• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • عمران خان خود بھی اداروں کا احترام کریں۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

عمران خان خود بھی اداروں کا احترام کریں۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

جمہوریت،ترقی،اداروں کا استحکام اور ایسے ہی دیگر دل خوش کن نعروں اور بیانات سے عوام کو اپنی سیاسی پالیسوں کی طرف متوجہ کرنے والے عمران خان اگر خود بھی اداروں کا احترام کریں تو ان کے قول و فعل میں جو تضادات ہیں وہ ختم ہو جائیں اور وہ ایک حقیقی سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آئیں۔مگر بوجہ ان کی مقبولیت کا گراف اگر کم نہیں ہوا تو یقین مانیئے کہ اوپر بھی نہیں جا سکا۔ وہ چاہتےہیں اور بر ملا اس بات کا کئی بار اپنی تقریروں میں اظہار بھی کر چکے ہیں کہ ان کی جماعت پارلیمان کو مضبوط اور فیصلہ ساز ادارہ دیکھنا چاہتی ہے، مگر یہی خان صاحب ہیں جو مدت سے پارلیمنٹ گئے ہی نہیں۔ ان کا یہ رویہ بڑ ا حیرت افروز ہے کہ جہاں سے انھیں ریلیف ملتا ہے اس ادارے کی آزادی اور کارکردگی کے وہ گن گاتے ہیں مگر جہاں سے انھیں ٹف ٹائم دیا جاتا ہے اس کی آزادی پر سوال اٹھا دیتے ہیں اور اس ادارے کو شریف خاندان کا وفادار قرار دے دیتے ہیں۔
انھیں اپنی نا اہلی کے حوالے سے کئی درخواستوں کا سامنا ہے۔ پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے بھی وہ ابھی تک متعلقہ اداروں کو مطمئن نہیں کر سکے ہیں، وہ الیکشن کمیشن میں طلب کیے گئے مگر وہ الیکشن یں میں پیش نہیں ہو رہے،اور نہ ہی انھوں نے پارٹی فنڈنگ کے حوالےس بارے تفصیلات ابھی تک عدالت میں جمع کرائی ہیں۔یاد رہے کہ ایک معاصر انگریزی اخبار کی ویب رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توہین عدالت کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں 25 ستمبر کو دوبارہ طلب کرلیا۔قابل ذکر ہے کہ تحریک انصاف کے سابق بانی رکن اکبر ایس بابر نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن دائر کی تھی۔الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی تاہم پی ٹی آئی چیئرمین کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔توہین عدالت کیس کی سماعت کے موقع پر عمران خان کے وکیل بابر اعوان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور کمیشن کو بتایا کہ عمران خان کی الیکشن کمیشن کے خلاف دائر پٹیش کی سماعت ہائی کورٹ میں ہونی ہے اور ہائی کورٹ کا لارجر بینچ اس کی سماعت کرے گا۔جس پر چیف الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا ہائی کورٹ میں آج ہی سماعت ہونی ہے۔
بابر اعوان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے لارجر بینچ بنا دیا ہے جو آج سماعت کرے گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان الیکشن کمیشن کا احترام کرتے ہیں، جب کہیں گے عمران خان کمیشن میں حاضر ہوں گے، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بیرون ملک تھے اور ایک گھنٹہ پہلے ہی وطن واپس پہنچے ہیں۔اس موقع پر رکن الیکشن کمیشن ارشاد قیصر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایک شخص کو ذاتی حیثیت میں طلب کررکھا ہے اور جب طلب کیا گیا تھا تو الیکشن کمیشن میں پیش ہونا چاہیے تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے حکم کی تعمیل نہیں کی گئی اگر عمران خان اداروں کا احترام کرتے ہیں تو انہیں یہاں ہونا چاہیے تھا۔
ہمیں اس امر میں کلام نہیں کہ قول و فعل میں تضاد کا حامل بندہ کس طرح ملک کو ترقی و بلندی کی طرف لے جائے گا؟ یا ان کے اس رویے سے ان میں اور دیگر سیاستدانوں میں کیا فرق ہے؟اپنی ہر تقریر میں اپنے کرکٹ کارناموں کا ذکر اور بات ہے، جبکہ متوقع وزیر اعظم کے لیے تگ و دو کر کے “نئے پاکستان” کی تعمیر و بنیاد ایک اور چیز ہے۔کیا یہ عمران خان صاحب پر لازم نہیں کہ وہ بحثیت ممبر پارلیمان پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کریں؟ کیا وہ قانون سے بالاتر ہیں کہ وہ عدالتوں میں طلب  کیے جاتے ہیں مگر وہ پیش نہیں ہوتے، جبکہ عدالتیں انھیں اور ان کی پارٹی کو بار بار نوٹسز جاری کر رہی  ہیں۔ اگر خان صاحب واقعی اداروں کا احترام کرتےہیں اور اداروں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو انھیں ابھی سے اپنے عمل کے ذریعے ثابت کرنا ہو گا، بصورت دیگر ان کی باتیں بھی ہوائی باتیں ہی تصور کی جائیں گی۔

جس طرح وہ جارحانہ انداز میں مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں،اس طرز تقریر سے نہ تو ادارے مضبوط ہوں گے اور نہ ہی آئندہ ان اداروں کے مضبوط ہونے کے امکانات ہیں۔ اس حوالے سے خان صاحب کو سب سے پہلے الیکشن کمیشن، میں اپنی طلبی کے پرحاضر ہونا چاہیے اور اپنا موقف دینا چاہیے، نیز پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے بھی مطلوبہ دستاویزات مطلوبہ فورمز پر جمع کرانی چاہئیں، کیونکہ مدت سے پی ٹی آئی اس حوالے سے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔یہاں دیگر سیاسی جماعتیں جن کے عمران خان ناقد ہیں، ان میں اور خان میں کیا فرق رہ جائے گا؟نیز ان دنوں خارجہ تعلقات کے حوالے سے جو معاملات پارلیمان اور مختلف کمیٹیوں میں زیر بحث ہیں، بالخصوص برکس اعلامیہ،ٹرمپ کے بیانات اور روہنگیا مسلمانوں کے جو مسائل ہیں، ان پہ عمران خان کو سر گرمی دکھانی چاہیے، اور بنی گالہ بیٹھ کے بیانا داغنے کے بجائے پارلیمان میں تقریر کرنی چاہیے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *