ہمارے شاعر ادیب کیا بیچ رہے ہیں؟۔۔یاسر پیرزادہ

دوستوں کی محفل میں گپ شپ ہو رہی تھی، کوئی خاص موضوع نہیں تھا، کبھی مذہب پر گفتگو ہونے لگتی تو کبھی کوئی دوست فلسفے کی گتھیاں سمجھانے لگ جاتا، کبھی موسیقی پر بات شروع ہو جاتی تو کبھی کوئی یار ادب پر بحث شروع کر دیتا۔

ایسے میں ہمارے ایک نسبتاً سینئر ادیب کا ذکر چھڑ گیا جن کے ہم سب ہی مداح تھے، کسی دوست نے کہا کہ اِس وقت ملک کے بہترین ادیبوں میں اُن کا شمار ہوتا ہے اور اُن کا کمال یہ ہے کہ وہ کبھی متنازع شخصیت نہیں رہے، کسی controversyمیں اُن کا نام نہیں آیا، شاعری میں انہوں نے مقام بنایا، نثر بھی خوب لکھی، دنیا بھر سے عزت سمیٹی، یہی ایک بڑے ادیب کی شان ہے۔ ’ہم بھی وہاں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے، ہم ہنس دیے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردہ ترا‘۔

محفل برخاست ہوئی تو میں نے اپنے اُس دوست سے پوچھا کہ اگر کوئی ادیب کسی قومی معاملے پر کوئی موقف ہی اختیار نہیں کرتا، حق اور باطل کے درمیان غیر جانبدار رہتا ہے اور اپنی اِس ’’غیر وابستہ‘‘ پالیسی کی وجہ سے ہر قسم کے تنازعات سے خود کو محفوظ رکھتا ہے تو کیا واقعی ایسا شخص بڑا ادیب کہلائے گا؟

میرے دوست نے تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا ’’دراصل تم قنوطی ہو چکے ہو، کسی بات میں تمہیں خیر کا پہلو نظر نہیں آتا، ہر بات کو منفی انداز میں دیکھتے ہو، ایک غیر متنازع ادیب جس کا کوئی اسکینڈل نہیں، جس کے دامن پر کوئی داغ نہیں، جو اِس ملک کا بڑا لکھاری، شاعر اور دانشور ہے، جسے دینے کے لیے ہمارے پاس عزت و احترام کے سوا کچھ نہیں، اُس ادیب کی شخصیت میں بھی تم نے کیڑے نکالنا شروع کر دیے ہیں۔

اگر تم اسی طرح ہر بندے کو چھلنی سے گزارنا شروع کر دو گے تو پھر اِس ملک میں کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں بچے گا جس پر ہم فخر کر سکیں، پہلے ہی اِس قوم کے پاس رول ماڈل کم ہیں، اوپر سے تم اپنا ترازو لے کر کھڑے ہو گئے، تمہارا یہ نظریے والا فلسفہ ہر جگہ لاگو نہیں ہو سکتا، ایک ادیب کو یہ معاشرہ دیتا ہی کیا ہے۔

اِس کے باوجود یہ بیچارے کبھی اپنی تحریروں سے معاشرے کی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں تو کبھی شاعری میں اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہیں، اور اب تم کیا چاہتے ہو کہ یہ اپنا سر کٹا دیں؟‘‘ بندہ جب جذباتی ہو جائے تو موضوع تبدیل کر دینا چاہیے، میں نے بھی یہی کیا۔

اِس قحط الرجال میں بھی ہمارے پاس شاعروں ادیبوں کی کمی نہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہمارے ادیب زندگی کا بیان کیسے کرتے ہیں، اپنے وجاہت مسعود اسے Critique of Lifeکہتے ہیں، یہ بحث ترقی پسند تحریک سے ذرا مختلف ہے۔ برصغیر کے ترقی پسند بھی ایک نظریے سے جُڑے تھے جو کمیونزم سے متاثر تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ دنیا کے تمام مسائل اقتصادی ہیں۔

ترقی پسند تحریک کے منشور میں کسانوں، مزدوروں اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی بات کی گئی تھی اور اِن ادیبوں کا ماننا تھا کہ ادیب کو اپنی تحریروں کے ذریعے اِس مقصد کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ اِس پر طویل بحثیں موجود ہیں جو ادبی تاریخ کا حصہ ہیں۔

آج کمیونزم کا رومان ختم ہو چکا ہے، ترقی پسند تحریک نہیں رہی مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا ہمارے ادیب، شاعر اور دانشور کسی قومی معاملے پر بغیر کوئی پوزیشن لیے غیر جانبداری کا لبادہ اوڑھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے واقعی ادب کی کوئی خدمت کی ہے؟ اگر ایک فنکار کے پاس اپنے زمانے اور عہد کے متعلق کہنے کو کچھ نہیں تو پھر اُس کی تخلیق کی حیثیت محض ڈیکوریشن پیس کی ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ ہم نے تمہیں زبان دی تاکہ تم بیان کر سکو (مفہوم)، اب اگر ظلم کے دور میں ادیبوں کی زبانیں گنگ ہو جائیں اور شاعر منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھ جائیں کہ کہیں انہیں کسی نظریے کی حمایت کی پاداش میں تکلیف نہ اٹھانا پڑے تو پھر ایسے ادیبوں شاعروں کے فن پاروں کو کتب خانوں میں رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

اصغر ندیم سید صاحب سے بات ہو رہی تھی، کہنے لگے کہ ترقی پسند تحریک تو اب نہیں رہی مگر آج بھی میں یہ مانتا ہوں کہ اگر کوئی ادیب موقف لینے سے گھبراتا ہے، پوزیشن نہیں لیتا، نظریہ نہیں اپناتا تو وہ خالص ادیب نہیں ۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ دنیا میں فنونِ لطیفہ کی بہت سی اقسام ہیں، لوگ ڈرامے لکھتے ہیں، فلمیں بناتے ہیں، مصوری کرتے ہیں، شاعری کرتے ہیں، افسانے لکھتے ہیں، اب کیا ہر ادبی فن پارہ اور آرٹ کا ہر نمونہ اسی کسوٹی پر پرکھا جائے کہ اُس میں critique of life ہے یا نہیں، اور اگر نہیں ہے تو کیا ڈرائونی فلموں، مزاح پاروں اور رومانوی شاعری کو آگ لگا دی جائے، اِس سے تو ادب اور آرٹ دونوں ہی فوت ہی ہو جائیں گے؟

دراصل ادب مجموعہ ہے تین چیزوں کا، درد، جشن اور خواب۔ 47ء میں بٹوارہ ہوا، اِس درد کو اُس وقت کے ادیبوں نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا، زندگی کے اسی بیان کی امید ایک ادیب سے کی جاتی ہے مگر دوسری طرف جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم اپنے جوانوں کے لاشے اٹھا رہے تھے تو کتنے شاعر ادیب تھے جنہوں نے اِس درد کو محسوس کیا اور کوئی واضح پوزیشن لے کر اظہارِ خیال فرمایا؟

ہاں، کچھ شاعری نظر سے گزری مگر ایسی جس سے یہ پتا نہ چلتا تھا کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون! اسی طرح آرٹ میں جشن کا اظہار بھی ہوتا، جوانی کا جشن، موسم کا جشن، تہوار کا جشن، ادیب اور فنکار اپنے ماحول سے یہ جشن کشید کرتے ہیں اور اسے اپنی تحریروں اور فن پاروں کا حصہ بناتے ہیں۔

مثلاً ایک گینتی اور ہتھوڑی تو شاید کسی ترکھان کے پاس بھی ہو مگر وہی گینتی جب مائیکل اینجلو کے ہاتھ میں آتی ہے تو آرٹ کے نمونے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں، لکشمی چوک کے سینما گھروں کے بورڈ پر فلمی ہیروئین کی ہیجان انگیز تصاویر بنانے والے کے ہاتھ میں بھی برش ہوتا ہے مگر وہی برش جب صادقین کے ہاتھ میں آتا ہے تو وہ پینٹنگ میں معنی بھر دیتا ہے، ہرے بھرے کھیتوں، آموں کے باغوں کی سرزمین میں صادقین اگر کیکٹس بنا رہا ہے تو لامحالہ وہ زندگی کا بیان کر رہا ہے۔

درد، خواب اور جشن کے اظہار میں فرق صرف شعور کا ہوتا ہے، مزاح یوسفی نے بھی لکھا اور ہنسی ہمیں بھارتی ٹی وی شو دیکھ کر بھی آتی ہے، فرق اُس شعور کا ہے جو ایک خالص ادیب کا خاصا ہے۔

لوگ بھلے ڈرائونی فلمیں بنائیں، مزاح پارے لکھیں، رومانوی شاعری کریں لیکن اگر یہ سب شعور سے عاری ہے تو اس کی حیثیت آرٹ کے ڈرائنگ روم میں محض نمائشی ٹکڑے کی سی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اپنے ہاں ایسے ہی شاعروں ادیبوں کو ہم سر پر بٹھاتے ہیں جو ڈیکوریشن پیس بنانے کا کام کرتے ہیں، قومی معاملات میں موقف اپنانے والے اول تو کم ہیں اور اگر ہیں تو انہیں ہم متنازع اور جانبدار کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ظالم اور مظلوم کے درمیان غیر جانبدار رہنے کا مطلب ہے کہ آپ ظلم کے ساتھ ہیں۔

ایک ادیب یا فنکار جو قدرتاً لبرل اور حساس ہوتا ہے، اسی سانس میں ظالم کا ساتھی نہیں ہو سکتا اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر وہ آرٹسٹ نہیں، لکشمی چوک کا پینٹر ہے!

جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *