھنٹوں چلنا تھا۔کیسے کھیت ہوں گے، جہاں چُھٹکی نے تتلیوں کے پیچھے ہرنی کی طرح کلانچیں بھری ہوں گی۔ مُجھے اُن کھیتوں کو دیکھنا تھا۔اُن لہلہاتے سرسبز کھیتوں میں چلتی ہواؤں سے اُس کی مہک چُرا کر اپنی سانسوں میں بسانی تھی۔مُجھے اُس کی گالیاں سُننی تھیں،اور اُن ڈھیر سارے گِلے شکوؤں کے بعد اُس کی آنسوؤں میں بھیگی مُسکراہٹ دیکھنی تھی۔ اس کے اگلے دو دانتوں کے بیچ تھوڑا سا فاصلہ تھا۔ جب وہ مسکراتی تھی تو میں مسحور سا ہوجاتا تھا۔ مجھے وہی مسکراہٹ ایک دفعہ پھر دیکھنی تھی۔اپنی اُنگلیوں کی پوروں سے اُس کے موتی جیسے آنسو صاف کرنے تھے۔تب۔۔اگر وہ اجازت دیتی،ورنہ تو اٹھارہ سال کے آنسوؤں کا چٹان جیسا بوجھ تھا ضمیر پر،جس کا کفارہ شاید ہی کسی طور ادا کرپاتا۔اُس کی وہ شریر لٹ آج میں نے اُس کے ماتھے سے ہٹانی تھی،جس کو صرف اُسکی خوبصورت اُنگلیاں چُھوا کرتی تھیں۔یہ ساری سوچیں دماغ کے پردے پر جیسے کسی فلم کی طرح چل رہی تھیں۔لیکن ان کے بیچ کچھ واہمے کُچھ اندیشے بھی تھے۔۔کہ کہیں چُھٹکی نے بھی میری طرح ہمارے رشتے کو ایک مذاق سے تعبیر نہ کیا ہو۔ کہیں اُس نے نکاح پر نکاح نہ کر لیا ہو۔یہ بات سوچتے ہی دل جیسے ڈوبنے لگتا۔میرے اندر جیسے اندھیرے سے چھانے لگتے۔اور خود کو گناہوں کی دلدل میں پھنسا ہوا محسوس کرتا۔ شرمندگی اور پچھتاوے کی ایک تیز لہر میرے  اندر سرایت کرجاتی۔ احساسِ ندامت مٹانے کے لئے میں خود کو سزا دینے کا سوچتا،تو موت سے کم کسی اور سزا پر دل مُطمئن نہ ہو پاتا۔ شام کا ملگجا سا اندھیرا چھانے والا تھا۔ سردیاں اپنے عروج پر تھیں۔بس کھچا کھچ مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ جدید طرز کی لگژری بس کی ہر نشت پر ایک ایل ای ڈی لگی ہوئی تھی۔
بس نہیں ،پنجاب کی پوری ثقافت ہو جیسے۔ میرے پاس سیٹ پر قریباً چالیس کے لگ بھگ ایک پڑھا لکھا نظر آنے والا بندہ بیٹھا ہوا تھا۔ جس نے سر پر پی کیپ سجائی ہوئی تھی۔ اُس کی گود میں ایک معروف برانڈ کا لیپ ٹاپ تھا۔ کوٹ کی جیب سے ایک انگریزی روزنامچہ بھی جھانک رہا تھا۔ نفاست سے پہنی ہوئی بڑے پائنچوں کی پتلون اور رنگین شرٹ پر اوور کوٹ پہنا ہوا یہ بانکا سجیلا نوجوان بڑے ٹشن سے یوں بیٹھا ہوا تھا۔ جیسے وہ لاہور سے گوجرہ نہیں بلکہ نیویارک سے سڈنی جارہا ہو۔بائیں طرف قریب والی نشست پر ایک مولانا صاحب اپنی بھاری بھر کم بیگم سمیت براجمان تھے۔ مولانا صاحب نے سر پر سفید عمامہ پہنا ہوا تھا۔ آنکھوں میں سُرمہ، کالی گھنی داڑھی تیل سے چمک رہی تھی۔اور محبت پاش نظروں سے شٹل کاک برقعہ پہنی ہوئی بیوی کو دیکھتے ہوئے زیرِ لب مُسکرائے جارہا تھا۔اس کی بیوی ایل ای ڈی کی سکرین پر اُنگلیاں مار کر شاید کوئی فلم یا گانا دیکھنا چاہ رہی تھی۔
بس روانہ ہوئی۔۔ تو تھوڑی دیر بعد بس ہوسٹس جو چھریرے بدن کی مالک تھی۔ ہیڈ فونز ہاتھوں میں لئے ہر نشست پر بیٹھے مسافروں میں بانٹنا شروع ہوگئی۔ ہچکولے کھاتی بس میں ہر مرد مسافر اپنی سیٹ سے ٹانگیں نکال کر بس ہوسٹس کی رانوں کو چھونے کی بساط بھر اپنی سی کوشش کرتا۔ کامیاب ہونے کی صورت میں وہ فوراً  ٹانگ اندر کردیتا۔ ہوسٹس ان سب حرکتوں سے بے نیاز سب کو فیض یاب کرتی ہوئی میرے پاس آئی۔ میں نے ہیڈ فون لینے کے لئےمنع کردیا تو ساتھ بیٹھے چالیس سالہ ہیرو نے جھٹ سے ایک ہیڈ فون جیسے اُچک لیا۔ وہ مُڑ کر واپس جانے ہی والی تھی، کہ مولوی صاحب نے بھی ہیڈ فون پر ہاتھ دے مارا۔یوں جیسے یہ آخری موقع ہو ہیڈ فونز کی تقسیم کا۔اور برقعہ کی ٹوپی پر ہی اپنی بیوی کو ہیڈ فون پہنا دیا۔ میرے ساتھ والے ہیرو نے سلطان راہی کی فلم لگا دی۔اور انجمن کے نظاروں میں کھو گیا۔ مجھے تنہائی کا شدید احساس ہورہا تھا۔ ساتھ والی نشست پر مولوی صاحب اپنی بیوی کے ساتھ اٹکھیلیاں کررہا تھا۔ مجھے مولوی صاحب کی پنجابی میں بس یہی بات سمجھ آگئی کہ۔۔
“میں اب اس بس والی خاتون سے اس داڑھی کےساتھ کیسے یہ پوچھ سکتا ہوں، کہ نصیبو لال کے گانے کون سے فولڈر میں ہیں۔۔۔؟”۔
مُجھے مولوی صاحب کی بات سُن کر چُھٹکی یاد آگئی۔ اور میرے منہ سے بے ساختہ قہقہہ نکل گیا۔ مولوی صاحب اور اس کی بیوی نے گھبرا کر مُجھے دیکھا۔ ساتھ بیٹھے نوجوان نے ناگواری سے پہلُو بدل لیا۔مُجھے بالکل بھی احساس نہیں تھا نہ ہی یہ پرواہ،کہ میری یہ حرکت کتنی غیر اخلاقی تھی۔ بس اس بات کی خوشی محسوس ہورہی تھی، کہ میں صحیح بس میں بیٹھا ہوں۔ اور یہی بس چُھٹکی کے گاؤں جارہی ہے۔ مُجھے وہاں بیٹھے ہر بندے پر پیار آرہا تھا۔ہر بندے میں چُھٹکی کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔
میں اٹھارہ سال یا جیسے اٹھارہ صدیوں بعد اپنی چُھٹکی سے ملنے جارہا تھا۔ اس احساس سے عاری کہ وہ مجھے قبول کرےگی بھی یا نہیں،یا پھر اس کا رد ِعمل کیا ہوگا۔ میں اٹھارہ سال پہلے کا وہی کھلنڈرا نوجوان بن گیا،ہر نتیجے سے بے پرواہ ہوتے ہوئے۔
رات کے دس بج گئے تھے اور میں گوجرہ کے پٹرول پمپ والے اڈے پر اُتر گیا۔ سردی کی ایک یخ بستہ لہر نے گویا منجمد کرڈالا۔ اڈے کے پاس کچھ آوارہ کُتے گُھوم رہے تھے۔اُن کتوں کو دیکھ کر بے اختیار مُجھے مجنوں یاد آگیا۔جس کو لیلٰی کے کُتے پر بھی پیار آتا۔اس وقت میری اپنی کیفیت بھی مجنوں سے کُچھ کم نہیں ہورہی تھی۔
میں چھٹکی کے شہر پہنچ گیا تھا۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *